Mashaikh-e-Chishtiya  

  آپ سید علیم اللہ جالندھری قدس سرہ کے مرید خاص اور  خلیفہ اکمل تھے دوآبہ جالندھر میں قصبہ راؤں میں رہتے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری زندگی تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ آپ ۱۹؍ ذوالحجہ ۱۲۲۰ھ میں فوت ہوئے آپ کی تاریخ وفات ہے۔ بُد محمد سعید شیخ زمان ۱۲۲۰ھ...

  آپ جامع کرامات تھے لاہور سے بیس میل کے فاصلہ پر قصبہ شرقیور میں رہتے تھے چونکہ آپ خواجہ تھے ابتدائی زندگی میں عام نو مسلم افراد کی طرح تجارت کرتے تھے۔ غلہ سبزی لے کر فروخت کرتے تھے بعض اوقات گندم اور چنے خرید کر مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ بعض اوقات شرقپور سے غلہ لے کر بیلوں پر لاد کر لاہور لاتے تھے اور اسی کاروبار میں گزر اوقات کرتے تھے ایک بار دوسرے بیوپاریوں کے ساتھ شرقپور سے لاہور آرہے تھے۔ نیاز بیگ کے قدیمی مدرسہ گنبد والا کے نزد...

  آپ سید علیم اللہ جالندھری کے خلیفہ تھے حضرت پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے اور بے پناہ مخلوق کو راۂ ہدایت سکھائی۔ آپ ۱۲۱۳ھ میں فوت ہوئے مزار پُر انوار جالندھر میں ہے میاں غلام رسول ساکن ٹانڈہ نے آپ کا سال وصال رضی اللہ عنہ (۱۲۱۳ھ) سے لیا ہے۔...

  آپ حضرت شاہ بھیکھہ چشتی کے خادم تھے افغان قوم سے تعلق رکھتے تھے اور جالندھر میں رہائش تھی آپ نے ظاہری علوم سید عبدالرشید سید کبیر اور سیّد عتیق اللہ جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے آپ کا لباس قلندر رانہ تھا۔ حضرت شاہ بھیکھہ کی وفات کے بعد آپ لاہور آگئے۔ اور شیخ شاہ بلاق قد وری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض کامل حاصل کیا آپ نے اپنی عمر میں نوے جلدیں تصنیف کیں ان میں فوائد آثار شرح دیوان خواجہ حافظ بڑی مشہور ہوئیں۔ آپ کا اپنا بھی ایک دیوا...

آپ بڑے صاحب حال و ذوق بزرگ تھے شیخ نظام الدین نارنولی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے بعض تذکرہ میں آپ کو شاہ اعلیٰ پانی پتی کا خلیفہ لکھا ہے۔ کلام کرتے تو صحرائی جانور بھی متاثر ہوتے۔ آپ کی محفل سماع میں اُڑتے پرندے گرتے تھے اور حاضرین مرغ بسمل کی طرح تڑپتے تھے ایک دن حضرت ایک درخت کے نیچے سماع کر رہے تھے درخت پر ایک فاختہ بیٹھی تھی زمین پر گری اور تڑپنے لگی ایک شخص اٹھا اس نے اس تڑپتی ہوئی فاختہ کو پکڑا اور ذبح کرکے لے گیا آپ کو خبر ہوئی تو بڑے نارا...

  آپ شیخ اسحاق بن کاکو چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے لوگ آپ کو میاں عارف کے نام سے پکارتے تھے آپ نے شاہجہاں کے زمانہ اقتدار میں اپنی مشیخیت کا علم بلند کیا بڑے مرید تھے ہر مہینے کے آخری ہفتہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور دس دن تک آپ کے حجرے کا دروازہ بند رہتا تھا جس دن حجرے سے برآمد ہوتے عام وخواص کو حجرے کے دروازے سے ہٹا دیا جاتا اگر کوئی حجرے کے دروازے پر بیٹھا رہتا تو جس پر آپ کی نگاۂِ جلال پڑجاتی تین دن تک بے ہوش رہتا تھا جس ...

  آپ اکبر آباد کے بلند پایٔہ مشائخ میں سے تھے ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے زمانہ تھے آپ کے پاس طالب عقبیٰ بھی آتے اور طالب دنیا بھی دونوں فیض یاب ہوتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ دنیا دار کا کام کردو اسکے دل میں درویشوں سے محبت پیدا ہوگئی طالب حق کا بھی کام کرو اس کے دل میں خدا کی محبت جاگزین ہوگی چونکہ آپ دین و دنیا کے دونوں قسم کے لوگوں کی حاجات پوری کرتے تھے آپ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ مجالس سماع میں بڑا حصہ لیتے تھے مخبر الواصلین...

آپ بڑے مشہور ولی اللہ تھے وہ اویسی طریقے پر تھے ظاہری طور پر آپ کا کوئی مرشد نہ تھا لیکن روحانی طور پر وہ خواجہ معین اجمیری کے تربیت یافتہ تھے جو شجرۂ اپنے مریدوں کو لکھ کر دیتے اپنے نام کے ساتھ حضرت خواجہ اجمیری کی برہ راست نسبت قائم کرتے اپنی کتابوں میں بھی آپ نے لکھا تھا کہ مجھے حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ سے کسی واسطے کے بغیر فیض ملا ہے آپ کی بہت سی تصانیفات ہیں چنانچہ مکتوبات رموزات اسراریہ اور اس قسم کی کئی کتابیں آپ نے لکھیں۔ آپ ک...

آپ شاہ بکاہی چشتی کے مرید تھے  آپ  سے بیعت ہونے سے پہلے  دولت آباد میں اپنے پیر  کی خدمت میں حاضر رہتے تھے پیر کی وفات کا  وقت قریب آیا تو  انہوں نے شاہ نعمان کو اپنے پاس بلایا اورحکم دیا کہ وہ بکاہی کی خدمت میں جائیں اور اپنا حصہ جاکر وصول کریں شاہ نعمان اپنے پیر کی وفات کے بعد دولت آباد سے روانہ ہوئے اور ہریان پورہ پہنچے اور شاہ بکاہی کی خدمت میں عرض کی کہ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا تمہارے آنے  سے پہلے تمہارے پ...

سید مزمل چشتی شیخ عبد الوہاب جو ہندوستان کے اکابر سادات میں سے تھے کہ بیٹے  ہیں آپ نے جوانی کے عالم میں اپنے پیر و مرشد  کی نگرانی میں بڑی ریاضتیں اور مجاہدے کیے کئی کئی راتیں قیام اللیل فرماتے اپنے مرشد سے اتنے  فیضان پائے کہ صاحب کرامات و کمالات بن گئے۔ معارج الولایت میں لکھا ہے کہ سید مزمل کو ایک بار خیال آیا کہ وہ اپنے مرحوم والد کی قبرکی زیارت کرے چنانچہ اپنا یہ  ارادہ اپنے پیر و مرشد کے سامنے بڑے اصرار سے کیا مگر آپ نے ت...