Hazrat Abu Ali Fazal Farmadi Toosi

 

 

فارمد نزدطوس شہر (۴۳۴ھ/ ۱۰۴۳ء۔۔۔۴۷۷ھ/ ۱۰۸۴ء) طوس (ایران)

 

قطعۂ تاریخِ وصال

شیخ ابو علی تھے وہ سلطانِ اولیاء
سایہ فگن ہیں اپنے مریدوں پہ بالیقیں

 

روشن ہے جن سے طوس و خراساں کی ہرگلی
’’شیریں کلام عالی مناقب ابوعلی‘‘
۱۰۸۴ء

(صاؔبر براری، کراچی)

 

آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے۔ آپ ۴۳۴ھ میں طوس کے نواحی گاؤں فارمد میں پیدا ہوئے جس کی نسبت سے فارمدی کہا جاتا ہے۔

آپ نے فقۂ امام ابوحامد غزالی کبیر رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی اور ابوعبداللہ بن باکوشیرازی، ابومنصور تمیمی، ابوحامد غزالی کبیر، ابو عبدالرحمان نیلی ابوعثمان صابونی (رحمۃ اللہ علیہم) سے سماعِ حدیث کیا۔ وعظ و تذکیر میں آپ حضرت امام ابوالقاسم قشیری رحمہ اللہ صاحبِ رسالہ قشیریہ کے شاگر دہیں۔ علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریقوں سے ہے۔ ایک حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ سے اور دوسرے حضرت امام ابوالقاسم کرگانی رحمہ اللہ سے ۔ یہ دونوں بزرگ اپنے زمانے کے قطب اور پیشوائے مشائخ تھے۔

آپ نے اپنی تعلیم کی داستان یوں بیان فرمائی ہے:

’’میں اوائل عمری میں نیشاپور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ حضرت شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ تشریف لائے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتےہیں۔ میں شوقِ زیارت سے بیتاب ہوکر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُن کے مقدس اور نورانی چہرے پر پہلی نظر پڑتے ہی دل و جان سے شیدا ہوگیا اور حضرات صوفیہ کرام کی محبت میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی      ؎

ایک ہی بار ہوئیں وجۂ بربادیِٔ دل

 

التفات اُن کی نظروں نے دوبارہ نہ کیا

ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں حضرت شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا میں نے صبر کرنا چاہا مگر نہ ہوسکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا او رجب چوراہا میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ حضرت شیخ ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ تشریف لے جا رہے ہیں۔ میں بھی  ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ شیخ ایک جگہ پر پہنچ کر تشریف فرما ہوگئے تو میں بھی  ایک کونہ میں خاموشی سے بیٹھ گیا جہاں حضرت شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی، محفل سماع شروع ہوئی اور شیخ کو وجد آگیا اور حالتِ وجد میں شیخ نے اپنے کپڑے تار تار کردیے، جب سماع سے فارغ ہوئے تو پھٹے ہوئے کپڑے اتار ڈالے۔ شیخ نے ایک آستیں علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابوعلی طوسی کہاں ہیں؟ میں نے خیال کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں شاید اُن کے مرید کا نام ابو علی ہوگا، بدی وجہ میں بالکل خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری آواز دی تو پھر بھی میں خاموش رہا، تیسری بار آواز دی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ تم کو جانتے ہیں اس لیے تمہیں ہی بلا رہے ہیں میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا تو شیخ نے وہ آستین مجھے مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ یہ تیر احصہ ہے، میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالای اور اُسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور اُن سے فیوض و برکات حاصل کرتا رہا۔ اُن کی صحبت سے بہت فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات وارد ہوئے۔

جب شیخ نیشاپور سے تشریف لے گئے تو میں استاد  امام ابوالقاسم قشیری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن سے وہ تمام حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم حاصل کرنے میں مصروف رہ، مگر وہ روشنی جو شیخ ابوسعید کی صحبت سے ملی تھی روز بروز زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ میں تین سال تک مزید علم حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ ایک روز میں نے جب قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام معاملہ عرض کیا، آپ نے فرمایا کہ اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا ہے لہٰذا تو بھی اُس سے الگ ہوجا اور طریقت کے کام میں مصروف ہوجا۔ چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور حضرت امام کی خدمتِ بابرکت میں رہنے لگا۔ ایک روز حضرت امام، حمام  میں نہا رہے تھے اور کوئی اور آس پاس نہ تھا۔ میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔  جب حضرت امام نہا کر باہر نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں اس خوف سے کہ کہیں خلافِ مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں تب بھی خاموش رہا جب آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یہ خادم تھا، حضرت امام نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو علی رحمہ اللہ! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا تو نے پانی کے ایک ڈول سے پالیا۔ کچھ عرصہ میں حضرت  امام کی خدمت میں مجاہد کرتا رہا۔ ایک روز مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میں اس میں گم ہوگیا۔ میں نے یہ واقعہ حضرت امام سے عرض کیا تو فرمایا اے ابوعلی رحمہ اللہ! سلوک میں میری بھاگ  دوڑ اس مقام سے اُوپر نہیں اور جو کچھ اس مقام سے اوپر ہے مجھے وہاں تک رسائی کا راستہ معلوم نہیں۔ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے شیخ، پیرومرشد اور راہنما کی ضرورت ہے  جو اس مقام سے اوپر لے جائے چونکہ میری حالت روز افزوں تھی اور میں حضرت شیخ ابوالقاسم کرگانی رحمہ اللہ کا نام سنا ہوا تھا لہٰذا طوس کی طرف روانہ ہوگیا جب میں وہاں پہنچا تو اپنے مریدوں کے ہجومِ نجوم کے ساتھ مسجد میں جلوہ افروز تھے۔ میں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ مراقبہ میں تھا، سر اٹھاکر فرمایا: ابو علی رحمہ اللہ! آؤ، کیا چاہتے ہو؟ میں سلام کرکے اُن کے حضور بیٹھ گیا اور اپنے تمام حالات اور قلبی واردات عرض کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو ابھی تم کسی مرتبہ پر نہیں پہنچے ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہی ہیں اور وہیں قیام کیا، انہوں نے مدتوں تک مجھ سے طرح طرح کی ریاضت و مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھے وعظ کرنے کی اجازت نہ بخشی تھی کہ ایک روز شیخ ابوسعید اپنے گاؤں میہنہ سے طوس تشریف لائے ہوئے تھے۔ میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا، ابو علی رحمہ اللہ! وہ وقت آگیا ہے  کہ تم طوطیِ شیریں مقال کی طرح باتیں کرو گے۔ اس کے چند دن بعد ہی شیخ ابوالقاسم نے مجھے وعظ کہنے کی اجازت بخش دی اور شیخ ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر افشاء ہوگیا‘‘۔

اس کے بعد آپ طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے اور اپنے پُرتاثیر وعظ کی وجہ سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد شرفِ قبولیت حاصل کیا، کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ صوفیہ کرام پر خرچ کردیتے تھے، آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے ابن سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی رحمہ اللہ لسانِ خراسان و شیخ خراسان تھے اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے، آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ ہوتا تھا جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے ہوں۔ امام غزالی آپ کے مریدوں میں تھے۔

آپ کی وفات ۴؍ربیع الاوّل ۴۷۷ھ/ ۱۰۸۴ء بعمر شریف ۴۳ سال ہوئی۔ مزار مقدس طوس میں مرجعٔ خاص و عام ہے۔

(تاریخِ مشائخ نقشبند)

شیخ ابو علی فارمدی طوسی قدس سرہ

 

نام و کنیت:

آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے اور فامد کی طرف منسوب ہیں جو طوس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔

علم کا حصول:

آپ نے فقہ امام ابوحامد غزالی کبیر سے پڑھی۔ اور ابوعبیداللہ بن باکوشیرازی۔ ابومنصور تمیمی، ابوحامد غزالی کبیر۔ ابوعبدالرحمٰن نیلی اور ابوعثمان صابونی وغیرہ سے سماع حدیث کیا۔

فضل و کمال:

عبدالغافہ فارسدی۔ عبداللہ بن علی خرکوشی۔ عبداللہ بن محمد کوفی علوی اور ابوالخیر جامع الشفاء وغیرہ نے آپ سے روایت کی ہے۔ وعظ و تذکیر میں آپ استاد امام ابوالقاسم قشیری صاحب رسالہ کے شاگر دہیں۔ عبدالغافر کا بیان ہے کہ ابو علی اپنے زمانے میں شیخ اور وعظ و تذکیر میں اپنے طریقہ کے ساتھ منفرد ہیں۔ عبارت  و تہذیب و حسن ادب و ملیح استعار و دقیق اشارہ و رقت الفاظ میں کوئی آپ سے سبقت نہیں لے گیا۔ آپ کا کلام پر تاثیر ہے۔

علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریق سے ہے۔ ایک شیخ بزرگوار ابوالقاسم کرگانی سے۔ دوسرے شیخ ابوالحسن خرقانی سے جو قطب وقت اور اپنے زمانے کے مشائخ کے پیشوا تھے۔

تعلیم کی کیفیت:

آپ اپنی تعلیم کی کیفیت یوں بیان فرماتے ہیں:

’’میں آغاز جوانی میں نیشاپور میں طالب علم تھا۔ میں نے سنا کہ شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ آئے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے گیا۔ جب  میری نظر ان کے جمال پر پڑی میں ان پر شیدا ہوگیا۔ اور طائفہ صوفیہ کی محبت میرے دل میں زیادہ ہوگئی۔ ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا۔ میں نے چاہا کہ صبر کروں مگر نہ کرسکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا جب چوراہہ پر پہنچاتو میں نے دیکھا کہ شیخ ایک بڑی جماعت کے ساتھ جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ شیخ ایک جگہ پہنچے میں بھی ساتھ چلا گیا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا۔ جہاں شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی۔ وہاں سماع شروع ہوگیا اور شیخ کو وجد آگیا۔ اور حالت وجد میں آپنے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ جب سماع سے فارغ ہوئے تو شیخ نے کپڑے اتار  ڈالے اور وہ آپ کے سامنے پارہ پارہ کیے گئے۔ شیخ نے ایک آستین علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابوعلی طوسی کہاں ہیں۔ میں نے خیال  کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں۔ شاید ان کے کسی مرید کا نام ابوعلی ہوگا۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری بار آوا ز دی۔ میں نے جواب نہ دیا تیسری مرتبہ آواز دی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ تم کو جانتے ہیں۔ میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا۔ شیخ نے وہ تریز و آستین مجھے عطا کی اور فرمایا کہ یہ تیرا حصہ ہے میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالایا اور اسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ شیخ کی خدمت میں حاضرہوتا تھا۔ مجھے ان کی خدمت میں بہت سے فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات و ارد ہوئے۔ جب شیخ نیشاپور سے چلے گئے تو میں استاد امام ا بوالقاسم قشیری کی خدمت میں حاضر ہوا اور  ان سے وہ حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم پڑھنے میں مشغول رہ۔ مگر وہ روشنی روز بروز زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں تین سال اور علم پڑھنے میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ ایک روز میں نے قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا کہہ سنایا۔ آپ نے فرمایا اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا تو بھی علم سے دستبردار ہوجا اور طریقت کے کام میں لگ جا اور معاملہ میں مشغول ہوجا۔ چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور استاد امام کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز استاد امام حمام میں تنہا تھے۔میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔ جب حضرت امام نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص  تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں بدیں خیال کہ شاید خلاف مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں نے جواب نہ دیا۔ آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ خادم تھا۔ امام نے فرمایا کہ اے ابو علی! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا۔ تو نے پانی کے ایک ڈول سے پالیا۔ میں کچھ عرصہ امام کی خدمت میں مجاہدہ کرتا رہا۔ ایک روز مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میں اس میں گم ہو گیا۔ یہ واقعہ میں نے حضرت امام سے عرض کیا تو فرمایا اے ابوعلی! سلوک میں میری دوڑ دھوپ اس مقام سے اوپر نہیں، جو کچھ اس مقام سے اوپر ہے مجھے اس کی رسائی کا راستہ معلوم نہیں۔ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے پیر کی ضرورت ہے جو اس مقام سے اوپر لے جائے۔ وہ حالت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں نے شیخ ابوالقاسم کرگانی کا نام سنا ہوا تھا اس لیے طوس کی طرف روانہ ہوا۔ شہر میں پہنچ کر میں نے ان کا مکان دریافت کیا۔ میں وہاں چلا گیا، آپ اپنے مریدوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں دو رکعت تحیہ مسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ مراقبہ میں تھے  میرے جانے پر سر اٹھاکر فرمایا ابوعلی! آؤ کیا چاہتے ہو؟ میں سلام کرکے بیٹھ گیا اور اپنے حالات بیان کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو۔ابھی تم کسی درجہ پر نہیں پہنچے۔ ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہ ہیں اور وہیں قیام کیا انہوں نے مدتوں مجھ سے طرح طرح کی ریاضت اور مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھ سے وعظ کہنے کے لیے ارشاد نہ فرمایا تھا کہ ایک روز شیخ ابوسعید میہنہ[۱] سے طوس میں آئے ہوئے تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا ابوعلی! وہ زمانہ آگیا ہے کہ تم کو طوطی کی طرح گویا کریں گے۔ اس بات کو بہت دن نہ گزرے تھے کہ شیخ ابوالقاسم نے مجھ سے فرمایا کہ وعظ کہو، اس وقت ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر ظاہر ہوگیا۔‘‘

اس کے بعد ابوعلی طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے۔ اور اپنے پر تاثیر وعظ کے سبب سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد قبولیت حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ اکثر صوفیہ کرام پر صرف کردیتے تھے۔ آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے۔ ابن  سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی لسان خراسان و شیخ خراسان تھے۔ اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے۔ آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ تھا جس میں طرح طرح کے شگوفے تھے۔

 [۱۔ میہنہ بفتح میم و سکون یا و فتح ہا ونون د یہات خابران سے ہے۔ اور خابران خراسان میں سرخس وابیورو کے درمیان ایک شہر و علاقہ کا نام ہے۔ اہل علم و تصوف کی ایک جماعت اس سے منسوب ہے۔ جن میں ابو سعید بن ابی الخیر اور ابوالفتح طاہر اہل تصوف میں مشہور ہیں۔ کذا فی معجم البلدان۔]

وصال مبارک:

آپ کی ولادت ۴۰۷ھ میں اور وفات ربیع الثانی ۴۷۷ھ میں طوس میں ہوئی۔

(طبقات الشافیۃ الکبریٰ للتاج السبکی۔ نفحات الانس)

(مشائخِ نقشبندیہ)

 

مزید

Comments