Naat (encomium on the Holy Prophet)  

Khawaja Shamsuddin Muhammad Koswi


ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم

یہ پیاری ادائیں یہ نیچی نگاہیں
فدا جانِ عالم ہو اے جانِ عالم

کسی اور کو بھی یہ دولت ملی ہے
گداکس کے دَر کے ہیں شاہانِ عالم

میں دَر دَر پھروں چھوڑ کر کیوں ترا دَر
اُٹھائے بَلا میری احسانِ عالم

میں سرکارِ عالی کے قربان جاؤں
بھکاری ہیں اُس دَر کے شاہانِ عالم

مرے دبدبہ والے میں تیرے صدقے
ترے دَر کے کُتّے ہیں شاہانِ عالم

تمہاری طرف ہاتھ پھیلے ہیں سب کے
تمھیں پورے کرتے ہو ارمانِ عالم

مجھے زندہ کر دے مجھے زندہ کر دے
مرے جانِ عالم مرے جانِ عالم

مسلماں مسلماں ہیں تیرے سبب سے
مری جان تو ہی ہے ایمانِ عالم

مرے آن والے مرے شان والے
گدائی ترے دَر کی ہے شانِ عالم

تُو بحرِ حقیقت تو دریاے عرفاں
ترا ایک قطرہ ہے عرفانِ عالم

کوئی جلوہ میرے بھی روزِ سیہ پر
خدا کے قمر مہرِ تابانِ عالم

بس اب کچھ عنایت ہوا اب ملا کچھ
انھیں تکتے رہنا فقیرانِ عالم

وہ دُولھا ہیں ساری خدائی براتی
اُنھیں کے لیے ہے یہ سامانِ عالم

نہ دیکھا کوئی پھول تجھ سا نہ دیکھا
بہت چھان ڈالے گلستانِ عالم

ترے کوچہ کی خاک ٹھہری اَزل سے
مری جاں علاجِ مریضانِ عالم

کوئی جانِ عیسیٰ کو جا کر خبر دے
مرے جاتے ہیں درد مندانِ عالم

ابھی سارے بیمار ہوتے ہیں اچھے
اگر لَب ہلا دے وہ دَرمانِ عالم

سَمِیْعًاخدارا حسن ؔکی بھی سن لے
بَلا میں ہے یہ لوث دامانِ عالم

ذوقِ نعت

...

Chand Se Un k Chehrey Pe

چاند سے اُن کے چہرے پر گیسوئے مشک فام دو
دن ہے کھلا ہوا مگر وقتِ سحر ہے شام دو

روئے صبیح اک سحر زلفِ دوتا ہے شام دو
پھول سے گال صبح دم مہر ہیں لَالَہ فام دو

عارضِ نور بار سے بکھری ہوئی ہٹی جو زلف
ایک اندھیری رات میں نکلے مہِ تمام دو

اُن کی جبینِ نور پر زلفِ سیہ بکھر گئی
جمع ہیں ایک وقت میں ضِدّیں صبح و شام دو

خیر سے دن خدا وہ لائے دونوں حرم ہمیں دکھائے
زمزم و بیرِ فاطمہ کے پئیں چل کے جام دو

ذاتِ حَسن حُسین ہے عَینِ شبیہِ مصطفیٰ
ذات ہے اک نبی کی ذات ہیں یہ اسی کے نام دو

پی کے پِلا کے مَے کشو! ہم کو بچیکُھچی ہی دو
قطرہ دو قطرہ ہی سہی کچھ تو برائے نام دو

ہاتھ سے چار یار کے ہم کو ملیں گے چار جام
دستِ حَسن حُسین سے اور ملیں گے جام دو

ایک نگاہِ ناز پر سیکڑوں جامِ مَے نثار
گردشِ چشمِ مست سے ہم نے پئے ہیں جام دو

وسطِ مُسَبِّحَہ پہ سر رکھیے انگوٹھے کا اگر
نامِ اِلٰہ ہے لکھا ’’ہ‘‘ اور ’’الف‘‘ ہے ’’لام‘‘ دو

ہاتھ کو کان پر رکھو پا بہ ادب سمیٹ لو
’’دال‘‘ ہو، ایک ’’ح‘‘ ہو، ایک آخرِ حرفِ ’’ لام‘‘ دو

نامِ خدا ہے ہاتھ میں، نامِ نبی ہے ذات میں
مُہرِ غلامی ہے پڑی، لکھے ہوئے ہیں نام دو

نامِ حبیب کی ادا جاگتے سوتے ہو ادا
نامِ محمدی بنے جسم کو یہ نظام دو

نامِ خدا مرقّعہ، نامِ خدا رخِ حبیب
بینی ’’الف‘‘ ہے، ’’ہ‘‘ دہن، زلفِ دوتا ہے ’’لام‘‘ دو

وحشی ہے ایک دل مِرا زلفِ سیاہ فام کا
بندشِ عشق سخت تر صَید ہے ایک دام دو

تلووں سے اُن کے چار چاند لگ گئے مہر و ماہ کو
ہیں یہ اُنھیں کی تابشیں، ہیں یہ اُنھیں کے نام دو

گاہ وہ آفتاب ہیں گاہ وہ ماہتاب ہیں
جمع ہیں ان کے گالوں میں مہر و مہِ تمام دو

بازیِ زیست مات ہے موت کو بھی مَمات ہے
موت کو بھی ہے ایک دن موت پہ اذنِ عام دو

اب تو مدینے لے بُلا گنبدِ سبز دے دکھا
حاؔمد و مصطفیٰ تِرے ہند میں ہیں غلام دو

بیاض پاک

...

Ronaq e Bazm e Jahan

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ

جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو!
اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ

ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکے
آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ

برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بار
آج تک ہے سینۂ مہ میں نشانِ سوختہ

مہرِ عالم تاب جھکتا ہے پئے تسلیم روز
پیشِ ذرّاتِ مزارِ بیدلانِ سوختہ

کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ

بہرِ حق اے بحرِ رحمت اک نگاہِ لطف بار
تابکے بے آب تڑپیں ماہیانِ سوختہ

روکشِ خورشیدِ محشر ہو تمھارے فیض سے
اک شرارِ سینۂ شیدائیانِ سوختہ

آتشِ تر دامنی نے دل کیے کیا کیا کباب
خضر کی جاں ہو جِلا دو ماہیانِ سوختہ

آتشِ گُلہائے طیبہ پر جلانے کے لیے
جان کے طالب ہیں پیارے بلبلانِ سوختہ

لطفِ برقِ جلوۂ معراج لایا وجد میں
شعلۂ جوّالہ ساں ہے آسمانِ سوختہ

اے رؔضا! مضمون سوزِ دِل کی رفعت نے کیا
اس زمینِ سوختہ کو آسمانِ سوختہ

حدائقِ بخشش

...

Hain Arsh e Bareen Per Jalwa Figan


ہیں عرشِ بریں پر جلوہ فگن محبوبِ خدا سُبْحَانَ اللہ!
اک بار ہوا دیدار جسے سو بار کہا سُبْحَانَ اللہ!

حیران ہوئے برق اور نظر اک آن ہے اور برسوں کا سفر
راکب نے کہا اَللہُ غَنِیّ مَرکَب نے کہا سُبْحَانَ اللہ!

طالب کا پتا مطلوب کو ہے مطلوب ہے طالب سے واقف
پردے میں بلا کر مل بھی لیے پردہ بھی رہا سُبْحَانَ اللہ!

ہے عبد کہاں معبود کہاں معراج کی شب ہے راز نہاں
دو نور حجابِ نور میں تھے خود رب نے کہا سُبْحَانَ اللہ!

جب سجدوں کی آخری حدّوں تک جا پہنچا عُبودیّت والا
خالق نے کہا مَاشَآءَاللہ! حضرت نے کہا سُبْحَانَ اللہ!

سمجھے حاؔمد انسان ہی کیا یہ راز ہیں حُسن و الفت کے
خالق کا ’’حَبِیْبِیْ‘‘ کہنا تھا خَلقت نے کہا سُبْحَانَ اللہ!

بیاض پاک

...

Momin Woh Hai Jo Un Ki Izat Pe

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے

واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے
اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے

بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسی
پوچھو کوئی یہ صدمہ ارمان بھرےدل سے

کیا اس کو گرائے دہر جس پر تو نظر رکھے
خاک اُس کو اٹھائے حشر جو تیرے گرے دل سے

بہکا ہے کہاں مجنوں لے ڈالی بنوں کی خاک
دم بھر نہ کیا خیمہ لیلیٰ نے پَرے دل سے

سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا کچھ مَیل
کیا کام جہنّم کے دھرے کو کھرے دل سے

آتا ہے درِ والا یوں ذوقِ طواف آنا
دل جان سے صدقے ہو سر گِرد پھرے دل سے

اے ابرِ کرم فریاد فریاد جلا ڈالا
اس سوزشِ غم کو ہے ضد میرے ہرے دل سے

دریا ہے چڑھا تیرا کتنی ہی اڑائیں خاک
اتریں گے کہاں مجرم اے عفو ترے دل سے

کیا جانیں یمِ غم میں دل ڈوب گیا کیسا
کس تہ کو گئے ارماں اب تک نہ ترے دل سے

کرتا تو ہے یاد اُن کی غفلت کو ذرا رو کے
للہ رؔضا دل سے ہاں دل سے ارےدل سے

حدائقِ بخشش

 

...

Arshe Haq Hai Masnade Rifat Rasoolullah Ki

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی

قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی

کافروں پر تیغِ والا سے گری برقِ غضب
اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی

لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا اُن سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی

وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی

سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اللہ کی

تجھ سے اور جنّت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اللہ کے جنّت رسول اللہ کی

ذکر رو کے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امّت رسول اللہ کی

نجدی اُس نے تجھ کو مہلت دی کہ اِس عالم میں ہے
کافر و مرتد پہ بھی رحمت رسول اللہ کی

ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فزوں
اور ’’نا‘‘ کہنا نہیں عادت رسول اللہ کی

اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی

ٹوٹ جائیں گے گنہ گاروں کے فوراً قید و بند
حشر کو کُھل جائے گی طاقت رسول اللہ کی

یارب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم
جوش میں آجائے اب رحمت رسول اللہ کی

ہے گُلِ باغِ قُدُس رخسار زیبائے حضور!
سروِ گلزارِ قِدم قامت رسول اللہ کی

اے رؔضا! خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

حدائقِ بخشش

...

Paish e Haq Mujda Shafaat

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ
ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے

کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح
آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے

گُل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے
خون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے

ہاں چلو حسرت زدو سنتے ہیں وہ دن آج ہے
تھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے

آج عیدِ عاشقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ
ابروئے پیوستہ کا عالم دکھاتے جائیں گے

کچھ خبر بھی ہے فقیرو! آج وہ دن ہے کہ وہ
نعمتِ خلد اپنے صدقے میں لٹاتے جائیں گے

خاک اُفتادو! بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے
خود وہ گر کر سجدے میں تم کو اُٹھاتے جائیں گے

وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
جرم کُھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمنِ عصیاں پر اب بجلی گراتے جائیں گے

آنکھ کھولو غمزدو! دیکھو وہ گریاں آئے ہیں
لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مٹاتے جائیں گے

سوختہ جانوں پہ وہ پرجوش رحمت آئے ہیں
آبِ کوثر سے لگی دل کی بجھاتے جائیں گے

آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اوروں کے چراغ
صِر صِرِ جوشِ بَلا سے جھلملاتے جائیں گے

پائے کوباں پل سے گزریں گے تِری آواز پر
رَبِّ سَلِّمْ کی صَدا پر وَجد لاتے جائیں گے

سرورِ دیں لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر
نفس و شیطاں، سیّدا! کب تک دباتےجائیں گے

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مِثل فارس نجد کے قلعےگراتے جائیں گے

خاک ہوجائیں عَدُو جل کر مگر ہم تو رؔضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر اُن کا سناتےجائیں گے

حدائقِ بخشش

...

Aey Rahat e Jaan Jo Tere Qadmoun Se Laga Ho

اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقشِ کفِ پَا ہو

ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو
سایہ بھی تو اک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو

اﷲ کا محبوب بنے جو تمھیں چاہے
اُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو

دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو ترے دَر پر
اُفتادِ دو عالم سے تعلق اُسے کیا ہو

اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر
جس سے رطبِ سوختہ کی نشوونما ہو

ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو
گر عکس فگن دل میں وہ نقشِ کفِ پَا ہو

اُس دَر کی طرف اس لیے میزاب کا منہ ہے
وہ قبلۂ کونین ہے یہ قبلہ نما ہو

بے چین رکھے مجھ کو ترا دردِ محبت
مِٹ جائے وہ دل پھر جسے ارمانِ دوا ہو

یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا
ایمان مجھے پھیرنے کو تو نے دیا ہو

اُس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ
تم جس میں گھڑی بھر کے لیے جلوہ نما ہو

مقبول ہیں اَبرو کے اشارہ سے دعائیں
کب تیر کماندارِ نبوت کا خطا ہو

ہو سلسلہ اُلفت کا جسے زُلفِ نبی سے
اُلجھے نہ کوئی کام نہ پابندِ بَلا ہو

شکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو نہیں سکتا
دل اُن پہ فدا جانِ حسنؔ اُن پہ فدا ہو

ذوقِ نعت

...

Jate Hain Soey Madina Ghar Se Hum

جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم

مار ڈالے بے قراری شوق کی
خوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم

بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہی
اب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم

تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں
ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم

اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع
ڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم

نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفراز
دل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم

گردن تسلیم خم کرنے کے ساتھ
پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم

گور کی شب تار ہے پر خوف کیا
لَو لگائے ہیں رُخِ انور سے ہم

دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں
جب لپٹ کر روئے اُن کے دَر سے ہم

کیا بندھا ہم کو خد اجانے خیال
آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم

جانے والے چل دیئے کب کے حسنؔ
پھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم

ذوقِ نعت

...

Kon Kehta Hai k Zeenat Khuld Ki Achi Nahi

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوے نبی اچھی نہیں

رحم کی سرکار میں پُرسش ہے ایسوں کی بہت
اے دل اچھا ہے اگر حالت مری اچھی نہیں

تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہے
چودھویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں

کچھ خبر ہے میں بُرا ہوں کیسے اچھے کا بُرا
مجھ بُرے پر زاہدو طعنہ زنی اچھی نہیں

اُس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیں
آہ ایسی موت ایسی زندگی اچھی نہیں

اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطے
اُن کے دَر کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں

خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر
فکر کیا حالت اگر بیمار کی اچھی نہیں

سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بستر خاک پر
آرزوے تاج و تختِ خسروی اچھی نہیں

دردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب
مجھ کو اچھا کیجیے حالت مری اچھی نہیں

ذرّۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
گھٹتی بڑھتی چار دن کی چاندنی اچھی نہیں

موسمِ گل کیوں دکھائے جاتے ہیں یہ سبز باغ
دشتِ طیبہ جائیں گے ہم رہزنی اچھی نہیں

بے کسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز
کون کہتا ہے ہماری بے کسی اچھی نہیں

بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی
ورنہ اے بندے خدا کی بندگی اچھی نہیں

رُو سیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند
اِس اندھیرے پاکھ کی یہ تیرگی اچھی نہیں

خار ہاے دشتِ طیبہ چُبھ گئے دل میں مرے
عارضِ گل کی بہارِ عارضی اچھی نہیں

صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ
نور کا تڑکا ہے پیارے کاہلی اچھی نہیں

اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسنؔ
اُن کے دَر سے دُور رہ کر زندگی اچھی نہیں

ذوقِ نعت

...