Hazrat Khawaja Arif

حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔

آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍میل اور غجدوان سے ۳؍میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷؍رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵؍ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹؍دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبدالخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ میں۔ گویا کہ آپ پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۱۴۰ سال زندہ رہے۔


(تاریخِ مشائخ نقشبند)

خواجہ عارف ریوگری قدس سرہ

نسبت وارادت:

خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق۔ خواجہ اولیائے کبیر۔ خواجہ سلیمان کرمینی۔ خواجہ عارف ریوگری۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی نسبت و ارادت ان میں سے خواجہ عارف تک پہنچتی ہے۔ حضرت خواجہ عارف کا مولد و مدفن موضع ریوگر ہے [۱] جو دیہات بخارا میں سے ہے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و عبادت اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔

[۱۔ ریوگر (بکسر راے مہملہ و سکون یا و واد ہر دو۔ وکسرکاف فارسی) بخارا سے چھ فرسنگ اور غجدوان سے ایک فرسنگ شرعی کے فاصلہ پر واقع ہے۔]

وصال مُبارک:

آپ کا سنہ وفات بقول صاحب حضرات القدس ۶۱۶ھ یا ایک سال بعد ہے۔ (رشحات)۔

(مشائخِ نقشبندیہ)

مزید

Comments