Hazrat Khawaja Muhammad Baba Samasi Bukhara

حضرت خواجہ محمد بابا سماسی (بخارا) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ علی رامتینی ملقب بہ عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے ہیں جن کو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رحلت کے وقت خلافت و نیابت کے تمام مناصب سے سرفراز فرمایا اور تمام اصحاب کو آپ کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔

آپ کی ولادت باسعادت ۲۵؍رجب ۵۹۱ھ بمطابق ۱۱۹۵ء کو قصبہ سماس میں ہوئی جو رامتین سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق سماس مضافاتِ طوس (مشہد) سے ہے۔ سنوسیِ ہند حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث دلی پوری قدس سرہ کے خلیفۂ اجل پیر خیر شاہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصانیف حنیف ’’برکاتِ علی پور شریف‘‘ میں تحقیق لکھتے ہیں کہ قصبہ سماس بخارا اور رامتین ہر دو سے نو نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ بہرحال حضرت بابا کوسماس کی نسبت سے سماسی کہا جاتا ہے۔

آپ عرصۂ دراز تک حضرت خواجہ علی رامتینی عرف حضرت عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور فیوضاتِ ظاہری و باطنی سے خوب مالا مال ہوئے۔ آپ کی محویت اور استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے چھوٹے سے باغ میں کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور انگوروں کی شاخوں کو اپنے دستِ مبارک سے تراشتے۔ جب ایک شاخ کو کاٹتے تو غلبۂ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دستِ مبارک سے گر پڑتی اور آپ بے خود ہوجاتے، یہ بے خودی اور غیبت (غلبہ) دیر تک رہتی جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ کو کاٹنا شروع کردیتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے۔ اس طرح اس کام میں بہت دیر ہوجاتی۔

کرامات:

۱۔ آپ نے خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی فرزندی میں قبول فرمایا تھا جس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت شاہِ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سے پہلے آپ بارہا کو شکِ ہندواں سے گزرتے اور فرماتے:

ازیں خاک بوئے مردے مے آید زود باشد کہ کو شکِ ہند واں قصرِ عارفاں شود۔

اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے جلدی ایسا ہوگا کہ شکِ ہندواں قصرِ عارفاں بن جائے گا۔

ایک روز آپ اپنے خلیفۂ اعظم حضرت سیّد امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کے مکان سے قصرِ عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے، بلا شک و شبہ وہ مرد پیدا ہوگیا ہے اُس وقت حضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مبارک کو تین روز ہوچکے تھے۔ اُن کے جد امجد اُن کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ مردِ خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی، یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے ہرگز ہرگز دریغ اور کوتاہی نہ کرنا۔ اگر تم اُس میں کوتاہی کرو گے تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ حضرت سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہوکر ادب و احترام سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں‘‘۔

۲۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیئں کہ جب میری عمر اٹھارہ سال (یا کچھ کم و بیش) ہوئی تو میرے جدِّ امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں قصر عارفاں جاکر حضرت بابا محمد سماسی رحمۃ اللہ علیہ کو تشریف لانے کی دعوت دوں تاکہ اُن کے قدومِ میمنت لزوم فرمانے سے یہ کام انجام پذیر ہوجائے۔ جب میں زیارت سے مشرف ہوا تو سب سے پہلی کرامت دیکھنے میں یہ آئی کہ اُس رات آپ کی صحبت کی برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز (گریہ زاری اور عاجزی و انکساری) پیدا ہوا۔ رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی اور سر سجدے میں رکھ کر دعا اور گریہ زاری بہت کی۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا۔ ’’خدایا! مجھے (دکھ، تکلیف) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت و مشقت کرنے کی قوت عطا فرما۔ صبح میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا ’’اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے‘‘، خدایا اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اُسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رضا تو ا س میں ہے کہ بندہ مصیبت میں مبتلا نہ ہو لیکن اگر وہ کسی حکمت کی وجہ سے اپنے کسی دوست پر مصیبت اور آزمائش کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اُس پر ظاہر کردیتا ہے۔ خود اپنی مرضی و اختیار سے مصیبت و تکلیف، دکھ اور درد اور رنج و بلا طلب کرنا دشوار ہے، گستاخی نہ کرنی چاہیے۔

بعد ازاں کھانا لایا گیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی اٹھا کر مجھے عنایت فرمائی، میں لینا نہ چاہتا تھا، آپ نے فرمایا: ’’لے لو، کام آئے گی‘‘۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصر عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان حالات و واقعات کے مشاہدے سے آپ کی نسبت میر ایقین و اعتقاد بڑھتا گیا، راستے میں ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آپ کا ایک محب و مخلص تھا، وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا، جب آپ اُس کے مکان میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اُس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’سچ سچ بتا، تمہارے اضطراب کا سبب کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں، آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ’’وہ روٹی لاؤ، تم نے دیکھا کہ آخر کام آ ہی گئی‘‘۔

آپ کے چار خلفاء کامل و اکمل اور مشہور و معروف ہوئے۔

۱۔ خواجہ محمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مقدس قصبہ سُو خار میں ہے۔

۲۔ خواجہ محمود سماسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے۔

۳۔ خواجہ دانشمند رحمۃ اللہ علیہ

۴۔ خواجہ سیّد میر کلال رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی رحلت ۱۰؍جمادی الآخر ۷۵۵ھ مطابق ۱۳۵۴ء کو ہوئی اور مرقد مقدس موضع سماس میں بنا۔


(تاریخِ مشائخ نقشبند)

خواجہ محمد بابا سماسی قدس سرہ

جائے ولادت:

طریقت میں آپ کا انتساب حضرت عزیزاں سے ہے۔ آپ کا مولد سماسی ہے جو بقول صاحب رشحات دیہات رامتین میں سے ہے۔ اور رامتین سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خواجہ محمد بابا کو اس کی طرف نسبت کر کے سماسی کہتے ہیں۔

جب حضرت عزیزاں کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے خواجہ محمد بابا کو اپنی خلافت و نیابت کے لیے انتخاب کیا۔ اور تمام اصحاب کو ان کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔

استغراق کی کیفیت:

آپ کی محویت و استغراق کا یہ عالم تھا کہ موضع سماسی میں آپ کا چھوٹا سا باغ تھا جہاں آپ کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور وہاں کے انگوروں کی شاخوں کو اپنے دست مبارک سے تراشتے۔ مگر اس کام میں بہت دیر لگ جاتی۔ کیونکہ جب آپ انگور کی ایک شاخ کوکاٹتے تو غلبہ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دست مبارک سے گرپڑتی۔ اور آپ بے خود ہوجاتے۔ یہ بے خودی دیر تک رہتی۔ جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ انگور کو کاٹنے لگتے۔ پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔

مرد کامل کی خبر:

آپ خواجہ بہاء الدین نقشبند کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ جس کی کیفیت اس طرح ہے کہ حضرت شاہ نقشبند کی ولادت سے پہلے آپ بار ہا ‘‘کوشک ہندواں’’ سے گزرتے اور فرماتے۔

ازیں خاک بوے مردے مے آید۔
زود باشد کہ کوشک ہندواں قصر

اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے۔ جلدی ایسا ہوگا کہ کوشک ہندواں قصر عارفاں بن جائے گا۔

حضرت نقشبند کی ولاد ت کی خبر:

ایک روز آپ اپنے خلیفہ سید امیر کلال کے مکان سے قصر عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بے شک وہ مرد پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت حضرت نقشبند کی ولادت کو تین روز ہوچکے تھے۔ آپ کے جدِ امجد آپ کو لے کر خواجہ محمد بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ وہی مرد خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تم اس میں کوتاہی کرو گے۔ تو میں تمہیں معاف نہ کروں گا۔ امیر موصوف نے کھڑے ہوکر اور ادب سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں۔

فراست و بصیرت:

حضرت خواجہ نقشبند سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔ رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا(آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا لایا گیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔

وصال مُبارک:

بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے۔ (رشحات۔ انیس الطالبین)۔

(مشائخِ نقشبندیہ)

مزید

Comments