Hanafi Scholars  

Sharaf Alraosa Khuwarzami

              محمد بن محمد بن احمد بن یوسف بن اسمٰعیل الملقب بہ شرف الرؤ سا خوارزمی، فقہ حدیث اور ادب کے امام اور شہر بخارا کے قاضی تھے،بہت لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے۔از انجملہ برہان الدین کبیر عبد العزیزی عمر بن مازہ نے آپ سے فقہ پڑھی۔ (حدائق الحنفیہ)...

Muhammad Bin Ali Zanjri

          محمد بن علی بن فضل بن حسن بن احمد بن ابراہیم اسحٰق بن عثمان بن جعفر بن عبد اللہ زرنجری: بڑے عالم فاضل بے بدل تھے۔فقہ شمس الائمہ عبد العزیزی صلوائی سے پڑھی اور آپ کے بیٹے بکر زرنجری کے سوائے اور کسی نے آپ سے تفقہ نہیں کیا جس کا سبب برہان الاسلام زرنوجی نے اپنی کتاب تعلیم المتعلم کے فصل رعایۃ الاستاذ میں یہ تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے استاذ شمس الائمہ حلوائی بخارا سے نکل کر بعض دیہات میں سکو...

Ahmed Bin Ishaq Bin Sheesh

          احمد بن اسحٰق بن شیث [1] صفار: ابو نصر کنیت تھی،اصل میں بخارا سے آکر مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی چنانچہ آپ کی تصانیف اور علم نیے کثرت سے شیوع پایا،بخارا میں آپ جیسا حفظ فقہ و حدیث و ادب میں اور کوئی عالم نہ تھا،حافظ ابو عبد اللہ حاکم نے تاریخ نیشا پور میں لکھا ہے کہ آپ حج ک ے لی ے ہماری طرف آئے اور حدیث کو ہر ایک قسم کے علم میں جستجو کیا اور مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی جہاں آپ کی تصانیف ا...

Ismail Bin Abdul Sadiq

           اسمٰعیل بن عبد الصادق بن عبد اللہ الخطیب [1]البناری: بڑے فقیہ پرہیز گار تے،اور قومس کےعلاقہ میں بسطام سے لے کر سمنان تک کا ردار تھے،علوم عبد الکریم بن موسیٰ بزدوی جد فخر الاسلام بزدوی حاصل کیے اور آپ سے صدر الااسلام ابو الیسیر محمد بن عبد اکریم بزدوی نے تفقہ کیا۔   1۔البیاری وفات ذی الحج ۴۱۴؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘  (حدائق الحنفیہ)...

Ishaaq Bin Shees

           اسحٰق بن شیث المعروف [1] بالصفار: بڑے عالم فاضل ثقہ تھے،۴۰۵؁ھ میں حج کے ارادہ سے بغداد میں آئے جہاں  نصر بن احمد بن اسمٰعیل کیسانی سے حدیث کو سُنا اور روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے ابو نصر احمد بن اسحٰق نے علم حاصل کیا، آپ وجہ معیشت کے لیے کانسی کے برتنوں کی تجارت کیا کرتے تھے اس لیے صفار کی نسبت سے معروف ہوئے۔     1۔ اسحٰق بن احمد بن شیث بن نصر بن شبیب بن الحکم الصفار ب...

Ali Bin Muhammad Wasti

              علی بن محمد واسطی: عالم فاضل اور فقیہ مقبول مخالف و موافق تھے،مدت تک ابی عبداللہ بصری تلمیذ امام ابی الحسن کرخی کی صحبت میں رہے اور ان سے علوم حاصل کیے اور آپ سےعبد اللہ حسین بن علی صمیری نے پڑھا اور روایت کی۔ واسطی شہر واسط کی طرف منسوب ہے جو ماہ بین بصرہ و بغداد کے واقع ہے جس کے صحرا میں خوب قلمیں پیدا ہوتی ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)   ...

Ali Bin Daryazdi

          علی بن دار یزدی: ابو القاسم کنیت تھی اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے پکارے جاتے تھے۔مسکن آپ  کا شہر یزد تھا جو علاقۂ شیراز میں ما بین اصفہان و کرمان کے واقع ہے،آپ جمال الدین مطہر یزدی صاحب تہذیب شرح جامع صغیر کے پڑدادا تھے۔علوم،ابی جعفر قاضی نسفی شاگرد جصاص احمد رازی سے حاصل کیے اور جامع صغیر کی شرح تصنیف کی جس سے اکثر صاحب تہذیب نے نقل کی۔ (حدائق الحنفیہ)...

Memon Makholi

              میمون بن محمد بن محمد بن معتمد ب محمد بن مکحول بن فضل مکحولی نسفی: ابو المعین کنیت تھی۔امامفاضل جامع فروع واصول تھے۔کتاب تبصرۃ الدولہ اورت تمہید قاعد التوحید اور کتاب المناہج اور شرح جامع کبیر وغیرہ تصنیف کیں اور علاؤالدین ابو بکر محمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء نے آپ سے تفقہ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)...

Haibatullah Bin Ahmed

          ہبتہ اللہ بن احمد بن یحییٰ بن زہیر ب ن ہارون بن موسیٰ بن ابی جرادہ صاحب حضرت علی﷜: بڑے عالم فاضل فقیہ کامل تھے۔فقہ قاضی ابی جعفر محمد بن احمد عراقی فقیہ متکلم متوفی ۴۴۵؁ھ سے پڑھی،آپ ہی ہیں جن کے خاندان سے سب سے پہلے حلب کے قاضی مقرر ہوئے،آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو ما بین امام ابو حنیفہ وصاحبین کے واقع ہوئے آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو مابین امام ابو حنی...

Sayed Abi Shuja

           محمد بن احمد بن حمزہ ب ن حسین بن علی بن عبداللہ بن حسن بن علی المعروف بہ سید ابی شجاع،عالم فاجل فقیہ کامل[1]تھے۔سمر قند میں رکن الاسلام علی بن حسین سغدی اور امام حسن ما تریدی کے معاصر تھے اور آپ کے زمانہ میں جس فتاویٰ پر ان تینوں کے دستخط ہوتے تھے وہ بڑا معتبر خیال کیا جاتا تھا۔   1۔ آپ حضرت عباس بن علی﷜کی اولاد میں سے تھے آپ کے بیٹے ابو الوضاع محمد (ولادت ۴۳۷ھ وفات سوال ۴۹۲ھ)نے آپ...