Hazrat Molana Muhammad Zahid Khashi

حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی علیہ الرحمۃ

وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء) وخش نزد حصار علاقہ بخارا

 

قطعۂ تاریخ وصال

خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت

 

خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء

صاؔبر براری، کراچی

 

آپ کی ولادت باسعادت قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴؍شوال ۸۵۲ھ/ ۱۱؍دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ سے ہے۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔جب حضرت احرار  قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمرقند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرماہوئے۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ،  اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے۔

آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے واردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔  یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ  قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔

آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے  تھے۔ فقر و تجرید اور توحید دورہا میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔

وفات:

آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔

(تاریخِ مشائخ نقشبند)

مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ

نسبت و تعلق:

آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت  خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔

وصال ُبارک:

مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع و خش[۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی۔ خزینہ الاصفیا۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری)

 [۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے۔]

(مشائخِ نقشبندیہ)

مزید

Comments