Mashaikh-e-Chishtiya  

  آپ حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے۔ بڑے صاحب کرامت اور کمالات تھے۔ وہ تحریر میں اس قدر تیز قلم تھے کہ محسوس ہوتا تھا کہ قلم نہیں کرامت ہے تین دن میں مکمل قرآن پاک اعراب کے ساتھ صحیح صحیح لکھ لیا کرتے تھے ان کے بے شمار کرامات مشہور ہیں وہ اپنے ایک رسالے میں اس دنیا اور اس دنیا سے مادرای کئی جہانوں کے واقعات قلمبند کرچکے ہیں جو عقل و فکر سے بھی ماورای ہیں۔ ان کی اولاد نے ان واقعات کو رسالے سے اس لیے مٹادیا تھا کہ ل...

آپ جونپوری کے اہم علماء کرام میں سے تھے۔ آپ نے درسی اور فنی کتابیں لکھ کر بڑا نام پایا تھا کافیہ کی شرح ہدایہ یزدی ار تفسیر مدارک کی شرحیں لکھی تھیں دینی علوم میں حضرت قاضی شہاب الدین کے شاگرد تھے اور روحانی طور پر حضرت راجی حامد شاہ کے مرید تھے۔ جن دنوں حضرت طاہر حسن قدس سرہ حضرت راجی حامد شاہ قدس سرہ کے مرید ہوئے تو مولانا اللہ داد نے انہیں ایک مخلص دوست کی حیثیت سے کہا یار تم نے طالب علموں کی عزت کو پامال کردیا ہے اور اپنے علم و فضل کو ایک درو...

شاہ سید و بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے حضرت شیخ حسان الدین نانک پوری کے خلیفہ خاص تھے ابتدائی عمر میں بڑے صاحب ثروت اور دولت مند تھے۔ شاہی دربار میں ایک اہم عہدے پر مقرر تھے بڑی ٹھاٹھ سے رہا کرتے تھے آپ ایک خوبصورت عورت کے گرویدہ ہوگئے مگر اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذوق و طلب سے نوازا حضرت نانک پوری کی خدمت میں رہنے لگے اعلیٰ لباس ترک کرکے فقیرانہ لباس پہن لیا پھر اسی فقیرانہ لباس میں اپنی محبوبہ کے پاس جاپہنچے اس نے دیکھتے ہی کہا سیدو! سنا ...

آپ حضرت حسن طاہر کے لڑکے تھے بڑے باکمال اور صاحب کرامت بزرگ تھے صحیح حال اور عالی مشرب کے مالک تھے اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ جب آپ اپنے حجرے سے نکل کر باہر آتے جو ہندو یا مسلمان آپ پر نظر ڈالتا بے اختیار اللہ اکبر کہہ اٹھتا وہ علوم حال اور قال میں بڑے باکمال تھے وہ اپنے والد کی نسبت سے سلسلۂ چشتیہ میں وابستہ تھے مگر آپ کو قادریہ سلسلہ سے بھی بڑا فیض ملا تھا کافی عرصہ حضور نبی کریم کی بارگاہ میں  حاضر رہے اور مجاوری کی اسی اثنا میں آپ کو س...