Naat (encomium on the Holy Prophet)  

Agar Qismat Se Main Un Ki Gali Main

اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا

جو اے گل جامۂ ہستی تری پوشاک ہو جاتا
تو خارِ نیستی سے کیوں اُلجھ کر چاک ہو جاتا

جو وہ اَبرِ کرم پھر آبروے خاک ہو جاتا
تو اُس کے دو ہی چھینٹوں میں زمانہ پاک ہو جاتا

ہواے دامنِ رنگیں جو ویرانے میں آ جاتی
لباسِ گل میں ظاہر ہر خس و خاشاک ہو جاتا

لبِ جاں بخش کی قربت حیاتِ جاوداں دیتی
اگر ڈورا نفس کا ریشۂ مسواک ہو جاتا

ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی اُن کے دامن کی
الٰہی صبحِ محشر کا گریباں چاک ہو جاتا

اگر دو بوند پانی چشمۂ رحمت سے مل جاتا
مری ناپاکیوں کے میل دُھلتے پاک ہو جاتا

اگر پیوند ملبوسِ پیمبر کے نظر آتے
ترا اے حُلّۂ شاہی کلیجہ چاک ہو جاتا

جو وہ گل سُونگھ لیتا پھول مرجھایا ہوا بلبل
بہارِ تازگی میں سب چمن کی ناک ہو جاتا

چمک جاتا مقدر جب دُرِ دنداں کی طلعت سے
نہ کیوں رشتہ گہر کا ریشۂ مسواک ہو جاتا

عدو کی آنکھ بھی محشر میں حسرت سے نہ منہ تکتی
اگر تیرا کرم کچھ اے نگاہِ پاک ہو جاتا

بہارِ تازہ رہتیں کیوں خزاں میں دَھجیاں اُڑتیں
لباسِ گل جو اُن کی ملگجی پوشاک ہو جاتا

کماندارِ نبوت قادِر اندازی میں یکتا ہیں
دو عالم کیوں نہ اُن کا بستۂ فتراک ہو جاتا

نہ ہوتی شاق گر دَر کی جدائی تیرے ذرّہ کو
قمر اِک اَور بھی روشن سرِ اَفلاک ہو جاتا

تری رحمت کے قبضہ میں ہے پیارے قلبِ ماہیت
مرے حق میں نہ کیوں زہر گنہ تریاک ہوجاتا

خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شراکِ نعلِ پاکِ سیدِ لولاک ہو جاتا

تجلی گاہِ جاناں تک اجالے سے پہنچ جاتے
جو تو اے تَوسنِ عمرِ رواں چالاک ہو جاتا

اگر تیری بھرن اے ابرِ رحمت کچھ کرم کرتی
ہمارا چشمۂ ہستی اُبل کر پاک ہو جاتا

حسنؔ اہلِ نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مُشتِ خاک اُن کی گلی کی خاک ہو جاتا

ذوقِ نعت

...

Dushman Hai Gale ka Haar Aaqa

دشمن ہے گلے کا ہار آقا
لُٹتی ہے مری بہار آقا

تم دل کے لیے قرار آقا
تم راحتِ جانِ زار آقا

تم عرش کے تاجدار مولیٰ
تم فرش کے با وقار آقا

دامن دامن ہوائے دامن
گلشن گلشن بہار آقا

بندے ہیں گنہگار بندے
آقا ہیں کرم شعار آقا

اِس شان کے ہم نے کیا کسی نے
دیکھے نہیں زینہار آقا

بندوں کا اَلم نے دل دُکھایا
اَور ہو گئے بے قرار آقا

آرام سے سوئیں ہم کمینے
جاگا کریں با وقار آقا

ایسا تو کہیں سنا نہ دیکھا
بندوں کا اُٹھائیں بار آقا

جن کی کوئی بات تک نہ پوچھے
اُن پر تمھیں آئے پیار آقا

پاکیزہ دلوں کی زینت ایمان
ایمان کے تم سنگار آقا

صدقہ جو بٹے کہیں سلاطیں
ہم بھی ہیں اُمیدوار آقا

چکرا گئی ناؤ بے کسوں کی!
آنا مرے غمگسار آقا

اﷲ نے تم کو دے دیا ہے
ہر چیز کا اختیار آقا

ہے خاک پہ نقشِ پا تمہارا
آئینہ بے غبار آقا

عالم میں ہیں سب بنی کے ساتھی
بگڑی کے تمھیں ہو یار آقا

سرکار کے تاجدار بندے
سرکار ہیں تاجدار آقا

دے بھیک اگر جمالِ رنگیں
جنت ہو مرا مزار آقا

آنکھوں کے کھنڈر بھی اب بسا دو
دل کا تو ہوا وقار آقا

ایماں کی تاک میں ہے دشمن
آؤ دمِ احتضار آقا

ہو شمعِ شبِ سیاہ بختاں
تیرا رُخِ نور بار آقا

تُو رحمتِ بے حساب کو دیکھ
جُرموں کا نہ لے شمار آقا

دیدار کی بھیک کب بٹے گی
منگتا ہے اُمیدار آقا

بندوں کی ہنسی خوشی میں گزرے
اِس غم میں ہوں اشکبار آقا

آتی ہے مدد بَلا سے پہلے
کرتے نہیں انتظار آقا

سایہ میں تمہارے دونوں عالم
تم سایۂ کردگار آقا

جب فوجِ اَلم کرے چڑھائی
ہو اَوجِ کرم حصار آقا

ہر ملکِ خدا کے سچے مالک
ہر ملک کے شہر یار آقا

مانا کہ میں ہوں ذلیل بندہ
آقا تُو ہے با وقار آقا

ٹوٹے ہوئے دل کو دو سہارا
اَب غم کی نہیں سہار آقا

ملتی ہے تمھیں سے داد دل کی
سنتے ہو تمھیں پکار آقا

تیری عظمت وہ ہے کہ تیرا
اﷲ کرے وقار آقا

اﷲ کے لاکھوں کارخانے
سب کا تمھیں اختیار آقا

کیا بات تمہارے نقشِ پا کی
ہے تاجِ سرِ وقار آقا

خود بھیک دو خود کہو بھلا ہو
اِس دَین کے میں نثار آقا

وہ شکل ہے واہ وا تمہاری
اﷲ کو آئے پیار آقا

جو مجھ سے مجھے چھپائے رکھے
وہ جلوہ کر آشکار آقا

جو کہتے ہیں بے زباں تمہارے
گونگوں کی سنو پکار آقا

وہ دیکھ لے کربلا میں جس نے
دیکھے نہ ہو جاں نثار آقا

آرام سے شش جہت میں گزرے
غم دل سے نہ ہو دو چار آقا

ہو جانِ حسنؔ نثار تجھ پر
ہو جاؤں ترے نثار آقا

ذوقِ نعت

...

Wah Kya Martaba Hua Tera

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
تو خدا کا خدا ہوا تیرا

تاج والے ہوں اِس میں یا محتاج
سب نے پایا دیا ہوا تیرا

ہاتھ خالی کوئی پھرا نہ پھرے
ہے خزانہ بھرا ہوا تیرا

آج سنتے ہیں سننے والے کل
دیکھ لیں گے کہا ہوا تیرا

اِسے تو جانے یا خدا جانے
پیش حق رُتبہ کیا ہوا تیرا

گھرہیں سب بند دَرہیں سب تیغ
ایک دَر ہے کھلا ہوا تیرا

کام توہین سے ہے نجدی کو
تو ہوا یا خدا ہوا تیرا

تاجداروں کا تاجدار بنا
بن گیا جو گدا ہوا تیرا

اور میں کیا لکھوں خدا کی حمد
حمد اُسے وہ خدا ہوا تیرا

جو ترا ہو گیا خدا کا ہوا
جو خدا کا ہوا ہوا تیرا

حوصلے کیوں گھٹیں غریبوں کے
ہے اِرادہ بڑھا ہوا تیرا

ذات بھی تیری انتخاب ہوئی
نام بھی مصطفیٰ ہوا تیرا

جسے تو نے دیا خدا نے دیا
دَین رب کا دیا ہوا تیرا

ایک عالم خدا کا طالب ہے
اور طالب خدا ہوا تیرا

بزمِ اِمکاں ترے نصیب کھلے
کہ وہ دُولھا بنا ہوا تیرا

میری طاعت سے میرے جرم فزوں
لطف سب سے بڑھا ہوا تیرا

خوفِ وزنِ عمل کسے ہو کہ ہے
دل مدد پر تُلا ہوا تیرا

کام بگڑے ہوئے بنا دینا
کام کس کا ہوا ہوا تیرا

ہر اَدا دل نشیں بنی تیری
ہر سخن جاں فزا ہوا تیرا

آشکارا کمالِ شانِ حضور
پھر بھی جلوہ چھپا ہوا تیرا

پَردہ دَارِ اَدا ہزار حجاب
پھر بھی پردہ اُٹھا ہوا تیرا

بزمِ دنیا میں بزمِ محشر میں
نام کس کا ہوا ہوا تیرا

مَنْ رّاٰنِیْ فَقَدْ رَا اَلْحَقَّ
حُسن یہ حق نما ہوا تیرا

بارِ عصیاں سروں سے پھینکے گا
پیش حق سر جھکا ہوا تیرا

یمِ جودِ حضور پیاسا ہوں
یم گھٹا سے بڑھا ہوا تیرا

وصلِ وحدت پھر اُس پہ یہ خلوت
تجھ سے سایہ جدا ہوا تیرا

صنعِ خالق کے جتنے خاکے ہیں
رنگ سب میں بھرا ہوا تیرا

ارضِ طیبہ قُدومِ والا سے
ذرّہ ذرّہ سما ہوا تیرا

اے جناں میرے گل کے صدقے میں
تختہ تختہ بسا ہوا تیرا

اے فلک مہر حق کے باڑے سے
کاسہ کاسہ بھرا ہوا تیرا

اے چمن بھیک ہے تبسم کی
غنچہ غنچہ کھِلا ہوا تیرا

ایسی شوکت کے تاجدار کہاں
تخت تختِ خدا ہوا تیرا

اِس جلالت کے شہر یار کہاں
مِلک مُلکِ خدا ہوا تیرا

اِس وجاہت کے بادشاہ کہاں
حکم حکمِ خدا ہوا تیرا

خلق کہتی ہے لامکاں جس کو
شہ نشیں ہے سجا ہوا تیرا

زیست وہ ہے کہ حُسنِ یار رہے
دل میں عالم بسا ہوا تیرا

موت وہ ہے کہ ذکرِ دوست رہے
لب پہ نقشہ جما ہوا تیرا

ہوں زمیں والے یا فلک والے
سب کو صدقہ عطا ہوا تیرا

ہر گھڑی گھر سے بھیک کی تقسیم
رات دن دَر کھلا ہوا تیرا

نہ کوئی دو سَرا میں تجھ سا ہے
نہ کوئی دُوسرا ہوا تیرا

سوکھے گھاٹوں مرا اُتار ہو کیوں
کہ ہے دریا چڑھا ہوا تیرا

سوکھے دھانوں کی بھی خبر لے لے
کہ ہے بادل گھرا ہوا تیرا

مجھ سے کیا لے سکے عدو ایماں
اور وہ بھی دیا ہوا تیرا

لے خبر ہم تباہ کاروں کی
قافلہ ہے لٹا ہوا تیرا

مجھے وہ درد دے خدا کہ رہے
ہاتھ دل پہ دَھرا ہوا تیرا

تیرے سر کو ترا خدا جانے
تاجِ سر نقشِ پا ہوا تیرا

بگڑی باتوں کی فکر کر نہ حسنؔ
کام سب ہے بنا ہوا تیرا

ذوقِ نعت

...

Hazrat Sheikh Abdullah Shattari

معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
جب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا

ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھا
غم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا

تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مہ پارے بنے
تیری ہیبت سے فلک کا مہ دوپارا ہو گیا

اللہ اللہ محو حُسنِ روے جاناں کے نصیب
بند کر لیں جس گھڑی آنکھیں نظارا ہو گیا

یوں تو سب پیدا ہوئے ہیں آپ ہی کے واسطے
قسمت اُس کی ہے جسے کہہ دو ہمارا ہو گیا

تیرگی باطل کی چھائی تھی جہاں تاریک تھا
اُٹھ گیا پردہ ترا حق آشکارا ہو گیا

کیوں نہ دم دیں مرنے والے مرگِ عشقِ پاک پر
جان دی اور زندگانی کا سہارا ہو گیا

نام تیرا، ذکر تیرا، تو، ترا پیارا خیال
ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہو گیا

ذرّۂ کوے حبیب‘ اللہ رے تیرے نصیب
پاؤں پڑ کر عرش کی آنکھوں کا تارا ہو گیا

تیرے صانع سے کوئی پوچھے ترا حُسن و جمال
خود بنایا اور بنا کر خود ہی پیارا ہو گیا

ہم کمینوں کا اُنھیں آرام تھا اِتنا پسند
غم خوشی سے دُکھ تہِ دل سے گوارا ہو گیا

کیوں نہ ہو تم مالکِ مُلکِ خدا مِلک خدا
سب تمہارا ہے خدا ہی جب تمہارا ہو گیا

روزِ محشر کے اَلم کا دشمنوں کو خوف ہو
دُکھ ہمارا آپ کو کس دن گوارا ہو گیا

جو ازل میں تھی وہی طلعت وہی تنویر ہے
آئینہ سے یہ ہوا جلوہ دوبارا ہو گیا

تو نے ہی تو مصر میں یوسف کو یوسف کر دیا
تو ہی تو یعقوب کی آنکھوں کا تارا ہو گیا

ہم بھکاری کیا ہماری بھیک کس گنتی میں ہے
تیرے دَر سے بادشاہوں کا گزارا ہو گیا

اے حسنؔ قربان جاؤں اُس جمالِ پاک پر
سینکڑوں پردوں میں رہ کر عالم آرا ہو گیا

ذوقِ نعت

...

Sir se Paa Tak Har Ada Hai Lajawab

سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب

حُسن ہے بے مثل صورت لاجواب
میں فدا تم آپ ہو اپنا جواب

پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوں
تم سکھا جاؤ مرے مولیٰ جواب

میری حامی ہے تری شانِ کریم
پُرسشِ روزِ قیامت کا جواب

ہے دعائیں سنگِ دشمن کا عوض
اِس قدر نرم ایسے پتھر کا جواب

پلتے ہیں ہم سے نکمّے بے شمار
ہیں کہیں اُس آستانہ کا جواب

روزِ محشر ایک تیرا آسرا
سب سوالوں کا جوابِ لاجواب

میں یدِ بیضا کے صدقے اے کلیم
پر کہاں اُن کی کفِ پا کا جواب

کیا عمل تو نے کیے اِس کا سوال
تیری رحمت چاہیے میرا جواب

مہر و مہ ذرّے ہیں اُن کی راہ کے
کون دے نقشِ کفِ پا کا جواب

تم سے اُس بیمار کو صحت ملے
جس کو دے دیں حضرت عیسیٰ جواب

دیکھ رِضواں دشتِ طیبہ کی بہار
میری جنت کا نہ پائے گا جواب

شور ہے لطف و عطا کا شور ہے
مانگنے والا نہیں سنتا جواب

جرم کی پاداش پاتے اہلِ جرم
اُلٹی باتوں کا نہ ہو سیدھا جواب

پر تمہارے لطف آڑے آ گئے
دے دیا محشر میں پُرسش کا جواب

ہے حسنؔ محو جمالِ روے دوست
اے نکیرین اِس سے پھر لینا جواب

ذوقِ نعت

...

Janib e Maghrib Woh Chamka Aaftab

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کو مشرق سے نکلا آفتاب

جلوہ فرما ہو جو میرا آفتاب
ذرّہ ذرّہ سے ہو پیدا آفتاب

عارضِ پُر نور کا صاف آئینہ
جلوۂ حق کا چمکتا آفتاب

یہ تجلّی گاہِ ذاتِ بحت ہے
زُلفِ انور ہے شب آسا آفتاب

دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کیے
عارضِ انور ہے ٹھنڈا آفتاب

ہے شبِ دیجور طیبہ نور سے
ہم سیہ کاروں کا کالا آفتاب

بخت چمکا دے اگر شانِ جمال
ہو مری آنکھوں کا تارا آفتاب

نور کے سانچے میں ڈھالا ہے تجھے
کیوں ترے جلووں کا ڈھلتا آفتاب

ناخدائی سے نکالا آپ نے
چشمۂ مغرب سے ڈوبا آفتاب

ذرّہ کی تابش ہے اُن کی راہ میں
یا ہوا ہے گِر کے ٹھنڈا آفتاب

گرمیوں پر ہے وہ حُسنِ بے زوال
ڈھونڈتا پھرتا ہے سایہ آفتاب

اُن کے دَر کے ذرّہ سے کہتا ہے مہر
ہے تمہارے دَر کا ذرّہ آفتاب

شامِ طیبہ کی تجلی دیکھ کر
ہو تری تابش کا تڑکا آفتاب

روے مولیٰ سے اگر اُٹھتا نقاب
چرخ کھا کر غش میں گرتا آفتاب

کہہ رہی ہے صبحِ مولد کی ضیا
آج اندھیرے سے ہے نکلا آفتاب

وہ اگر دیں نکہت و طلعت کی بھیک
ذرّہ ذرّہ ہو مہکتا آفتاب

تلوے اور تلوے کے جلوے پر نثار
پیارا پیارا نور پیارا آفتاب

اے خدا ہم ذرّوں کے بھی دن پھریں
جلوہ فرما ہو ہمارا آفتاب

اُن کے ذرّہ کے نہ سر چڑھ حشر میں
دیکھ اب بھی ہے سویرا آفتاب

جس سے گزرے اے حسنؔ وہ مہرِ حسن
اُس گلی کا ہو اندھیرا آفتاب

ذوقِ نعت

...

Pur Noor Hai Zamana Subhe Shabe Wiladat

پرُ نور ہے زمانہ صبح شبِ ولادت
پرَدہ اُٹھا ہے کس کا صبح شبِ ولادت

جلوہ ہے حق کا جلوہ صبح شبِ ولادت
سایہ خدا کا سایہ صبح شبِ ولادت

فصلِ بہار آئی شکلِ نگار آئی
گلزار ہے زمانہ صبح شبِ ولادت

پھولوں سے باغ مہکے شاخوں پہ مُرغ چہکے
عہدِ بہار آیا صبح شبِ ولادت

پژ مُردہ حسرتوں کے سب کھیت لہلہائے
جاری ہوا وہ دریا صبح شبِ ولادت

گل ہے چراغِ صرَصَر گل سے چمن معطر
آیا کچھ ایسا جھونکا صبح شبِ ولادت

قطرہ میں لاکھ دریا گل میں ہزار گلشن
نشوونما ہے کیا کیا صبح شبِ ولادت

جنت کے ہر مکاں کی آئینہ بندیاں ہیں
آراستہ ہے دنیا صبح شب ولادت

دل جگمگا رہے ہیں قسمت چمک اُٹھی ہے
پھیلا نیا اُجالا صبح شبِ ولادت

چِٹکے ہوئے دِلوں کے مدّت کے میل چھوٹے
اَبرِ کرم وہ برسا صبح شب ولادت

بلبل کا آشیانہ چھایا گیا گلوں سے
قسمت نے رنگ بدلا صبح شبِ ولادت

اَرض و سما سے منگتا دوڑے ہیں بھیک لینے
بانٹے گا کون باڑا صبح شبِ ولادت

انوار کی ضیائیں پھیلی ہیں شام ہی سے
رکھتی ہے مہر کیسا صبح شبِ ولادت

مکہ میں شام کے گھر روشن ہیں ہر نگہ پر
چمکا ہے وہ اُجالا صبح شب ولادت

شوکت کا دبدبہ ہے ہیبت کا زلزلہ ہے
شق ہے مکانِ کِسریٰ صبح شبِ ولادت

خطبہ ہوا زمیں پر سکہ پڑا فلک پر
پایا جہاں نے آقا صبح شبِ ولادت

آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم نے رنگ بدلا صبح شبِ ولادت

رُوح الامیں نے گاڑا کعبہ کی چھت پہ جھنڈا
تا عرش اُڑا پھریرا صبح شبِ ولادت

دونوں جہاں کی شاہی ناکتخدا دُولہن تھی
پایا دُولہن نے دُولہا صبح شبِ ولادت

پڑھتے ہیں عرش والے سنتے ہیں فرش والے
سلطانِ نو کا خطبہ صبح شبِ ولادت

چاندی ہے مفلسوں کی باندی ہے خوش نصیبی
آیا کرم کا داتا صبح شبِ ولادت

عالم کے دفتروں میں ترمیم ہو رہی ہے
بدلا ہے رنگِ دنیا صبح شبِ ولادت

ظلمت کے سب رجسٹر حرفِ غلط ہوئے ہیں
کاٹا گیا سیاہا صبح شبِ ولادت

ملکِ ازل کا سرور سب سروروں کا اَفسر
تختِ اَبد پہ بیٹھا صبح شبِ ولادت

سُوکھا پڑا ہے ساوا دریا ہوا سماوا
ہے خشک و تر پہ قبضہ صبح شبِ ولادت

نوابیاں سدھاریں جاری ہیں شاہی آئیں
کچا ہوا علاقہ صبح شبِ ولادت

دن پھر گئے ہمارے سوتے نصیب جاگے
خورشید ہی وہ چمکا صبح شبِ ولادت

قربان اے دوشنبے تجھ پر ہزار جمعے
وہ فضل تو نے پایا صبح شبِ ولادت

پیارے ربیع الاوّل تیری جھلک کے صدقے
چمکا دیا نصیبہ صبح شبِ ولادت

وہ مہر مہر فرما وہ ماہِ عالم آرا
تاروں کی چھاؤں آیا صبح شبِ ولادت

نوشہ بناؤ اُن کو دولھا بناؤ اُن کو
ہے عرش تک یہ شُہرہ صبح شب ولادت

شادی رچی ہوئی ہے بجتے ہیں شادیانے
دُولھا بنا وہ دُولھا صبح شبِ ولادت

محروم رہ نہ جائیں دن رات برکتوں سے
اس واسطے وہ آیا صبح شبِ ولادت

عرشِ عظیم جھومے کعبہ زمین چُومے
آتا ہے عرش والا صبح شبِ ولادت

ہشیار ہوں بھکاری نزدیک ہے سواری
یہ کہہ رہا ہے ڈنکا صبح شبِ ولادت

بندوں کو عیشِ شادی اَعدا کو نامرادی
کڑکیت کا ہے کڑکا صبح شبِ ولادت

تارے ڈھلک کر آئے کاسے کٹورے لائے
یعنی بٹے گا صدقہ صبح شبِ ولادت

آمد کا شور سن کر گھر آئے ہیں بھکاری
گھیرے کھڑے ہیں رستہ صبح شبِ ولادت

ہر جان منتظر ہے ہر دیدہ رہ نگر ہے
غوغا ہے مرحبا کا صبح شبِ ولادت

جبریل سر جھکائے قدسی پرّے جمائے
ہیں سرو قد ستادہ صبح شبِ ولادت

کس داب کس ادب سے کس جوش کس طرب سے
پڑھتے ہے اُن کا کلمہ صبح شبِ ولادت

ہاں دین والو اُٹھو تعظیم والوں اُٹھو
آیا تمہارا مولیٰ صبح شبِ ولادت

اُٹھو حضور آئے شاہِ غیور آئے
سلطانِ دین و دنیا صبح شبِ ولادت

اُٹھو ملک اُٹھے ہیں عرش و فلک اُٹھے ہیں
کرتے ہیں اُن کو سجدہ صبح شبِ ولادت

آؤ فقیرو آؤ منہ مانگی آس پاؤ
بابِ کریم ہے وا صبح شبِ ولادت

سُوکھی زبانوں آؤ اے جلتی جانوں آؤ
لہرا رہا ہے دریا صبح شبِ ولادت

مُرجھائی کلیوں آؤ کمھلائے پھولوں آؤ
برسا کرم کا جھالا صبح شبِ ولادت

تیری چمک دمک سے عالم جھلک رہاہے
میرے بھی بخت چمکا صبح شب ولادت

تاریک رات غم کی لائی بلا سِتم کی
صدقہ تجلّیوں کا صبح شبِ ولادت

لایا ہے شِیر تیرا نورِ خدا کا جلوہ
دل کر دے دودھ دھویا صبح شبِ ولادت

بانٹا ہے دو جہاں میں تو نے ضیا کا باڑا
دے دے حسنؔ کا حصہ صبح شبِ ولادت

ذوقِ نعت

...

Kiya Muzda e Jaan Bakhs

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج

آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی
آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرم آج

کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں
آتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرم آج

نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ
اُس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج

بادل سے جو رحمت کے سرِ شام گھرے ہیں
برسے گا مگر صبح کو بارانِ کرم آج

کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے
ہر بام پہ ہے جلوہ نما نورِ قدم آج

کھلتا نہیں کس جانِ مسیحا کی ہے آمد
بت بولتے ہیں قالبِ بے جاں میں ہے دَم آج

بُت خانوں میں وہ قہر کا کہرام پڑا ہے
مِل مِل کے گلے روتے ہیں کفار و صنم آج

کعبہ کا ہے نغمہ کہ ہوا لوث سے میں پاک
بُت نکلے کہ آئے مرے مالک کے قدم آج

تسلیم میں سر وجد میں دل منتظر آنکھیں
کس پھول کے مشتاق ہیں مُرغانِ حرم آج

اے کفر جھکا سر وہ شہِ بُت شکن آیا
گردن ہے تری دم میں تہِ تیغِ دو دم آج

کچھ رُعبِ شہنشاہ ہے کچھ ولولۂ شوق
ہے طرفہ کشاکش میں دلِ بیت و حرم آج

پُر نور جو ظلمت کدۂ دَہر ہوا ہے
روشن ہے کہ آتا ہے وہ مہتابِ کرم آج

ظاہر ہے کہ سلطانِ دو عالم کی ہے آمد
کعبہ پہ ہوا نصب جو یہ سبز علم آج

گر عالمِ ہستی میں وہ مہ جلوہ فگن ہے
تو سایہ کے جلوہ پہ فدا اہلِ عدم آج

ہاں مفلسو خوش ہو کہ ملا دامنِ دولت
تر دامنو مژدہ وہ اُٹھا ابرِ کرم آج

تعظیم کو اٹھے ہیں مَلک تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سُلطانِ عرب شاہِ عجم آج

کل نارِ جہنم سے حسنؔ امن واماں ہو
اُس مالکِ فردوس پہ صدقے ہوں جو ہم آج

ذوقِ نعت

...

Dasht e Madina KI Hai Ajab

دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
ہر ذرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح

منہ دھو کے جوے شِیر میں آئے ہزار صبح
شامِ حرم کی پائے نہ ہر گز بہار صبح

ﷲ اپنے جلوۂ عارض کی بھیک دے
کر دے سیاہ بخت کی شب ہاے تار صبح

روشن ہے اُن کے جَلوۂ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح

رکھتی ہے شامِ طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی اَدا پر نثار صبح

نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پاک سے
جوشِ فروغ سے ہے یہاں تار تار صبح

آتے ہیں پاسبانِ درِ شہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح

اے ذرّۂ مدینہ خدارا نگاہِ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح

زُلفِ حضور و عارضِ پُر نور پر نثار
کیا نور بار شام ہے کیا جلوہ بار صبح

نورِ ولادت مہِ بطحا کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح

ہر ذرّۂ حَرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بے شمار صبح

گیسو کے بعد یاد ہو رُخسارِ پاک کی
ہو مُشک بار شام کی کافور بار صبح

کیا نورِ دل کو نجدیِ تیرہ دروں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح

حُسنِ شباب ذرّۂ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کورِ باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح

بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح

مایوس کیوں ہو خاک نشیں حُسنِ یار سے
آخر ضیاے ذرّہ کی ہے ذمَّہ دار صبح

کیا دشتِ پاکِ طیبہ سے آئی ہے اے حسنؔ
لائی جو اپنی جیب میں نقدِ بہار صبح

ذوقِ نعت

...