Others  

Ayan Hai Shan Aur Azmat Zia Uddin Madani Ki


لبوں پر ہے رواں مدحت ضیاءُ الدین مدنی کی
ہے دل میں جاگزیں الفت ضیاءُ الدین مدنی کی

خدا کی یہ نوازش ہے، نبی کی خاص رحمت ہے
بقیع میں بن گئی تربت ضیاءُ الدین مدنی کی

لقب محبوبِ محبوبِ الٰہ العالمین اُن کا
عیاں ہے شان اور عظمت ضیاءُ الدین مدنی کی

نظر والے یہ کہتے ہیں یہی قطبِ مدینہ ہے
سراپا آئینہ سیرت ضیاءُ الدین مدنی کی

خلافت اعلیٰ حضرت سے انھیں حاصل ہے جب لوگو
جہاں میں چھائی ہے نسبت،ضیاءُ الدین مدنی کی

بُھلا سکتی نہیں تاریخ ان کے کارناموں کو
رہے گی حشر تک شہرت، ضیاءُ الدین مدنی کی

حفؔیظ! اب تو دعا ہے کہ مجھے بھی خواب میں اک دن
نظر آجائے وہ صورت، ضیاءُ الدین مدنی کی

...

Hain Ap Hadi Ahl e Jahan Zia Uddin

ہیں آپ ہادیِ اہلِ جہاں ضیاءُ الدین
ضیائے مجلسِ غوثِ زماں ضیاءُ الدین

امیرِ قافلۂ عارفاں ضیاءُ الدین
ہیں چارہ سازِ دلِ بے کساں ضیاءُ الدین

نگاہِ حضرتِ احمد رضا کے میں قرباں
بنایا عاشقِ اچھے میاں ضیاءُ الدین

ہے غوثِ پاک کی اُس پر نگاہِ لطف و کرم
ہو جس غریب پہ تم مہرباں ضیاءُ الدین

رضا کے ہاتھ سے پی تھی جو تم نے مَے آقا
عطا ہو بہرِ شہِ مرسلاں ضیاءُ الدین

پَئے حُسین و حَسَن بھیک میں خوشی دے دو
ہیں آپ نائبِ غوثِ جہاں ضیاءُ الدین

تباہ حال ہیں غربت میں خانماں برباد
ہیں تم سے طالبِ امن و اماں ضیاءُ الدین

دُعا جو دی تھی مظؔفّر کو اُس کے صدقے میں
رہے جہاں بھی رہے شادماں ضیاءُ الدین

 

 

...

Partawey Murtaza Zia Uddin

پَرتوِ مُرتضیٰ ضیاءُ الدین
ظِلِّ احمد رضا ضیاءُ الدین

سچے وارث علومِ مولا کے
آپ ہیں با خدا ضیاءُ الدین

وصی احمد وہ شہرۂ آفاق
تم ہو اُن کی ضیا، ضیاءُ الدین

کیا فضائل ہوں اُن کے مجھ سے بیاں
جب ہوں واصف رضا ضیاءُ الدین

دینِ حق کے چراغ کو تم نے
خوب روشن کیا ضیاءُ الدین

اُس سے روشن ہوئے ہزاروں چراغ
پُر ضیا، پُر ضیا، ضیاءُ الدین

قطبِ بطحا کہا مشائخ نے
مرحبا، مرحبا، ضیاءُ الدین

اعلیٰ حضرت سے تم نے جو پایا
کم کسی کو مِلا ضیاءُ الدین

مرشِدی مُصطفیٰ سے پوچھے کوئی
آپ کا مرتبہ ضیاءُ الدین

اک نگاہِ کرم ہو مجھ پر بھی
کنزِ لُطف و عطا ضیاءُ الدین

فضلِ رحمٰں عالمِ ذی شان
ہیں تمھاری ضیا ضیاءُ الدین

ہے اماؔنت رسول مصطفوی
تیرے دَر کا گدا ضیاءُ الدین

...

Tasawur Main Yeh Kaisa Manzar e Taiba Hai Lehraya

تصوّر میں یہ کیسا منظرِ طیبہ ہے لہرایا
زباں پر نام جب آیا ضیاءُ الدین احمد کا

مقدّر کیوں نہ ہو نازاں کہ اُن کو تا دمِ آخر
مکینِ گنبدِ خضرا کا قربِ خاص حاصل تھا

چراغِ عشقِ مصطفوی جلائے عمر بھر جس نے
کہ روز و شب رہا معمول ذکرِ مصطفیٰ جن کا

وہ جس کی ذات اِک سر چشمۂ رشد و ہدایت تھی
عرب میں اور عجم میں بھی ہے اُس فیّاض کا چرچا

مہکتا تھا جو حُبِّ احمدِ مُرسَل کی خوشبو سے
وہ پیکر نسبتِ احمد رضا خاں سے منوّر تھا

رہا کردار اُس کا شیوۂ اَسلاف کا مظہر
نہیں ملتا کہیں دنیا میں گوہر بے بہا ایسا

سبق دیتی ہے اُن کی زندگی ہر سانس ہو جائے
رسولِ ہاشمی کی ہر ادا پہ والہ و شیدا

ظہوؔری نے بھی اُن کے ہاں حضوری کےمزے لوٹے
’’خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘

 

...

Naqeeb e Deen e Fitrat

نقیبِ دینِ فطرت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین
امیرِ اہلِ سنّت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

محمد مصطفیٰ صَلِّ عَلٰی کے عاشقِ صادق
نگہبانِ شریعت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

نگینِ معرفت، قطبِ مدینہ، رہبرِ کامل
متاعِ بیش قیمت ، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

خلیق و مہربان و میزبانِ زائرِ طیبہ
فقیرِ نیک سیرت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

محافظ مسلکِ غوث الوریٰ ہیں کوئے طیبہ میں
محبِّ اعلیٰ حضرت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

مبلغ دینِ برحق، سنّتِ محبوب(ﷺ)کے حامل
چراغِ بزمِ اُلفت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

محبّانِ محمد سے، ثنا خوان محمد سے
دلی رکھتے تھے اُلفت حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

مٹا دیتے تھے جو دِ ل کی سیاہی اک توجّہ سے
وہ تھے شیخِ طریقت ، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

دِلوں کو بخشتے تھے روشنی عشقِ محمد کی
بہ فیضِ اعلیٰ حضرت،حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

حصارِ منکروں میں بھی نبی کے نامِ نامی کی!
بلند رکھتے تھے عظمت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

ستارہ بادلوں میں چھپ گیا جو جگمگاتا تھا!
مدینے میں بصورت حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

چراغِ قادری بُجھ کر بھی تابندہ روشن ہے
ہیں زندہ در حقیقت حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

سکندؔر بھی سلامی ہے ملے شرفِ قبولیّت
مکینِ قصرِ جنّت، حضرتِ قبلہ ضیاءُ الدین

 

...

Seeney Se Apne Mujh Ko Lagakar Chale Gaey

سینے سے اپنے مجھ کو لگا کر چلے گئے
اِک بے ہُنر کو اپنا بنا کر چلے گئے

یادِ خُدا و یادِ نبی اور یادِ غوث
یادوں سے اپنے گھر کو بسا کر چلے گئے

تعظیم سے ہمیشہ لیا نام پیر کا
مُرشد کا احترام سکھا کر چلے گئے

تازہ رکھیں گے یاد کو حضرت کی عمر بھر
ایسے کرم کے پھول لٹا کر چلے گئے

ہر جان سوگوار ہے، ہر آنکھ اشک بار
ہر دِل کو بے قرار بنا کر چلے گئے

غافل کے دِل پہ کھول دی عظمت رُسول کی
عشقِ نبی کے جام پلا کر چلے گئے

آنکھوں کو بند کر لیا، دیدار کےلیے
کیسی عجیب بات بتا کر چلے گئے

دِل نے کہا جنازے کی وہ دُھوم دیکھ کر
مقبولیت کی شان دکھا کر چلے گئے

لختِ جگر کی شکل میں جاری ہے اُن کا فیض
کیسے کوئی کہے کہ بُھلا کر چلے گئے

حضرت ضیا کے اور بھی درجات ہوں بُلند
جو سنّتوں کو اوج پر لا کر چلے گئے

مرؔزا ملے گی ویسی محبّت کہاں مجھے
جس کی بہار مجھ کو دکھا کر چلے گئے

 

...

Abdiyat Ka Rukh Dikhaya Aap Ne

عبدیت کا رُخ دکھایا آپ نے
اور ولایت کو چھپایا آپ نے

خوابِ غفلت سے جگایا آپ نے
راستہ سیدھا دکھایا آپ نے

لے رہا ہے اَب بھی دل جس کے مزے
نغمہ کچھ ایسا سُنایا آپ نے

شکر ہے مَے خانۂ طیبہ کا جام
خُود پیا ہم کو پلایا آپ نے

سب پہ فرمائی (تھی) شفقت آپ نے
سب کو گرویدہ بنایا آپ نے

کام وہ جو اور کے بَس کا نہ تھا
کام وہ بھی کر دکھایا آپ نے

کام یعنی اہلِ سنّت کا چراغ
بادِ صرصر میں جلایا آپ نے

شہرِ طیبہ نے بسایا آپ کو
دل میں طیبہ کو بسایا آپ نے

منہ لگانے کے بھی قابل (ہم) نہ تھے
ہم کو سینے سے لگایا آپ نے

چند قطرے بھی کرم کے تھے بہت
ہم پہ تو دریا بہایا آپ نے

سال کے بارہ مہینوں، سالہا
غوث کا لنگر چلایا آپ نے

فاطمہ زَہرا کے قدموں کے قریب
قبر کی منزل کو پایا آپ نے

ہے دُعا سب کی یہی، پھولے پھلے
وہ چمن جس کو لگایا آپ نے

معاف کیجے ہے یہ مرؔزا کو گِلہ
پردہ فرما کر رُلایا آپ نے

...

Muqtada e Ahlesunnat Shah Zia

مقتدائے اہلِ سنّت سیّدی شاہ ضیا
رہ نمائے دین و ملّت سیّدی شاہ ضیا

شاہ مُحدّث سورتی کے آپ تھے شاگردِ خاص
فیض یابِ اعلیٰ حضرت سیّدی شاہِ ضیا

دشمنوں میں رہ کے بھی ہر روز میلادِ نبیﷺ
آپ کی زندہ کرامت سیّدی شاہِ ضیا

مصطفیٰ نے اپنے قدموں میں بلا کر دی جگہ
کون سمجھے تیری رفعت سیّدی شاہِ ضیا

جس طرح سے آپ نے تبلیغِ حق کی ویسے ہی
دیجیے ہم سب کو ہمت سیّدی شاہِ ضیا

مصطفیٰ اور غوث کے صدقات بٹتے ہیں یہاں
کیسی ہے با فیض نسبت سیّدی شاہِ ضیا

شان سے آتے رہے اور شان ہی سے چل دیے
مصطفیٰ کے گھر سے جنّت سیّدی شاہِ ضیا

میں چلا تھا ہند سے دیدار کی حسرت لیے
آپ پہنچے خُلد حضرت سیّدی شاہِ ضیا

آل و اصحابِ رسول ِ پاک کے صدقے میں ہو
آپ پر ہر وقت رحمت سیّدی شاہِ ضیا

چار ذی الحجہ جمعہ کے دن اذاں سُنتے ہوئے
ہو گئے دُنیا سے رُخصت سیّدی شاہِ ضیا

آپ کے شہزادے حضرت فضلِ رحماں قادری
یہ رہیں زندہ سلامت سیّدی شاہِ ضیا

ہو غلاموں پر بقیعِ پاک سے نظرِ کرم
بڑھ رہا ہے دردِ فرقت سیّدی شاہِ ضیا

میرے مُرشد مفتیِ اعظم کے صدقے میں مجھے
ہو عطا نورانی دولت سیّدی شاہِ ضیا

خادمِ در آپ کا منؔصور رضوی ہے شہا
کیجیے لطف و عنایت سیّدی شاہِ ضیا

 

...

Arif e Haq Rehbar e Doran Zia Uddin They

عارفِ حق رہبرِ دوراں ضیاءُ الدین تھے
کِشورِ عرفان کے سُلطاں ضیاءُ الدین تھے

کی ودیعت اعلیٰ حضرت نے خلافت آپ کو
جانشینِ حضرتِ ذی شاں ضیاءُ الدین تھے

چار سو پھیلی ضیاءُ الدین احمد کی ضیا
معرفت کے اک مہِ تاباں ضیاءُ الدین تھے

معتقد ہیں آپ کے اہلِ حرم، اہلِ عجم
نازِ عربستان و پاکستاں ضیاءُ الدین تھے

گنبدِ خَضرا کے سائے میں رہا جن کا قیام
سیّد الابرار کے مہماں ضیاءُ الدین تھے

آخری دم تک مدینے کو نہ چھوڑ آپ نے
مصطفیٰ پر جان سے قرباں ضیاءُ الدین تھے

پہلوئے اہلِ جناں میں مل گئی آرام گاہ!
بے بہا دُرِّ شہِ شاہاں ضیاءُ الدین تھے

مل گیا انوؔر انھیں قطبِ مدینہ کا خطاب
بے گماں شاہِ عرب کی شاں ضیاءُ الدین تھے

 

...

Zia Peer o Murshid Mere Rehnuma Hain

ضیا پیر و مرشِد مِرے رہ نما ہیں
سُرورِ دل و جاں مِرے دِل رُبا ہیں

کلی ہیں گلستانِ غوثُ الوریٰ کی
یہ باغِ رضا کے گُلِ خوش نما ہیں

شریعت، طریقت ہو یا معرفت ہو
یہ حق ہے حقیقت میں حق آشنا ہیں

سہارے ہیں بے کس کے، دکھیوں کے والی
سخا کے ہیں مخزن تو کانِ عطا ہیں

خُدا کی محبّت سے سرشار ہیں وُہ
دل و جان سے مصطفیٰﷺ پر فدا ہیں

ملا سبز گنبد کا قسمت سے سایہ
دیارِ محمد میں جلوہ نما ہیں

بلا لو مجھے اپنے قدموں میں اب تو
کہ ایّامِ فرقت بڑے بے مزا ہیں

مجھے رُوئے زیبا ذرا پھر دکھا دو
زیارت کے لمحے بڑے جاں فزا ہیں

تصوّر جماؤں تو موجود پاؤں
کروں بند آنکھیں تو جلوہ نما ہیں

نہ کیوں اہلِ سنّت کریں ناز اُن پر
کہ وہ نائبِ غوث و احمد رضا ہیں

منوّر کریں قلبِ عؔطار کو بھی
شہا آپ دینِ مبیں کی ضیا ہیں

 

...