Tajalliyaat-e-Sukhan  

نہ رکھا ذہن میں اندیشہ سودوزیاں ہم نے

وَاَنْتَمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ

نہ رکھا ذہن میں اندیشہ سودوزیاں ہم نے
یہی باعث ہے پایا خود کو ہر جا کامراں ہم نے
کیا ہے یہ بھی اک احسان تجھ پر باغیاں ہم نے
چنا ہے تیرے گلشن کو برائے آشیاں ہم نے
ہماری جنبش ابروکا افسوں کوئی کیا جانے
بدل ڈالا ہے پل بھر میں نظام آسماں ہم نے
زمانے نے ہمارے عشق کا انجام دیکھا ہے
کیا ہے آتش نمرود کو بھی گل فشاں ہم نے
زمانے نے ہماری قوت پرواز دیکھی ہے
اچھل کرروند ڈالا سینۂ ہفت آسماں ہم نے
شکوہ قیصر و کسریٰ خمیدہ سر نظر آیا
جو لہرا یا سرِ فاران اسلامی نشاں ہم نے
ہماری ناصیہ سائی کی رفعت دیکھتے جاؤ
وہی قبلہ بنا اپنا جھکایا سر جہاں ہم نے
ہماری جرأتیں اللہ اکبر کچھ نہ پوچھ ہم سے
بنا ڈالا ہے خود برق تپاں کو آشیاں ہم نے
جہاں پر سطوت شاہنشّہیت غرق ہوجائے
گزارا ہے اسی دریا سے اپنا کارواں ہم نے
ہمارے گن زمین کربلا گاتی نظر آئی
سنی دجلہ کی لہروں سے بھی اپنی داستاں ہم نے
ہمارے جان و دل میں روح عالم رقص کرتی ہے
خود اپنی ہست کو پایا ہے راز کن فکاں ہم نے
فلک والوں سے پوچھو ننھے ننھےتارے شاہد ہیں
زمیں پر بھی بنائے ہیں ستاروں کے جہاں ہم نے
کہاں تک داستاں اپنی سنائیں مختصر یہ ہے
دیا سارے زمانے کو پیام جاوداں ہم نے
زمانے کو دیا اخلاق کا درس عظیم اخؔتر
اخوت اور محبت کی بہائیں ندیاں ہم نے

...