Allama Molana Abdul Mannan Shahbaz Garhi

حضرت فاضلِ نبیل علامہ مولانا عبدالمنان، شہباز گڑھی، مردان علیہ الرحمۃ 

استاذالعلماء حضرت مولانا عبدالمنان المعروف صاحبِ حق بن مولانا اول خان (م۳؍ذی قعدہ ۱۳۵۷ھ) ۱۸۹۵ء/ ۱۳۱۳ھ میں موضع شہباز گڑھ ضلع مردان میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے والد ماجد مولانا اول خان ضلع مردان کے معروف علماء میں سے تھے۔ فقہ، اصول اور صرف و نحو میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ آپ نے شرح ملا جامی اور کافیہ اپنے ہاتھ سے لکھی، نیز حواشی بھی تحریر کیے۔ حضرت مولانا اول خان اہل سنت و جماعت کے عقائد کی ترویج کے لیے شب و روز مصروفِ عمل رہنے کے بعد ستر برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

حصولِ علم:

حضرت مولانا عبدالمنان المعروف صاحبِ حق نے صرف و نحو، اور فقہ کی کتابیں اپنے گھر میں والد ماجد سے پڑھیں۔ بیس سال کی عمر میں مزید علوم کی تحصیل کے لیے سفر اختیار کیا۔ موضع کالو خان ضلع مردان میں مولانا سندی سے، نواں کلی تحصیل صوابی ضلع مردان میں مولانا قریب اللہ سے اور موضع غازی خان میں مولانا فضل احمد سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد ۱۳۴۰ھ میں ہندوستان تشریف لے گئے اور مدرسہ اندر کوٹ میرٹھ میں داخلہ لیا، جہاں آپ نے دورۂ حدیث کے علاوہ منطق، ریاضی اور اوقلیدس کی آخری کتب مولانا عبدالسلام قندہاری سے پڑھنے کے بعد سندِ فراغ حاصل کی۔

فراغت کے بعد آپ نے مدرسہ نصرۃ الاسلام آگرہ سے تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا کچھ مدّت بعد دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں مسندِ تدریس پر فائز ہوئے۔ چند سال بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر آپ کو واپس وطن لوٹنا پڑا، چنانچہ یہاں آنے کے بعد حضرت علامہ سیّد دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں علومِ اسلامیہ کا فیضان جاری کیا۔ بعد ازاں اپنے گاؤں شہباز گڑھ تشریف لے گئے، جہاں آپ مسجد بہرام خیل میں تدریس کے علاوہ فرائض خطابت بھی سر انجام دیتے رہے۔[۱]

[۱۔ مکتوب روح الامین صاحب ابن حضرت مولانا عبد المنّان صاحب، بنامِ مرتّب۔]

اس وقت آپ اتنے معمر ہیں کہ صنعف کے باعث تدریسی ذمّہ داری اور خطابت کے فرائض انجام نہیں دے سکتے، اس لیے ان فرائض کو آپ کے صاحبزادے مولانا  روح الامین صاحب زید مجدہ سر انجام دے رہے ہیں۔

تصنیف و تالیف:

حضرت مولانا علامہ عبد المنّان صاحبِ حق اہل سنّت و جماعت کی ایک مایہ ناز علمی شخصیّت ہیں۔ آپ کی تمام عمر علومِ اسلامیہ کی تدریس میں صَرف ہوئی۔ تصنیف و تالیف کی طرف توجہ کم رہی بایں ہمہ آپ نے انجکشن سے روزہ کے ٹوٹنے کے مسئلہ پر ۲۴ صفحات پر مشتمل ایک رسالہ بنام ’’القول الصحیح فی فساد الصوم بالتنقیح‘‘ تصنیف فرمایا۔

مشہور تلامذہ:

آپ کے تلامذہ غزنی، قندھار، ہرات، ننگہ ہار، سوات، دیر، پنجاب، یوپی اور دیگر ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چند مشہور تلامذہ کے اسماء گرامی تحریر کیے جاتے ہیں، ملاحظہ ہوں:

۱۔                                       مولانا محمد ابراہیم رضا خان بریلوی (نبیرۂ اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہ)

۲۔                                     علامہ ابرار حسین بریلوی (داماد اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہ)

۳۔                                      مولانا تقدس علی خان قادری رضوی مدظلہ (سندھ)

۴۔                                      مولانا محبوب علی خان لکھنوی قادری رضوی علیہ الرحمۃ (بمبئی ہندوستان)

۵۔                                      مولانا غلام الدین صاحب رحمہ اللہ (لاہور)

۶۔                                      الحاج مولانا عبدالواحد (شہباز گڑھ مردان)

۷۔                                      مولانا عبد الرب (شہباز گڑھ مردان)

اولاد:

آپ کے تین صاحبزادے ہیں: جناب محمد امین، جناب مولوی رُوح الامین اور جناب محمد نعیم۔ اوّل الذکر دونوں محکمۂ تعلیم میں ملازم ہیں اور تیسرے فوج سے منسلک ہیں [۱]

[۱۔ مندرجہ بالا چند حوالہ جات کے علاوہ باقی تمام مضمون ’’تذکرہ علمأ مشائخ صوبہ سرحد‘‘ سے ماخوذ ہے۔]

(تعارف علماءِ اہلسنت)

مزید

Comments