Mufti Hafiz Abdul Qadir Kalhoro

 خطیب اسلام حضرت علامہ مفتی حافظ عبدالقادر کلہوڑو  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خطیب اسلام لحن داوٗ د حضرت علامہ مفتی حافظ عبدالقادر بن حاجی میر محمد کلہوڑو ۹، ستمبر ۱۹۱۹ء کو گوٹھ فاضل کلہوڑو عرف کارڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں رولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت :

ابتدا میں گوٹھ کی مسجد شریف میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد چروا ہے کاکام کیا اور ساتھ میں پانچ پارے حفظ کر لئے۔ آپ کو حصول علم کا بہت شوق تھا، اس کے ساتھ نہایت ذہین و ذکی تھے ۔ آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا کہ آپ کے ہی گوٹھ میں فقیر کامل حضرت استاد الحفاظ امام بخش سومرو ؒ(بانی درگاہ حافظ امام بخش ضلع لاڑکانہ ) کی آمد ہوئی انہوں نے گوہر نایاب کو پہچان لیا فرمایا: بیٹا !میرے ساتھ چلیں میرے مدرسہ میں قرآن مجید حفظ کریں ‘‘ ۔ حافظ عبدالقادر اسی وقت حضرت حافظ صاحب کے ساتھ آپ کے کمدرسہ غوثیہ آئے، وہیں رہ کر ۱۵ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کا عظیم اعزاز حاصل کیا۔ بعد فراغت ایک ختم تراویح استاد صاحب  کے پاس اور دوسرا ختم قرآن تراویح فرید آباد میں کیا۔ ایک روز حضرت حافظ صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد حافظ عبدالقادر کو درگا ہ مشوری شریف لے گئے جہاں جامعہ عر بیہ قاسم العلوم دارالافتاء الشرعی میں داخل کروایا ۔

حافظ عبدالقادر نے فقیہ اعظم ، استاد العلماء شیخ الحدیث ، بحر العلو م و الفیوض ، حضرت علامہ مفتی الحاج محمد قاسم مشوری قدس سرہ کی خدمت عالیہ میں رہ کر سات سال قبل عرصہ میں درس نظامی کی تکمیل کی۔ اس کے بعد علم میراث میں ملکہ اور فتاویٰ نویسی سیکھی اور سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ میں آپ کی دستا ر فضیلت ہوئی۔

بیعت :

آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں حضرت فقیہ اعظم تاج العارفین حضرت سرکار مشوری قدس سرہ الا قدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ حافظ صاحب کو اپنے پیرو مرشد سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی ۔

درس و تدریس :

بعد فراغت آپ کے جامعہ عربیہ قاسم العلوم مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور حضور قبلہ عالم کی زیر سر پرستی میں فتاویٰ نویسی کا کام بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ ۱۹۴۶ء میں اپنے گوٹھ میں ’’مدرسہ غوثیہ ‘‘ قائم کیا، جہاں حفظ قرآن کا کام عروج کو پہنچایا ، کئی حفاظ کرام فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس طرح ائمہ مساجد و ختم تراویح کی ضرورت کو پورا کیا۔ آخر عمر میں حضرت قبلہ عالم سید ی مرشدی سندی مولائی و ملجائی قدس سرہ کے حکم کے مطابق شہر لاڑکانہ کی مرکز ی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ میں امامت و خطابت ، اور درس و تدریس کا مشغلہ انتقال تک جاری رکھا ۔

خطا بت :

ڈویژن لاڑکانہ کے نامور خطباء میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کی آواز لحن داوٗد ی تھی ، لوگ دوردراز علاقو ں سے آپ کا خطاب سننے آتے تھے ۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو ماحو ل میں سکوت طاری ہو جاتا اور اس طرح بعض ہندو قرآن پاک سن کر مسلمان ہو گئے ۔ آپ کا وعظ گویا جادو تھا جو کہ دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا تھا ۔ زندگی بھر وعظ کے ذریعے مسلک حقہ اہل سنت و جماعت کی خوب تبلیغ و ترویج فرماتے رہے۔

حافظ عبدالقادر دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے ، اپنے پیرو مرشد کے عطا کردہ تمام و ظائف و اور اد کو پابند سے ورد میں رکھتے تھے۔

پردہ عورت :

حضور قبلہ عالم کی تصنیف لطیف ’’پردہ عورت ‘‘کی جب چھپائی کا مرحلہ آیا تو درگاہ شریف کے کتب خانہ میں پردہ عورت کا ایک ایسا نسخہ سامنے آیا جو کہ پریس کیلئے صاف لکھائی میں لکھا گیا تھا ۔ پتہ لگنے پر معلوم ہوا کہ یہ خوشنو یسی علامہ حافظ عبدالقادر کی ہے آپ کی خوشخطی نے بہت متاثر کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ حضرت قبلہ عالم کے فتاویٰ ، تحریر اور کتاب کی نقل تیار کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نقل راقم الحروف راشدی کے کتب خانہ میں بھی ہے۔

شادی و اولاد :

آپ نے ایک شادی کی جس سے ۴ بیٹے اور ۴ بیٹیا ں تولد ہوئیں ۔

۱۔       حافظ احمد علی عباسی صدر جمعیت علماء پاکستان لاڑکانہ

۲۔     حافظ غلام بشیر           

۳۔      حافظ نذیر احمد    

۴۔     منیر احمد ۔

آپ کی بڑی بیٹی اور ایک بھتیجی قرآن پاک کی حافظہ اور آپ کی شاگر د ہیں ۔

تلامذہ :

آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔

حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )

وصال :

حضرت علامہ مفتی حافظ عبدالقادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔

حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔

[حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے]


(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

مزید

Comments