Hazrat Molana Syed Abdullah Bilgrami

حضرت حافظ سید عبداللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی: حافظ سید  عبداللہ بلگرامی۔حنفی المذہب۔قادری المشرب۔سلسلہ نسب:آپ  سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت:21/جمادی الاول 1248ھ،بمطابق1832ء ،"قصبہ بلگرام"میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآن ِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں۔صرف ونحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بد ایونی کا نپوری کے بعض شاگر دوں سے پڑھیں،اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سےپڑھیں،منطق و فلسفہ کی بقیہ کتا بیں،عربی قصائد ،استاذالکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ  سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں،اس کےبعد فقہ، حدیث اورتفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں۔شیخ الاسلام سید احمدزینی  دحلان مفتی ِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں،اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سند ِفر اغ حاصل کی۔

بیعت وخلافت: حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ  خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص: معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ،منقولات میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی،طریقت میں "مارہرہ مطہرہ "کی جامع الکمال شخصیت ،جامع المعقولِ والمنقول،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ ،محسنِ اسلام،قاطعِ بدعت،شمشیر بر رفض ووہابیت،آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے۔اسوقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں "شرک وبدعت"کی مہم کو برطانوی  پشت پناہی اورفنڈزکی قوت  سے بڑے زور وشور سے برپا کر رکھا تھا۔آپ نےا س فتنےکے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے۔اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل     رسو ل بدایونی  علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔

آپ کو عربی وفارسی ادب ،نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا۔خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا۔آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس وتحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

وصال: بروزہفتہ یکم رمضان المبارک ،1305ھ،بمطابق1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کا مزار کانپور میں ہے۔

؎نکو سیرت چو عبد اللہ حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)

مزید

Comments