Mashaikh-e-Chishtiya  

Hazrat Khawaja Badruddin Ghaznavi

حضرت خواجہ بدرالدین غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے، آپ کا وطن غزنی تھا، اکثر سماع میں محو رہتے، وقت کے مشائخ آپ کی بزرگی کے معترف تھے اور آپ کا ذکر اچھے طریقے سے کرتے، آپ خود بھی مجلسِ وعظ برپا کرے آپ کی ایسی مجالس میں حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر حاضر ہوا کرتے تھے۔ جن دنوں آپ غزنی سے برصغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے لاہور میں قیام کیا اور پھر دہلی گئے، وہاں جاکر قطب ال...

Hazrat Molana Khuda Bakhsh Azhar

حضرت علامہ  مولانا خد ابخش اظہرشجا ع آبادی علیہ الرحمہ مقر رِ خوش الحان  حضرت علامہ مولانا خدا بخش اظہر بن رحیم بخش خان ۱۳۴۹ھ۱۹۳۰ء میں بمقام کو ٹلہ  نواب تحصیل لیا قت پور      ریا ست بہا ول پور  میں پیدا ہو ئے،آپ نے مڈل تک اردو تعلیم حاصل کی اور پھر علومِ عر بیہ کی تمام کتب متد اولہ اور دورۂ حد یث       مد رسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں پڑھ کر سندِ فر اغت حاصل کی۔ آپ...

Hazrat Sheikh Hasan Muhammad Bin Miyan Jeewan

حضرت شیخ حسن محمد بن میاں جیون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ  کے والد ماجد  کا  اسم گرامی شاہ میاں جیون بن شیخ نصیر الدین شیخ امجد الدین بن شیخ سراج دین بن کمال الدین علامہ قدس سرہم تھا۔ آپ کا نام مشائخ چشت میں مشہور ہے آپ روحانی طور پر شیخ جمال الدین المعروف شیخ جمن کے مرید تھے۔ شیخ جمن شیخ محمد المعروف شیخ راجن کے اور وہ شیخ علم الدین کے اور  وہ شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی قدس سرہ کے مرید تھے۔ آپ علوم ظاہری میں عالم متجر تھے۔...

Hazrat Sheikh Hassam-ud-Deen Multani

آپ سلطان المشائخ نظام الدین دہلوی کے خلفائے باوقار میں سے تھے۔ زہد و تقویٰ اور ریاضت میں اپنے احباب میں ممتاز تھے۔ حضرت شیخ سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ دہلی شہر شیخ حسام الدین کے ظلِ حمایت میں ہے۔ آپ ایک دن کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں مشغول بحق ہونے کی وجہ سے اتنی محویت طاری تھی کہ آپ کے کندھے پر سے مصلی گر پڑا، کسی شخص نے دیکھا تو چلا کر آواز دی، یا شیخ، مگر شیخ کو قطعاً کوئی خبر نہ ہوئی، آخرکار مصلی اُٹھاکر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے...

Hazrat Sheikh Muhammad Siddique Chishti Sabri Lahori

حضرت شیخ محمد صدیق چشتی صابری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ لاہور میں بلند پایہ چشتی بزرگ ہوئے ہیں علوم شریعت و طریقت میں وحید و فرید تھے۔ سارا دن طلبا کی تدریس میں مصروف رہتے شام کے بعد طالبات حق کو تلقین فرمایا کرتے تھے پنجاب بھر سے آپ کی خدمت میں لوگ حاضر ہوتے اور دینی و دنیاوی امور حل کراتے تھے سماع اور وجد کے دوران آپ جس پر نظر ڈالتے اسے تارک الدینا بنادیتے تھے آپ کو محمد عارف لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا تھا اور لاہور میں ہی قی...

آپ حضرت سید گیسودراز قدس سرہ کی اولاد میں سے کسی ایک بزرگ کے مرید تھے بڑے عالم فاضل  اور صاحب طریقت و حقیقت تھے علوم ظاہریہ میں کمال حاصل تھا آپ کی تصانیف بڑی مشہور ہوئیں بخاری شریف کی شرح فیض الباری آپ نے لکھی تھی رسالہ سراجیہ کو نظم کیا نفس و معرفت کی تحقیق میں بڑا عمدہ رسالہ لکھا تھا  سیّرت پر بھی آپ کی کتابیں ملتی ہیں سفر السعادت پر حواشی لکھے آپ کی لکھی ہوئی کتابیں اہل علم کے حلقوں میں بڑی پسند کی گئیں عمر کا آخری حصہ فقر  و ف...

  آپ ثانی جنید بغدادی تھے شریعت و طریقت میں یکساں کامل تھے موہان میں کافی عرصہ سکونت کی پھر سندیل میں چلے آئے موہان کے قیام کے دوران رات کو دریا پر چلے جاتے اور ذکر بالجہر کرتے تھے نیند آتی تو پانی میں کھڑے ہوجاتے اور ذکر جلی میں مشغول ہوجاتے تھے ذکر جلی پورا ہوتا تو ذکر خفی میں مشغول ہوجاتے تھے دن کے وقت جنگل میں چلے جاتے لکڑیاں جمع کرتے تو بازار میں لاکر بیچتے اور اسی سے گزر اوقات کرتے تھے جو بچ جاتا فقراء میں تقسیم کردیا کرتے تھے مجالس سم...

آپ حضرت چراغ دہلوی کے خلیفہ اعظم تھے۔ تجرید و تفرید میں یکتائے زمانہ تھے۔ آپ نے اپنے احوال و مقامات پر لکھا ہے اس کے پڑھنے سے عقل حیران رہ جاتی ہے وہ اپنے وقت کے کاملین میں سے تھے۔ آپ کی ایک تصنیف بحر المعانی ہے جس میں توحید کے حقائق اور معرفت کے اسرار تحریر ہیں۔ اس میں مستانہ انکشافات کیے گئے ہیں اس کتاب کے علاوہ آپ کی دو کتابیں دقائق المعانی اور حقائق المعانی بھی اہل معرفت میں بڑی مقبول ہوئی تھیں اسرار روح پر ایک رسالہ ہے، پنج نکات اور بحر الان...

آپ دیار لکھنو کے صاحب ولایت تھے بچپن سے ہی حضرت شیخ قوام الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت میں رہے اور آپ سے ہی خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کا اسم گرامی اس لیے مینا رکھا گیا تھا کہ شیخ قوام الدین کا ایک بیٹا تھا جس کا نام نظام الدین محمد مینا تھا۔ وہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل کے لیے بادشاہ وقت سلطان محمد بن فیروز شاہ کے دربار میں غلام ہوگیا اور ترقی کرتے کرتے بلند مناصب پر جا پہنچا شیخ قوام الدین کوبیٹے کی اس حرکت پر بڑا افسوس ہوا۔ اس سے مایوس ہو کر آپ دل ب...