Mashaikh-e-Chishtiya  

  آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا حصہ پاتا تھا۔ آپ اس میں جس پر نگاہ ڈالتے اسے اپنا منظ...

  آپ لاہور کے عظیم خلفائے چشتیہ میں سے ہیں شیخ سلیم چشتی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ سماع اور وجد میں بے مثال تھے۔ آپ کا لنگر عام و خاص کے لیے کھلا تھا آپ انیس ذوالحجہ ۱۲۲۸ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار لاہور میں ہے۔...

  آپ سلسلہ میران بھیکھہ کے خلیفہ اعظم تھے آپ جسے دیکھتے محبت خداوندی کا خوگر بنا دیتے تھے ایک رات سید اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنی گھوڑی پر سوار اپنے گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جا رہے تھے راستہ میں راہزنوں نے آگھیرا۔ آپ کی گھوڑی کا مطالبہ کیا آپ نے بڑے حوصلے سے سمجھایا کہ جس گھوڑی پر میں سوار ہوں نہایت کمزور اور لاغر ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہاں میرے گھر ایک گھوڑی ہے وہ میں دے سکتا ہوں اگر آپ لوگ تھوڑا سا وقت یہاں ٹھہریں تو میں ابھی لا کر دے دیتا ہوں...

  آپ سید علیم اللہ جالندھری قدس سرہ کے مرید خاص اور  خلیفہ اکمل تھے دوآبہ جالندھر میں قصبہ راؤں میں رہتے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری زندگی تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ آپ ۱۹؍ ذوالحجہ ۱۲۲۰ھ میں فوت ہوئے آپ کی تاریخ وفات ہے۔ بُد محمد سعید شیخ زمان ۱۲۲۰ھ...

  آپ جامع کرامات تھے لاہور سے بیس میل کے فاصلہ پر قصبہ شرقیور میں رہتے تھے چونکہ آپ خواجہ تھے ابتدائی زندگی میں عام نو مسلم افراد کی طرح تجارت کرتے تھے۔ غلہ سبزی لے کر فروخت کرتے تھے بعض اوقات گندم اور چنے خرید کر مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ بعض اوقات شرقپور سے غلہ لے کر بیلوں پر لاد کر لاہور لاتے تھے اور اسی کاروبار میں گزر اوقات کرتے تھے ایک بار دوسرے بیوپاریوں کے ساتھ شرقپور سے لاہور آرہے تھے۔ نیاز بیگ کے قدیمی مدرسہ گنبد والا کے نزد...

  آپ سید علیم اللہ جالندھری کے خلیفہ تھے حضرت پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے اور بے پناہ مخلوق کو راۂ ہدایت سکھائی۔ آپ ۱۲۱۳ھ میں فوت ہوئے مزار پُر انوار جالندھر میں ہے میاں غلام رسول ساکن ٹانڈہ نے آپ کا سال وصال رضی اللہ عنہ (۱۲۱۳ھ) سے لیا ہے۔...

  آپ حضرت شاہ بھیکھہ چشتی کے خادم تھے افغان قوم سے تعلق رکھتے تھے اور جالندھر میں رہائش تھی آپ نے ظاہری علوم سید عبدالرشید سید کبیر اور سیّد عتیق اللہ جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے آپ کا لباس قلندر رانہ تھا۔ حضرت شاہ بھیکھہ کی وفات کے بعد آپ لاہور آگئے۔ اور شیخ شاہ بلاق قد وری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض کامل حاصل کیا آپ نے اپنی عمر میں نوے جلدیں تصنیف کیں ان میں فوائد آثار شرح دیوان خواجہ حافظ بڑی مشہور ہوئیں۔ آپ کا اپنا بھی ایک دیوا...

آپ بڑے صاحب حال و ذوق بزرگ تھے شیخ نظام الدین نارنولی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے بعض تذکرہ میں آپ کو شاہ اعلیٰ پانی پتی کا خلیفہ لکھا ہے۔ کلام کرتے تو صحرائی جانور بھی متاثر ہوتے۔ آپ کی محفل سماع میں اُڑتے پرندے گرتے تھے اور حاضرین مرغ بسمل کی طرح تڑپتے تھے ایک دن حضرت ایک درخت کے نیچے سماع کر رہے تھے درخت پر ایک فاختہ بیٹھی تھی زمین پر گری اور تڑپنے لگی ایک شخص اٹھا اس نے اس تڑپتی ہوئی فاختہ کو پکڑا اور ذبح کرکے لے گیا آپ کو خبر ہوئی تو بڑے نارا...

  آپ شیخ اسحاق بن کاکو چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے لوگ آپ کو میاں عارف کے نام سے پکارتے تھے آپ نے شاہجہاں کے زمانہ اقتدار میں اپنی مشیخیت کا علم بلند کیا بڑے مرید تھے ہر مہینے کے آخری ہفتہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور دس دن تک آپ کے حجرے کا دروازہ بند رہتا تھا جس دن حجرے سے برآمد ہوتے عام وخواص کو حجرے کے دروازے سے ہٹا دیا جاتا اگر کوئی حجرے کے دروازے پر بیٹھا رہتا تو جس پر آپ کی نگاۂِ جلال پڑجاتی تین دن تک بے ہوش رہتا تھا جس ...

  آپ اکبر آباد کے بلند پایٔہ مشائخ میں سے تھے ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے زمانہ تھے آپ کے پاس طالب عقبیٰ بھی آتے اور طالب دنیا بھی دونوں فیض یاب ہوتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ دنیا دار کا کام کردو اسکے دل میں درویشوں سے محبت پیدا ہوگئی طالب حق کا بھی کام کرو اس کے دل میں خدا کی محبت جاگزین ہوگی چونکہ آپ دین و دنیا کے دونوں قسم کے لوگوں کی حاجات پوری کرتے تھے آپ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ مجالس سماع میں بڑا حصہ لیتے تھے مخبر الواصلین...