Naat (encomium on the Holy Prophet)  

Jo Noor Bar Hoa Aaftab e Husn e Maleeh

جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
ہوئے زمین و زماں کامیابِ حُسنِ ملیح

زوال مہر کو ہو ماہ کا جمال گھٹے
مگر ہے اَوج ابد پر شبابِ حُسنِ ملیح

زمیں کے پھول گریباں دریدۂ غمِ عشق
فلک پہ بَدر دل افگار تابِ حُسنِ ملیح

دلوں کی جان ہے لطفِ صباحتِ یوسف
مگر ہوا ہے نہ ہو گا جوابِ حُسنِ ملیح

الٰہی موت سے یوں آئے مجھ کو میٹھی نیند
رہے خیال کی راحت ہو خوابِ حُسنِ ملیح

جمال والوں میں ہے شورِ عشق اور ابھی
ہزار پردوں میں ہے آب و تابِ حُسنِ ملیح

زمینِ شور بنے تختہ گل و سنبل
عرق فشاں ہو اگر آب و تابِ حُسنِ ملیح

نثار دولتِ بیدار و طالعِ ازواج
نہ دیکھی چشمِ زلیخا نے خوابِ حُسنِ ملیح

تجلیوں نے نمک بھر دیا ہے آنکھوں میں
ملاحت آپ ہوئی ہے حجابِ حُسنِ ملیح

نمک کا خاصہ ہے اپنے کیف پر لانا
ہر ایک شے نہ ہو کیوں بہرہ یابِ حُسنِ ملیح

عسل ہو آب بنیں کوزہائے قند حباب
جو بحرِ شور میں ہو عکس آبِ حُسنِ ملیح

دل صباحتِ یوسف میں سوزِ عشقِ حضور
نبات و قند ہوئے ہیں کبابِ حُسنِ ملیح

صبیح ہوں کہ صباحتِ جمیل ہوں کہ جمال
غرض سبھی ہیں نمک خوار باب حُسنِ ملیح

کھلے جب آنکھ نظر آئے وہ ملاحت پاک
بیاضِ صبح ہو یا رب کتابِ حُسنِ ملیح

حیاتِ بے مزہ ہو بخت تیرہ میدارم
بتاب اے مہِ گردوں جنابِ حُسنِ ملیح

حسنؔ کی پیاس بُجھا کر نصیب چمکا دے
ترے نثار میں اے آب و تابِ حُسنِ ملیح

ذوقِ نعت

...

Sahaab e Rehmat e Baari Hai Baarweeh Tareekh

سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
کرم کا چشمۂ جاری ہے بارھویں تاریخ

ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارھویں تاریخ
عدو کے دل کو کٹاری ہے بارھویں تاریخ

اِسی نے موسمِ گل کو کیا ہے موسمِ گل
بہارِ فصلِ بہاری ہے بارھویں تاریخ

بنی ہے سُرمۂ چشمِ بصیرت و ایماں
اُٹھی جو گردِ سواری ہے بارھویں تاریخ

ہزار عید ہوں ایک ایک لحظہ پر قرباں
خوشی دلوں پہ وہ طاری ہے بارھویں تاریخ

فلک پہ عرش بریں کا گمان ہوتا ہے
زمینِ خلد کی کیاری ہے بارھویں تاریخ

تمام ہو گئی میلادِ انبیا کی خوشی
ہمیشہ اب تری باری ہے بارھویں تاریخ

دِلوں کے میل دُھلے گل کھلے ُسرور ملے
عجیب چشمہ جاری ہے بارھویں تاریخ

چڑھی ہے اَوج پہ تقدیر خاکساروں کی
خدا نے جب سے اُتاری ہے بارھویں تاریخ

خدا کے فضل سے ایمان میں ہیں ہم پورے
کہ اپنی رُوح میں ساری ہے بارھویں تاریخ

ولادتِ شہِ دیں ہر خوشی کی باعث ہے
ہزار عید سے بھاری ہے بارھویں تاریخ

ہمیشہ تو نے غلاموں کے دل کیے ٹھنڈے
جلے جو تجھ سے وہ ناری ہے بارھویں تاریخ

خوشی ہے اہلِ سنن میں مگر عدو کے یہاں
فغان و شیون و زاری ہے بارھویں تاریخ

جدھر گیا ، سنی آوازِ یَا رَسُولَ اللہ
ہر اِک جگہ اُسے خواری ہے بارھویں تاریخ

عدو ولادتِ شیطاں کے دن منائے خوشی
کہ عید عید ہماری ہے بارھویں تاریخ

حسنؔ ولادتِ سرکار سے ہوا روشن
مرے خدا کو بھی پیاری ہے بارھویں تاریخ


ذوقِ نعت

...

Zaat e Wala Pe Baar Baar Durood

ذاتِ والا پہ بار بار درود
بار بار اور بے شمار درود

رُوئے اَنور پہ نور بار سلام
زُلفِ اطہر پہ مشکبار درود

اُس مہک پر شمیم بیز سلام
اُس چمک پہ فروغ بار درود

اُن کے ہر جلوہ پر ہزار سلام
اُن کے ہر لمعہ پر ہزار درود

اُن کی طلعت پر جلوہ ریز سلام
اُن کی نکہت پہ عطر بار درود

جس کی خوشبو بہارِ خلد بسائے
ہے وہ محبوبِ گلعذار درود

سر سے پا تک کرور بار سلام
اور سراپا پہ بے شمار درود

دل کے ہمراہ ہوں سلام فدا
جان کے ساتھ ہو نثار درود

چارۂ جان درد مند سلام
مرھمِ سینۂ فگار درود

بے عدد اور بے عدد تسلیم
بے شمار اور بے شمار درود

بیٹھتے اُٹھتے جاگتے سوتے
ہو الٰہی مرا شعار درود

شہر یارِ رُسل کی نذر کروں
سب درودوں کی تاجدار درود

گور بیکس کو شمع سے کیا کام
ہو چراغِ سرِِ مزار درود

قبر میں خوب کام آتی ہے
بیکسوں کی ہے یارِ غار درود

اُنھیں کس کے دُرود کی پروا
بھیجے جب اُن کا کردگار درود

ہے کرم ہی کرم کہ سنتے ہیں
آپ خوش ہو کے بار بار درود

جان نکلے تو اِس طرح نکلے
تجھ پہ اے غمزدوں کے یار درود

دل میں جلوے بسے ہوئے تیرے
لب سے جاری ہو بار بار درود

اے حسنؔ خارِ غم کو دل سے نکال
غمزدوں کی ہے غمگسار درود

ذوقِ نعت

...

Rang e Chaman Pasand

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو توُ پسند

اپنا عزیز وہ ہے جسے تُو عزیز ہے
ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تُو پسند

مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس
اے جان کر لے ٹوٹے ہوئے دل کو تو پسند

ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب
تیری وہ خُو ہے کرتے ہیں جس کو عدُو پسند

کیوں کر نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاک
دنیا میں آج کس کو نہیں آبرو پسند

ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظر
عاجز نواز ہے تیری خُو اے خوبرو پسند

قُلْ کہہ کر اپنی بات بھی لب سے ترے سنی
اﷲ کو ہے اِتنی تری گفتگو پسند

حُورو فرشتہ جن و بشر سب نثار ہیں
ہے دو جہاں میں قبضہ کیے چار سُو پسند

اُن کے گناہگار کی اُمیدِ عفو کو
پہلے کرے گی آیتِ لَا تَقْنَطُوْا پسند

طیبہ میں سر جھکاتے ہیں خاکِ نیاز پر
کونین کے بڑے سے بڑے آبرو پسند

ہے خواہشِ وصالِ درِ یار اے حسنؔ
آئے نہ کیوں اَثر کو مری آرزو پسند

ذوقِ نعت

...

Houn agar Madhe Kaf e Paa Se Munawar

ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ

صفتِ خارِ مدینہ میں کروں گل کاری
دفترِ گل کا عنادِل سے منگا کر کاغذ

عارضِ پاک کی تعریف ہو جس پرچے میں
سو سیہ نامہ اُجالے وہ منور کاغذ

شامِ طیبہ کی تجلّی کا کچھ اَحوال لکھوں
دے بیاضِ سحر اک ایسا منور کاغذ

یادِ محبوب میں کاغذ سے تو دل کم نہ رہے
کہ جدا نقش سے ہوتا نہیں دَم بھر کاغذ

ورقِ مہر اُسے خط غلامی لکھ دے
ہو جو وصفِ رُخِ پُر نور سے انور کاغذ

تیرے بندے ہیں طلبگار تری رحمت کے
سن گناہوں کے نہ اے دَاورِ محشر کاغذ

لَبِ جاں بخش کی تعریف اگر ہو تجھ میں
ہو مجھے تارِ نفس ہر خَطِ مسطر کاغذ

مدح رُخسار کے پھولوں میں بسا لوں جو حسنؔ
حشر میں ہو مرے نامہ کا معطر کاغذ

ذوقِ نعت

...

Agar Chamka Muqadar Khaak Paey

اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
چلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبارِ کارواں ہو کر

شبِ معراج وہ دم بھر میں پلٹے لامکاں ہو کر
بَہارِ ہشت جنت دیکھ کر ہفت آسماں ہو کر

چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں
مجھے گلزار کا سبزہ رُلاتاہے دُھواں ہو کر

تصور اُس لبِ جاں بخش کا کس شان سے آیا
دلوں کا چین ہو کر جان کا آرامِ جاں ہو کر

کریں تعظیم میری سنگِ اسود کی طرح مومن
تمہارے دَر پہ رہ جاؤں جو سنگِ آستاں ہو کر

دکھا دے یا خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کو
پھروں کب تک پریشاں بلبلِ بے آشیاں ہو کر

ہوئے یُمن قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ
خلاصہ یہ کہ سرکار آئے ہیں جانِ جہاں ہو کر

ترے دستِ عطا نے دولتیں دیں دل کیے ٹھنڈے
کہیں گوہر فشاں ہو کر کہیں آبِ رواں ہو کر

فدا ہو جائے اُمت اِس حمایت اِس محبت پر
ہزاروں غم لیے ہیں ایک دل پُر شادماں ہو کر

جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہیِ جاوید کی خواہش
نشاں قائم کریں اُن کی گلی میں بے نشاں ہو کر

وہ جس رَہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک
نصیب اُس گھرکے جس گھرمیں وہ ٹھہریں میہماں ہو کر

حسنؔ کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو
زمینِ ہند سرگرداں رکھے گی آسماں ہو کر

ذوقِ نعت

...

Marhaba Izat o Kamal e Huzoor

مرحبا عزت و کمالِ حضور
ہے جلالِ خدا جلالِ حضور

اُن کے قدموں کی یاد میں مریے
کیجیے دل کو پائمالِ حضور

دشتِ ایمن ہے سینۂ مؤمن
دل میں ہے جلوۂ خیالِ حضور

آفرنیش کو ناز ہے جس پر
ہے وہ انداز بے مثالِ حضور

مَاہ کی جان مہر کا ایماں
جلوۂ حُسنِ بے زوالِ حضور

حُسنِ یوسف کرے زلیخائی
خواب میں دیکھ کر جمالِ حضور

وقفِ انجاح مقصدِ خدام
ہر شب و روز و ماہ و سالِ حضور

سکہ رائج ہے حکم جاری ہے
دونوں عالم ہیں مُلک و مالِ حضور

تابِ دیدار ہو کسے جو نہ ہو
پردۂ غیب میں جمالِ حضور

جو نہ آئی نظر نہ آئے نظر
ہر نظر میں ہے وہ مثالِ حضور

اُنھیں نقصان دے نہیں سکتا
دشمن اپنا ہے بد سگالِ حضور

دُرّۃ التاج فرقِ شاہی ہے
ذرّۂ شوکتِ نعالِ حضور

حال سے کشفِ رازِ قال نہ ہو
قال سے کیا عیاں ہو حالِ حضور

منزلِ رُشد کے نجوم اصحاب
کشتیِ خیر و امنِ آلِ حضور

ہے مسِ قلب کے لیے اکسیر
اے حسنؔ خاکِ پائمالِ حضور

ذوقِ نعت

...

Sair e Gulshan Kon Dekhe

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر

سر گزشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے
کس کے دَر پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر

بے لقاے یار اُن کو چین آ جاتا اگر
بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر

کون کہتا ہے دلِ بے مدعا ہے خوب چیز
میں تو کوڑی کو نہ لوں اُن کی تمنا چھوڑ کر

مر ہی جاؤں میں اگر اُس دَر سے جاؤں دو قدم
کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر

کس تمنا پر جئیں یا رب اَسیرانِ قفس
آ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر

بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہو گا کسے
کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر

خلد کیسا نفسِ سرکش جاؤں گا طیبہ کو میں
بد چلن ہٹ کر کھڑا ہو مجھ سے رستہ چھوڑ کر

ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر

حشر میں ایک ایک کا منہ تکتے پھرتے ہیں عدو
آفتوں میں پھنس گئے اُن کا سہارا چھوڑ کر

مرکے جیتے ہیں جو اُن کے دَر پہ جاتے ہیں حسنؔ
جی کہ مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

ذوقِ نعت

...

Jitna Mere Khuda Ko Hai


جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز

خاکِ مدینہ پر مجھے اﷲ موت دے
وہ مردہ دل ہے جس کو نہ ہو زندگی عزیز

کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا
اب تو یہ گھر پسند ، یہ دَر ، یہ گلی عزیز

جو کچھ تری رِضا ہے خدا کی وہی خوشی
جو کچھ تری خوشی ہے خدا کو وہی عزیز

گو ہم نمک حرام نکمّے غلام ہیں
قربان پھر بھی رکھتی ہے رحمت تری عزیز

شانِ کرم کو اچھے بُرے سے غرض نہیں
اُس کو سبھی پسند ہیں اُس کو سبھی عزیز

منگتا کا ہاتھ اُٹھا تو مدینہ ہی کی طرف
تیرا ہی دَر پسند، تری ہی گلی عزیز

اُس دَر کی خاک پر مجھے مرنا پسند ہے
تختِ شہی پہ کس کو نہیں زندگی عزیز

کونین دے دیے ہیں ترے اِختیار میں
اﷲ کو بھی کتنی ہے خاطر تری عزیز

محشر میں دو جہاں کو خدا کی خوشی کی چاہ
میرے حضور کی ہے خدا کو خوشی عزیز

قرآن کھا رہا ہے اِسی خاک کی قسم
ہم کون ہیں خدا کو ہے تیری گلی عزیز

طیبہ کی خاک ہو کہ حیاتِ ابد ملے
اے جاں بلب تجھے ہے اگر زندگی عزیز

سنگِ ستم کے بعد دُعاے فلاح کی
بندے تو بندے ہیں تمھیں ہیں مدعی عزیز

دِل سے ذرا یہ کہہ دے کہ اُن کا غلام ہوں
ہر دشمنِ خدا ہو خدا کو ابھی عزیز

طیبہ کے ہوتے خلد بریں کیا کروں حسنؔ
مجھ کو یہی پسند ہے ، مجھ کو یہی عزیز

ذوقِ نعت

...

Hazrat Sheikh Sirajuddin Chishti

ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس

کس بَلا میں ہیں گرفتارِ اسیرانِ قفس
کل تھے مہمانِ چمن آج ہیں مہمانِ قفس

حیف در چشمِ زدن صحبتِ یار آخر شد
اب کہاں طیبہ وہی ہم وہی زندانِ قفس

روے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد
ہائے کیا قہر کیا اُلفتِ یارانِ قفس

نوحہ گر کیوں نہ رہے مُرغِ خوش اِلحانِ چمن
باغ سے دام ملا دام سے زِندانِ قفس

پائیں صحراے مدینہ تو گلستاں مل جائے
ہند ہے ہم کو قفس ہم ہیں اسیرانِ قفس

زخمِ دل پھول بنے آہ کی چلتی ہے نسیم
روز افزوں ہے بہارِ چمنستانِ قفس

قافلہ دیکھتے ہیں جب سوے طیبہ جاتے
کیسی حسرت سے تڑپتے ہیں اسیرانِِ قفس

تھا چمن ہی ہمیں زنداں کہ نہ تھا وہ گل تر
قید پر قید ہوا اور یہ زِندانِ قفس

دشتِ طیبہ میں ہمیں شکل وطن یاد آئی
بد نصیبی سے ہوا باغ میں ارمانِ قفس

اَب نہ آئیں گے اگر کھل گئی قسمت کی گرہ
اب گرہ باندھ لیا ہم نے یہ پیمانِ قفس

ہند کو کون مدینہ سے پلٹنا چاہے
عیشِ گلزار بھلا دے جو نہ دورانِ قفس

چہچہے کس گل خوبی کی ثنا میں ہیں حسنؔ
نکہتِ خلد سے مہکا ہے جو زِندانِ قفس

ذوقِ نعت

...