Mashaikh-e-Chishtiya  

Sheikh Mehmood Moina Dooz

آپ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے اور خلیفہ تھے، ظاہری اور باطنی علوم میں کمال حاصل کیا تھا، حلال کی روزی کمانے کے لیے کاشت کاری کیا کرتے تھے اور اجمیر کے قریب ہی موضع ماندل میں رہتے تھے ساری عمر مخلوق کی ہدایت میں گزار دی، چھ سو تریپن ہجری کو پیدا ہوئے آپ اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد بیس سال تک زندہ رہے آپ قصبۂ سروار میں فوت ہوئے اور وہاں ہی ایک تالاب کے کنارے پر آپ کا روضہ ہے۔ خواجہ دین جناب فخرالدین مثل گل رفت چوں بباغ...

شیخ محمد صابر چشتی قدس سرہ آپ حضرت خواجہ فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مرید تھے صاحبِ اخبار الاخیار نے سیرالالیاء کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس دن حضرت خواجہ فرید نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا تو اعلان کیا صابر تم خوشحال زندگی گزارو گے چنانچہ ایسا ہی ہوا، آپ کو صبر و قناعت کی بے پناہ دولت ملی تھی اور کبھی غم و الم آپ کے پاس نہ آئے لوگوں سے کشادہ پیشانی سے ملتے اور ہر وقت خوش خوش رہتے تھے۔ شجرہ چشتیہ میں آپ کی وفات ۶۷۹ھ لکھا ہے۔ رفت از دنیا چو د...

آپ خواجہ فریدالدین شکر گنج  کے نامور خلیفہ تھے زہد و تقویٰ میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ صبح کی نماز گھر پڑھتے اور شہر سے باہر کسی جنگل میں چلے جاتے سارا دن اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ذکر الٰہی  کی آوازیں وادیوں میں گونجتی تو جنگل کے وحشی جانور اور ہرن وغیرہ آپ کے قریب آکر بیٹھے رہتے۔ آپ ۶۸۰ھ میں فوت ہوئے۔ حضرت داؤد شیخ باکمال یافت چوں در جنت الفردوس جا مرشد کونین پیش دوستاں ۶۸۰ھ گفت سرور وصلش برملا ...

آپ خواجہ قطب الدین بختیار اوستی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے، ظاہری و باطنی علوم میں بے مثال تھے۔ زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ فقہ میں بڑا اعلیٰ شان مقام اور رتبہ رکھتے تھے۔ فوائد الفواد کے مصنف نے لکھا ہے کہ بندہ سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر تھا اور  عرض کی کہ حضرت آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ کی مجلس ذکر میں گئے تھے یا نہیں، فرمایا میں ابھی بچہ تھا ایک  دن آپ کی مجلسِ ذکر میں حاضر ہوا میں نے آپ کو ...

آپ اپنے والد گرامی کے مرید خاص تھے۔ عین عالم شباب میں مجلس سماع میں واصل بحق ہوئے۔ اخبارالاخیار میں آپ کی وفات کا واقعہ یوں لکھا ہے۔ ایک دن مجلسِ سماع میں قوال یہ شعر پڑھ رہے تھے جاں بدہ۔ جاں بدہ۔ جاں بدہ نائیدہ در گفتن بسیار چشت یہ شعر سنتے ہی حضرت شیخ عبدالعزیز نے نعرہ مارا، دادم، دادم، دادم کہتے ہوئے جان اللہ کے سپرد کردی۔ آپ کے تین بیٹے تھے۔ شیخ وحید، شیخ فرید اور شیخ نجیب قدس سرہم آپ نے ان تینوں کے متعلق فرمایا تھا کہ وحید، وحید ہوگا مجرد رہ...

آپ حضرت فرید مسعود فاروقی شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ اپنے وقت کے مشائخ کاملین میں  شمار ہوتے تھے۔ سیرالاقطاب اور معارج الولایت کے صفحات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقبول و منظور شخصیت کے مالک تھے علم و فضل میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا پہلے بخارا میں رہے، بعد میں بعض علمی اور روحانی مشکلات کے حل کے لیے گھر سے نکلے۔ اور بخارا سے چل کر دہلی پہنچے۔ جب یہاں بھی مسائل کے حل میں تسلی نہ ہوئی، دوبارہ ملتان کے راستہ بخارا کو روانہ ہوئے۔ پاک...

آپ حضرت گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے احباب میں سے تھے آپ کا اصلی وطن کرمان تھا۔ تجارت کرتے کرتے لاہور آگئے، وہاں سے پاک پتن پہنچ کر حضرت گنج شکر  رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کے ماموں سیّد احمد ملتان میں تھے آپ بھی ملتان چلے گئے جب تجارت کے سفر پر نکلتے پہلے لاہور آتے پھر پاک پتن شریف جاتے اور وہاں سے ملتان چلے جاتے اس آمد و رفت میں انہیں شیخ فریدالدین گنج شکر سے محبت پیدا ہوئی۔ کاروبار کو چھوڑ کر اللہ کی تلاش میں مشغول ہوگئے حضرت گ...

آپ شیخ نظام الدین اولیاء بدایونی کے خلیفۂ اعظم تھے آپ کا سینہ صفات عالیہ سے آراستہ تھا۔ درویشی کا شیوہ رکھتے تھے بڑے شوق سے سماع سنتے دوستوں میں سرفراز تھے۔ حرمین الشریفین کی زیارت سے بھی شرف یاب ہوئے۔ شجرۂ چشتیہ کے مصنف نے آپ کا سال وفات سات سو اٹھارہ ہجری لکھا ہے اور آپ کا مزارِ پر انورا دہلی میں ہے۔ رفت از دیر چون نظام الدین ہم دلی سعید شیرازی ۷۱۸ھ...

آپ حضرت گنج شکر قدس سرہ کے پوتے تھے۔ سولہ سال کی عمر میں سجادہ نشین ہوئے اور چون (۵۴) سال حق خلافت اور سجادگی پورا کرتے رہے۔ زندگی میں آپ کی شہرت اور کرامت دنیا بھر میں پھیل گئی۔ آپ کا قدم مبارک جامع مسجد سے باہر نہ نکلتا امراء اور ملوک سے بے نیاز تھے صائم الدہر اور قائم اللیل رہتے۔ رات کا ایک حصہ گزرتا تو افطار فرماتے تھے جو دو  سخاوت میں بحر بے کنار تھے طہارت و لطافت میں بے مثال تھے آپ کو فرید ثانی کہا جاتا تھا، گویا ایک سمندر تھا جس کی مو...

آپ سید محمد گیسو دراز قدس سرہ کے پوتے تھے۔ آپ کو بچپن میں ہی خرقۂ خلافت مل گیا تھا۔ صاحب معارج الولایت نے لکھا ہے کہ ایک دن حضرت سید محمد گیسو دراز وضو فرما رہے تھے مسح کرنے لگے تو سر سے عمامہ اُتار کر نیچے رکھا سیّد یدّ اللہ ابھی بچے تھے پاس بیٹھے ہوئے تھے عمامہ اٹھایا اور اپنے سر پر رکھ لیا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا بیٹا تمہیں یہ خلعت مبارک ہو یہ تمہارا حق تھا تمہیں مل گیا ہے۔ اس دن کے بعد آپ جسے بھی مرید بناتے اس کی نسبت سیّد یدّ اللہ سے مستحکم کر...