Hanafi Scholars  

Hazrat Allama Molana Mufti Mazharullah Sialvi

حضرت علامہ مولانا مفتی مظہر اللہ سیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مُفتی مظہرُ اللہ سیالوی علیہ الرحمہ کا خطاب دلنشیں حُضور پُرنور علیہ السلام کے عشق و محبت کے تذکرے سے لبریز ہوتا تھاآپ کو صحابہ کرام علیھم الرضوان اور اسلاف بزرگان دین کے قصائد جو مدح نبی علیہ السلام میں لکھے گئے سینکڑوں اشعار از بر تھے۔اپنے خطاب میں احادیث مُبارکہ کا عربی متن اور اسلاف کی کُتب کے عربی حوالہ جات اتنی روانی سے ادا فرماتے کہ لگتا جیسے عربی نہیں بلکہ اپنی مادری زبان ...

Hazrat Sheikh Abu Saeed Gangohi

  آں روح جسم ولایت، شمع قصر ہدایت،مملو از رشحات کمال، ناطق ملسان احوال فارغ از گفتگوئے اغیار، دُر‎ فضائے شہو د دوست طیار، ہردم از بلند ہمتی ہمدم نعرل  ھل من مزید قطب ارشاد شیخ المشائخ واولیاء حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کیا   تھے ملک او ادنیٰ پر پرواز کرنے والے شاہباز اور قلیم ثمہ دنی میں نشمین رکھنے والے ہما بلند پرواز  تھے۔ آپ بڑے بلند ہمت تھے اور آپکا تصرف نہایت قوی تھا۔ آپ فقر و فنا میں یگانۂ روزگار اور عشق وصفا م...

Syed Ghareebullah Chishti Sabri Ibn e Syed Abdul Rasool

  آپکے تیسرے خلیفہ حضرت سیدغریب اللہ بن سید  عبدالرسول تھے صاحب سیر الاقطاب  نے لکھا ہے  کہ سید غریب اللہ ولد سید عبدالرسول میرے رضائی بھائی اور رشتہ دار ہیں۔ یعنی میری دادی اور انکی دادی سگی بہنیں تھیں۔ ایک دن انہوں نے یعنی سیر الاقطاب کے مصنف  نے مجھ سے کہا کہ ایام صغیر  سنی میں  میں حضرت شیخ جلال الدین پانی پتی قدس سرہٗ کے جانشین حضرت شاہ محمد  کا مرید ہوگیا۔ جب سن بلوغ کو پہنچا میرے اعتقاد واخلاص میں خ...

Hazrat Sheikh Abdul Karim Chishti Sabri

حضرت شیخ حاجی عبدالکریم چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے والد شیخ مخدوم الملک عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ خاندانِ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جب آپ کے والد بزرگوار کو اکبر بادشاہ نے ہندوستان سے نکال دیا تو وہ کعبۃ اللہ میں چلے گئے شیخ عبدالکریم بھی آپ کے ساتھ گئے حج کیا اور والد کے ساتھ ہی ہندوستان واپس آگئے جن دنوں آپ کے والد کو زہر دے کر شہید کردیا گیا آپ لاہور آگئے اوریہیں قیام فرمایا ہدایت خ...

Hazrat Sheikh Rukunuddin Chishti Sabri

  یہ وہی شیخ رکن الدین ہیں کہ جنکے وصال کے چند سال بعد جب کسی وجہ سے آپکی مرقد مبارک کو کھولا گیا تو صندوق میں سوائے داڑھی کے چند  بالوں کے کچھ نہ تھا جو آثار بشریت موجود تھے۔ اس فقیر نے ثقات سے سُنا ہے کہ ایک دن حضرت قطب العالم کی خانقہ میں مجلس سماع منعقد ہوئی تو حضرت   شیخ رکن الدین پر وجد طاری ہوگیا۔ جب آپ مرتبہ شہود اور تنزیہہ  پر پہنچے تو صفات کثرت سے مجرد ہوکر آپ عین وجد کی حالت میں لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے ا...