Hazrat Molana Abdul Rahman Sahru

استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو  رحمۃ   اللہ علیہ

استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو بن محمد عمر بن خیر محمد گوٹھ کندھرا سہڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء (شناختی کارڈ کے مطابق ) کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت :

ابتدائی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں علامہ تاج محمد آریجوی سے حاصل کی اس کے بعد مدرسہ دارالفیض سونہ جتوئی میں غالبا علامہ دوست علی جتوئی سے بعض اسباق پڑھے ، بعد ازاں جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں حضرت فقیہ اعظم علامہ مفتی محمد قاسم مشوری سے بعض کتابیں پڑھی اس کے بعد ہمایوں شریف کا رخ کیا جہاں غالبا مفتی عبدالباقی ہمایونی سے تعلیم حاصل کی اور بالآخر استاد اول علامہ تاج محمد آریجوی کے پاس آئے وہیں نصاب کی تکمیل کے بعد ۱۹۶۵ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ بعد فراغت جامعہ رضویہ مظہر الا سلام فیصل آباد میں حضرت علامہ محمد سردار احمد محدث لائلپوری سے دورہ حدیث پڑھا ۔

بیعت :

آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبداللہ جان سر ہندی ؒ ( ٹنڈو سائینداد) سے دست بیعت ہوئے ۔

اولاد:

آپ کو دو بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔

۱۔      محمد علی سہڑو              

۲۔     قربان علی سہڑو اور مصباح الدین سہڑو آپ کے داماد ہیں ۔

درس و تدریس :

بعد فراغت آپ نے مادر علمی مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں چار سال تدریس سے وابستہ رہے ۔ جیلانی مسجد و مدرسہ ڈوکری میں پانچ سال، مدرسہ گڑھی خیر و (ضلع جیکب آباد ) میں پانچ سال ، اپنے گوٹھ میں سات سال اور عمر کے آخری آٹھ سال ہمایونی شریف کے مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہو کر علم کی روشنی پھیلائی ۔ یعنی ۲۹ سال مسلسل علم کے پیاسوں کو سیراب کیا۔

تلامذہ :

آپ کے نامور تلامذہ میں درج ذیل اسماء پیش کئے جا سکتے ہیں :

ٔ٭     مولانا علامہ ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ حسنیہ رضویہ خیر محمد آریجہ

٭     مولانا فضل محمد جمالی مدرس مدرسہ گڑھی خیرو

٭     میاں عبدالباقی ہمایونی موجودہ سجادہ نشین درگاہ ہمایوں شریف

٭     مولانا نصر اللہ بن مولانا تاج محمد آریجوی

٭     مولانا فیض محمد سانگھرو تحصیل ڈوکری

سفر حرمین شریفین :

۱۹۷۵ء کو مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔

عادات و خصائل:

مولانا نرم طبیعت ، خوش اخلاق ، اوڑھنا بچھونا سادہ ، وقت کا قدردان ، طلباء پر مہربان ، اساتذہ کا سراپا احترام ، زندگی درس و تدریس میں بسر کی۔ حلیہ میں چہرہ نورانی ، رنگ صاف، داڑھی گھنی سفید بمطابق سنت مبارکہ ، سر پر سفید عمامہ اور قد کے دراز تھے ۔

وصال :

حضرت علامہ عبدالرحمن سہڑو نے درگاہ ہمایون شریف میں دوران تدریس نڈھال ہو گئے علالت و نفاہت تو پہلے ہی طبیعت پر اثر انداز تھی ۔ جس کے باعث انہیں سول ہسپتال لاڑ کانہ (سندھ ) میں داخل کرادیا گیا اور ۹، رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ بمطابق ۲۶، اپریل ۱۹۸۸ء بروز منگل ، ۶۸سال کی عمر میں انتقال کیا۔ قاری شاہنواز بروہی ، امام و خطیب جامع مسجد ڈوکری نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے او ر آخری آرام گاہ کندھرا سہڑا کے قبرستان میں واقع ہے۔

[فقیر غلام شبیر جیسر (تحصیل ڈوکری) نے مولانا مرحوم کے بیٹوں اور عزیز رشتہ داروں سے مل کر حالات جمع کر کے بھجوائے اور فقیر نے مضمون ترتیب دیا۔]

 (انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

مزید

Comments