Naat (encomium on the Holy Prophet)  

Imam ul AuliaHazrat Ahmad Kabir Rifaee

تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے

میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا
آپ ہیں جب سنبھالنے والے

تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
اور ہوتے ہیں ٹالنے والے

لبِ جاں بخش سے جِلا دل کو
جان مردے میں ڈالنے والے

دستِ اقدس بجھا دے پیاس مری
میرے چشمے اُبالنے والے

ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں
تخت پر خاک ڈالنے والے

روزِ محشر بنا دے بات مری
ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے

بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
اے غریبوں کے پالنے والے

ختم کر دی ہے اُن پہ موزونی
واہ سانچے میں ڈھالنے والے

اُن کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے

پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
ڈوبتوں کو نکالنے والے

خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا
اَرے او نام اچھالنے والے

کام کے ہوں کہ ہم نکمّے ہوں
وہ سبھی کے ہیں پالنے والے

زنگ سے پاک صاف کر دل کو
اندھے شیشے اُجالنے والے

خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے
دل سے کانٹا نکالنے والے

ذوقِ نعت

...

Allah Allah Shah e Konain


اﷲ اﷲ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے
ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری

تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلک خدا کا مالک
راج تیرا ہے زمانے میں حکومت تیری

تیرے انداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو ترے
سب حسینوں میں پسند آئی ہے صورت تیری

اُس نے حق دیکھ لیا جس نے اِدھر دیکھ لیا
کہہ رہی ہے یہ چمکتی ہوئی طلعت تیری

بزم محشر کا نہ کیوں جائے بلاوا سب کو
کہ زمانے کو دکھانی ہے وجاہت تیری

عالم رُوح پہ ہے عالم اجسام کو ناز
چوکھٹے میں ہے عناصر کے جو صورت تیری

جن کے سر میں ہے ہوا دشتِ نبی کی رضواں
اُن کے قدموں سے لگی پھرتی ہے جنت تیری

تو وہ محبوب ہے اے راحتِ جاں دل کیسے
ہیزمِ خشک کو تڑپا گئی فرقت تیری

مہ و خورشید سے دن رات ضیا پاتے ہیں
مہ و خورشید کو چمکاتی ہے طلعت تیری

گٹھریاں بندھ گئی پر ہاتھ ترا بند نہیں
بھر گئے دل نہ بھری دینے سے نیت تیری

موت آ جائے مگر آئے نہ دل کو آرام
دم نکل جائے مگر نکلے نہ اُلفت تیری

دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اﷲ اﷲ
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری

مجمعِ حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
ڈھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت تیری

نہ ابھی عرصۂ محشر نہ حسابِ اُمت
آج ہی سے ہے کمر بستہ حمایت تیری

تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والے
درد دُکھ بھول گئے دیکھ کے صورت تیری

ٹوپیاں تھام کے گر عرشِ بریں کو دیکھیں
اُونچے اُونچوں کو نظر آئے نہ رفعت تیری

حُسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالم تیرا
جس کو اﷲ کرے پیار وہ صورت تیری

دونوں عالم کے سب ارمان نکالے تو نے
نکلی اِس شانِ کرم پر بھی نہ حسرت تیری

چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میں
غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری

ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
تو ہے اُن کا تو حسنؔ تیری ہے جنت تیری

ذوقِ نعت

...

Bagh e Jannat Mein Nirali

اغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے

اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے
اُن کے اَبرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے

سنگریزوں نے حیاتِ ابدی پائی ہے
ناخنوں میں ترے اِعجازِ مسیحائی ہے

سر بالیں اُنھیں رحمت کی اَدا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے

جانِ گفتار تو رفتار ہوئی رُوحِ رواں
دم قدم سے ترے اِعجازِ مسیحائی ہے

جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمال
اے حسیں تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے

تیرے جلوؤں میں یہ عالم ہے کہ چشمِ عالم
تابِ دیدار نہیں پھر بھی تماشائی ہے

جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے

سر سے پا تک تری صورت پہ تصدق ہے جمال
اُس کو موزونیِ اَعضا یہ پسند آئی ہے

تیرے قدموں کا تبرک یدِ بیضاے کلیم
تیرے ہاتھوں کا دیا فضلِ مسیحائی ہے

دردِ دل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے
بے کسوں کی اِسی سرکار میں سنوائی ہے

آپ آئے تو منور ہوئیں اندھی آنکھیں
آپ کی خاکِ قدم سرمۂ بینائی ہے

ناتوانی کا اَلم ہم ضعفا کو کیا ہو
ہاتھ پکڑے ہوئے مولا کی توانائی ہے

جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو
تو ہی تو جانِ مسیحا و مسیحائی ہے

چشم بے خواب کے صدقے میں ہیں بیدار نصیب
آپ جاگے تو ہمیں چین کی نیند آئی ہے

باغِ فردوس کھلا فرش بچھا عرش سجا
اِک ترے دم کی یہ سب انجمن آرائی ہے

کھیت سر سبز ہوئے پھول کھلے میل دُھلے
اور پھر فضل کی گھنگھور گھٹا چھائی ہے

ہاتھ پھیلائے ہوئے دوڑ پڑے ہیں منگتا
میرے داتا کی سواری سرِ حشر آئی ہے

نااُمیدو تمھیں مژدہ کہ خدا کی رحمت
اُنھیں محشر میں تمہارے ہی لیے لائی ہے

فرش سے عرش تک اک دُھوم ہے اﷲ اﷲ
اور ابھی سینکڑوں پردوں میں وہ زیبائی ہے

اے حسنؔ حُسنِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں
ذرّے ذرّے سے عیاں جلوۂ زیبائی ہے

ذوقِ نعت

...

Huzoor e Kaaba Hazir Hain

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے

نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دِکھانے کے
مگر اُن کا کرم ذرّہ نواز و بندہ پرور ہے

خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں
یہ اُونچا گھر ہے اِس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے

تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر
طوافِ خانۂ کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے

خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگِ اسود کا
ہمارا منہ اور اِس قابل عطاے ربِ اکبر ہے

جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر
چلے آؤ چلے آؤ یہ گھر رحمن کا گھر ہے

مقامِ حضرتِ خلّت پدر سا مہرباں پایا
کلیجہ سے لگانے کو حطیم آغوشِ مادر ہے

لگاتا ہے غلافِ پاک کوئی چشم پُر نم سے
لپٹ کر ملتزم سے کوئی محو وصلِ دلبر ہے

وطن اور اُس کا تڑکا صدقے اس شامِ غریبی پر
کہ نورِ رُکن شامی رُوکشِ صبحِ منور ہے

ہوئے ایمان تازہ بوسۂ رُکن یمانی سے
فدا ہو جاؤں یمن و ایمنی کا پاک منظر ہے

یہ زمزم اُس لیے ہے جس لیے اس کو پئے کوئی
اِسی زمزم میں جنت ہے اِسی زمزم میں کوثر ہے

شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی سے
کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاقِ اکبر ہے

صفاے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعیٰ سے
یہاں کی بے قراری بھی سکونِ جانِ مضطر ہے

ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا
اُنھیں کے فضل سے دن جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے

نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم ان کا
جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حجِ اکبر ہے

حسنؔ حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی
چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے

ذوقِ نعت

...

Sahar Chamki Jamal e Fasl e Gul

سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے
نسیمِ روح پرور سے مشامِ جاں معطر ہے

قریب طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
قدم اُن کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

ارے او سونے والے دِل ارے اوسونے والے دِل
سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

سہانی طرز کی طلعت نرالی رنگ کی نکہت
نسیمِ صبح سے مہکا ہوا پُر نور منظر ہے

تعالیٰ اﷲ یہ شادابی یہ رنگینی تعالیٰ اﷲ
بہارِ ہشت جنت دشتِ طیبہ پر نچھاور ہے

ہوائیں آ رہی ہیں کوچۂ پُر نورِ جاناں کی
کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے

منور چشمِ زائر ہے جمالِ عرشِ اعظم سے
نظر میں سبز قُبّہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

یہ رفعت درگہِ عرش آستاں کے قرب سے پائی
کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراجِ دیگر ہے

محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اﷲ کا گھرہے

نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور اِن آنکھوں نے کیا دیکھا
جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر
طلب دل میں صداے یا رسول اﷲ لب پر ہے

لکھا ہے خامۂ رحمت نے دَر پر خط قدرت سے
جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
خدا ہے اس کا مولیٰ یہ خدائی بھر کا سرور ہے

زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں
یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے

عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
خدائی پر ہے قابو بس خدائی اس سے باہرہے

کرم کے جوش ہیں بذل و نعم کے دَور دَورے ہیں
عطاے با نوا ہر بے نوا سے شیر و شکر ہے

کوئی لپٹا ہے فرطِ شوق میں روضے کی جالی سے
کوئی گردن جھکائے رُعب سے با دیدۂ تر ہے

کوئی مشغولِ عرض حال ہے یوں شادماں ہو کر
کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے

کمینہ بندۂ دَر عرض کرتا ہے حضوری میں
جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثنا گر ہے

تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
کہ اِن ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطینِ زمانہ کو
تری سرکار عالی ہے ترا دربار برتر ہے

تری دولت تری ثروت تری شوکت جلالت کا
نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے

مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
ترا گھر بیچ میں چاروں طرف اﷲ کا گھر ہے

تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش
پسینے پر ترے قربان رُوحِ مشک و عنبر ہے

غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
دل مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پرور ہے

جو سب اچھوں میں ہے اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

رکھوں میں حاضری کی شرم ان اعمال پر کیونکر
مرے امکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بُلانے کی
تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے

مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیوں کر ہو یہ کیوں کرہے

بُلا کر اپنے کُتّے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا
پھر اس شانِ کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے
تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اِس دَر کے زائر کو
کہ یہ درگاہِ والا رحمتِ خالص کا منظرہے

مبارک ہو حسنؔ سب آرزوئیں ہو گئیں پوری
اب اُن کے صدقے میں عیشِ ابد تجھ کو میسر ہے

ذوقِ نعت

...

Saaqi Kuch Apney Baadakashoun Ki Khabar Bhi Hai


ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بے کسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
جوشِ عطش بھی شدّتِ سوزِ جگر بھی ہے
کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہے
ایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کا
جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا

اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دے
ٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے
تازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطف تام دے
یہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دے
اُٹھیں سرور آئیں مزے جھوم جھوم کر
ہو جاؤں بے خبر لبِ ساغر کو چوم کر

فکرِ بلند سے ہو عیاں اقتدارِ اوج
چہکے ہزار خامہ سرِ شاخسارِ اوج
ٹپکے گل کلام سے رنگِ بہارِ اوج
ہو بات بات شانِ عروج افتخارِ اوج
فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
مضموں فرازِ عرش سے اُونچے نکل چلیں

اِس شان اِس اَدا سے ثناے رسول ہو
ہر شعر شاخِ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو
حُضّار پر سحابِ کرم کا نزول ہو
سرکار میں یہ نذرِ محقر قبول ہو
ایسی تعلّیوں سے ہو معراج کا بیاں
سب حاملانِ عرش سنیں آج کا بیاں
معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے
ہم تیرہ اختروں کی شفاعت کی رات ہے
اعزاز ماہِ طیبہ کی رُؤیت کی رات ہے
پھیلا ہوا ہے سرمۂ تسخیر چرخ پر
یا زلف کھولے پھرتی ہیں حوریں اِدھر اُدھر

دل سوختوں کے دل کا سویدا کہوں اِسے
پیر فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اِسے
دیکھوں جو چشمِ قیس سے لیلیٰ کہوں اِسے
اپنے اندھیرے گھر کا اُجالا کہوں اِسے
یہ شب ہے یا سوادِ وطن آشکار ہے
مشکیں غلافِ کعبۂ پروردگار ہے

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
کوئی گلیم پوشِ مراقب ہے با خدا
مشکیں لباس یا کوئی محبوبِ دلربا
یا آہوے سیاہ یہ چرتے ہیں جا بجا
ابرِ سیاہ مست اُٹھا حالِ وجد میں
لیلیٰ نے بال کھولے ہیں صحراے نجد میں

یہ رُت کچھ اور ہے یہ ہوا ہی کچھ اور ہے
اب کی بہارِ ہوش رُبا ہی کچھ اور ہے
روے عروسِ گل میں صفا ہی کچھ اور ہے
چبھتی ہوئی دلوں میں اَدا ہی کچھ اور ہے
گلشن کھلائے بادِ صبا نے نئے نئے
گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

ہر ہر کلی ہے مشرق خورشیدِ نور سے
لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیِ طور سے
روہت ہے سب کے منہ پہ دلوں کے سُرور سے
مردے ہیں بے قرار حجابِ قبور سے
ماہِ عرب کے جلوے جو اُونچے نکل گئے
خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے

ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
نیسانِ جودِ ربّ گہر افشانیوں میں ہے
چشمِ کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
غل آمدِ حضور کا رُوحانیوں میں ہے
اک دُھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
بہرِ براق خلد کو جبریل جاتے ہیں

ذوقِ نعت

...

Woh Uthi Deikh Lo Gird e Sawari


وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری
عیاں ہونے لگے انوارِ باری

نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیں
کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں

مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے
چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے

فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں
یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں

یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے
یہی فریاد رس ہیں بے بسوں کے

یہی ٹوٹے دلوں کو جوڑتے ہیں
یہی بند اَلم کو توڑتے ہیں

اَسیروں کے یہی عقدہ کشا ہیں
غریبوں کے یہی حاجت روا ہیں

یہی ہیں بے کلوں کی جان کی کل
انہیں سے ٹیک ہے ایمان کی کل

شکیب بے قراراں ہے انہیں سے
قرارِ دل فگاراں ہے انہیں سے

اِنہیں سے ٹھیک ہے سامانِ عالم
اِنہیں پر ہے تصدق جانِ عالم

یہی مظلوم کی سنتے ہیں فریاد
یہی کرتے ہیں ہر ناشاد کو شاد

انہیں کی ذات ہے سب کا سہارا
انہیں کے دَر سے ہے سب کا گزارا

انہیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں
انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں

انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں
انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں

انہیں کو پیڑ سجدے کر رہے ہیں
انہیں کے پاؤں پر سر دھر رہے ہیں

انہیں کی کرتے ہیں اَشجار تعظیم
انہیں کو کرتے ہیں اَحجار تسلیم

انہیں کو یاد سب کرتے ہیں غم میں
یہی دکھ درد کھو دیتے ہیں دم میں

یہی کرتے ہیں ہر مشکل میں اِمداد
یہی سنتے ہیں ہر بے کس کی فریاد

انہیں ہر دم خیالِ عاصیاں ہے
انہیں پر آج بارِ دو جہاں ہے

کسے قدرت نہیں معلوم اِن کی
مچی ہے دو جہاں میں دُھوم اِن کی

سہارا ہیں یہی ٹوٹے دلوں کا
یہی مرہم ہیں غم کے گھائلوں کا

یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت
کریں خود جَو کی روٹی پر قناعت

فزوں رُتبہ ہے صبح و شام اِن کا
محمد مصطفی ہے نام اِن کا

مزین سر پہ ہے تاجِ شفاعت
عیاںہے جس سے معراجِ شفاعت

بدن میں وہ عباے نور آگیں
کہ جس کی ہر اَدا میں لاکھ تزئیں

کہوں کیا حال نیچے دامنوں کا
جھکا ہے رحمتِ باری کا پلّہ

یہی دامن تو ہیں اے جانِ مضطر
مچل جائیں گے ہم محشر میں جن پر

سواری میں ہجومِ عاشقاں ہے
کوئی چپ ہے کوئی محو فُغاں ہے

کوئی دامن سے لپٹا رو رہا ہے
کوئی ہر گام محو اِلتجا ہے

کوئی کہتا ہے حق کی شان ہیں یہ
کوئی کہتا ہے میری جان ہیں یہ

یہ کہتا ہے کوئی بیمارِ فرقت
ترقی پر ہے اب آزارِ فرقت

ادھر بھی اِک نظر او تاج والے
کوئی کب تک دلِ مضطر سنبھالے

ز مہجوری بر آمد جانِ عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم

نہ آخر رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنِی
ز محروماں چرا فارغ نشینی

بدہ دستے زپا اُفتادگاں را
بکن دلداریِ دلدادگاں را

بہت نزدیک آ پہنچا وہ پیارا
فدا ہے جان و دل جس پر ہمارا

اُٹھیں تعظیم کو یارانِ محفل
ہوا جلوہ نما وہ جانِ محفل

خبر تھی جن کے آنے کی وہ آئے
جو زینت ہیں زمانے کی وہ آئے

فقیرو جھولیاں اپنی سنبھالو
بڑھو سب حسرتیں دل کی نکالو

پکڑ لو اِن کا دامن بے نواؤ
مرا ذمہ ہے جو مانگو وہ پاؤ

مجھے اِقرار کی عادت ہے معلوم
نہیں پھرتا ہے سائل اِن کا محروم

کرو تو سامنے پھیلا کے دامن
یہ سب کچھ دیں گے خالی پا کے دامن

حسنؔ ہاں مانگ لے جو مانگنا ہو
بیاں کر آپ سے جو مدعا ہو

مرے آقا مرے سردار ہو تم
مرے مالک مرے مختار ہو تم

تصدق تم پر اپنی جان کر دوں
ملیں تو دو جہاں قربان کر دوں

تمہیں افضل کیا سب سے خدا نے
دیا تاجِ شفاعت کبریا نے

تمہیں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ہم
تمہارے در پہ آئے بیٹھے ہیں ہم

تمہارا نام ہم کو حرزِ جاں ہے
یہی تو داروے دردِ نہاں ہے

بلا لیجے مدینے میں خدارا
نہیں اب ہند میں اپنا گزارا

تمہارا دَر ہو اور سر ہو ہمارا
اسی کوچے میں ہو بستر ہمارا

قضا آئے تو آئے اِس گلی میں
رہے باقی نہ حسرت کوئی جی میں

نہ ہو گور و کفن ہم کو میسر
پڑا یوں ہی رہے لاشہ زمیں پر

سگانِ کوچۂ پُر نور آئیں
مرے پیارے مرے منظور آئیں

مرے مُردے پہ ہوں آ کر فراہم
غذا اپنی کریں سب مل کے باہم

ہمیشہ تم پہ ہو رحمت خدا کی
دعا مقبول ہو مجھ سے گدا کی

ذوقِ نعت

...

Hum khaak Hain Aur Khaak Hi Maawa Hai Hamara

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جَدِ اعلیٰ ہے ہمارا

اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیّدِ عالم
اُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا

خم ہوگئی پشتِ فلک اِس طعنِ زمیں سے
سُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

اُس نے لقبِ ’’خاک‘‘ شہنشاہ سے پایا
جو حیدرِ کرّار کہ مولا ہے ہمارا

اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھے
اِس خاک میں مدفوں شہِ بطحا ہے ہمارا

ہے خاک سے تعمیرِ مزارِ شہِ کونین
معمور اِسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا

ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رؔضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا

حدائقِ بخشش

 

...