حضرت مولانا شاہ عبد الحئی چاٹگامی

حضرت مولانا شاہ عبد الحئی چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ

چاٹگام کے رہنے والے، یکشنبہ کےدن ظہر و عصر کےدرمیان ۱۲۷۶؁ھ میں ولادت ہوئ، والد ماجد حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمٰن قدس سرہٗ نے تسمیہ خوانی کی رسم ادا کی، قرآن پاک ختم کرنے کے بعد عدم دل بستفی کے سبب کئی سال میں کافیہ تک پڑھا، ایک معتقد نے بے تو جہی کا ذکر آپ کےوالد سے کیا، والد نے فرمایا گھر میں چند افراد جب لائق ہوں تو اُن کےلیے کوئی ایسا بھی ہونا چاہئے جو اُن کی خدمت کرتے ‘‘چھوٹے میاں اگر نہ پڑھیں گے تو بڑے بھائیوں کی خدمت کریں گے،’’ مولانا عبد الحئی صاحب والد کی باتیں آڑ سے حُسن رہے تھے، بڑی غیرت آئی اور اسی وقت پڑھنے کے لیے سفر کا عزم کرلیا، والدہ ماجدہ سے ارادہ ظاہر کر کے روپے طلب کیے، انہوں نے چھ روپے دیئے، ۱۲۹۱؁ھ میں کلکتہ پہونچے اسی درمیان میں مولانا مخلص الرحمٰن صاحب کے پیر ومرشد حضرت سید شاہ امداد بھاگلپوری المتوفی ۱۳۰۲؁ھ کلکتہ آئے، اُن کی ہمراہی میں مرزا پور آگئے، یہاں سے فرنگ محل جاکر حضرت مولانا ابو الحسنات عبد الحئی کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے، گیارہ بجے تک مدرسہ فرنگی محل میں عربی پڑھتے اور ایک بجے دن میں مشہور شاعر خواجہ عزیزی لکھنوی سے اُن کے گھر جاکر فارسی پڑھتے، ۱۳۰۲؁ھ میں والد کی وفات کا سانحہ رونما ہوا، پردیس میں خبر وفات سُن کر بڑا صدمہ ہوا، مکان جاکر والس کا فاتحہ کیا، تھوڑے دن کے بعد لکھنؤ واپس آئے، ۱۳۰۴؁ھ میں حضرت مولانا عبد الحئی صاحب نے رحلت کی، تکمیل حدیث میں تین کتابیں باقی رہ گئی تھیں دہلی میں مولوی نذیر حسین غیر مقلد کے مدرسہ میں پہونچے، مولانا سید عبد الحئی جب مولوی نذیر حسین سے ملنےگئے تو ایک شخص نے مولوی نذیر حسین کے سامنے ایک دوسرے شخص سے حضرت امام عالی مقام شہید کربلا رضی اللہعنہ کے بارے میں کہا، اگر ایک خلیفہ کے وقت میں دوسرا اپنے لیے بیعت لے تو وہ واجب القتل ہے، اس کے علاوہ اور بھی دوسرے کلمات گستاخی اور بے ادبی کے کہے، مولوی نذیر حسین خاموش سنتے رہے، کچھ نہ بولے،۔۔۔ مولانا نے سمجھ لیا کہ یہ بے ادبوں کی جگہ ہے، اس کے بعد گنگوہ میں مشہور دیوبندی عالم مولوی رشید احمد گنگوہی سے ایک سال حدیث پڑھی، ‘‘مولانا فرماتے تھے گنگوہ میں ناجنس اور بد عقیدوں کی مجلس میں میرا دل ہر وق کڑھتا تھا، اس لیے جلد ہی رخصت ہوکر لکھنؤ پہونچا’’

فرنگی محل میں صاحبزادگان کی معلمی پر مامور ہوئے، مولانا عبد الباقی فرنگی محلی مہاجر مدنی اور مولانا عبد الحمید اُن کے شاگرد تھے، ۱۳۰۷؁ھ میں مولانا عبد الاحد شمشاد فرنگی محلی نے اپنے خسر کے قائم کردہ مدرسہ ‘‘چشمۂ رحمت’’ غازی پور میں بلایا، آپ سے پہلے مولانا فاروق چڑیا کوٹی یہاں صدر، مدس رہ چکے تھے، طلبہ شروع میں آپ کی نو عمری کیوجہ سے نامانوس رہے، مگر بعد میں طریقۂ درس کی نُدت کی وجہ سے مانوس ومطمئن ہوگئے، غازی پور میں بڑا قبول عام حاصل ہوا، حلقۂ ذکر و فکر اور مجالس سماع کا انعقاد ہوتا، صاحب ترجمہ حدیث پاک پڑھا رہے تھے کہ کلکڑ معائنہ کے لیے مدرسہ میں پہونچا، مولوی عبد الاحد شمشاد نے آکر چپکے سے کان میں کہا، یہ حاکم وقت ہیں، کتا یہ استقبال سے تھا، اگر چہ اس وقت کھڑے ہوگئے، مگر دوسرے دن استغفیٰ داخل کردیا، ہر چند مولوی عبد الاحد شمشاد اور مولانا شہا امانت اللہ نےکہا سُنا، تو اُن کی والداری کے خیال سے اس وقت ترک ارادہ فرمادیا، چھ ماہ بعد رخصت لے کر وطن گئے، واپس آکر چھ سال دو ماہ کی مدرسی کے بعد ۱۸۹۵؁ھ مطابق ۱۳۱۲؁ھ میں استعفیٰ دے کر عطن تشریف لے گئے اور والد ماجد کے وسادۂ ارشاد پر رونق افروز ہوکر سلسلہ کی ترویج واشاعت میں مصروف ہوئے، ہزاہا مخلوق نے اُن کے نفسِ ذکی کی برکات سے راہ ہدایت پائی، تاریخ وصال دو شنبہ ۱۷؍ذی الحجہ ۱۳۳۹؁ھ اور مزار مرز اکھل ضلع چاٹگام میں ہے، حکیم سید سکندر شاہ کانپور آپ کے مرید وخلیفہ تھے۔

(سیر شمس العارفین)

مزید

Comments