Mashaikh-e-Chishtiya  

آپ حضرت امیر خسرو دہلوی کے خواہر زادہ تھے، اپنے زمانہ کے فاضل یگانہ تھے حضرت سلطان المشائخ سے محبت بھی تھے اور  ارادت بھی، نماز میں کھڑے ہوتے۔ جب تک حضرت خواجہ محبوب الٰہی کا چہرہ پاک نہ دیکھ لیتے تکبیر نہ کہتے مرض موت میں گرفتار ہوئے تو حضرت خواجہ نظام الدین عیادت کو آئے مگر ابھی راستے میں ہی تھے کہ خواجہ شمس الدین کی وفات کی خبر پہنچی سن کر فرمایا الحمدللہ ’’دوست بد دست پیوست‘‘۔ آپ کی وفات ۷۲۲ھ میں ہوئی تھی۔ بہ مغرب...

سیّد محمد گیسو دراز قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔ آپ کو علاء الدین قریشی گوالیاری کے نام سے شہرت ملی ظاہری اور باطنی علوم میں کمال رکھتے تھے تجرید و تفرید میں بھی بے مثال تھے۔ ساری زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔ یاد الٰہی کے بغیر زندگی کا کوئی مشغلہ نہ رکھا اپنے خادم کو فرمایا کرتے تھے گھر کا کوڑا کرکٹ بھی سامنے نہ پھینکا کرو۔ اس سے لوگوں کو گھر میں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں اور لوگ آکر پریشان کرتے ہیں اور یاد خدا وندی میں مخل ہوتے ہیں آپ ۸۵۳ھ میں فوت ہوئ...

آپ اپنے دادا عبدالمقتدر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے بڑے عالم فاضل تھے معارج الولایت اور مکارم الاخلاق کے مولفین نے لکھا ہے کہ شیخ ابوالفتح چودہ ماہ تک شکم مادر میں رہے اس وجہ سے آپ کے دادا عبدالمقتدر رحمۃ اللہ علیہ کو بڑی تشویش تھی ایک رات خواب میں رکن الدین ابوالفتح سہروردی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا آپ نے فرمایا عبدالمقتدر تمہارے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے اس کا نام میرے نام پر ابوالفتح رکھنا چنانچہ اسی دن جب چاند کی چودہوی...

آپ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے علوم ظاہری اور باطنی میں معروف زمانہ ہوئے طریقت و شریعت کے امام مانے گئے تھے حرمین الشریفین کی زیارت کو گئے کتاب عوارف العارف آپ کی گران مایہ تصنیف ہے تصوّف میں ایک اور کتاب تکملہ بھی آپ نےلکھی اسی طرح تصوّف میں مشاہدہ کتاب بھی لکھی آپ کی وفات ۸۶۲ھ کو ہوئی مزار پُر انوار کالپی میں ہے۔ چو رفت از عالم فانی بجنت شہ اہل یقین ہادی ابوالفتح چو سال انتقالش جستم ازدل بگفتا میر دیں ہادی ابوالفتح ...

آپ حضرت شیخ ید اللہ چشتی قدس سرہ کے مرید تھے اور پھر سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر روحانی فیض پایا کہتے ہیں جس دن حضرت گیسو دراز کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا۔ اے نوجوان۔ تم کبھی زندگی میں عشق و محبت میں بھی گرفتار ہوئے ہو۔ آپ نے ازرۂ ادب عرض کیا۔ حضور! میں عشق و محبت کو کیا جانوں میں تو آپ سے یہ چیزیں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں آپ نے فرمایا میرے اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہارے دل کی کیفیت معلوم کر سکوں او...

آپ  قطب العالم شیخ نور الدین قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے صاحب اخبار الاخیار نے آپ کو سید کبیر اور بزرگ بلند مرتبت لکھا ہے آپ ایک سو پچاس سال جیے۔ اپنے مرشد کے علاوہ آپ کو خواجہ معین الدین حسن سنجری سے بھی فیض ملا تھا۔ آپ نہایت محبت اور عقیدت سے اجمیر شریف میں رہے اس عرصہ میں ادبا اجمیر کے شہر میں نہ آپ نے تھوکا اور نہ ہی ناک صاف کیا پیشاب کے لیے شہر اجمیر سے دُور باہر چلے جاتے تھے۔ شہر میں داخل ہوتے یا رہتے تو با وضو رہتے تھے یہ احترام تھا اس ...

آپ حضرت شیخ پیارا کے خلیفہ اعظم ہیں بڑے صاحب تصرف اور کامل شیخ طریقت تھے آپ کا وطن گجرات تھا۔ مگر بنگال میں زندگی بسر کی۔ اخبار الاخیار اور معارج الولایت میں لکھا ہے کہ آپ اپنی خانقاہ میں ایک شاہانہ تخت پر بادشاہوں کی طرح بیٹھتے تھے اور اپنے مریدوں اور خادموں کے نام بادشاہوں کی طرح فرمان جاری کیا کرتے تھے آخر ایک بد باطن شخص نے بادشاۂ وقت کے کان بھرے کہ شاہ جلال الدین آپ کی سلطنت کے اندر ایک متبادل سلطنت چلا رہا ہے یہ سلسلہ قائم رہا تو ایک دن آپ ...

آپ حضرت نور الدین قطب عالم کے خلیفہ تھے اور اپنے وقت کے عظیم مشائخ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے ملفوظات رفیق العارفین میں آپ کے مقامات اور کرامات کو بیان کیا گیا ہے۔ آپ خود لکھتے ہیں کہ خلافت حاصل کرنے کے بعد میں نے سات سال تک فاقہ کشی کی۔ اور فقیری میں بسر کی۔ پیاس لگتی تو پانی لیتا اور یاد خداوندی میں مشغول ہوجایا کرتا تھا۔ ایک روز میرے ایک بیٹے نے بھوک اور پیاس سے تنگ آکر روتے روتے میرے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ میں نے بیٹے کی تکلیف اور رونے سے متاثر...

آپ ایک واسطہ سے حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ کامل درویش اور اکمل عالم دین تھے آپ کے زمانہ میں مندو کے علاقہ میں آپ کےمرتبہ کا کوئی بزرگ نہیں ہوا تھا۔ آپ اس ولائیت کے شیخ طریقت تھے۔ ایک سو بیس سال زندگی پائی تھی۔ جبکہ آپ کے پیر ایک سو پچاس سال جئے تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں کہ آپ رجب کی پہلی تاریخ سے اعتکاف والے حجرے کو پتھروں کی چٹائی کرکے بند کردیا کرتے تھے اس طرح آپ چھ ماہ تک کھائے پیے بغیر ذکر الٰہی میں مشغول رہتے...

آپ ابتدائے کار میں حضرت شیخ احمد بدایونی کے مرید تھے ریاضت و مجاہدہ میں ایک خاصا وقت دیا۔ پھر حضرت جلال گجراتی کی صحبت میں آئے اور عشق کے معاملات کو درست کرکے اعلیٰ مقامات پر پہنچے۔ کہتے ہیں ایک دن حضرت شیخ محمد مجلس سماع میں تشریف فرما تھے۔ قوالوں نے ایک ایسی غزل چھیڑی جس میں بعد و فراق کے احوال و کیفیت کی ترجمانی تھی۔ شیخ کو اس قدر رقت اور وجد طاری ہوا کہ روح جلنے لگی ایک واقف حال نے قوالوں کو کہا کہ اب ایسی غزل چھیڑو جس میں قرب وصال کی کیفیت ب...