Wasail e Bakhshish  

Gulraiz Bana Hai Shak e Khama

گلریز بنا ہے شاخِ خامہ
فردوس بنا ہوا ہے نامہ

نازل ہیں وہ نور کے مضامیں
یاد آتے ہیں طور کے مضامیں

سینہ ہے تجلّیوں کا مسکن
ہے پیشِ نگاہ دشتِ ایمن

توحید کے لطف پا رہا ہوں
وحدت کے مزے اُڑا رہا ہوں

دل ایک ہے دل کا مدعا ایک
ایماں ہے مرا کہ ہے خدا ایک

وہ ایک نہیں جسے گنیں ہم
وہ ایک نہیں جو دو سے ہو کم

دو ایک سے مل کے جو بنا ہو
وہ ایک کسی کا کب خدا ہو

اَحْوَل ہے جو ایک کو کہے دو
اندھوں سے کہو سنبھل کے دیکھو

اُس ایک نے دو جہاں بنائے
اک ’کُنْ‘ سے سب انس و جاں بنائے

اوّل ہے وہی، وہی ہے آخر
باطن ہے وہی، وہی ہے ظاہر

ظاہر نے عجب سماں دکھایا
موجود ہے اور نظر نہ آیا

کس دل میں نہیں جمال اُس کا
کس سر میں نہیں خیال اُس کا

وہ ’حبلِ ورِید‘ سے قریں ہے
ہاں تاب نظر میں نہیں ہے

فرمان ہے یُؤمِنُونَ بِالْغَیْب
نادیدہ وہ نورِ حق ہے لارَیْب

آنکھوں میں نظر، نظر کناں ہے
آنکھیں تو کہیں، نظر کہاں ہے

سب کچھ نظر آئے اس نظر سے
پر دیکھیں نظر کو کس نظر سے

جب خلق کو یہ صفت عطا ہو
وہ کیا نظر آئے جو خدا ہو

جو وہم و قیاس سے قریں ہے
خالق کی قسم خدا نہیں ہے

جو بھید کو اُس کے پا گئے ہیں
ہستی اپنی مٹا گئے ہیں

کچھ راز اُدھر کا جس نے پایا
پھر کر وہ اِدھر کبھی نہ آیا

کچھ جلوہ جسے دکھا دیا ہے
صُمٌّ بُکْمٌ بنا دیا ہے

دل میں ہیں ہزاروں بحر پُر جوش
ہے حکم زبان کو کہ خاموش

اک جلوہ سے طور کو جلایا
بے ہوش کلیم کو بنایا

پنہاں ہیں جو سنگ میں شرارے
کرتے ہیں کچھ اور ہی اِشارے

ہے شعلہ فشاں یہ عشق کامل
پتھر میں کہاں سے آ گیا دل

ذات اُس کی ہے معطیِ مرادات
قائم ہیں صفات پاک بالذات

باقی ہے کبھی فنا نہ ہو گا
ہے جس کو فنا خدا نہ ہو گا

جیسا چاہا جسے بنایا
کچھ اس سے کہے یہ کس کا پایا

مومن بھی اسی کا کھاتے ہیں رزق
کافر بھی وہیں سے پاتے ہیں رزق

شب دن کو کرے تو رات کو دن
جو ہم کو محال اُس کو ممکن

ایجاد وجود ہو عدم سے
حادِث ہو حُدُوْث یوں قِدم سے

اللہ تبارک و تعالیٰ
ہے دونوں جہان سے نرالا

قادر ہے ذوالجلال ہے وہ
آپ ہی اپنی مثال ہے وہ

ہر عیب سے پاک ذات اُس کی
ہر رَیب سے پاک بات اُس کی

شایاں ہے اُسی کو کبریائی
بے شک ہے وہ لائق خدائی

کس وقت نہاں ہیں اُس کے جلوے
ہرشے سے عیاں ہیں اُس کے جلوے

پروانہ چراغ پر مٹا کیوں
بلبل ہے گل کی مبتلا کیوں

قمری ہے اسیرِ سرو آزاد
یاں مہتاب سے ہے چکور دل شاد

شمع و گل و سَرو و ماہ کیا ہیں
کچھ اور ہی جلوے دل رُبا ہیں

عالم میں ہے ایک دُھوم دن رات
اے جلوۂ یار تیری کیا بات

گلزار میں عندلیب نالاں
پروانہ ہے بزم میں پُر افشاں

ہر دل کو تیری ہی جستجو ہے
ہر لب پہ تیری ہی گفتگو ہے

گفتار و تجسسِ دل و لب
پیارے یہ ترے ہی کام ہیں سب

تیری ہی یہ صنعتیں عیاں ہیں
ہم کس کو کہیں کہ ہم کہاں ہیں

تو نے ہی کھلائے ہیں یہ سب گل
ہے تیری ہی شان کا تجمل

تو نے ہی کیے جمیل پیدا
تو نے ہی کیا دلوں کو شیدا

وسائلِ بخشش

...

Aya Hai Jo Zikr e Mahjabeena

آیا ہے جو ذکرِ مہ جبیناں
قابو میں نہیں دلِ پریشاں

یاد آئی تجلیِ سرِ طور
آنکھوں کے تلے ہے نور ہی نور

یا رب یہ کدھر سے چاند نکلا
اُٹھا ہے نقاب کس کے رُخ کا

کس چاند کی چاندنی کھِلی ہے
یہ کس سے میری نظر ملی ہے

ہے پیشِ نگاہ جلوہ کس کا
یا رب یہ کہاں خیال پہنچا

آیا ہوں میں کس کی رہ گزر میں
بجلی سی چمک گئی نظر میں

آنکھوں میں بسا ہے کس کا عالم
یاد آنے لگا ہے کس کا عالم

اب میں دلِ مضطرب سنبھالوں
یا دید کی حسرتیں نکالوں

اللہ! یہ کس کی انجمن ہے
دنیا میں بہشت کا چمن ہے

ہر چیز یہاں کی دل رُبا ہے
جو ہے وہ ادھر ہی دیکھتا ہے

شاہانِ زمانہ آ رہے ہیں
بستر اپنے جما رہے ہیں

پروانوں نے انجمن کو چھوڑا
بلبل نے چمن سے منہ کو موڑا

ہے سرو سے آج دُور قمری
آئینوں کو چھوڑ آئی طوطی

عالم کی جھکی ہوئی ہے گردن
پھیلے ہیں ہزاروں دست و دامن

مظلوم سنا رہے ہیں فریاد
ہے لائقِ لطف حالِ ناشاد

بے داد و ستم کی داد دیجیے
للہ ہمیں مراد دیجیے

بیماروں کو مل رہی ہے صحت
کمزوروں میں بٹ رہی ہے طاقت

جو آج ہیں سرورانِ عالم
کہتے ہیں جنہیں سرانِ عالم

اُمیدیں بھرے ہوئے دلوں میں
شامل ہیں یاں کے سائلوں میں

یہ شہر ہے یا جہانِ عزت
یہ در ہے کہ آسمانِ عزت

اس در سے ہے عز و جاہِ کونین
کہتے ہیں اسے پناہِ کونین

اس در کو فلک جناب کہیے
ان ذرّوں کو آفتاب کہیے

عشاق کی آرزو یہ در ہے
محتاج کی آبرو یہ گھر ہے

ہم سب ہیں اس آستاں کے بندے
ہیں دونوں جہاں یہاں کے بندے

دربار ہے اُس حبیبِ رب کا
مختار ہے جو عجم و عرب کا

اے خامۂ خوش نما سنبھلنا
اس راہ میں سر جھکائے چلنا

یہ وصفِ حبیبِ کبریا ہے
یہ نعتِ جنابِ مصطفی ہے

اے دل نہیں وقتِ بے خودی یہ
ہے ساعتِ مدحتِ نبی یہ

دیکھ اے دلِ بے قرار و بے تاب
ملحوظ رہیں یہاں کے آداب

ہشیار میرے مچلنے والے
یاں چلتے ہیں سر سے چلنے والے

ہے منع یہاں بلند آواز
ہر بات اَدا ہو صورتِ راز

سب حال اِشاروں میں اَدا ہو
یاں نالہ بھی ہو تو بے صدا ہو

جو جانتے ہیں یہاں کے رتبے
بھر لیتے ہیں منہ میں سنگریزے

خاموش ہیں یوں سب انجمن میں
گویا کہ زباں نہیں دَہن میں

ہے جلوہ فزا وہ شاہِ کونین
بے چین دلوں کا جس سے ہے چین

دل دار و انیس خستہ حالاں
فریاد رس شکستہ بالاں

مرہم نہ زخمِ دل فگاراں
تسکیں دہِ جانِ بے قراراں

غم خوار یہی ہے غم زدوں کا
حامی ہے یہی ستم زدوں کا

ایمان کی جان ہی تو یہ ہے
قرآن کی زبان ہی تو یہ ہے

یکتا ہے یہ خوش اَدائیوں میں
معشوق یہاں فدائیوں میں

شادابیِ ہر چمن ہے یہ گل
ہیں آٹھوں بہشت اس کے بلبل

رکھتی ہے جو سوزشِ جگر شمع
پروانہ ہے اس کے حسن پر شمع

دیکھے تو کوئی یہ جوشِ فیضاں
عالم کے بھرے ہیں جیب و داماں

ہے لطف یہ شانِ میزبانی
ہر وقت ہے سب کی میہمانی

دربانوں کے اس لیے ہیں پہرے
در پر کوئی آ کے پھر نہ جائے

ہر لحظہ یہاں یہی عطا ہے
ہر وقت یہ در کھلا ہوا ہے

مایوس گیا نہ کوئی مضطر
یاں سنتے ہیں سب کی دل لگا کر

فریاد کی ہے یہاں رسائی
ناشاد کی ہے یہاں رسائی

وہ کون ہے جس نے آہ کی ہو
اور اُس کو مراد یاں نہ دی ہو

ہیں سب کی یہ داد دینے والے
منہ مانگی مراد دینے والے

محرومِ عطاے شاہ رہا کون
مایوس یہاں سے پھر گیا کون

یاں کہتے نہیں کبھی پھر آنا
کب چاہیں یہ در بدر پھرانا

کیوں دیر ہو سب یاں ہیں موجود
رحمت، قدرت، غنا، کرم، جود

سرکار میں کون سی نہیں شے
ہاں ایک ’نہیں‘ یاں نہیں ہے

جاتے کو یہ ہیں بلانے والے
آئے ہوئے کو بٹھانے والے

سوتے کو یہ خواب سے جگائیں
بیدار کو گھر پہ جا کر لائیں

یوسف ہے غلام کا خریدار
ہر وقت لگا ہوا ہے بازار

یہ دست کرم ہے گوہر افشاں
گوہر اَفشاں و شکر افشاں

محتاج غریب کو گُہر دے
ہر تلخ نصیب کو شکر دے

شکر شکرِ بکام اس سے
گوہر گوہر کا نام اس سے

اُمت کی دعا میں اس کو دیکھو
دامانِ گدا میں اس کو دیکھو

اس ہاتھ کا نام ہے یَدُ اللّٰہ
مَنْ عَاھَدَہٗ یُعَاھِدُ اللّٰہ

وہ درد نہیں جو یہ نہ کھو دے
وہ داغ نہیں جو یہ نہ دھو دے

گاہے یہ سرِ یتیم پر ہے
گاہے یہ دلِ دو نیم پر ہے

بیمار کے واسطے عصا ہے
اندھوں کے لیے یہ رہ نما ہے

محتاجوں کے دل غنی کیے ہیں
ہاتھوں میں خزانے بھر دیے ہیں

عیسیٰ کی زباں میں ہیں جو برکات
اُس ہاتھ کے سامنے ہیں اک بات

گر قالبِ مردہ کو وہ جاں دے
یہ ریزۂ سنگ کو زباں دے

قالب تو مکان ہی ہے جاں کا
پتھر میں ہے کام کیا زباں کا

ہے نائب دستِ جودِ رب ہاتھ
ہیں دستِ نگر اُسی کے سب ہاتھ

جس دل کی شکیب کو یہ پہنچا
ہو جاتا ہے ہاتھ بھر کلیجا

ہاتھ آئی ہے ہاتھ کے وہ قدرت
اُس ہاتھ کے پاؤں چومے ہیبت

پھر پھر گئے منہ ستم گروں کے
اُٹھ اُٹھ گئے پاؤں لشکروں کے

اُس ہاتھ میں ہے نظامِ عالم
کرتا ہے یہ اِنتظامِ عالم

اُس ہاتھ میں ہیں جہان کے دل
ناخن میں پڑے ہیں حلِ مشکل

تکتی ہیں اُسی کو سب نگاہیں
کونین کی اُس طرف ہیں راہیں

زنجیرِ اَلم کو توڑتا ہے
ٹوٹے ہوئے دل یہ جوڑتا ہے

جن ہاتھوں پہ ہے یہ ہاتھ پہنچا
اُن ہاتھوں پہ ہاتھ ہے خدا کا

دینے میں نہ کی ہے دیر اُس نے
بھوکوں کو کیا ہے سیر اُس نے

اے دستِ عطا میں تیرے صدقے
اے ابرِ سخا میں تیرے صدقے

جب تیز ہو آفتابِ محشر
جب کانٹے پڑیں لب و زباں پر

جب تیرے سوا نہ ہو ٹھکانا
یوں اپنی طرف مجھے بلانا

اے پیاسے کدھر چلا اِدھر آ
اب تک تو کہاں رہا اِدھر آ

آ تیری لگی کو ہم بجھا دیں
آ آبِ خنک تجھے پلا دیں

لے تشنۂ کربلا کا صدقہ
لے کشتۂ بے خطا کا صدقہ

او سُوکھی ہوئی زبان والے
لے آتشِ تشنگی بجھا لے

اُس ہاتھ کی قدرتیں ہیں ظاہر
اعجاز ہیں دست بستہ حاضر

اک مہ سے فلک کو دو قمر دے
مغرب کو نمازِ عصر کر دے

خورشید کو کھینچ لائے دم میں
نم چاہیں تو یم بہائے دم میں

کچھ بھی اشارہ جو اس کا پا جائیں
لُنجے ابھی دوڑتے ہوئے آئیں

کیا دستِ کریم کی عطا ہے
دیکھو جسے وہ بھرا پڑا ہے

بندے تو ہوں کیا عطا سے محروم
دشمن بھی نہیں سخا سے محروم

دینے میں عدُو عدُو نہیں ہے
یاں دست کشی کی خو نہیں ہے

جس کی کہ عدُو پہ بھی عطا ہو
اُس دستِ کرم کی کیا ثنا ہو

بس اے حسنـؔ شکستہ پا بس
اب آگے نہیں رہا تیرا بس

ہے وقتِ دُعا نہ ہو تو مضطر
اُس ہاتھ سے کہہ قدم پکڑ کر

مدّاح کو مدح کا صلہ دے
بگڑے ہوئے کام سب بنا دے

ڈوبوں تو مجھے نکال لینا
پھسلے جو قدم سنبھال لینا

ہر وقت رہے تیری عطا ساتھ
پھیلیں نہ کسی کے آگے یہ ہاتھ

مجھ پر نہ پڑے کبھی کچھ اُفتاد
ہر لحظہ سِپر ہو تیری اِمداد

شیطاں میرے دل پہ نہ بس پائے
دشمن کبھی دسترس نہ پائے

گر مجھ کو گرائے لغزشِ پا
تو ہاتھ پکڑ کے کھینچ لینا

غم دل نہ مرا دُکھانے پائے
صورت نہ اَلم لگانے پائے

دم بھر نہ اَسیرِ بے کسی ہوں
مجبور نہ ہوں کہ قادری ہوں

ہوں دل سے گداے آل و اصحاب
ہر دم ہوں فداے آل و اصحاب

یاروں پہ تیرے نثار ہوں میں
پیاروں پہ تیرے نثار ہوں میں

وسائلِ بخشش

...

Hazrat Shah Kamal Kathreli


اے ساقیِ مہ لقا کہاں ہے
مے خوار کے دل رُبا کہاں ہے

بڑھ آئی ہیں لب تک آرزوئیں
آنکھوں کو ہیں مَے کی جستجوئیں

محتاج کو بھی کوئی پیالہ
داتا کرے تیرا بول بالا

ہیں آج بڑھے ہوئے اِرادے
لا منہ سے کوئی سبُو لگا دے

سر میں ہیں خمار سے جو چکر
پھرتا ہے نظر میں دَورِ ساغر

دے مجھ کو وہ ساغرِ لبالب
بس جائیں مہک سے جان و قالب

بُو زخم جگر کے دیں جو انگور
ہوں اہلِ زمانہ نشہ میں چُور

کیف آنکھوں میں دل میں نور آئیں
لہراتے ہوئے سُرور آئیں

جوبن پہ اَداے بے خودی ہو
بے ہوش فداے بے خودی ہو

کچھ ابرو ہوا پہ تو نظر کر
ہاں کشتیِ مے کا کھول لنگر

مے خوار ہیں بے قرار ساقی
بیڑے کو لگا دے پار ساقی

مے تاک رہے ہیں دیدۂ وا
دیوانہ ہے دل اسی پری کا

منہ شیشوں کے جلد کھول ساقی
قُلْقُل کے سنا دے بول ساقی

یہ بات ہے سخت حیرت انگیز
پُنْبَہ سے رُکی ہے آتشِ تیز

جب تک نہ وہاں شیشہ ہو وا
ہو وصف شراب سے خبر کیا

تا مرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد

کہتی ہیں اُٹھی ہوئی اُمنگیں
پھر لطف دکھا چلیں ترنگیں

پھر جوش پر آئے کیف مستی
پھر آنکھ سے ٹپکے مے پرستی

خواہش ہے مزاج آرزو کی
سنتا ہی رہوں ڈھلک سبُو کی

گہرا سا کوئی مجھے پلا جام
کہتی ہے ہوس کہ جام لا جام

دے چھانٹ کے مجھ کو وہ پیالی
لے آئے جو چہرے پر بحالی

ہوں دل میں تو نور کی ادائیں
آنکھوں میں سُرور کی ادائیں

ہو لطف فزا یہ جوشِ ساغر
دل چھین لے لب سے لب ملا کر

کچھ لغزشِ پا جو سر اٹھائے
بہکانے کو پھر نہ ہوش آئے

لطف آئے تو ہوش کو گمائیں
جب ہوش گئے تو لطف پائیں

یہ مے ہے میری کھنچی ہوئی جاں
یا رہ گئے خون ہو کے اَرماں

یہ بادہ ہے دل رُباے میکش
دردِ میکش دواے میکش

ہے تیز بہت مجھے یہ ڈر ہے
اُڑتی نہ پھرے کہیں بطِ مے

شیشہ میں ہے مے پری کی صورت
یا دل میں بھرا ہے خونِ حسرت

ساغر ہیں بشکل چشم میگوں
شیشہ ہے کسی کا قلب پُر خوں

مے خوار کی آرزو یہ مے ہے
مشتاق کی آبرو یہ مے ہے

ہو آتش تر جو مہر گستر
دم بھر میں ہو خشک دامنِ تر

ٹھنڈے ہیں اس آگ سے کلیجے
گرمی پہ ہیں مے کشوں کے جلسے

بہکا ہے کہاں دماغِ مُخْتَلْ
پہنچا ہے کدھر خیالِ اَسفل

یہ بادہ ہے آبروے کوثر
نتھرا ہوا آب جوے کوثر

یہ پھول ہے عطر باغِ رضواں
ایمان ہے رنگ، بُو ہے عرفاں

اس مے میں نہیں ہے دُرو کا نام
کیوں اہلِ صفا نہ ہوں مے آشام

جو رِند ہیں اس کے پارسا ہیں
بہکے ہوئے دل کے رہ نما ہیں

زاہد کی نثار اس پہ جاں ہے
واعظ بھی اسی سے تر زباں ہے

جام آنکھیں اُن آنکھوں میں مروّت
شیشے ہیں دل، اُن دلوں میں ہمت

ان شیشوں سے زندہ قلب مردم
قُلْقُل سے عیاں اداے قم قم

اللہ کا حکم وَ اشْرَبُوْا ہے
بے جا ہے اگر پئیں نہ یہ مے

اے ساقیِ با خبر خدارا
لا دے کوئی جام پیارا پیارا

جوبن ہے بہارِ جاں فزا پر
بادل کا مزاج ہے ہوا پر

ہر پھول دلہن بنا ہوا ہے
نکھرے ہوئے حسن میں سجا ہے

مستانہ گھٹائیں جھومتی ہیں
ہر سمت ہوائیں گھومتی ہیں

پڑتی ہے پھوہار پیاری پیاری
نہریں ہیں لسانِ فیضِ جاری

بلبل ہے فداے خندۂ گل
بھاتی ہے اداے خندۂ گل

ظاہر میں بہارِ دل رُبا ہے
باطن میں کچھ اور گل کھلا ہے

غنچوں کے چٹکنے سے اظہار
کھلنے لگے پردہاے اسرار

ہے سرو ’’الف‘‘ کی شکل بالکل
اور صورتِ ’’لام‘ زلفِ سنبل

تشدید‘عیاں ہے کنگھیوں سے
نرگس کی بیاض چشم ہے ’ھے

صانع کی یہ صنع ہے نمودار
اللّٰہ‘ لکھا بخط گل زار

خوشبو میں بسا ہے خلعتِ گل
دل جُو ہیں ترانہاے گل

ہے آفت ہوش موسم گل
پھر اس پہ یہ صبح کا تجمل

تاروں کا فلک پہ جھلملانا
شمعوں کا سپید منہ دکھانا

مرغانِ چمن کی خوشنوائی
شوخانِ چمن کی دلرُبائی

کلیوں کی چٹک مہک گلوں کی
مستانہ صفیر بلبلوں کی

پرواز طیور آشیاں سے
اور بارشِ نور آسماں سے

مسجد میں اَذاں کا شور برپا
زُہاد وضو کیے مہیا

آنکھوں سے فراق خواب غفلت
منزل سے مسافروں کی رخصت

میخانوں میں مے کشوں کی دھومیں
دل ساغر مے کی آرزو میں

لب پر یہ سخن کہ جام پائیں
دل میں یہ ہوس سرور آئیں

کہتا ہے کوئی فدائے ساقی
بھاتی ہے مجھے ادائے ساقی

پایا ہے کسی نے جام رنگیں
دل کو کوئی دے رہا ہے تسکیں

اے قلب حزیں چہ شورو شین است
چوں ساقی تو ابوالحسین است

برخیز و بگیر جام سرشار
بنشیں و بنوش و کیف بردار

ناشاد بیاد شاد میرو
پُر دامن و بامراد میرو

مایوس مشو کہ خوش جنابے ست
بر چرخِ سخاوت آفتابے ست

ہوش و سرہوش را رہا کن
مے نوش و بدیگراں عطا کن

تُو نور ہے تیرا نام نوری
دے مجھ کو بھی کوئی جام نوری

ہر جرعہ ہو حامل کرامات
ہر قطرہ ہو کاشف مقامات

ہوں دل کی طرح سے صاف راہیں
اسرار پہ جا پڑیں نگاہیں

بغداد کے پھول کی مہک آئے
نکہت سے مشام روح بس جائے

گھٹ جائے ہوس بڑھیں اُمنگیں
آنکھوں سے ٹپک چلیں ترنگیں

یہ بادۂ تند لطف دے جائے
بغداد مجھے اُڑا کے لے جائے

جس وقت دیارِ یار دیکھوں
دیکھوں درِ شہریار دیکھوں

بے تابیِ دل مزے دکھا جائے
خود رفتگی میرے لینے کو آئے

دل محوِ جمال شکر باری
شَیئاً لِلّٰہ زباں پہ جاری

خم فرق زمین آستاں پر
قسمت کا دماغ آسماں پر

سینہ میں بہار کی تجلی
دل میں رُخِ یار کی تجلی

ہاتھوں میں کسی کا دامنِ پاک
آنکھوں میں بجائے سُرمہ وہ خاک

لب پر یہ صدا مراد دیجیے
ناشاد گدا کو شاد کیجیے

آیا ہے یہ بے کسی کا مارا
پایا ہے بہت بڑا سہارا

حسرت سے بھرا ہوا ہے سینہ
دل داغ ملال کا خزینہ

یہ دن مجھے بخت نے دکھایا
قسمت سے درِ کریم پایا

اے دست تہی و جانِ مضطر
مژدہ ہو رسا ہوا مقدر

گزرے وہ بکاؤ بین کے دن
اب خیر سے آئے چین کے دن

آیا ہوں میں درگہِ سخی میں
پہنچا ہوں کریم کی گلی میں

پرواہ نہیں کسی کی اب کچھ
بے مانگے ملے گا مجھ کو سب کچھ

اب دونوں جہاں سے بے غمی ہے
سرکار غنی ہے کیا کمی ہے

اے حُبّ وطن سقر کی ٹھہرا
اب کس کو پسند ساتھ تیرا

جائیں گے نہ اُس دیار سے ہم
اٹھیں گے نہ کوئے یار سے ہم

کون اُٹھتا ہے ایسے آستاں سے
اُٹھے نہ جنازہ بھی یہاں سے

کیا کام کہ چھوڑ کر یہ گلشن
کانٹوں میں پھنسائیں اپنا دامن

ہے سہل ہمیں جہاں سے جانا
مشکل ہے اس آستاں سے جانا

کیوں لطف بہار چھوڑ جائیں
کیوں نازِ خزاں اُٹھانے آئیں

دیکھا نہ یہاں اَسیر کوئی
محتاج نہیں فقیر کوئی

ہر وقت عیاں ہے فیضِ باری
ہر فصل ہے موسمِ بہاری

ہر شب میں شب برات کا رنگ
ہر روز میں روزِ عید کا ڈھنگ

تفریح و سُرور ہر گھڑی ہے
نوروز کی روز حاضری ہے

ہے عیش کی یہ خوشی ہمیشہ
حاضر رہے ہر گھڑی ہمیشہ

پیوستہ خوشی کا راج ہے یاں
ہر سن سنِ اِبْتِہاج ہے یاں

شوال ہے یاں کا ہر مہینہ
ہر چاند میں ماہِ عید دیکھا

انوار سے ہے بھری ہوئی رات
ہر شب ہے یہاں کی چاندنی رات

راحت نے یہاں لیا ہے آرام
آرام ہے اس جناب کا رام

مقصود دل انبساط خاطر
خدام کی خدمتوں میں حاضر

شادی کی ہوس یہیں رہوں میں
آرام مجاوروں کو دوں میں

حُضَّار سے کاوِشِ اَلم دُور
دل غم سے جدا تو دل سے غم دُور

طلعت سے دل و دماغ روشن
مقبول دعا چراغ روشن

آراستہ بزمِ خُسروی ہے
شادی کی گھڑی رَچی ہوئی ہے

مدّاح حضور آ رہے ہیں
اپنی اپنی سنا رہے ہیں

ہاں اے حسنـؔ اے غلام سرکار
مدّاح حضور نغز گفتار

مشتاق سخن ہیں اہل محفل
منّت کش انتظار ہے دل

کچھ منقبتیں سنا دعا لے
سرکار سے مدح کا صلہ لے

اے خالقِ قادر و توانا
اے واحد بے مثال و دانا

دے طبع کو سیل کی روانی
دل کش ہو اداے خوش بیانی

ہر حرف سے رنگ گل عیاں ہو
ہر لفظ ہزار داستاں ہو

مقبول میرا کلام ہو جائے
وہ کام کروں کہ نام ہو جائے

دے ملک سخن کا تاج یا رب
رکھ لے میری آج لاج یا رب

اے سیّدِ خوش بیاں کرم کر
اے افصحِ افصحاں کرم کر

اے رُوحِ امیں مدد کو آنا
لغزش سے کلام کو بچانا

وسائلِ بخشش

...

Tohfa K Hai Gohar e Laali

تحفہ‘ کہ ہے گوہر لآلی
فرماتے ہیں اس میں یوں معالی

جب زیب زماں ہوئے وہ سرور
تھی ساٹھ برس کی عمر مادر

یہ بات نہیں کسی پہ مخفی
یہ عمر ہے عمرِ نا اُمیدی

اس اَمر سے ہم کو کیا عجب ہو
مولود کی شان کو تو دیکھو

نومید کے درد کی دوا ہے
مایوس دلوں کا آسرا ہے

کیا کیجیے بیان دستگیری
ہے جوش پہ شانِ دستگیری

گرتے ہوؤں کو کہیں سنبھالا
ڈوبے ہوؤں کو کہیں نکالا

سب داغ الم مٹا دیے ہیں
بیٹھے ہوئے دل اُٹھا دیے ہیں

نومید دلوں کی ٹیک ہے وہ
امداد میں آج ایک ہے وہ

یاوَر جو نصیب ہے ہمارا
قسمت سے ملا ہے کیا سہارا

طوفانِ اَلم سے ہم کو کیا باک
ہے ہاتھ میں کس کا دامنِ پاک

آفت کا ہجوم کیا بلا ہے
کس ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے

بالفرض اگر غلامِ سرکار
دریاے الم میں ہو گرفتار

خود بحر ہو اس خیال میں گُم
دُکھ دے نہ اسے میرا تلاطُم

سوچے یہی سیل کی روانی
پھر جائے نہ آبرو پہ پانی

طوفان ہو اس قلق میں بے تاب
موجیں بنیں ماہیانِ بے آب

گرداب ہو گرد پھر کے صدقے
ساحل لبِ خشک سے دعا دے

ہو چشمِ حباب اشک سے تر
ہر موج کہے یہ ہاتھ اُٹھا کر

رکھ لے میری اے کریم تُو لاج
غیرت سے نہ ڈوبنا پڑے آج

وسائلِ بخشش

...

Moulana Abdul Haq Muhadis

مولانا عبدِ حق محدث
وہ سرورِ انبیا کے وارث

ہے اُن کی کتاب پاک ’اخبار‘
تحریر ہے اس میں ذکرِ اخیار

مرقوم ہے اس میں یہ روایت
چمکا جو وہ ماہِ قادریت

آیا رمضان کا زمانہ
روزوں کا ہوا جہاں میں چرچا

کی شہرِ صیام کی یہ توقیر
دن میں نہ پیا حضور نے شِیر

گو عالمِ شِیر خوارگی تھا
پر پاسِ شریعتِ نبی تھا

جب تک نہ ہو پیروِ شریعت
کیا جانے حقیقتِ طریقت

جو راہ نہ پوچھے مصطفی سے
کس طرح وہ جا ملے خدا سے

جس شخص نے راستہ کو چھوڑا
منزل کی طرف سے منہ کو موڑا

جو آپ ہی راہ گُم کیے ہو
کیا راہ بتائے وہ کسی کو

خود گم سے کوئی پتا نہ پوچھے
گمراہ سے راستہ نہ پوچھے

رہبر کی جو اقتدا نہ بھولا
وہ بھول کے راستہ نہ بھولا

وسائلِ بخشش

...

Farmate Hain Sheikh Abdur Razzaq

فرماتے ہیں شیخ عبدالرزاق
فرخندہ سیر ستودہ اخلاق

پوچھا یہ جناب سے کسی نے
کب خود کو ولی حضور سمجھے؟

فرمایا کہ دس برس کے تھے ہم
جاتے تھے جو پڑھنے کے لیے ہم

پہنچانے کے واسطے فرشتے ٔ
مکتب کو ہمارے ساتھ جاتے

جب مدرسہ تک پہنچتے تھے ہم
لڑکوں سے یہ کہتے تھے وہ اُس دم

محبوبِ خدا کے بیٹھنے کو
اِطفال جگہ فراخ کر دو(۱)

ایک شخص کو ایک روز دیکھا
دیکھا تھا نہ اس سے پہلے اصلاَ

اُس نے یہ کسی مَلک سے پوچھا
کچھ مجھ کو بتاؤ حال اِن کا

یہ کون صبّی ہیں باوجاہت
سرکار میں جن کی ہے یہ عزت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) ، صفحہ18 پر ہے ، اَفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللّٰہِ یعنی اُٹھو اور خدا کے ولی کو جگہ دو۔قادری

بولا کہ ولی ہیں اولیا سے
توقیر یہ پائیں گے خدا سے

بے تبع عطا عطا کریں گے
بے پردہ لقا عطا کریں گے

تمکیں انہیں بے حجاب دیں گے
جو دیں گے وہ بے حساب دیں گے

حاصل ہو انہیں وہ قرب اللہ(ا)
جس میں نہ ہو مکر کو کبھی راہ

سائل کو کہ وقت کا ’’بَدَلْ‘‘ تھا
چالیس برس کے بعد دیکھا

اے دل یہ طریقِ سروراں ہے
آئینِ اکابرِ جہاں ہے

شہزادہ جو مدرسے سدھاریں
خدام اَدب چلیں جلو میں

تھا عالم قدس سے جو وہ ماہ
خالق نے کیے فرشتے ہمراہ

یعنی کہ نواسے کے جلو میں
نانا کے غلام خدمتیں دیں

وسائلِ بخشش

...

Daaya Hoein Aik Roz Hazir

دایہ ہوئیں ایک روز حاضر
اور عرض یہ کی کہ عبدِ قادِر

بچپن میں تو اُڑ کے گود سے تم
ہو جاتے تھے آفتاب میں گم

امکان میں ہے یہ حال اب بھی
کر سکتے ہو یہ کمال اب بھی

ارشاد ہوا بخوش بیانی
وہ عہد تھا عہدِ ناتُوانی

اُس وقت ہم صغیر سِنْ تھے
کمزوری و ضُعف کے وہ دن تھے

طاقت تھی جو ہم میں مہر سے کم
چھپ جاتے تھے آفتاب میں ہم

اب ایسے ہزار مہر آئیں
گُم ہم میں ہوں پھر پتا نہ پائیں

صدقے ترے اے جمال والے
قربان تری تجلیوں کے

تو رُخ سے اگر اُٹھا دے پردے
ہر ذرّہ کو آفتاب کر دے

وہ حسن دیا تجھے خدا نے
محبوب کیا تجھے خدا نے

ہر جلوہ بہار گلشنِ نور
ہر عکس طرازِ دامنِ نور

تو نورِ جنابِ کبریا ہے
تو چشم و چراغِ مصطفی ہے

کہتی ہے یہ تیرے رُخ کی تنویر
میں سُورۂ نور کی ہوں تفسیر

اے دونوں جہان کے اجالے
تاریکیِ قبر سے بچا لے

میں داغِ گناہ کہاں چھپاؤں
یہ رُوے سیاہ کسے دکھاؤں

ظلمت ہو بیان کیا گناہ کی
چھائی ہوئی ہے گھٹا گناہ کی

اے مہر ذرا نقاب اٹھا دے
للہ خوشی کا دن دکھا دے

پھر شامِ اَلم نے کی چڑھائی
بغداد کے چاند کی دُہائی

آفت میں غلام ہے گرفتار
اب میری مدد کو آؤ سرکار

حالِ دلِ بے قرار سُن لو
للہ میری پکار سُن لو

وسائلِ بخشش

...

Manqool Hai Tohfa Main Riwayat


منقول ہے ’تحفہ‘ میں روایت
بچپن میں ہوا یہ قصدِ حضرت

کھیتی کو کریں وسیلۂ رزق
مسنون ہے کسبِ حیلۂ رزق

جس دن یہ خیال شاہ کو آیا
لکھتے ہیں وہ روز عرفہ کا تھا

نر گاؤ کو لے چلے جو آقا
منہ پھیر اس طرح وہ بولا

یہ حکم نہ آپ کو دیا ہے
مخلوق نہ اس لیے کیا ہے(۱)

سن کر یہ کلام ڈر گئے آپ
گھر آئے تو سقف پر گئے آپ

وہ نیّرِ دیں جو بام پر آئے
حاجی عرفات میں نظر آئے

سبحان اللہ اے تیری شان
یہ بام کہاں، کہاں وہ میدان

صدہا منزل کا فاصلہ تھا
یاں پاؤں تلے کا ماجرا تھا

ہاں چاند ہیں بامِ آسماں ہے
گردُوں سے قمر کو سب عیاں ہے

یہ دیکھ کر آئے پیشِ مادر
گویا ہوئے اس طرح سے سرور

امی مجھے اِذن کی ہو اِمداد
اب کارِ خدا میں کیجیے آزاد

بغداد کو جاؤں علم سیکھوں
اللہ کے نیک بندے دیکھوں

مادر نے سبب جو اس کا پوچھا
دیکھا تھا جو کچھ وہ کہہ سنایا

وہ روئیں، اُٹھیں، گئیں، پھر آئیں
میراثِ پدر جو تھی وہ لائیں

وارثِ پدرِ حضورِ عالی
دینار شمار میں تھے اَسّی

چالیس اُن میں سے شاہ نے پائے
چالیس برادرِ دوم نے

دینار وہ اُمّ مشفقہ نے
جامہ میں سئیے بغل کے نیچے

پھر عہد لیا کہ راستی کو
ہر حال میں اپنے ساتھ رکھو

پھر بہر سفر ملی اجازت
باہر آئیں برائے رخصت

اِرشاد ہوا برائے یزداں
کرتی ہوں میں تجھ سے قطع اے جاں

اب تیری یہ پیاری پیاری صورت
آئے گی نظر نہ تا قیامت

جیلاں سے چلا وہ شاہ ذی جاہ
اک چھوٹے سے قافلہ کے ہمراہ

ہمدان سے جو لوگ باہر آئے
قزاق انہوں نے ساٹھ پائے

لُوٹا، مارا، کیا گرفتار
شاہ کو نہ دیا کسی نے آزار

اک شخص ادھر بھی ہو کے نکلا
پوچھا کہ تمہارے پاس ہے کیا

مولیٰ نے کیا یہ سُن کے اظہار
جامہ میں سلے ہوئے ہیں دینار

رہزن نے کہا، کہو! کہاں ہیں؟
فرمایا تہِ بغل نہاں ہیں

گنتی پوچھی وہ کہہ سنائی
موقع پوچھا جگہ بتائی

سُن کر یہ جواب چل دیا وہ
اس سچ کو ہنسی سمجھ لیا وہ

اک اور بھی سامنے سے گزرا
اس سے بھی یہ حال پیش آیا

وہ بھی سِرکا ہنسی سمجھ کر
چلتا ہوا دل لگی سمجھ کر

دونوں جو ملے دلوں کی صورت
کی ایک نے ایک سے حکایت

سردار کو حال جا سنایا
اُس نے انہیں بھیج کر بلایا

وہ آپ کو ساتھ لے کے پہنچے
جس ٹیلے پہ مال بانٹتے تھے

اس نے بھی کیے وہی سوالات
فرمائی حضور نے وہی بات

آخر ٹھہری کہ امتحاں ہو
اس جامہ کو چاک کر کے دیکھو

نکلے صادق کی کرتے تائید
چاکِ جیبِ سحر سے خورشید

یوسف کا قمیص تھا وہ کُرتا
تصدیق وہ چاک کیوں نہ کرتا

حیرت ہوئی اُس کو کی یہ گفتار
کیوں تم نے کیا یہ حال اظہار

فرمایا کہ ماں کی تھی نصیحت
یہ عہد لیا تھا وقتِ رُخصت

ہر حال میں راستی سے ہو کام
ہر کام میں بس اسی سے ہو کام

وہ عہد ہے صُورتِ امانت
کرتا نہیں اُس میں مَیں خیانت

سردار نے جب سُنے یہ اَحْوال
روتے روتے ہوا بُرا حال

سچوں کی تھی پُر اثر وہ تقریر
کیوں کرتی نہ دل میں گھر وہ تقریر

تاثیرِ بیاں بیاں ہو کیوں کر
دل کھینچ لیا ہے لب ہلا کر

رونے سے جو کچھ افاقہ پایا
سردار حضور سے یہ بولا

قائم رہو ماں کے عہد پر تم!
اور عہدِ خدا کو ہم کریں گُم!

کرتا ہوں میں ترک یہ معائب
ہوتا ہوں تمہارے آگے تائب

دیکھا جو یہ اُس کے ساتھیوں نے
سردار سے اس طرح وہ بولے

جب راہ زنی تھی اپنا پیشہ
سردار رہا ہے تو ہمیشہ

توبہ میں بھی ہم سے تو ہے اَقدم
یوں بھی کریں تیری پیروی ہم

تائب ہوئے، مال قافلہ کا
جس جس سے لیا تھا اس کو پھیرا

فرماتے ہیں ہاتھ پر ہمارے
کی توبہ اُنہوں نے سب سے پہلے

آقا میں بَلا میں مبتلا ہوں
شیطان کے دام میں پھنسا ہوں

اب میری مدد کو آؤ یا غوث
رہزن سے مجھے بچاؤ یا غوث

لُٹتا ہے غریب آہ سرکار
درکار ہے اک نگاہ سرکار

لُٹتا ہے میاں غلام تیرا
للہ! اِدھر بھی کوئی پھیرا

مضطر ہے بہت غلام آقا
جنگل میں ہوئی ہے شام آقا

قطاع طریق ہیں مقابل
نزدیک ہے شام دُور منزل

کیجیے میری سمت خوش خرامی
کہتے ہوئے لَا تَخَفْ غُلَامِیْ

ہو جائے شبِ اَلم کنارے
آ جاؤ کہ دن پھریں ہمارے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) میں ہے : یَا عَبْدَالْقَادِرِ مَا لِھٰذَا خُلِقْتَ وَ لَا بِھٰذَا اُمِرْتَ۔ قادری

وسائلِ بخشش

...

Manqool Hai Qol Sheikh e Imran


منقول ہے قول شیخ عمراں
فرماتے ہیں اس طرح وہ ذیشاں

اک دن میں گیا حضور سرکار
اور عرض یہ کی کہ شاہِ ابرار

گر کوئی با ادعاے نسبت
کہتا ہو کہ ہوں مرید حضرت

واقع میں نہ کی ہو بیعت اُس نے
پائی نہ ہو یہ کرامت اُس نے

خرقہ نہ کیا ہو یاں سے حاصل
کیا وہ بھی مریدوں میں ہے داخل

گویا ہوئے یوں خدا کے محبوب
جو آپ کو ہم سے کر دے منسوب

مقبول کرے خداے برتر
ہوں عفو گناہ اس کے یکسر

ہو گرچہ َاسیرِ دامِ عصیاں
ہے داخلِ زمرۂ مریداں (۱)

ہاں مژدہ ہو بہرِ قادریاں
ہے جوش پہ بحر فیضِ احساں

دیکھے تو کوئی حسنؔ کہاں ہے
وہ وقفِ غم و محن کہاں ہے

کہہ دو کہ گئی اَلم کی ساعت
سرکار لٹا رہے ہیں دولت

سلطان ہے بر سرِ عطا آ
دامن پھیلائے دوڑتا آ

کیوں کوہِ اَلم تجھے دبائے
کیوں کاوِشِ غم تجھے ستائے

سرکارِ کریم ہے یہ دربار
دربارِ کریم ہے دُربار

جھوٹوں بھی جو ہو غلام کوئی
اُس کا بھی رُکے نہ کام کوئی

رد کرنے کا یاں نہیں ہے معمول
ہیں نام کی نسبتیں بھی مقبول

تجھ کو تو ہے واقعی غلامی
لے دولت عشرتِ دوامی

اس ہاتھ میں آ کے ہاتھ دیجیے
اور دونوں جہاں میں چین کیجیے

احسانِ خدا کہ پیر پایا
اور پیر بھی دستگیر پایا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مریدوں میں قبول فرمایا بلکہ مزید بشارت عطا فرمائی چنانچہ بہجۃ الاسرار : 193 پر ہے: رَبِّیْ عَزَّوجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یَدْخُلَ اَصْحَابِیْ وَ…کُلُّ مُحِبّی فِی الْجَنَّۃِ یعنی میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور میرے ہم مذہبوں اور مجھ سے محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ قادری

 

 

...