Qaseeda  

Woh Sarware Kishware Risalat

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
مَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے

نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور کے نکھرا
حجر کے صدقےکمرکےاِک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منھ پر آنچل تجلّیِ ذات بحت سے تھے

خوشی کےبادل امنڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

یہ جھوما میزابِ زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

دُلھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیمِ گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حُسنِ تزئیں وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں!
صبا سے سبزے میں لہریں آتیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اُس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جانِ پُر غم دکھاؤں کیوں کر تجھے وہ عالم
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانےمیں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

بچا جو تلووں کا ان کےدھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلیِ حق کا سہرا سر پر صلاۃ و تسلیم کی نچھاوڑ
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نا مُرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مُبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجومِ اُمّید ہے گھٹاؤ مُرادیں دے کر انھیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل اُمنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے

سِتم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کے رہ گزر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے

بُراق کےنقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلائے کےسارے رستے
مہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہوں معنیِ اوّل آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقاب الٹے وہ مہرِ انور جلالِ رُخسار گرمیوں پر!
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دوبلبلے تھے

وہ ظِلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رُک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامیں کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دَہَر دَہَر پیڑ جل رہے تھے

جِلو میں جو مرغِ عقل اڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھےتھک کر چڑھا تھا دم تیور آ گئے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

سُنا یہ اتنے میں عرشِ حق نےکہ لے مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاجِ شرف ترے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدمو سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہو رہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلین جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منھ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلیے حضرت
تمھاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

تَبَارَکَ اللہُ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِیْ کہیں تقاضے وصال کے تھے

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سُراغِ اَین و مَتٰی کہاں تھا نشانِ کیف و الیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

اُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت اُبھارتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قراب انھیں کی روش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فعل تھا اُدھر کا
تنزّلوں میں ترقی افزا دَنٰی تَدَلّٰی کے سلسلے تھے

ہوا نہ آخر کہ ایک بجرا تموّجِ بحرِ ہُوْ میں اُبھرا
دَنٰی کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھا دیے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصرِ دَنٰی کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سےملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

اُدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں اِدھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گُلوئے پُر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ برجِ بطحا کا ماہ پارہ بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارہ کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سُرورِ مقدم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کی
جناں کےگلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے
یہ جوشِ ضِدّین تھا کہ پودے کشاکشِ ارّہ کے تلےتھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلیے تھے

نَبِّیِ رحمت شفیعِ اُمّت رضؔا پہ للہ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے

حدائقِ بخشش

...

Subha Taiba Mein Hui

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا

باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا

بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا
بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا

ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا
سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا

عرش بھی فردوس بھی اس شاہ والا نور کا
یہ مُثمّن بُرج وہ مشکوئے اعلیٰ نور کا

آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا
ماہِ سنّت مہرِ طلعت لے لے بدلا نور کا

تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا
بخت جاگا نور کا چمکا ستارا نور کا

میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا تِرا دے ڈال صدقہ نور کا

تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا
رُخ ہے قبلہ نور کا ابرو ہے کعبہ نور کا

پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا
دیکھیں موسیٰ طور سے اُترا صحیفہ نور کا

تاج والے دیکھ کر تیرا عمامہ نور کا
سر جھکاتے ہیں، الٰہی! بول بالا نور کا

بینیِ پُر نور پر رخشاں ہے بُکّہ نور کا
ہے لِوَآءُ الْحَمْد پر اڑتا پھریرا نور کا

مصحفِ عارض پہ ہے خطِّ شفیعہ نور کا
لو، سیہ کارو! مبارک ہو قبالہ نور کا

آبِ زر بنتا ہے عارض پر پسینہ نور کا
مصحفِ اعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا

پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعہ نور کا
گِردِ سر پھرنے کو بنتا ہے عمامہ نور کا

ہیبتِ عارض سے تَھرّاتا ہے شعلہ نور کا
کفشِ پا پر گر کے بن جاتا ہے گچھا نور کا

شمع دل، مشکوٰۃ تن، سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا

مَیل سے کس درجہ ستھرا ہے وہ پتلا نور کا
ہے گلے میں آج تک کورا ہی کرتا نور کا

تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا
نور نے پایا تِرے سجدے سے سیما نور کا

تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا

کیا بنا نامِ خدا اسرا کا دولہا نور کا
سر پہ سہرا نور کا بر میں شہانہ نور کا

بزمِ وحدت میں مزا ہوگا دو بالا نور کا
ملنے شمعِ طور سے جاتا ہے اِکّا نور کا

وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا
قدرتی بینوں میں کیا بجتا ہے لہرا نور کا

یہ کتابِ کُن میں آیا طرفہ آیہ نور کا
غیرِ قائل کچھ نہ سمجھا کوئی معنیٰ نور کا

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا
مَنْ رَاٰی کیسا؟ یہ آئینہ دکھایا نور کا

صبح کر دی کفر کی سچّا تھا مژدہ نور کا
شام ہی سے تھا شبِ تیرہ کو دھڑکا نور کا

پڑتی ہے نوری بھرن امڈا ہے دریا نور کا
سر جھکا اے کشتِ کفر آتا ہے اہلا نور کا

ناریوں کا دَور تھا دل جل رہا تھا نور کا
تم کو دیکھا ہوگیا ٹھنڈا کلیجا نور کا

نسخِ ادیاں کر کے خود قبضہ بٹھایا نور کا
تاجْور نے کر لیا کچا علاقہ نور کا

جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا
نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا

بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا

دیکھ ان کے ہوتے نا زیبا ہے دعویٰ نور کا
مہر لکھ دے یاں کے ذرّوں کو مچلکا نور کا

یاں بھی داغِ سجدۂ طیبہ ہے تمغا نور کا
اے قمر! کیا تیرے ہی ماتھے ہے ٹیکا نور کا

شمع ساں ایک ایک پروانہ ہے اس با نور کا
نورِ حق سے لو لگائے دل میں رشتہ نور کا

انجمن والے ہیں انجم بزمِ حلقہ نور کا
چاند پر تاروں کے جھرمُٹ سے ہے ہالہ نور کا

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذُوالنّورین جوڑا نور کا

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا
مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا

اب کہاں وہ تابشیں کیسا وہ تڑکا نور کا
مہر نے چھپ کر کیا خاصا دھندلکا نور کا

تم مقابل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا
تم سے چھٹ کر منھ نکل آیا ذرا سا نور کا

قبرِ انور کہیے یا قصرِ معلّٰی نور کا
چرخِ اطلس یا کوئی سادہ سا قبّہ نور کا

آنکھ مل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا
تاب ہے بے حکم پَر مارے پرندہ نور کا

نزع میں لوٹے گا خاکِ در پہ شیدا نور کا
مَر کے اوڑھے گی عروسِ جاں دوپٹا نور کا

تابِ مہرِ حشر سے چَونکے نہ کشتہ نور کا
بوندیاں رحمت کی دینے آئیں چھینٹا نور کا

وضعِ واضع میں تِری صورت ہے معنیٰ نور کا
یوں مجازاً چاہیں جس کو کہہ دیں کلمہ نور کا

انبیا اَجزا ہیں تُو بالکل ہے جملہ نور کا
اس علاقے سے ہے اُن پر نام سچا نور کا

یہ جو مہر و مہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا
بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا

سر مگیں آنکھیں حریمِ حق کے وہ مشکیں غزال
ہے فضائے لامکاں تک جن کا رمنا نور کا

تابِ حُسنِ گرم سے کھل جائیں گےدل کے کنول
نو بہاریں لائے گا گرمی کا جھلکا نور کا

ذرّے مہرِ قدس تک تیرے توسّط سے گئے
حدِّ اوسط نے کیا صغریٰ کو کبریٰ نور کا

سبزۂ گردوں جھکا تھا بہرِ پا بوسِ بُراق
پھر نہ سیدھا ہو سکا کھایا وہ کوڑا نور کا

تابِ سم سے چَوندھیا کر چاند انھیں قدموں پھرا
ہنس کے بجلی نے کہا دیکھا چھلاوا نور کا

دیدِ نقشِ سم کو نکلی سات پردوں سے نگاہ
پتلیاں بولیں چلوآیا تماشا نور کا

عکسِ سم نے چاند سورج کو لگائے چار چاند
پڑ گیا سیم و زرِ گردوں پہ سکّہ نور کا

چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا

ایک سینے تک مشابہ، اک وہاں سے پاؤں تک
حُسنِ سبطین ان کے جاموں میں ہے نیما نور کا

صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عیاں
خَطِّ تَوْاَم میں لکھا ہے یہ دو ورقہ نور کا

کۗ گیسو، ہٰ دہن، یٰ ابرو، آنکھیں عۗ صۗ
کۗھٰیٰعۗصۗ اُن کا ہے چہرہ نور کا

اے رضؔا! یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے
ہوگئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا

حدائقِ بخشش

...

Kabe ke Badrudduja Tumpe Karoron Durood

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود (الف)

شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود

جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروڑوں درود
آب و گِلِ انبیا تم پہ کروڑوں درود

لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملا
کوشکِ عرش و دنیٰ تم پہ کروڑوں درود

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

طور پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کا
نیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود

دل کرو ٹھنڈا مِرا وہ کفِ پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لا جواب (ب)
نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروڑوں درود

غایت و علّت سبب بہرِ جہاں تم ہو سب
تم سے بَنا تم بِنا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثبات (ت)
اصل سے ہے ظل بندھا تم پہ کروڑوں درود

مغز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست
تم ہو درونِ سرا تم پہ کروڑوں درود

کیا ہیں جو بے حد ہیں لوث تم تو ہو غیث اور غوث (ث)
چھینٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود

وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج (ج)
کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروڑوں درود

نُحْتَ فَلاَحَ الْفَلَاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الْمَرَاحْ (ح)
عُدْ لِیَعُوْدَ الْھَنَا تم پہ کروڑوں درود

جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جریح
نبضیں چھٹیں دم چلا تم پہ کروڑوں درود

اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ (خ)
اے مِرےمشکل کُشا تم پہ کروڑوں درود

تم سے کُھلا بابِ جود تم سے ہے سب کا وجود (د)
تم سے ہے سب کی بقا تم پہ کروڑوں درود

خستہ ہوں اور تم معاذ بستہ ہوں اور تم ملاذ (ذ)
آگے جو شہ کی رضا تم پہ کروڑوں درود

گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عفوّ و غفور! (ر)
بخش دو جرم و خطا تم پہ کروڑوں درود

مہرِ خُدا نور نور دل ہے سیہ دن ہے دور
شب میں کرو چاندنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر
کھول دو چشمِ حیا تم پہ کروڑوں درود

چھینٹ تمھاری سحر چھوٹ تمھاری قمر
دل میں رچا دو ضیا تم پہ کروڑوں درود

تم سے خدا کا ظہور اس سے تمھارا ظہور
لِمْ ہے یہ وہ اِنْ ہوا تم پہ کروڑوں درود

بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز (ز)
ایک تمھارے سوا تم پہ کروڑوں درود

آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمھاری ہے آس (س)
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود

طارمِ اعلیٰ کا عرش جس کفِ پا کا ہے فرش (ش)
آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمھیں ہو خلاص (ص)
بند سے کر دو رہا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شفائے مرض خلقِ خدا خود غرض (ض)
خلق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروڑوں درود

آہ وہ راہِ صراط بندوں کی کتنی بساط (ط)
المدد اے رہ نُما تم پہ کروڑوں درود

بے ادب و بد لحاظ کر نہ سکا کچھ حفاظ (ظ)
عفو پہ بھولا رہا تم پہ کروڑوں درود

لو تہِ دامن کہ شمع جھونکوں میں ہے روز جمع (ع)
آندھیوں سے حشر اٹھا تم پہ کروڑوں درود

سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ (غ)
طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروڑوں درود

گیسو و قد لام الف کر دو بلا منصرف (ف)
لا کے تہِ تیغِ لَا تم پہ کروڑوں درود

تم نے برنگِ فلق جیبِ جہاں کر کے شق (ق)
نور کا تڑکا کیا تم پہ کروڑوں درود

نوبتِ در ہیں فلک خادمِ در ہیں مَلک (ک)
تم ہو جہاں بادشا تم پہ کروڑوں درود

خلق تمھاری جمیل خُلق تمھارا جلیل (ل)
خَلق تمھاری گدا تم پہ کروڑوں درود

طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسُل کے امام (م)
نوشہِ مُلکِ خدا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں سلام
تم پہ کروڑوں ثنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم
بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود

خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم
تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود

نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم
تم سے بس افزوں خدا تم پہ کروڑوں درود

شافی و نافی ہو تم کافی و وفی ہو تم
درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں درود

جائیں نہ جب تک غلام خلد ہے سب پر حرام
ملک تو ہے آپ کا تم پہ کروڑوں درود

مظہرِ حق ہو تمھیں مُظہرِ حق ہو تمھیں (ن)
تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروڑوں درود

زور دہِ نا رساں تکیہ گہِ بے کساں
بادشہِ ماوَرا تم پہ کروڑوں درود

برسے کرم کی بھرن پھولیں نِعَم کے چمن
ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروڑوں درود

کیوں کہوں بے کس ہوں میں، کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروڑوں درود

گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
کون ہمیں پالتا تم پہ کروڑوں درود

باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمھیں پالنا تم پہ کروڑوں درود

ایسوں کو نعمت کھلاؤ دودھ کے شربت پلاؤ (و)
ایسوں کو ایسی غذا تم پہ کروڑوں درود

گرنے کو ہوں روک لو غوطہ لگے ہاتھ دو
ایسوں پر ایسی عطا تم پہ کروڑوں درود

اپنےخطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو
کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود

کر کے تمھارے گناہ مانگیں تمھاری پناہ (ہ)
تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود

کر دو عَدُو کو تباہ حاسدوں کو رُو براہ
اہلِ وِلا کی بھلا تم پہ کروڑوں درود

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی (ی)
کوئی کمی سَروَرا! تم پہ کروڑوں درود

کام غضب کے کیے اس پہ ہے سرکار سے (ے)
بندوں کو چشمِ رضا تم پہ کروڑوں درود

آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے
جلوہ قریب آ گیا تم پہ کروڑوں درود

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضؔا تم پہ کروڑوں درود

حدائقِ بخشش

...

Wazeefa e Qadriya

وظیفۂ قادریہ
۱۳۲۱ ھجری
فارسی ترجمہ : اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖٖ
فَقُلْتُ لِخُمْرَتِیْ نَحْوِیْ تَعَالٖ

داد عِشقم جامِ وصلِ کبریا
پس بِگُفتَم بادہ ام را سویم آ

اَلصَّلَا اے فضلہ خورانِ حضور
شاہ بر جودست و صہبا در وُفور

بخش کردن گر نِہ عزمِ خسروِی ست
آخر ایں نوشیدہ خواندن بہرِ چیست

سَعَتْ وَمَشَتْ لِنَحْوِیْ فِیْ کَئُوْسٖٖ
فَھِمْتُ لِسُکْرَتِیْ بَیْنَ الْمَوَالِیْ
ٖ
شُد دواں در جامہا سویم رواں
والہِ سکرم شدم در سروراں

شکرِ تو از ذکر و فکر اکبر بَوَد
سکر کو چوں حکمِ خود بر می رَوَد

سوئے مَے بر بوئے مے مرداں رواں
بادہ خود سُویت بپائے سر دواں

فَقُلْتُ لِسَآئِرِ الْاَقْطَابِ لُمُّوْا
بِحَالِیْ وَادْخُلُوْٓا اَنْتُمْ رِجَالِیْ

گفتم اے قطباں بعونِ شانِ من
جملہ درآئید تاں مردانِ من

جمع خواندی تا قَوِی دلہا شوند
ہم زِ عونِ حالِ خود دادی کَمند

ورنہ تا بامِ حضورِ تو صُعود!
حَاشَ لِلہ تاب و یارائے کہ بود

وَھُمُّوْا وَاشْرَبُوْٓا اَنْتُمْ جُنُوْدِیْ
فَسَاقِی الْقَوْمِ بِالْوَافِیْ مَلَالِیْ
ٖ
ہمّت آرید و خورید اے لشکرم
ساقیم دادہ لبالب از کرم

شکرِ حق جامِ تو لبریزِ مَئے ست
ہر لبالب را چکیدن در پَئے ست

تا بما ہم آید اِنْ شَآءَ الْعَظِیْم
آں نَصِیْبُ الْاَرْضِ مِنْ کَاسِ الْکَرِیْم

شَرِبْتُمْ فُضْلَتِیْ مِنۡۢ بَعْدِ سُکْرِیْ
وَلَا نِلْتُمْ عُلُوِّیْ وَاتِّصَالٖ
ٖ
من شدم سرشار و سورم می چشید
رَخت تا قرب و عُلُوَّم کے کشید

فضلہ خورانش شہان و من گدائے
روئے آنم کُو کہ خواہم قطرہ لائے

یلّلے جودِ شہم گفتہ ملائے
مے طلب لا نشنوی ایں جا نہ لائے

مَقَامُکُمُ الْعُلٰی جَمْعًا وَّلٰکِنْ
مَقَامِیْ فَوْقَکُمْ مَا زَالَ عَالِیْ

جاے تاں بالا ولے جایم بوَد
فوق تاں از روزِ اوّل تا ابد

جات بالا تر زِ وہمِ جائہا
جائہا خود ہست بہرِ پائہا

پائہا چہ بوَد کہ سرہا زیرِ پات
پات ہم کے چوں فُرُود آئی زِ جات

...

Woh Sarware Kishware Risalat

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
مَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے

نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور کے نکھرا
حجر کے صدقےکمرکےاِک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منھ پر آنچل تجلّیِ ذات بحت سے تھے

خوشی کےبادل امنڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

یہ جھوما میزابِ زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

دُلھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیمِ گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حُسنِ تزئیں وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں!
صبا سے سبزے میں لہریں آتیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اُس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جانِ پُر غم دکھاؤں کیوں کر تجھے وہ عالم
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانےمیں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

بچا جو تلووں کا ان کےدھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلیِ حق کا سہرا سر پر صلاۃ و تسلیم کی نچھاوڑ
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نا مُرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مُبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجومِ اُمّید ہے گھٹاؤ مُرادیں دے کر انھیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل اُمنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے

سِتم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کے رہ گزر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے

بُراق کےنقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلائے کےسارے رستے
مہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہوں معنیِ اوّل آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقاب الٹے وہ مہرِ انور جلالِ رُخسار گرمیوں پر!
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دوبلبلے تھے

وہ ظِلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رُک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامیں کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دَہَر دَہَر پیڑ جل رہے تھے

جِلو میں جو مرغِ عقل اڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھےتھک کر چڑھا تھا دم تیور آ گئے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

سُنا یہ اتنے میں عرشِ حق نےکہ لے مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاجِ شرف ترے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدمو سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہو رہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلین جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منھ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلیے حضرت
تمھاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

تَبَارَکَ اللہُ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِیْ کہیں تقاضے وصال کے تھے

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سُراغِ اَین و مَتٰی کہاں تھا نشانِ کیف و الیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

اُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت اُبھارتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قراب انھیں کی روش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فعل تھا اُدھر کا
تنزّلوں میں ترقی افزا دَنٰی تَدَلّٰی کے سلسلے تھے

ہوا نہ آخر کہ ایک بجرا تموّجِ بحرِ ہُوْ میں اُبھرا
دَنٰی کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھا دیے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصرِ دَنٰی کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سےملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

اُدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں اِدھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گُلوئے پُر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ برجِ بطحا کا ماہ پارہ بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارہ کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سُرورِ مقدم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کی
جناں کےگلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے
یہ جوشِ ضِدّین تھا کہ پودے کشاکشِ ارّہ کے تلےتھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلیے تھے

نَبِّیِ رحمت شفیعِ اُمّت رضؔا پہ للہ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے

حدائقِ بخشش

...

Subha Taiba Mein Hui

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا

باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا

بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا
بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا

ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا
سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا

عرش بھی فردوس بھی اس شاہ والا نور کا
یہ مُثمّن بُرج وہ مشکوئے اعلیٰ نور کا

آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا
ماہِ سنّت مہرِ طلعت لے لے بدلا نور کا

تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا
بخت جاگا نور کا چمکا ستارا نور کا

میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا تِرا دے ڈال صدقہ نور کا

تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا
رُخ ہے قبلہ نور کا ابرو ہے کعبہ نور کا

پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا
دیکھیں موسیٰ طور سے اُترا صحیفہ نور کا

تاج والے دیکھ کر تیرا عمامہ نور کا
سر جھکاتے ہیں، الٰہی! بول بالا نور کا

بینیِ پُر نور پر رخشاں ہے بُکّہ نور کا
ہے لِوَآءُ الْحَمْد پر اڑتا پھریرا نور کا

مصحفِ عارض پہ ہے خطِّ شفیعہ نور کا
لو، سیہ کارو! مبارک ہو قبالہ نور کا

آبِ زر بنتا ہے عارض پر پسینہ نور کا
مصحفِ اعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا

پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعہ نور کا
گِردِ سر پھرنے کو بنتا ہے عمامہ نور کا

ہیبتِ عارض سے تَھرّاتا ہے شعلہ نور کا
کفشِ پا پر گر کے بن جاتا ہے گچھا نور کا

شمع دل، مشکوٰۃ تن، سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا

مَیل سے کس درجہ ستھرا ہے وہ پتلا نور کا
ہے گلے میں آج تک کورا ہی کرتا نور کا

تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا
نور نے پایا تِرے سجدے سے سیما نور کا

تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا

کیا بنا نامِ خدا اسرا کا دولہا نور کا
سر پہ سہرا نور کا بر میں شہانہ نور کا

بزمِ وحدت میں مزا ہوگا دو بالا نور کا
ملنے شمعِ طور سے جاتا ہے اِکّا نور کا

وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا
قدرتی بینوں میں کیا بجتا ہے لہرا نور کا

یہ کتابِ کُن میں آیا طرفہ آیہ نور کا
غیرِ قائل کچھ نہ سمجھا کوئی معنیٰ نور کا

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا
مَنْ رَاٰی کیسا؟ یہ آئینہ دکھایا نور کا

صبح کر دی کفر کی سچّا تھا مژدہ نور کا
شام ہی سے تھا شبِ تیرہ کو دھڑکا نور کا

پڑتی ہے نوری بھرن امڈا ہے دریا نور کا
سر جھکا اے کشتِ کفر آتا ہے اہلا نور کا

ناریوں کا دَور تھا دل جل رہا تھا نور کا
تم کو دیکھا ہوگیا ٹھنڈا کلیجا نور کا

نسخِ ادیاں کر کے خود قبضہ بٹھایا نور کا
تاجْور نے کر لیا کچا علاقہ نور کا

جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا
نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا

بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا

دیکھ ان کے ہوتے نا زیبا ہے دعویٰ نور کا
مہر لکھ دے یاں کے ذرّوں کو مچلکا نور کا

یاں بھی داغِ سجدۂ طیبہ ہے تمغا نور کا
اے قمر! کیا تیرے ہی ماتھے ہے ٹیکا نور کا

شمع ساں ایک ایک پروانہ ہے اس با نور کا
نورِ حق سے لو لگائے دل میں رشتہ نور کا

انجمن والے ہیں انجم بزمِ حلقہ نور کا
چاند پر تاروں کے جھرمُٹ سے ہے ہالہ نور کا

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذُوالنّورین جوڑا نور کا

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا
مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا

اب کہاں وہ تابشیں کیسا وہ تڑکا نور کا
مہر نے چھپ کر کیا خاصا دھندلکا نور کا

تم مقابل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا
تم سے چھٹ کر منھ نکل آیا ذرا سا نور کا

قبرِ انور کہیے یا قصرِ معلّٰی نور کا
چرخِ اطلس یا کوئی سادہ سا قبّہ نور کا

آنکھ مل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا
تاب ہے بے حکم پَر مارے پرندہ نور کا

نزع میں لوٹے گا خاکِ در پہ شیدا نور کا
مَر کے اوڑھے گی عروسِ جاں دوپٹا نور کا

تابِ مہرِ حشر سے چَونکے نہ کشتہ نور کا
بوندیاں رحمت کی دینے آئیں چھینٹا نور کا

وضعِ واضع میں تِری صورت ہے معنیٰ نور کا
یوں مجازاً چاہیں جس کو کہہ دیں کلمہ نور کا

انبیا اَجزا ہیں تُو بالکل ہے جملہ نور کا
اس علاقے سے ہے اُن پر نام سچا نور کا

یہ جو مہر و مہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا
بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا

سر مگیں آنکھیں حریمِ حق کے وہ مشکیں غزال
ہے فضائے لامکاں تک جن کا رمنا نور کا

تابِ حُسنِ گرم سے کھل جائیں گےدل کے کنول
نو بہاریں لائے گا گرمی کا جھلکا نور کا

ذرّے مہرِ قدس تک تیرے توسّط سے گئے
حدِّ اوسط نے کیا صغریٰ کو کبریٰ نور کا

سبزۂ گردوں جھکا تھا بہرِ پا بوسِ بُراق
پھر نہ سیدھا ہو سکا کھایا وہ کوڑا نور کا

تابِ سم سے چَوندھیا کر چاند انھیں قدموں پھرا
ہنس کے بجلی نے کہا دیکھا چھلاوا نور کا

دیدِ نقشِ سم کو نکلی سات پردوں سے نگاہ
پتلیاں بولیں چلوآیا تماشا نور کا

عکسِ سم نے چاند سورج کو لگائے چار چاند
پڑ گیا سیم و زرِ گردوں پہ سکّہ نور کا

چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا

ایک سینے تک مشابہ، اک وہاں سے پاؤں تک
حُسنِ سبطین ان کے جاموں میں ہے نیما نور کا

صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عیاں
خَطِّ تَوْاَم میں لکھا ہے یہ دو ورقہ نور کا

کۗ گیسو، ہٰ دہن، یٰ ابرو، آنکھیں عۗ صۗ
کۗھٰیٰعۗصۗ اُن کا ہے چہرہ نور کا

اے رضؔا! یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے
ہوگئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا

حدائقِ بخشش

...

Kabe ke Badrudduja Tumpe Karoron Durood

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود (الف)

شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود

جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروڑوں درود
آب و گِلِ انبیا تم پہ کروڑوں درود

لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملا
کوشکِ عرش و دنیٰ تم پہ کروڑوں درود

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

طور پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کا
نیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود

دل کرو ٹھنڈا مِرا وہ کفِ پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لا جواب (ب)
نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروڑوں درود

غایت و علّت سبب بہرِ جہاں تم ہو سب
تم سے بَنا تم بِنا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثبات (ت)
اصل سے ہے ظل بندھا تم پہ کروڑوں درود

مغز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست
تم ہو درونِ سرا تم پہ کروڑوں درود

کیا ہیں جو بے حد ہیں لوث تم تو ہو غیث اور غوث (ث)
چھینٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود

وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج (ج)
کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروڑوں درود

نُحْتَ فَلاَحَ الْفَلَاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الْمَرَاحْ (ح)
عُدْ لِیَعُوْدَ الْھَنَا تم پہ کروڑوں درود

جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جریح
نبضیں چھٹیں دم چلا تم پہ کروڑوں درود

اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ (خ)
اے مِرےمشکل کُشا تم پہ کروڑوں درود

تم سے کُھلا بابِ جود تم سے ہے سب کا وجود (د)
تم سے ہے سب کی بقا تم پہ کروڑوں درود

خستہ ہوں اور تم معاذ بستہ ہوں اور تم ملاذ (ذ)
آگے جو شہ کی رضا تم پہ کروڑوں درود

گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عفوّ و غفور! (ر)
بخش دو جرم و خطا تم پہ کروڑوں درود

مہرِ خُدا نور نور دل ہے سیہ دن ہے دور
شب میں کرو چاندنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر
کھول دو چشمِ حیا تم پہ کروڑوں درود

چھینٹ تمھاری سحر چھوٹ تمھاری قمر
دل میں رچا دو ضیا تم پہ کروڑوں درود

تم سے خدا کا ظہور اس سے تمھارا ظہور
لِمْ ہے یہ وہ اِنْ ہوا تم پہ کروڑوں درود

بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز (ز)
ایک تمھارے سوا تم پہ کروڑوں درود

آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمھاری ہے آس (س)
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود

طارمِ اعلیٰ کا عرش جس کفِ پا کا ہے فرش (ش)
آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمھیں ہو خلاص (ص)
بند سے کر دو رہا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شفائے مرض خلقِ خدا خود غرض (ض)
خلق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروڑوں درود

آہ وہ راہِ صراط بندوں کی کتنی بساط (ط)
المدد اے رہ نُما تم پہ کروڑوں درود

بے ادب و بد لحاظ کر نہ سکا کچھ حفاظ (ظ)
عفو پہ بھولا رہا تم پہ کروڑوں درود

لو تہِ دامن کہ شمع جھونکوں میں ہے روز جمع (ع)
آندھیوں سے حشر اٹھا تم پہ کروڑوں درود

سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ (غ)
طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروڑوں درود

گیسو و قد لام الف کر دو بلا منصرف (ف)
لا کے تہِ تیغِ لَا تم پہ کروڑوں درود

تم نے برنگِ فلق جیبِ جہاں کر کے شق (ق)
نور کا تڑکا کیا تم پہ کروڑوں درود

نوبتِ در ہیں فلک خادمِ در ہیں مَلک (ک)
تم ہو جہاں بادشا تم پہ کروڑوں درود

خلق تمھاری جمیل خُلق تمھارا جلیل (ل)
خَلق تمھاری گدا تم پہ کروڑوں درود

طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسُل کے امام (م)
نوشہِ مُلکِ خدا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں سلام
تم پہ کروڑوں ثنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم
بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود

خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم
تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود

نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم
تم سے بس افزوں خدا تم پہ کروڑوں درود

شافی و نافی ہو تم کافی و وفی ہو تم
درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں درود

جائیں نہ جب تک غلام خلد ہے سب پر حرام
ملک تو ہے آپ کا تم پہ کروڑوں درود

مظہرِ حق ہو تمھیں مُظہرِ حق ہو تمھیں (ن)
تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروڑوں درود

زور دہِ نا رساں تکیہ گہِ بے کساں
بادشہِ ماوَرا تم پہ کروڑوں درود

برسے کرم کی بھرن پھولیں نِعَم کے چمن
ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروڑوں درود

کیوں کہوں بے کس ہوں میں، کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروڑوں درود

گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
کون ہمیں پالتا تم پہ کروڑوں درود

باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمھیں پالنا تم پہ کروڑوں درود

ایسوں کو نعمت کھلاؤ دودھ کے شربت پلاؤ (و)
ایسوں کو ایسی غذا تم پہ کروڑوں درود

گرنے کو ہوں روک لو غوطہ لگے ہاتھ دو
ایسوں پر ایسی عطا تم پہ کروڑوں درود

اپنےخطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو
کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود

کر کے تمھارے گناہ مانگیں تمھاری پناہ (ہ)
تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود

کر دو عَدُو کو تباہ حاسدوں کو رُو براہ
اہلِ وِلا کی بھلا تم پہ کروڑوں درود

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی (ی)
کوئی کمی سَروَرا! تم پہ کروڑوں درود

کام غضب کے کیے اس پہ ہے سرکار سے (ے)
بندوں کو چشمِ رضا تم پہ کروڑوں درود

آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے
جلوہ قریب آ گیا تم پہ کروڑوں درود

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضؔا تم پہ کروڑوں درود

حدائقِ بخشش

...

Wazeefa e Qadriya

وظیفۂ قادریہ
۱۳۲۱ ھجری
فارسی ترجمہ : اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖٖ
فَقُلْتُ لِخُمْرَتِیْ نَحْوِیْ تَعَالٖ

داد عِشقم جامِ وصلِ کبریا
پس بِگُفتَم بادہ ام را سویم آ

اَلصَّلَا اے فضلہ خورانِ حضور
شاہ بر جودست و صہبا در وُفور

بخش کردن گر نِہ عزمِ خسروِی ست
آخر ایں نوشیدہ خواندن بہرِ چیست

سَعَتْ وَمَشَتْ لِنَحْوِیْ فِیْ کَئُوْسٖٖ
فَھِمْتُ لِسُکْرَتِیْ بَیْنَ الْمَوَالِیْ
ٖ
شُد دواں در جامہا سویم رواں
والہِ سکرم شدم در سروراں

شکرِ تو از ذکر و فکر اکبر بَوَد
سکر کو چوں حکمِ خود بر می رَوَد

سوئے مَے بر بوئے مے مرداں رواں
بادہ خود سُویت بپائے سر دواں

فَقُلْتُ لِسَآئِرِ الْاَقْطَابِ لُمُّوْا
بِحَالِیْ وَادْخُلُوْٓا اَنْتُمْ رِجَالِیْ

گفتم اے قطباں بعونِ شانِ من
جملہ درآئید تاں مردانِ من

جمع خواندی تا قَوِی دلہا شوند
ہم زِ عونِ حالِ خود دادی کَمند

ورنہ تا بامِ حضورِ تو صُعود!
حَاشَ لِلہ تاب و یارائے کہ بود

وَھُمُّوْا وَاشْرَبُوْٓا اَنْتُمْ جُنُوْدِیْ
فَسَاقِی الْقَوْمِ بِالْوَافِیْ مَلَالِیْ
ٖ
ہمّت آرید و خورید اے لشکرم
ساقیم دادہ لبالب از کرم

شکرِ حق جامِ تو لبریزِ مَئے ست
ہر لبالب را چکیدن در پَئے ست

تا بما ہم آید اِنْ شَآءَ الْعَظِیْم
آں نَصِیْبُ الْاَرْضِ مِنْ کَاسِ الْکَرِیْم

شَرِبْتُمْ فُضْلَتِیْ مِنۡۢ بَعْدِ سُکْرِیْ
وَلَا نِلْتُمْ عُلُوِّیْ وَاتِّصَالٖ
ٖ
من شدم سرشار و سورم می چشید
رَخت تا قرب و عُلُوَّم کے کشید

فضلہ خورانش شہان و من گدائے
روئے آنم کُو کہ خواہم قطرہ لائے

یلّلے جودِ شہم گفتہ ملائے
مے طلب لا نشنوی ایں جا نہ لائے

مَقَامُکُمُ الْعُلٰی جَمْعًا وَّلٰکِنْ
مَقَامِیْ فَوْقَکُمْ مَا زَالَ عَالِیْ

جاے تاں بالا ولے جایم بوَد
فوق تاں از روزِ اوّل تا ابد

جات بالا تر زِ وہمِ جائہا
جائہا خود ہست بہرِ پائہا

پائہا چہ بوَد کہ سرہا زیرِ پات
پات ہم کے چوں فُرُود آئی زِ جات

...