Allama Abul Mukhtar Habib Ahmad

حضرت فاضل نوجوان علامہ ابوالمختار حبیب احمد، مستونگ (بلوچستان) علیہ الرحمۃ 

حضرت علامہ ابوالمختار مولانا حبیب احمد بن علامہ مولانا غلام  محمد مرحوم شعبان المعظم ۱۳۶۳ھ/ جولائی ۱۹۴۳ء میں بمقام گوزکی علاقہ خاران (بلوچستان) میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد حضرت مولانا غلام محمد مرحوم دینی معلومات کے بحرِ ذخار تھے، تدریس فنون میں یکتائے زمانہ ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجہ کے خوش نویس تھے۔ آپ کا فتویٰ پورے بلوچستان میں مشہور تھا اور اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا۔

تحصیلِ علم:

حضرت مولانا حبیب احمد نے ابتدائی کتب صرف و نحو، ہدایۃ النحو تک اور فقہ میں قدوری تک اپنے والد مرحوم سے پڑھیں۔

۱۳۸۰ھ سے ۱۳۸۲ھ تک دو سال کا عرصہ مدرسہ دارالفیوض لاڑکانہ میں مولانا خدا نظر سے شرح وقایہ، شرح جامی، شرح تہذیب، قطبی، میر قطبی اور جلالین شریف تک کتب پڑھ کر ۱۳۸۳ھ میں جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر میں داخلہ لے لیا۔

سکھر میں منطق، فلسفہ، ادب اور دیگر فنون کی تکمیل حضرت علامہ مولانا پیر محمد چشتی[۱] صاحب سے کی اور تفسیر و حدیث اور فقہ مع دورۂ حدیث شریف کے لیے حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حسین سابق ممبر صوبائی اسمبلی  سندھ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ۱۳۸۶ھ  میں سندِ فراغت حاصل کی۔ طالبِ علمی کے دور میں ہی آپ نے ادیب عربی کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ علاوہ ازیں ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے موقعہ پر فوجی تربیت حاصل کرکے امتحان میں سیکنڈ ڈویژن حاصل کی۔

[۱۔ حضرت علامہ مولانا پیر محمد چشتی آج کل جامعہ غوثیہ معینیہ پشاور کے مہتمم و شیخ الحدیث ہیں۔ (مرتب)]

دینی و ملی خدمات:

حضرت مولانا حبیب احمد طالب علمی کے دوران سکھر کی مختلف مساجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے، آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر سے کیا، جہاں آپ فنون کی ابتدائی اور منتہی کتب پڑھاتے رہے، اس کے ساتھ ہی سکھر میں اہل سنت کی بہت بڑی جامع مسجد، مسجد غوثیہ میں خطبہ جمعہ بھی دیتے رہے۔

۱۳۹۰ھ میں سکھر سے مستونگ (بلوچستان) منتقل ہوگئے، جہاں آپ نے مخزن العلوم جامعہ نقشبندیہ میں ناظمِ اعلیٰ اور مدرس کی حیثیت سے کام شروع کیا جو تاحال جاری ہے۔ علاوہ ازیں جامعہ کی جامع مسجد میں خطابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ ۱۹۷۶ء میں آپ نے علاقہ خاران (بلوچستان) میں شمس العلوم جامعہ نقشبندیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا، جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اعلیٰ معیار پر کام کر رہا ہے۔ تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء اور تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ءمیں آپ نے اپنے علاقے میں تقاریر کے ذریعے نمایاں حصّہ لیا۔

بیعت:

۱۳۹۰ھ میں آپ نے مولانا پیر الحاج خواجہ نور احمد جان صاحب نقشبندی مجددی سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ حضرت پیر صاحب موصوف بلوچستان میں سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا ہیں۔

اولاد:

آپ کے دو بچے اور ایک بچی ہے۔ بڑا صاحبزادہ مختار احمد جان دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ صاحبزادگان کو مولانا صاحب کا صحیح جانشین بنائے۔[۱]

[۱۔ یہ تمام کوائف مورخہ ۵؍فروری ۱۹۷۸ء کو جامعہ نظامیہ رضویہ کے دفتر میں حضرت موصوف سے حاصل ہوئے۔]

(تعارف علماءِ اہلسنت)

مزید

Comments