Nadeem Ahmed Nadeem Noorani  

Invitation of Urs-e-Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi

منظوم دعوت نامہ
برائے عرسِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلو ی قُدِّسَ سِرُّہٗ
[مؤرّخہ ۷؍دسمبر ۲۰۱۵ء مطابق۲۴؍صفر المظفّر ۱۴۳۷ھ(۲۵؍ ویں شب)، بمقام: میمن مسجد مصلح الدین گارڈن (سابقہ کھوڑی گارڈن)، کراچی]
منجانب: انجمن ضیائے طیبہ ،کراچی

رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا
لو پھر ماہِ صفر نے چمن دل کا، کِھلایا
مبارک اہلِ دل کو! رضا کا عرس آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

یہ آیا عرسِ احمد رضا ستّانوے واں
تو گویا جشنِ صد سالہ بھی نزدیک آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ضیائے طیبہ عرسِ رضا پھر کر رہی ہے
گزشتہ سالوں میں بھی شرف اس نے یہ پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہیں شہ محفوظِ حق اور حسین احمد مقرّر
خطابوں سے جنھوں نے سدا جادو جگایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

وہیں عبد المجید اور محسن فیضی بھی تو
خطابوں سے کریں گے ہدایت کے عطایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

خطابوں کے علاوہ، ثنا خوانیّ و لنگر
یہی وہ سلسلہ ہے سدا جو چلتا آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

وہیں پر ہو گی اُن سب ہی کی دستار بندی
ضیائے طیبہ نے جن کو بھی حافظ بنایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

جناب اشفاق احمد، جو تھے رضویّ و مفتی
اِسی تقریب میں اُن کا چہلم طے ہے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہے عرسِ اعلیٰ حضرت کی اِس تقریب پر، شاہ
تراب الحق کی پھر سرپرستی کا بھی سایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

دسمبر سات کو، نو بجے شب، پیر کا دن
رضا کے عرس کو اب یہی دن طے ہے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

تمامی اہلِ سنّت کو دعوت عرس کی ہے
ضیائے طیبہ نے ہے بہ صد چاہت بلایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

سو میمن مسجدِ مصلح الدّیں گارڈن میں
ہوں حاضر عرس میں سب کہ ہو رحمت کا سایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

معزّز شخصیات و گرامی قدْر علما
سدا تشریف لائے ہمارا دل بڑھایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہیں جو اِس انجمن کے اراکین اور بانی
یہ دعوت نامہ اُن کی طرف سے سب نے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ضیائے طیبہ کا ہے یہ دعوت نامہ، جس کو
نؔدیم احمد نے شعروں کے رنگوں سے سجایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

...

Mujhko Baghdad bulate rahen Ghous e Azam

استغاثہ بہ حضور محبوبِ سبحانی سیّدنا غوث الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

مجھ کو بغداد بلاتے رہیں، غوثِ اعظم!
اپنا دربار دکھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

صرف اک بار نہیں، بل کہ شب و روز مجھے
اپنا دیدار کراتے رہیں، غوثِ اعظم!

انجمن جس کا ہُوَا نام ’’ضیائے طیبہ‘‘
روشنی اُس کی بڑھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

آپ کو رب نے عطا کی ہیں کراماتِ کثیر
فیض کا چشمہ بہاتے رہیں، غوثِ اعظم!

گیارھویں کا مہِ ذی شان مبارک ہے بہت
اس کی برکات بڑھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

قادریّت کی مجھے آپ نے نسبت بخشی
مُہر بھی اُس پہ لگاتے رہیں، غوثِ اعظم!

اپنی منزل کے نشاں مجھ کو نظر آتے نہیں
آپ ہی راہ دکھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

میرے گھر، مال میں وسعت کی دعائیں کر کے
رب سے برکت بھی دلاتے رہیں، غوثِ اعظم!

سلبِ ایماں کے لیے تاک میں ہیں سو شیطان
میرا ایمان بچاتے رہیں، غوثِ اعظم!

نیک بننے کی تمنّا ہے، مگر بنتا نہیں
نیکیاں مجھ سے کراتے رہیں، غوثِ اعظم!

مبتلا کب سے گناہوں کی بلا میں ہے نؔدیم
اُس کو عصیاں سے بچاتے رہیں، غوثِ اعظم!

...

Poetry about Ghazi Mumtaz Hussain Qadri Shaheed

 غازی مَلک ممتاز حُسین قادری  کے سانحۂ شہادت پرنظم 

(تاریخِ شہادت: پیر، صبح چار بجے، ۲۰، جمادی الاولیٰ ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۹، فروری ۲۰۱۶ء۔  بمقام: اَڈیالہ جیل، راولپنڈی)

نتیجۂ فکر: ندیم احمد نؔدیم نورانی

گستاخ پر تھا حملہ ممتاز قادری کا
وہ عشقِ مصطفیٰ تھا ممتاز قادری کا

ہم کو یقین ہے یہ رب کو پسند ہے وہ
عشقِ نبی کا جذبہ ممتاز قادری کا

عشّاقِ مصطفیٰ میں ممتاز ہو گیا وہ
‘‘ممتاز’’ نام حق تھا ممتاز قادری کا

بے شک بہادری اور جرأت کا تھا وہ پیکر
‘‘غازی’’ لقب تھا سچا ممتاز قادری کا

پھانسی کی شکل میں اُس نے پائی ہے شہادت
دیکھو مقامِ اعلیٰ ممتاز قادری کا

غازی ہوا شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ جب
تو بڑھ گیا ہے رتبہ ممتاز قادری کا

یہ موت، زندگی کی تصویر بن کے آئی
روشن ہے جس میں جلوہ ممتاز قادری کا

چشمِ فلک نے دیکھا اِس پاک سر زمیں کا
سب سے بڑا جنازہ ممتاز قادری کا

کفّار کی غلامی ہو تم ہی کو مبارک!
محبوبِ رب ہے آقا ممتاز قادری کا

وہ دن قریب ہے جب قہار، ظالموں سے
لے گا حساب و بدلہ ممتاز قادری کا

دل سے ضیائے طیبہ ہے رب سے یوں دعا گو
فردوس ہو ٹھکانہ ممتاز قادری کا

بے شک، نؔدیم! ہر دل روتا ہے خوں کے آنسو
کتنا بڑا ہے صدمہ ممتاز قادری کا

 

 

...

Poetry about Allama Manzoor Ahmed Faizi

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِo

مختصر منظوم تعارف

شیخ الحدیث والتفسیر مُناظرِ اہلِ سنّت بیہقیِ وقت

حضرت علّامہ مولانا مفتیمحمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

 

(تاریخِ وصال: یکم جمادی الآخرہ ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۷؍ جون۲۰۰۶ء)

کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی

مہتابِ علم و حکمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اَفلاکِ عمل کی رفعت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جو الٰہی بخش کے پوتے ہیں، علّامہ ظریف کے بیٹے ہیں
وہ وارثِ علمی شرافت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
بستی فیض آباد اوچ بہاول پور میں آپ ہوئے پیدا
ماں باپ کے دل کی راحت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تاریخِ ولادت دو رمضاں تیرہ سو اٹّھاون ہجری
رمضان کا فیضِ برکت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جب فیض محمد شاہ جمالی خواجہ سے بیعت ہیں وہ
تو صاحبِ فیضِ ولایت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تھے سیّد احمد کاظمی اور مسعود علی اُستاد اُن کے
پھر کیوں نہ کہوں خوش قسمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اُمّید علی و ظریف کے بھی، حقّانی عبدِ حفیظ کے بھی
اک شاگردِ ذی رفعت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
دی مفتیِ اعظم بن اعلیٰ حضرت نے خلافت جن جن کو
اُن میں سے اک خوش قسمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہیں ’’قطبِ مدینہ‘‘ شاہ ضیا اور ’’قطبِ مکّہ‘‘ امیں کتبی
دونوں کے مُجازِ طریقت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اور کاظمی شہ سیّد احمد اور خواجہ غلامِ یاسیں کے
محبوب خلیفہ حضرت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اور شیخِ مدینہ علاء الدیں البکری نے بھی اجازت دی
اللہ والوں کی نسبت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
کہتے ہیں غزالیِ دوراں یہ: ’’گر حشر میں پوچھامیرا عمل؟
کہہ دوں گا، میری محنت ہیں مفتی منظور احمد فیضی‘‘
وہ بانیِ جامعہ فیضیّہ رضویّہ وغیرہ ہیں یعنی
اک خادمِ دین و ملّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اُن کے شاگردوں میں سے ہیں مفتی اقبال سعیدی بھی
بزمِ تدریس کی زینت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
محبوبِ رب نے روضے پر بخشا تھا جوابِ سلام اُنھیں
مقبولِ نبیِّ رحمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
سرکارِ مدینہ نے جن کو شرفِ دیدار بھی بخشا تھا
وہ صاحبِ شرفِ زیارت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
وہ جن کو شیخِ محقق نے رُؤیا میں مُجازِ حدیث کیا
وہ صاحبِ فیضِ اجازت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تھا جن کا علمِ حدیث میں اک اعلیٰ و جداگانہ رتبہ
وہ وقت کے بیہقی حضرت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے ’’مقامِ رسول‘‘ وغیرہ کتب میں جن کے دلائل کی کثرت
وہ مصنّفِ اہلِ سنّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جن کے بیٹے مفتی محسن فیضی بھی خطیب و مُناظر ہیں
وہ مُناظر و ماہِ خطابت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
وہ جن کے پوتوں میں مفتی اکرام المحسن فیضی ہیں
وہ ذی اکرام و عظمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
چودہ سو ستّائیس سنِ ہجری کے جُمادَی الآخرہ کی
پہلی کو کرتے رحلت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے مزارِ مبارک حضرت کا احمد پورِ شرقیہ میں
اک صاحبِ روحانیّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے ضیائے طیبہ کا اُن سے اک خاص عقیدت کا رشتہ
اُس کے لیے سایۂ شفقت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
یہ نؔدیم احمد نورانی بھی ہے معترفانِ حقیقت میں
سرمایۂ اہلِ سنّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی

(تاریخِ نظم: ہفتہ، ۲؍ جمادی الآخرہ ۱۴۳۷؁ھ مطابق ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۶؁ء)

...

Poetry about Hazrat Mufti Muhammad Iqbal Saeedi

شیخ القرآن و الحدیث حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد اقبال سعیدی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

(تاریخِ وصال: ۲۶،جمادی الاولیٰ۱۴۳۷ھ مطابق ۶؍مارچ ۲۰۱۶؁ء ، اتوار شب ۱ بجے)
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی

مفتی اقبال سعیدی تھے گُلِ باغِ صفا
اُن کی سیرت میں نمایاں ہوا زہد و تقویٰ

وہ غزالیِّ زماں کے ہوئے شاگرد و مرید
اُن کے مُرشِد نے خلافت کا شرف بھی بخشا

وقت کے بیہقی منظور نے اپنے شاگرد
مفتی اقبال سعیدی کو خلیفہ بھی کیا

سیّد احمد جنھیں کہتے ہیں سبھی ’’بو البرکات‘‘
ایسے استاد سے بھی شرفِ خلافت پایا

مفتی اقبال نے تدریس جو کرنی چاہی
جامعہ فیضیہ رضویّہ سے آغاز کیا

وہ جو ملتان میں ہے جامعہ اَنوارِ عُلوم
تا وفات اُس میں پڑھائی ہے حدیثِ آقا

آپ نے نصف صدی مَسندِ تدریس پہ خوب
درسِ قرآن و احادیثِ شہِ طیبہ دیا

وہ جو ہیں عبدِ مجید ایک سعیدی مفتی
مفتی اقبال کے شاگردوں میں ہے نام اُن کا

مَوت نے چودہ سو سینتیس سنِ ہجری میں
مفتی اقبال سعیدی کو کیا ہم سے جدا

مفتی اقبال سعیدی سے خدا راضی ہو!
یوں بہ اخلاص دعا گو ہے ضیائے طیبہ

میں نے اقبال سعیدی کا کیا ذکر، نؔدیم!
نیکوں کا ذکر گناہوں کا ہے اک کفّارہ

 

 

(تاریخِ نظم: جمعرات، ۳۰، جُمادَی الاُولیٰ ۱۴۳۷؁ھ مطابق ۱۰؍ مارچ  ۲۰۱۶؁ء)

...

Hain Aik Wali e Khuda Hazrat e Zia Uddin

ہیں اِک وَلیِّ خدا حضرتِ ضیاءُالدین
جبھی تو کرتے ہیں ہم مِدحتِ ضیاءُالدین

زمانہ ’’قطبِ مدینہ‘‘ پکارتا ہے اُنھیں
اُفُق پہ چھائی ہے یہ شہرتِ ضیاءُالدین

ہیں وہ رضا کے مرید و خلیفہ، اے لوگو!
خوشا! بلند ہے یہ نسبتِ ضیاءُالدین

وصی مُحدّثِ سورت کے وہ بھی ہیں شاگرد
نصیب والوں میں ہیں حضرتِ ضیاءُالدین

تھے دوست مفتیِ اعظم، مبلغِ اعظم
بڑی ہی خوب تھی یہ صحبتِ ضیاءُالدین

ہیں آپ شیخِ عرب اور تاج و فخرِ عجم
خدا کا فضل ہے یہ شوکتِ ضیاءُالدین

مدینے میں وہ مناتے رہے سدا میلاد
جہاں نے دیکھی ہے یہ عادتِ ضیاءُالدین

کیا ہے فیضِ مسلسل کا سلسلہ جاری
جہاں میں بٹتی ہے یہ دولتِ ضیاءُالدین

ضیائے رُخ سے چمکتی تھی چشمِ اہلِ جہاں
تھی رشکِ مہر و قمر صورتِ ضیاءُالدین

بلند فکر و نظر اور دل رُبا کردار
جہاں کو بھائے نہ کیوں سیرتِ ضیاءُالدین

جوارِ گنبدِ خَضرا میں زندگی گزری
سدا چمکتی رہی قسمتِ ضیاءُالدین

ہوئے ہیں دفن ضیا نَزدِ اہلِ بیتِ نبیﷺ
سدا مہکتی رہے تربتِ ضیاءُالدین

نؔدیم! حشر میں میرے بھی کام آئے گی
خدا کے فضل سے یہ اُلفتِ ضیاءُ الدین

 

...