Hazrat Molana Makhdoom Ghulam Muhammad Malkani

حضرت مولانا مخدوم غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پیر طریقت، عاشق مصطفی ﷺ ، حضرت مولانا غلام محمد ملکانی کی ولادت با سعادت بلوچ قبیلہ کی شاخ ملکانی خاندان کی آغوش میں ۱۴، رمضان المبارک ۱۲۷۶ھ میں درگاہ ملکانی شریف (ضلع دادو) میں ہوئی۔ والد صاحب نے غلام محمد اور والدہ صاحبہ نے غلام احمد نام تجویز فرمایا۔

تعلیم و تربیت:

ابتدا میں حضرت مخدوم جنید علیہ الرحمۃ کے خاندان کے آخوند عبدالکریم کے مکتب میں قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔ اس کے بعد ایک دوسرے گوٹھ میں ’’بھار ادنش‘‘ اور ’’انوار سہیلی‘‘ تک فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ دادو کے پرائمری اسکول میں سندھی کی سات جماعت (فائنل) کی تکمیل فرمائی۔

اس کے بعد دینی تعلیم کی جانب رخ کیا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ مولانا محمد حسن قریشی کے حیدرآباد والے مدرسہ میں داخلہ لیا اور پچیس برس کی عمر میں ۱۳۰۲ھ میں دستار فضیلت سے سر فراز ہوئے۔

علامہ محمد حسن علیہ الرحمہ کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی ان کے علاوہ دیگر نامور اکابر علماء سے استفادہ کیا ان میں دو نام قابل ذکر ہیں:

۱۔ مخدوم ملت استاد الاساتذہ، علامہ الزمان، بحر العلوم مخدوم حسن اللہ صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

۲۔ استاد العلماء حضرت علامہ عطا اللہ فیروزی شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (تحصیل میہڑ)

بیعت و خلافت:

۱۳۰۷ھ میں حجاز مقدس و عراق معلیٰ کا سفر کیا۔ بغداد شریف میں حضور غﷺث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی پیران پیر دستگیر سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے دربار عالیہ قادریہ میں کئی روز تک فیضیاب ہوتے رہے۔ خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین قطب زمان حضرت پیر سید مصطفی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست اقدست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ مرشد کریم کی صحبت میں رہ کر سلوک طے کیا اور آخر خلافت سے نوازے گئے۔

اس کے بعد حجاز مقدس کا سفر کیا اور بقیہ زندگی نور مجسم ، ہادی عالم ، شفیع اعظم ، شفیع المذنبین ﷺ کے مزار پر انوار پر مدینہ منورہ میں گزارنے کا تہیہ کیا۔ اور تقریباً ڈیڑھ سال مدینہ منورہ میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ اس عرصے میں کبھی کبھار مکہ معظمہ بھی جاتے تھے۔ جہاں نامور علام دین حضرت علامہ مفتی سید احمد زینی دحلان شافعی علیہ الرحمۃ (مؤلف الدر ر السنیۃ فی الرد علی الوھابیہ) اور مکہ معظمہ کی مشہور دینی درسگاہ ’’مدرسہ صولیتہ‘‘ کے بانی و شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرتے۔

سید عابد حسین شاہ صاحب رقمطراز ہیں: علامہ سید احمد زینی دحلان شافعی اور مولانا محدم رحمت اللہ کیرانوی رحمہم اللہ تعالیٰ دونوں علماء مکہ مکرمہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اکابر علماء کی بڑی تعداد نے ان سے تعلیم پائی ہے۔ (فاضل بریلوی اور علماء مکہ،مطبوعہ کراچی)

حج کے دوران شام کے محدث علامہ ابو نصر علیہ الرحمۃ سے بھی نیاز حاصل ہوا۔ ۱۳۱۹ھ کو ہندوستان کا سفر کیا۔ سر ہند شریف میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمۃ کے مزار پر انوار پر حاضری کی سعادت حاصل کی ان کے علاوہ بھی کئی خانقاہوں پر حاضری دی۔

۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء میں پنجاب کا سفر کیا، ملتان شریف تشریف لے گئے جہاں سید القراء حضرت حافظ عبدالحکیم کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور چھ ماہ کے مختصر و قلیل عرصے میں قرآن پاک تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ اس کے بعد وطن واپس ہوئے ۔ آپ کو طریقت کے چاروں سلاسل (قادری، نقشبندی، چشتی اور سہروردی) میں خلافت و اجازت حاصل تھی۔ سلسلہ قادریہ میں حضرت سید مصطفی گیلانی علیہ الرحمۃ سے خلافت حاصل تھی۔

اس سے قبل ۱۳۱۵ھ میں حضرت خواجہ عبدالرحمن فاروقی سرہندی علیہ الرحمۃ (ٹندو سائیں داد) سے سلسلہ نقشبندیہ میں خلافت حاصل کی۔

حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد آپ نے باطنی اشارے پر حضرت خواجہ ولی محمد کاتیاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (خانقاہ ملا کا تیار ضلع حیدرآباد) کے حلقہ میں شامل ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ اور سہروردیہ میں تکمیل خلافت پائی۔

پیر طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی قدس سرہ (دربار موہڑہ شریف تحصیل کوہ مری، اسلام آباد) سے بھی نقشبندیہ سلسلہ میں خلافت ملی۔

قطب زمان، علام ربانی، فاتح قادیانیت حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (خانقاہ گولڑہ شریف ، اسلام آباد) کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر سلسہ چشتیہ میں خلافت حاصل کی۔

چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی لیکن آپ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت لیتے تھے اور اسی سلسلہ کو پھیلایا۔

تلامذہ:

آپ کے تلامذہ میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:

٭ استاد العلماء علامہ مولانا سید امیر محمد شاہ الحسینی۔ امینانی شریف

٭ مولانا حاجی عبدالرحیم لغاری (مورو) سابق معلم فقہ سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی۔

٭ مولانا محمد کامل

٭ مولانا محمد حسن گوٹھ سیال

٭ مولانا عبدالخالق

٭ مولانا محمد صاحب گوٹھ مڈھ

٭ مولانا خان محدم جوہی ٭ مولانا عبداللطیف

 

خلفائ:

٭ حضرت مولانا فقیر محدم نقشبندی درگاہ ویہڑ شریف ضلع دادو

٭ حضرت مولانا حافظ محمد صالح درگاہ کرم پور شریف

٭ حضرت مولانا محدم عبداللہ المعروف ’’یمشی‘‘ ضلع نوابشاہ

٭ حضرت مولانا بشیر محمد اوباڑو ضلع گھوٹکی

٭ حضرت مولانا عبدالہادی بوبکائی بوبک ضلع دادو تحصیل سیوہن

٭ حضرت مولانا الحاج محمد موسیٰ

٭ حضرت مولانا امیر محمد پسند خان مینگل

٭ حضرت مولانا سید خیر شاہ

تصانیف:

٭ فتاویٰ ملکانی مرتبہ: احمد مجتبیٰ غالب ملکانی (قلمی)

٭ سبیل الرشاد

٭ التاریق عبداللہ فی جواز یا رسول اللہ

٭ المنح املک الجلیل فی جواز القیام والمعانقۃ والتقبیل

٭ زجر الغوی البلید فی تحقیق وجوب التقلید

٭ السیف القہری علیٰ عنق النو شہری (مولوی فیض الکریم (نوشہرو فیروز ) غیر مقلد کے رد میں)

٭ تنقیح المقاصد شرح ایساغوجی

٭ حسن الخطاب اولیاء کرام کے مزارات پر گنبد تعمیر کرنے کے جوا زمیں

٭ ترویج الجنان المنصفین فی الرد علی بعض فضلاء المفرطین (مولوی عبدالرحیم پچھمی غیر مقلد (ڈیپلائی) کے رد میں)

٭ القول الحسان (مولوی نظام الدین بہاولپوری کے رسالہ عجالہ نافعہ کا رد)

٭ زجر الفضیح من ارتکاب القبیح (سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے فضائل میں)

٭ اظھار الارشاد (خطبات ۴ جلد)

٭ الایضاح لما اشتبہ علی الملاح (مولانا محدم ہاشم نوابشابہی کی تحریر کے متعلق)

٭ فتح الاحد فی تحقیق اللحد

٭ فتح الخلاق فی الرد علیٰ عبدالرزاق (مولانا عبداالرزاق بوبکائی کے رد میں)

٭ ایقاظ الناس الغیبی فی عدم ایقاع طلاق الصبی

٭ ذلاقۃ الکبیرہ فی تحقیق نکاح الصغیرہ

٭ نتیجۃ الافکار والمحن فی الرد علی المفتی الماجن (میاں شیخ محمد بختار پوری کے رد میں)

٭ تحفۃ العارفین الصوفیہ

وصال:

مولانا مخدوم غلام محمد ملکانی نے ۲۲ جمادی الاخر ۱۳۵۴ھ بمطابق ۲۲ ستمبر ۱۹۳۵ء بروز اتوار ۷۸ سال کی عمر میں اس دارناپائیدار سے ہمیشہ کیلئے افق زمین میں غروب ہوگئے۔

(ماخوذ : انوار احمدیہ، مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء شہاب الثاقب)

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

مزید

Comments