Hanafi Scholars  

Sahib wiqaya

          محمود بن احمد بن عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی: تاج الشریعہ لقب تھا۔ عالم فاضل،نحریرکامل،بحر ذاخر،جر فاخر،صاحبِ تصانیف جلیلہ تھے۔علم اپنے باپ صدر الشریعہ احمد سے حاصل کیا اور کتاب وقایہ کو واسطے حفظ کرنے اپنے پوتے صدر الشریعہ عبید اللہ مسعود بن محمود کے ہدایہ سے منتخب کیا اور فتاویٰ و واقعات اور شرح ہدایہ تصنیف کی[1]   1۔ ان کتب کے مصنف برہان الشریعہ محمو دبن عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی مت...

Mahmood husain balkhi

            محمود بن حسین بن اسعد بلخی: ابو محمد کنیت تھی،امام کبیر،فاضل جلیل القدر،جامع علوم و فنون تھے۔علوم یوسف بن عمر صاحب جامع مضمرات سے حاصل کیے اور کتاب افتتاح شرح دعائے استفتاح میں تصنیف کی۔ (حدائق الحنفیہ)...

Fazalullah bin muhammad

            فضل اللہ بن محمد بن ایوب المنتسب الی ماجو: امام،فقیہ،اصولی،راس ارباب حقیقت و طریقت تھے۔علم یوسف بن قمر صوفی صاحب جامع المضمرات شرح قدوری سے حاصل کیا اور تصوف کو رکن الدین فیض اللہ متوفی ۷۳۵؁ھ بن ابی المغانم صدر الدین بن شیخ الاسلام بہاء الدین کریا ملتانی سے اخذ کیا اور فتاویٰ صوفیہ تصنیف کیا مگر ابن کمال لکھتے ہیں کہ یہ فتاویٰ کتب غیر معتبرہ میں سے ہے،جب تک اس کی مطابقت اصول سے معلوم ن...

Muhammad shahab kardari

         محمد بن شہاب ابن یوسف بن عمر بن احمد کردری: ناصر الدین لقب تھا۔ علوم فروع واصول اور منقول و معقول کے جامع تھے اور محمد بن محمد بن شہاب بزازی متوفی ۸۲۸؁ھ صاحبِ فتاویٰ بزازیہ کے والدِ ماجد تھے۔فقہ آپ نے سید جلال الدین مصنف کفایہ شرح ہدایہ سے پڑھی۔ (حدائق الحنفیہ)...

Sahab Tuhfa Alfiqha

محمد[1]احمد بن ابی احمد سمر قندی:ابو بکر کنیت،علاؤالدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے شیخ کبیر فاضل بے نظیر،فقیہ جلیل القدر تھے،فقہ ابی المعین میمون مکحولی اور صدر الاسلام ابی الیسر بزدوی سے پڑھی اور کتاب تحفۃ الفقہاء تصنیف کی اور آپ سے ابو بکر بن مسعود صاحب بدائع متوفی ۵۸۷؁ھ نے اور ضیاء الدین محمد بن حسین استاد صاحب ہدایہ نے  فقہ پڑھی۔آپ کی ایک بیٹی فاطمہ نام بڑی فقیہہ علامہ تھی جس نے آپ سے فقہ پڑھی اور آپ کے تحفہ کو حفیظ کیا یہاں تک کہ فتاویٰ پر آ...

Muhammad bin Hasan kashani

محمد بن حسن بن محمد کاشانی: برہان الدین لقب اور ابو عبداللہ کنیت تھی، امام فاضل ،شیخ کامل،فروع واصول کے حافظ تھے۔آپ کے وقت میں حدیث میں کوئی آپ سے اھفظ نہ تھا۔فقہ نجم الدین عمر نسفی تلمیذ صدر الاسلام ابی الیسر بزدوی سے پڑھی اور ۵۷۶؁ھ میں بغداد میں حج کے ارادے سے آئے اور وہاں حدیث کو نسفی سے لکھا۔آپ سے اشرف بن نجیب بن محمد ابو الفصل کاشانی اور شمس الائمہ محمد بن عبد الکریم تر کستانی المعروف بہ برہان الائمہ نے فقہ پڑھی۔کاشان ایک شہر عطیم الشان ہے ج...

Hamid righad moni

حامد بن محمد بن احمد بن عبدا لرحمٰن ریغد مونی: جلال الدین لقب اور اب نصر کنیت تھی ۔اپنے زمانہ کے قاضی با عمل اور مفتی فاضل تھےتصفیہ معاملات میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔فقہ اپنے باپ محمد بن احمد متوفی ۸۱۵؁ھ اور دادا قاضی جمال الدین احمد بن عبد الرحمٰن تلمیذ ابی زید دبوسی سے حاصل کی اور محاضر و شروط تحریر فرمائی۔ (حدائق الحنفیہ)...

Musannif kifaya

          سید جلال الدین شمس الدین خوارزمی کرلانی: بڑے عالم فاضل،فقیہ کامل،جامع منقول  ومعقول،حاوی فروع واصول تھے اور یہاں تک ضرب المثل اور مشہور زمانہ تھے کہ دور دور سے لوگ آپ کے پاس آتے اور فوائد علمیہ و دینیہ سے فیض یاب ہوتے تھے۔علم آپ نے حسام الدین حسن سغناقی مصنف نہایہ اور عبدالعزیز بخاری صاحبِ کشف بزدوی سے حاصل کیا اور آپ سے ناصر الدین محمد بن شہاب بن یوسف والد حافظ الدین محمد بزازی صاحب فتا...

Muhammad Husain bandekhi

محمد بن حسین بن ناصر عبدالعزیز[1]بندینجی: ضیاء الدین لقب تھا،فقیہ متجر محدث بے نظیر تھے،فقہ علاء الدین ابی بکر محمد بن احمد سمر قندی سے حاصل کی اور ۵۲۵؁ھ میں کتاب صحیح مسلم کو محمد بن فضل نیشا پوری سے سنا اور روایت کیا جنہوں نے عبد الغافر فارسی اور انہوں نےجلودی اور انہوں نے امام مسلم سے سنا تھا،آپ سے صاحب ہدایہ نے فقہ پرھی۔صاحب ہدایہ کہتے ہیں کہ مرو میں ۵۴۵؁ھ کو انہوں نے اپنی تمام مسوعات کی بالمشافہہ مجھ کو روایت کرنے کی اجازت دی۔   1۔ یر س...

Sayyad Ali qomnati romi

                سید علی قومناتی رومی: عالم فاضل،فقیہ کامل،جامع علوم مختلفہ،واقفِ فنون متعددہ تھے اور موضع توقات میں جو روم کے علاقہ مین واقع ہے،رہتے تھے، شرح وقایہ کی شرح عنایہ نام تصنیف کی اور میر ریج کی شرح لکھی۔اخیر آٹھویں صدی میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)...