Ghazi Abdul Qayyum Shaheed

 

(تاریخ  شہادت:۱۳/ذی الحجہ ۱۳۵۳ء بمطابق ۱۹/مارچ ۱۹۳۵ء)

اللہ کے رسول ﷺ کی محبت عینِ ایمان ہے ۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی شانِ اقدس میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ آج تک جس شخص نے بھی ایسی گستاخی کی ، اسے انہوں نے معاف نہیں کیا اور اس شخص کو کیفر ِ کردار تک پہنچا کر ہی چھوڑا۔ لاہور کے ایک ہندو راجپال نے ایک گستاخانہ کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ لکھی تو اس وقت لاہورہی  کے ایک  غیرت مند نوجوان غازی علم دین آگے بڑھے اور اس ہندو کو اس کی گستاخی کا مزہ چکھا دیا۔ راجپال کو قتل کرنے کے’’جرم‘‘ میں اس عاشقِ رسول کو عدالت سے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی عزّت و حرمت پر جان دے کر، ابدی زندگی حاصل کرلی ؎

بناکردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقان ِپاک طینت را

غازی علم دین شہید  ﷫ کی محبت اور زبانوں پر اس مردِ مجاہد کے تذکرے ہیں، لیکن غازی عبد القیوم کا کارنامہ عوام و خواص کی نظروں سے اوجھل ہے، ان کے نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

ابتدائی زندگی و تعلیم:

          غازی عبد القیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ چھٹی جماعت پاس کرکے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کردیا۔ اکثر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے رہتے۔ اسکول چھوڑ کر قرآنِ مجید کی تعلیم کی  طرف ہمہ تن متوجہ ہوگئے، صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔

شادی:

جب ان کی عمر ۲۱۔۲۲ سال کی ہوئی تو ۱۹۳۴ء میں ان کی شادی کرادی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا، وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے، وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی مسجد میں تلاوتِ قرآن، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ میں گزرتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مسجد میں چسپاں ایک اشتہار پڑھا،جسے پڑھ کر ان کو جوش آگیا، دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھو رام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے۔

نتھو رام بدانجام کا حشر:

‘‘روزگار فقیر’’ کے مؤلف فقیر سید وحید الدین صاحب اس واقعے کی پوری تفصیل ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

یہ ۱۹۳۳ء کے اوائل کا ذکر ہے، جب سندھ صوبئہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدرآباد(سندھ)کے سیکرٹری نتھو رام نے’’ہسٹری آف اسلام‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دوجہاں، سرکارِ دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا، مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا، جس سے متاثر ہوکر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھورام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی جرمانہ ہوا  اور ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ عدل و انصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس نے وی ایم فیرس جوڈیشل کمشنر کےیہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔کمشنر کی عدالت نے اس گندہ دہن، شاتم ِرسول کی ضمانت منظور کرلی۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ بہت مضطرب اور فکر مند تھے کہ توہینِ رسول کے اس فتنے کا سدِّباب آخر کس طرح کیا جائے۔ ہزارے کا رہنے والا عبد القیوم نام کا ایک نوجوان تھا جو کراچی میں وکٹوریہ گاڑی چلاتا تھا، جونا مارکیٹ کی  کسی مسجد میں اس نے اس واقعے کی تفصیل سنی اور یہ معلوم کرکے کہ ایک ہندو نے حضور سرورِ کائنات ﷺ کی توہین کی ہے، اس کے غم و اضطراب اور اندوہ و ملال کی کوئی حد نہ رہی۔ ستمبر ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے کہ مقدمۂ اہانتِ رسولﷺ کے ملزم نتھورام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جارہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا۔ غازی عبد القیوم اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلا  کی قطار کے  پیچھے نتھورام کے برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقولے کر نتھورام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھرپور وار کیے۔ نتھورام چاقو کے زخم کھاکر زور سے چیخا اور زمین پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔غازی عبد القیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنے اور فرار ہونے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔ اس نے نہایت ہنسی خوشی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا:

تم نےا س شخص کو کیوں قتل کیا؟

غازی عبد القیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے ۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والےکو موٹ کے گھاٹ نہیں اتار دو گے؟ اس ہندو نے میرے آقا   اور میرے شہنشاہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، جسے میری غیرت بردا شت نہیں کرسکی۔

غازی عبد القیوم پر مقدمہ چلا۔ اس نے اقبالِ جرم کیا۔ آخرِ کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا۔ غازی عبد القیوم نے فیصلہ سن کر کہا:

‘‘جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرے پاس ایک لاکھ جانیں بھی ہوتیں، تو ناموسِ رسول ﷺ پر نچھاور کردیتا۔’’

اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ دین دار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبد القیوم کا قانونی دفاع کرنے کے لیے سامنے آگیا۔ سید محمد اسلم بار ایٹ لا  کو عبد القیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی ، لیکن اس مردِ مجاہد(عبد القیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کردیا کہ میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔ سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبال علیہ الرحمۃ  وغیرہ  اور ابو الکلام آزاد کو بطورِ گواہ طلب کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطۂ نظر واضح کرسکیں،لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔ مقدمۂ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ:

’’یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموسِ رسول ﷺ پر حملہ کرے ، تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتاردے‘‘

اپیل کی سماعت جسٹس دادیبا مہتا(Dadiba Mehta) اور ۹  ارکانِ جیوری کے سامنے شروع ہوئی۔جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک گوانی عیسائی ممبر پر مشتمل تھی۔ عدالت کے باہر کم و بیش ۲۵ ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّدِ محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدامِ قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی۔ ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زرّیں حروف میں لکھا جائے گا۔

انہوں نے ’’اشتعال‘‘ کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا’’ سوال یہ نہیں کہ عبد القیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ عبد القیوم نے یہ اقدام اشتعال کے عالم میں کیا ہے، تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ ۳۰۲ کے تحت قانون نے دے رکھی ہے۔اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو ’’اشتعال‘‘ کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبد القیوم کے مقدمے میں کیوں قابلِ قبول نہیں ہے! جبکہ ایک مسلمان کے ناموسِ رسول ﷺ پر حملے سے زیادہ،ہاور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوسکتی۔‘‘

وکیل صفائی کی تقریر کے دوران جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اس اظہارِ خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟ سید محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا:

’’جنابِ والا!مسلمان ، حکومت اور ہندو اکثریت کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہےاور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیاہیں، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی۔ ۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور قوت کو ختم کرکے رہے گا۔ اس معاملے میں مسلمان کو تعزیراتِ ہند کی پروا ہے، نہ پھانسی کے پھندے کی۔‘‘

غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے اقدامِ قتل کے لیے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا، اگر وہ تسلیم کرلیا جاتا، تو ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کرسکتا، لیکن عدالت نے یہ اپیل خارج کردی۔غازی عبدالقیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی۔پر جوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا۔ بالآخر فروری ۱۹۳۵ء میں کراچی کے مسلمانوں نے ایک وفد حکیم الامّت علامہ اقبال ﷫کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا۔یہ وفد جس میں مولوی ثناء اللہ ، عبد الخالق اور حاجی عبد العزیز شامل تھے، لاہور پہنچا اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر اس مقدمے کی روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں، اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لائیں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ غازی عبد القیوم کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی جائے۔ وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ نے سعی و توجہ فرمائی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبد القیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومتِ ہند ضرور منظور کرلے گی۔‘‘

رحم کی اپیل پر علامہ اقبال کا جواب:

علامہ وفد کی یہ گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھے علامہ کیا فرماتے ہیں۔ توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشقِ رسول کا معاملہ دوسرے عاشقِ رسول کے سامنے پیش ہے۔

 اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ﷫ ہی کی آواز نے توڑا۔ انہوں نے فرمایا:

 ’’کیا عبد القیوم کمزور پڑگیا ہے؟

‘‘ارکانِ وفد نے کہا:’’نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی وہ تو کھلے خزانے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو۔‘‘

وفد کی اس گفتگو کو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا۔ انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا:

’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہوسکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں ، جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مرگیا تو شہید ہے۔‘‘

علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کرسکے۔ وفد کراچی واپس ہوگیا۔

غازی عبد القیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش، یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔

لاہور میں غازی علم دین اور کراچی میں غازی عبد القیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرمادیا۔یہ اشعار’’لاہور اور کراچی‘‘ کے عنوان سے’’ ضربِ کلیم‘‘ میں شائع ہوچکے ہیں مگر غازی عبد القیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے۔

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالمِ معنیٰ کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ  اے مردِ مسلمان تجھے کیا یاد نہیں
حرفِ لا تدع مع اللّٰہ الھا اٰخر

لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وقتِ جنازہ جلوس نکالے۔لاکھوں نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، ناموسِ رسول ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیا گیا۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما

اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی قبرِ انور پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے طفیل ہمارے اوپر بھی رحمت فرمائے۔ ہمیں بھی غازی عبد القیوم خان شہید ﷫ کی طرح ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والا بنائے۔ آمین یا الہ ٰالعالمین۔

مزید

Gallery  

Comments