Hazrat Molana Azizullah Alhabvi

حضرت مولانا عزیز اللہ الحبوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا محمد عزیز اللہ الحبوی ، لاڑکانہ اور خیر پور میرس کے نامور عالم ، اعلیٰ منتظم ، بیدار مغز استاد اور باصلاحیت سیاسی کارکن تھے ۔

گوٹھ مسوحب ( تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) میں حبیب اللہ ڈیتھو کے گھر کے رجب المرجب 1370ھ کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت

 پرائمری تعلیم آبائی گوٹھ مسوحب میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ میں داخل کرایا۔

 جہاں حضرت علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے ہاں تعلیم پائی درسی نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں رئیس العلماء حضرت علامہ تقدس علی خان بریلوی کے ہاں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔

 اس کے بعد جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی مدظلہ العالی کے ہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھا ۔ اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے شہادۃ العالمیہ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ محکمہ اوقاف پاکستان کی جانب سے علماء اکیڈمی (بادشاہی مسجد ) لاہور سے بھی سند حاصل کی۔

 درس و تدریس

 فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔

مدرسہ منظور الا سلام گوٹھ صدر جی بھٹیوں (تحصیل پیر جو گوٹھ ) میں مدرس رہے۔

طارق گوٹھ (نزد ٹھری میر واہ ) ۔

مدرسہ نعیمیہ گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) ۔

 مرکزی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ ۔

 مسجد درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری لاڑکانہ ۔

 مدرسہ انوار مجتبیٰ پھول باغ خیر پو ر میرس ۔

 مدرسہ مخزن البرکا ت لاڑکانہ میں درس و تدریس اور تنظیم سازی کے فرائض انجام دیتے رہے ۔

ڈسٹرکٹ خطیب

محکمہ اوقا ف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب او ر مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری لاڑکانہ کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ اس دور میں عوام الناس میں بیداری اور تنظیم سازی کے لئے کام کیا ۔ روزانہ بعد نماز فجر درس قرآن کا آغاز کیا۔ عوام اہل سنت میں بیداری کے لئے ملاقات اجلاس میٹنگ اور تنظیم سازی کا کام کیا۔

 ائمہ مساجد کی تنظیم سازی اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا۔ جماعت اہل سنت پاکستان لاڑکانہ اور جمعیت علمائے پاکستان میں کام کیا۔ ان کے پاس اہل سنت و جماعت کے لئے پروگرام تھا وہ مسلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اسی لئے تڑپتے رہتے تھے ۔ وہ خود دار تھے اور خودداری کا سبق دیتے تھے۔ اہل سنت و جماعت کے انتشار اور تنظیم سے عدم دلچپسی سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ اہل سنت کو مرکز دینے کے لئے مدرسہ مخزن البرکات قائم کیا ۔

شعبہ نشر و اشاعت قائم کر کے پمفلٹ شائع کئے ۔ معززین شہریوں کی میٹنگ بلواتے ۔ ائمہ مساجد کی تربیت کا پروگرام مرتب کیا۔ سالانہ عظمت خلفائے راشدین کانفرنس کی بنیاد رکھی ، جس میں ہر سال ملک کے نامور علماء و خطبا ء او ر شعلہ بیان مقررین کو مدعو فرما کر اصلاح عقائد کے حوالہ سے نئے انداز میں کام کیا ۔ یہ کانفرنس آج بھی جاری ہے اور ان کی نہ صرف یاد دلاتی ہے بلکہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہے ۔

 وہ اپنے وجود میں ایک بزم سجائے ہوئے تھے افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ حقوق اہل سنت کے حصول کے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔ اور اہل سنت و جماعت کو جگاتے رہے ۔ وہ اہل سنت و جماعت کا تنظیمی سر مایہ تھے۔ وہ فقیر راشدی کے دوست تھے، تنظیمی ساتھی تھے ہر موڑ پر ساتھ تھے آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

مدرسہ مخزن البرکات کا قیام

اپنے پروگرام کو وسعت دینے کے لئے انہیں ایک مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس لئے 1980ء میں اپنی خاندانی زمین فروخت کر کے ، لاڑکانہ شہر مین گلشن مصطفی ہاوٗسنگ سوسائٹی میں 6000 ہزار فٹ اراضی پر مشتمل پلاٹ خرید کر جامعہ رضویہ مخزن البرکات کی بنیاد رکھی ۔

 اس کے بعد تعمیر و ترقی کے کٹھن مراحل سے گذر کے تین کمرے اور ایک کچن تعمیر کرواکے درس و تدریس کا آغاز کر دیا۔ علامہ الحبوی کے انتقال سے ان کا پروگرام متاثر ہوا۔ لاڑکانہ شہر میں یہ پہلا مدرسہ تھا جس کا اپنا باورچی خانہ تھا۔

 جس نے مدارس کے منتظمین کو نمونہ فراہم کیا کہ مدارس میں اپنا کچن قائم کریں او ر طلباء کو گھر گھر روٹی پانی کے لئے بھیج کر ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ اپنے پیر حاجی الہ آندل شیخ نقشبندی صاحب کو ترغیب دلا کر تیار کیا اور ان سے خیر پور میرس شہر میں دارالعلوم انوار مجتبیٰ قائم کروایا ۔

 یہ مدرسہ خیر پور شہر میں اہل سنت و جماعت کا اولین مدرسہ ہے ۔ مدرسہ اور متصل جامع مسجد مدینہ کو آج بھی خیر پور شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ خیر پور میرس میں اہل سنت اور دیوبندی وہابی دونوں اکٹھے 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد النبی ﷺ نکالتے تھے۔ اہل سنت والے محبت رسول میں اور دیو بندی بغض شیعہ میں یہ جلوس نکالا کرتے تھے ۔آپ نے مدرسہ قائم فرمانے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ جلوس میلادالنبی ﷺ کے لئے تمام تنظیموں کااجلا س بلایا اور انہیں سمجھا یا کہ ہمارا جلوس، وہابیوں کے جلوس کے ساتھ نہیں بلکہ جدا اپنے علماء و مشائخ کی قیادت میں نکلے گا اور اختتام پر پھول باغ میں جلسہ کا انعقاد ہو گا ۔ اس طرح اہل سنت کے تشخص کو اجاگر کیا۔

 بیعت

حضرت منظور حسین مدنی خاصخیلی (خیر پور میرس ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور ان کے خلیفہ حاجی الہ آندل شیخ سے خلافت ملی ہوئی تھی۔

 تصنیف و تالیف

 وہ تصنیف و تالیف کی اہمیت سے غافل نہ تھے ، وقت بوقت چھوٹے چھوٹے رسائل پمفلٹ اور طغر ے وغیرہ لکھتے اور شائع کرتے رہتے تھے۔

کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مع خزائن العرفان (امام احمد رضا خان بریلوی ) کا سندھی ترجمہ (قلمی ) پہلا پارہ آپ نے چھپوایا تھا۔

علم غیب ، نورانیت ، حاضر و ناظر وغیرہ موضوعات پر چارٹر ؍طغر ے لکھ کر شائع کئے ۔

عرصہ بعد وہ طغر ے نایاب ہو گئے اس لئے ادارہ پیغام رضا حیدرآباد ؍کراچی نے کثیر تعداد میں چھپوا کر سندھ بھر میں مفت تقسیم کئے اورمساجد میں آویزاں کئے ۔

  رحمت عالم

  سوانح امام ربانی

نشری تقریری

اذان میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم (سندھی )

تلبیس الاحوال فی عمل ابوجھل بجواب حاجی ابو جھل (مولوی اللہ بخش غیر مقلد کے پمفلٹ کارد ) (سندھی )

تلامذہ

 آپ کے نامور شاگرد درج ذیل ہیں :

 مولانا عبدالقادر سہتو امام مدینہ مسجد لاڑکانہ

مولانا علی حسن مہیسر امام خیر شاہ مسجد لاڑکانہ

مولانا نثار احمد الحبوی عربی ٹیچر ہائی اسکول لاڑکانہ

اولاد

آپ کو ۴ بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے :

محمد جمیل

محمد سلیم

زین العابدین ڈیتھو

 وصال

 مولانا کی انقلابی زندگی پر ان کے استاد ، ادیب اہل سنت شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی (لاہور ) کا گہرا اثر تھا ۔ شکار پور میں شب معراج 27، رجب المرجب کو جلسہ عید معرا ج النبی ﷺ منعقد تھا۔ مولانا الحبوی کا خصوصی خطاب تھا ۔ آپ 26 ، رجب کو شام کو مدرسہ سے نکلے کہ ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچ کر خطاب کروں گا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ نے سفر وین کے ذریعے کیا راستہ میں وین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مولانا اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ لاش ایمبولینس کے ذریعے معراج میں مدرسہ پہنچائی گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی ۔ آپ کا مزار مدرسہ مخزن البرکات لاڑکانہ میں واقع ہے۔ بتاریخ 27، رجب 1407ھ؍ 28، مارچ 1987ء کو 37سال کی عمر میں انتقال کیا۔

 [مرحوم کے برادر اصغر مولانا نثار احمد سے موصول شدہ مواد اور اپنی یا داشت ]

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

مزید

Comments