Hazrat Saad Bin Abi Waqas

حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ علیہ

ان کی کنیت ابو اسحاق ہے اور خاندان قریش کے ایک بہت ہی نامور شخص ہيں جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں ۔ یہ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں جبکہ ابھی ان کی عمر سترہ برس کی تھی دامن اسلام میں آگئے اورحضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام معرکوں میں حاضر رہے۔ یہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار پر تیرچلا یا اور ہم لوگوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اس حال میں جہاد کیا کہ ہم لوگوں کے پاس سوائے ببول کے پتوں اور ببول کی پھلیوں کے کوئی کھانے کی چیز نہ تھی۔(مشکوٰۃ ،ج۲،ص۵۶۷)

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خاص طور پر ان کے لئے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! عزوجل ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اوران کی دعا کو مقبول فرما۔

 خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا پھر اس عہدہ سے معزول کردیا اور یہ برابر جہادوں میں کفار سے کبھی سپاہی بن کر اورکبھی اسلامی لشکر کے سپہ سالار بن کر لڑتے رہے ۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر المؤمنین ہوئے تو انہوں نے دوبارہ انہیں کوفہ کا گورنر بنادیا۔ یہ مدینہ منورہ کے قریب مقام ""عقیق ""میں اپنا ایک گھر بنا کر اس میں رہتے تھے اور ۵۵ھ میں جبکہ ان کی عمر شریف پچھتّر برس کی تھی اسی مکان کے اندر وصال فرمایا۔ آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں میرا اون کا وہ پراناجبہ ضرورپہنایا جائے جس کو پہن کر میں نے جنگ بدرمیں کفار سے جہاد کیا تھا چنانچہ وہ جبہ آپ کے کفن میں شامل کیا گیا۔ لوگ فرط عقیدت سے آپ کے جنازے کو کندھوں پر اٹھا کر مقام ""عقیق"" سے مدینہ منورہ لائے اور حاکم مدینہ مروان بن الحکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی قبر منور بنائی ۔

""عشرہ مبشرہ""یعنی جنت کی خوشخبری پانے والے دس صحابیوں میں سے یہی سب سے اخیر میں دنیا سے تشریف لے گئے اوران کے بعد دنیا عشرہ مبشرہ کے ظاہری وجود سے خالی ہوگئی مگر زمانہ ان کی برکات سے ہمیشہ ہمیشہ مستفیض ہوتا رہے گا۔

مزید

Comments