Naat (encomium on the Holy Prophet)  

Jinno Insaan o Malak Ko Hai Bharosa Tera

جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ کل ہے درِ والا تیرا

واہ اے عطرِ خدا ساز مہکنا تیرا
خوب رو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا

دَہر میں آٹھ پہر بٹتا ہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا

لا مکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
دُور پہنچایا ترے حسن نے شہرہ تیرا

جلوۂ یار اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا

یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار، دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا

کیا کہے وصف کوئی دشتِ مدینہ تیرا
پھول کی جانِ نزاکت میں ہے کانٹا تیرا

کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پہ لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا

خسروِ کون و مکاں اور تواضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا، خاک بچھونا تیرا

خوب رویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حُسنِ دل آرا تیرا

دشتِ پُر ہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
اے مرے خضر اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

بادشاہانِ جہاں بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا

دشمن و دوست کے منہ پر ہے کشادہ یکساں
روے آئینہ ہے مولیٰ درِ والا تیرا

پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ اگر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا

نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں اُن کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا

آفتوں میں ہے گرفتار غلامِ عجمی
اے عرب والے اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

اُونچے اُونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کوئی رُتبۂ اعلیٰ تیرا

خارِ صحراے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مرِی جان مرِے دل میں ہے رستہ تیرا

کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا، بندہ ترا، مانگنے والا تیرا

اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اُونچے اُونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا

بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہو
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا

کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابرِ کرم
سُوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا

ہائے پھر خندۂ بے جا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا

حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہ گاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا

سوزنِ گم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا

صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا

خاص بندوں کے تصدّق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا

بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے اَبرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا

حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخوارِ دل شب میں یہ رونا تیرا

عملِ نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسا مرے آقا تیرا

بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوۂ دل دار چمکنا تیرا

اُونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذرّہ تیرا

اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سُوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا

میرے آقا تو ہیں وہ ابرِ کرم، سوزِ اَلم
ایک چھینٹے کا بھی ہو گا نہ یہ دُہرا تیرا

اب حسنؔ منقبتِ خواجۂ اجمیر سنا
طبع پرُ جوش ہے رُکتا نہیں خامہ تیرا

ذوقِ نعت

...

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دُھوم ذرّوں میں اناالشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
اُن کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق وآداب بہم گرمِ کشاکش رہتے
عشقِ گم کردہ تواں عقل سے اُلجھا کرتا

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دِل بگڑ تا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوے دَر گرِتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہیِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا

ہم رہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
اُلفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا

دلِ حیراں کو کبھی ذوقِ تپش پہ لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اُس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رَحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا

موت اُس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اُس در سے کنارا کرتا

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

ذوقِ نعت

...

Asiyon Ko Dar Tumhara Mil Gaya

عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا

فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی
مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا

کشفِ رازِ مَنْ رَّاٰنِی یوں ہوا
تم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا

بے خودی ہے باعثِ کشفِ حجاب
مل گیا ملنے کا رستہ مل گیا

اُن کے دَر نے سب سے مستغنی کیا
بے طلب بے خواہش اِتنا مل گیا

ناخدائی کے لیے آئے حضور
ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا

دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا
نفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا

خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن
مجھ کو صحراے مدینہ مل گیا

آنکھیں پُرنم ہو گئیں سر جھک گیا
جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا

ہے محبت کس قدر نامِ خدا
نامِ حق سے نامِ والا مل گیا

اُن کے طالب نے جو چاہا پا لیا
اُن کے سائل نے جو مانگا مل گیا

تیرے دَر کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب
مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا

اے حسنؔ فردوس میں جائیں جناب
ہم کو صحراے مدینہ مل گیا

ذوقِ نعت

...

Kahoun Kiya Haal Zahid Gulshan e Taiba Ki Nuzhat Ka

کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا

تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نامِ پاک کی آقا
کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا

وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے
نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا

بلاتے ہیں اُسی کو جس کی بگڑی وہ بناتے ہیں
کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا

کھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشن
عرب کے چاند صدقے کیا ہی کہنا تیری طلعت کا

نہ کر رُسواے محشر، واسطہ محبوب کا یا ربّ
یہ مجرم دُور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا

مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
ہجومِ جود نے روکا ہے بڑھنا دستِ حاجت کا

شبِ اسریٰ ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
کہ اب تک عرشِ اعظم منتظر ہے تیری رُخصت کا

یہاں کے ڈوبتے دَم میں اُدھر جا کر اُبھرتے ہیں
کنارا ایک ہے بحرِ ندامت بحرِ رحمت کا

غنی ہے دل، بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا

طوافِ روضۂ مولیٰ پہ ناواقف بگڑتے ہیں
عقیدہ اَور ہی کچھ ہے اَدب دانِ محبت کا

خزانِ غم سے رکھنا دُور مجھ کو اُس کے صدقے میں
جو گل اے باغباں ہے عطر تیرے باغِ صنعت کا

الٰہی بعدِ مردن پردہ ہاے حائل اُٹھ جائیں
اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمعِ تُربت کا

سنا ہے روزِ محشر آپ ہی کا منہ تکیں گے سب
یہاں پورا ہوا مطلب دلِ مشتاقِ رؤیت کا

وجودِ پاک باعث خِلقتِ مخلوق کا ٹھہرا
تمہاری شانِ وحدت سے ہوا اِظہار کثرت کا

ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچۂ جاناں
سلامِ شوق پہنچے بے کسانِ دشتِ غربت کا

حسنؔ سرکارِ طیبہ کا عجب دربارِ عالی ہے
درِ دولت پہ اک میلہ لگا ہے اہلِ حاجت کا

ذوقِ نعت

...

Tasawur Lutf Daita Hai Dahaan e Pak Sarwar Ka

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کا
بھرا آتا ہے پانی میرے منہ میں حوضِ کوثر کا

جو کچھ بھی وصف ہو اُن کے جمالِ ذرّہ پرور کا
مرے دیوان کا مطلع ہو مطلع مہرِ محشر کا

مجھے بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
لیے جاؤں گا چھوٹا سا کوئی ذرّہ ترے دَر کا

جو اک گوشہ چمک جائے تمہارے ذرّۂ دَر کا
ابھی منہ دیکھتا رہ جائے آئینہ سکندر کا

اگر جلوہ نظر آئے کفِ پاے منور کا
ذرا سا منہ نکل آئے ابھی خورشید محشر کا

اگر دم بھر تصور کیجیے شانِ پیمبر کا
زباں پہ شور ہو بے ساختہ اﷲ اکبر کا

اُجالا طور کا دیکھیں جمالِ جاں فزا دیکھیں
کلیم آ کر اُٹھا دیکھیں ذرا پردہ ترے دَر کا

دو عالم میہماں، تو میزباں، خوانِ کرم جاری
اِدھر بھی کوئی ٹکڑا میں بھی کتّا ہوں ترے دَر کا

نہ گھر بیٹھے ملے جوہر صفا و خاکساری کے
مریدِ ذرّۂ طیبہ ہے آئینہ سکندر کا

اگر اُس خندۂ دنداں نما کا وصف موزوں ہو
ابھی لہرا چلے بحرِ سخن سے چشمہ گوہر کا

ترے دامن کا سایہ اور دامن کتنے پیارے ہیں
وہ سایہ دشتِ محشر کا یہ حامی دیدۂ تر کا

تمہارے کوچہ و مرقد کے زائر کو میسر ہے
نظارہ باغِ جنت کا ، تماشا عرشِ اکبر کا

گنہ گارانِ اُمت اُن کے دامن پر مچلتے ہوں
الٰہی چاک ہو جس دم گریباں صبحِ محشر کا

ملائک جن و اِنساں سب اِسی در کے سلامی ہیں
دو عالم میں ہے اک شہرہ مرے محتاج پرور کا

الٰہی تشنہ کامِ ہجر دیکھے دشتِ محشر میں
برسنا ابرِ رحمت کا ، چھلکنا حوضِ کوثر کا

زیارت میں کروں اور وہ شفاعت میری فرمائیں
مجھے ہنگامۂ عیدین یا رب دن ہو محشر کا

نصیب دوستاں اُن کی گلی میں گر سکونت ہو
مجھے ہو مغفرت کا سلسلہ ہر تار بستر کا

وہ گریہ اُسْتُنِ حَنَّانہ کا آنکھوں میں پھرتا ہے
حضوری نے بڑھایا تھا جو پایہ اَوجِ منبر کا

ہمیشہ رہروانِ طیبہ کے زیرِ قدم آئے
الٰہی کچھ تو ہو اِعزاز میرے کاسۂ سر کا

سہارا کچھ نہ کچھ رکھتا ہے ہر فردِ بشر اپنا
کسی کو نیک کاموں کا حسنؔ کو اپنے یاوَر کا

ذوقِ نعت

...

Mujrim e Haibat Zada Jab Fard e Isyan


مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطفِ شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا

دل کے آئینہ میں جو تصویرِ جاناں لے چلا
محفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا

رہروِ جنت کو طیبہ کا بیاباں لے چلا
دامنِ دل کھینچتا خارِ مغیلاں لے چلا

گل نہ ہو جائے چراغِ زینتِ گلشن کہیں
اپنے سر میں مَیں ہواے دشتِ جاناں لے چلا

رُوے عالم تاب نے بانٹا جو باڑا نور کا
ماہِ نو کشتی میں پیالا مہرِ تاباں لے چلا

گو نہیں رکھتے زمانے کی وہ دولت اپنے پاس
پَر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے چلا

تیری ہیبت سے ملا تاجِ سلاطیں خاک میں
تیری رَحمت سے گدا تختِ سلیماں لے چلا

ایسی شوکت پر کہ اُڑتا ہے پھریرا عرش پر
جس گدا نے آرزو کی اُن کو مہماں لے چلا

دبدبہ کس سے بیاں ہو اُن کے نامِ پاک کا
شیر کے منہ سے سلامت جانِ سلماں لے چلا

صدقے اُس رحمت کے اُن کو روزِ محشر ہر طرف
ناشکیبا شورِ فریادِ اَسیراں لے چلا

ساز و سامانِ گداے کوے سرور کیا کہوں
اُس کا منگتا سروری کے ساز و ساماں لے چلا

دو قدم بھی چل نہ سکتے ہم سرِ شمشیر تیز
ہاتھ پکڑے رَبِّ سَلِّمْ کا نگہباں لے چلا

دستگیرِ خستہ حالاں دست گیری کیجیے
پاؤں میں رعشہ ہے سر پر بارِ عصیاں لے چلا

وقتِ آخر نا اُمیدی میں وہ صورت دیکھ کر
دِل شکستہ دل کے ہر پارہ میں قرآں لے چلا

قیدیوں کی جنبشِ اَبرو سے بیڑی کاٹ دو
ورنہ جُرموں کا تسلسل سوے زنداں لے چلا

روزِ محشر شاد ہوں عاصی کہ پیشِ کبریا
رَحم اُن کو اُمَّتِیْ گویاں و گِریاں لے چلا

شکل شبنم راتوں کا رونا ترا ابرِ کرم
صبحِ محشر صورتِ گل ہم کو خنداں لے چلا

کشتگانِ ناز کی قسمت کے صدقے جایئے
اُن کو مقتل میں تماشاے شہیداں لے چلا

اختر اِسلام چمکا ، کفر کی ظلمت چھنٹی
بدر میں جب وہ ہلالِ تیغِ بُرّاں لے چلا

بزمِ خوباں کو خدا نے پہلے دی آرائشیں
پھر مرے دُولہا کو سوے بزمِ خوباں لے چلا

اﷲ اﷲ صرصرِ طیبہ کی رنگ آمیزیاں
ہر بگولا نزہتِ سروِ گلستاں لے چلا

قطرہ قطرہ اُن کے گھرسے بحرِ عرفاں ہو گیا
ذرّہ ذرّہ اُن کے دَر سے مہرِ تاباں لے چلا

صبحِ محشر ہر اداے عارضِ روشن ہیں وہ
شمع نور افشاں پئے شامِ غریباں لے چلا

شافعِ روزِ قیامت کا ہوں ادنیٰ امتی
پھر حسنؔ کیا غم اگر میں بارِ عصیاں لے چلا

ذوقِ نعت

...

Qibla Ka Bhi Rukh e Naiko Nazar Aaya

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا

محشر میں کسی نے بھی مری بات نہ پوچھی
حامی نظر آیا تو بس اِک تو نظر آیا

پھر بندِ کشاکش میں گرفتار نہ دیکھے
جب معجزۂ جنبشِ اَبرو نظر آیا

اُس دل کے فدا جو ہے تری دید کا طالب
اُن آنکھوں کے قربان جنھیں تو نظر آیا

سلطان و گدا سب ہیں ترے دَر کے بھکاری
ہر ہاتھ میں دروازے کا بازو نظر آیا

سجدہ کو جھکا جائے براہیم میں کعبہ
جب قبلۂ کونین کا اَبرو نظر آیا

بازارِ قیامت میں جنھیں کوئی نہ پوچھے
ایسوں کا خریدار ہمیں تو نظر آیا

محشر میں گنہ گار کا پلّہ ہوا بھاری
پلہ پہ جو وہ قربِ ترازو نظر آیا

یا دیکھنے والا تھا ترا یا ترا جویا
جو ہم کو خدا بِین و خدا جُو نظر آیا

شل ہاتھ سلاطیں کے اُٹھے بہرِ گدائی
دروازہ ترا قوتِ بازو نظر آیا

یوسف سے حسیں اور تمناے نظارہ
عالم میں نہ تم سا کوئی خوش رُو نظر آیا

فریادِ غریباں سے ہے محشر میں وہ بے چین
کوثر پہ تھا یا قربِ ترازو نظر آیا

تکلیف اُٹھا کر بھی دعا مانگی عدو کی
خوش خُلق نہ ایسا کوئی خوش خو نظر آیا

ظاہر ہیں حسنؔ احمد مختار کے معنی
کونین پہ سرکار کا قابو نظر آیا

ذوقِ نعت

...

Aisa Tujhe Khaliq Ne

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا

طلعت سے زمانے کو پُر انوار بنایا
نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا

دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوے
آئینوں کو جن جلوؤں نے دیوار بنایا

وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھے
اُس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا

اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع
تو نے ہی اُسے مطلعِ انوار بنایا

کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر
کونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا

کنجی تمھیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے
محبوب کیا مالک و مختار بنایا

اﷲ کی رحمت ہے کہ ایسے کی یہ قسمت
عاصی کا تمہیں حامی وغم خوار بنایا

آئینۂ ذاتِ احدیٰ آپ ہی ٹھہرے
وہ حسن دیا ایسا طرح دار بنایا

انوارِ تجلیّٰ سے وہ کچھ حیرتیں چھائیں
سب آئینوں کو پشت بدیوار بنایا

عالم کے سلاطین بھکاری ہیں بھکاری
سرکار بنایا تمھیں سرکار بنایا

گلزار کو آئینہ کیا منہ کی چمک نے
آئینہ کو رُخسار نے گل زار بنایا

یہ لذتِ پا بوس کہ پتھر نے جگر میں
نقشِ قدمِ سید ابرار بنایا

خدّام تو بندے ہیں ترے حسنِ خلق نے
پیارے تجھے بد خواہ کا غم خوار بنایا

بے پردہ وہ جب خاک نشینوں میں نکل آئے
ہر ذرّہ کو خورشیدِ پُر انوار بنایا

اے ماہِ عرب مہرِ عجم میں ترے صدقے
ظلمت نے مرے دن کو شبِ تار بنایا

ﷲ کرم میرے بھی ویرانۂ دل پر
صحرا کو ترے حسن نے گلزار بنایا

اﷲ تعالیٰ بھی ہوا اُس کا طرف دار
سرکار تمھیں جس نے طرفدار بنایا

گلزارِ جناں تیرے لیے حق نے بنائے
اپنے لیے تیرا گل رُخسار بنایا

بے یار و مددگار جنہیں کوئی نہ پوچھے
ایسوں کا تجھے یار و مددگار بنایا

ہر بات بد اعمالیوں سے میں نے بگاڑی
اَور تم نے مری بگڑی کو ہر بار بنایا

ان کے دُرِّ دنداں کا وہ صدقہ تھا کہ جس نے
ہر قطرۂ نیساں دُرِ شہوار بنایا

اُس جلوۂ رنگیں کا تصدق تھا کہ جس نے
فردوس کے ہر تختہ کو گلزار بنایا

اُس رُوحِ مجسم کے تبرک نے مسیحا
جاں بخش تمھیں یوں دمِ گفتار بنایا

اُس چہرۂ پُر نور کی وہ بھیک تھی جس نے
مہر و مہ و انجم کو پُر انوار بنایا

اُن ہاتھوں کاجلوہ تھا یہ اے حضرتِ موسیٰ
جس نے یدِبیضا کو ضیا بار بنایا

اُن کے لبِ رنگیں کے نچھاور تھی وہ جس نے
پتھر میں حسنؔ لعلِ پُر اَنوار بنایا

ذوقِ نعت

...

Tumhara Naam Musibat Mein Jab Liya Hoga

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا

گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گا
کیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا

خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرور
جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا

دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہو گا

خداے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی
خداے پاک خوشی اُن کی چاہتا ہو گا

کسی کے پاوں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے
کوئی اسیرِغم اُن کو پکارتا ہو گا

کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ
نہیں تو دَم میں غریبوں کا فیصلہ ہو گا

کسی کے پلّہ پہ یہ ہوں گے وقتِ وزنِ عمل
کوئی اُمید سے منہ اُن کا تک رہا ہو گا

کوئی کہے گا دہائی ہے یَا رَسُوْلَ اﷲ
تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہو گا

کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوے جحیم
وہ اُن کا راستہ پھِر پھِر کے دیکھتا ہو گا

شکستہ پا ہوں مرے حال کی خبر کردو
کوئی کسی سے یہ رو رو کے کہہ رہا ہو گا

خدا کے واسطے جلد اُن سے عرضِ حال کرو
کسے خبر ہے کہ دَم بھر میں ہائے کیا ہو گیا

پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا
تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہو گا

زبان سُوکھی دِکھا کر کوئی لبِ کوثر
جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہو گا

نشانِ خسروِ دیں دُور کے غلاموں کو
لِواے حمد کا پرچم بتا رہا ہو گا

کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر
کوئی صراط پر اُن کو پکارتا ہو گا

یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی
مقدس آنکھوں سے تار ا شک کا بندھا ہو گا

وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اندیشہ
ہجومِ فکر و تردد میں گھر گیا ہو گا

ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے
پکار سن کے اَسیروں کی دوڑتا ہو گا

عزیز بچہ کو ماں جس طرح تلاش کرے
خدا گواہ یہی حال آپ کا ہو گا

خدائی بھر اِنھیں ہاتھوں کو دیکھتی ہو گی
زمانہ بھر اِنھیں قدموں پہ لوٹتا ہو گا

بنی ہے دَم پہ دُہائی ہے تاج والے کی
یہ غل، یہ شور، یہ ہنگامہ، جابجا ہو گا

مقام فاصلوں ہر کام مختلف اِتنے
وہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہو گا

کہیں گے اور نبی اِذھَبُوْاِلٰی غَیرِی
مرے حضور کے لب پر اَ نَا لھَا ہو گا

دُعاے اُمتِ بدکار وردِ لب ہو گی
خدا کے سامنے سجدہ میں سر جھکا ہو گا

غلام اُن کی عنایت سے چین میں ہو نگے
عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہو گا

میں اُن کے دَر کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے
حسنؔ فقیر کا جنت میں بسترا ہو گا

ذوقِ نعت

...

Ye Ikram Hai Mustafa Par Khuda Ka

یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا

یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کا
کبھی ہاتھ اُٹھنے نہ پایا گدا کا

چمکتا ہوا چاند ثور و حرا کا
اُجالا ہوا بُرجِ عرشِ خدا کا

لحد میں عمل ہو نہ دیوِ بلا کا
جو تعویذ میں نقش ہو نقشِ پا کا

جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہارا
جو بندہ تمہارا وہ بندہ خدا کا

مرے گیسوؤں والے میں تیرے صدقے
کہ سر پر ہجومِ بَلا ہے بَلا کا

ترے زیرِ پا مسندِ ملکِ یزداں
ترے فرق پر تاجِ مُلکِ خدا کا

سہارا دیا جب مرے ناخدا نے
ہوئی ناؤ سیدھی پھرا رُخ ہوا کا

کیا ایسا قادر قضا و قدر نے
کہ قدرت میں ہے پھیر دینا قضا کا

اگر زیرِ دیوارِ سرکارِ بیٹھوں
مرے سر پہ سایہ ہو فضل خدا کا

ادب سے لیا تاجِ شاہی نے سر پر
یہ پایا ہے سرکار کے نقشِ پا کا

خدا کرنا ہوتا جو تحتِ مشیّت
خدا ہو کر آتا یہ بندہ خدا کا

اَذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو
پسِ ذکرِ حق ذکر ہے مصطفیٰ کا

کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے
تو پھر نام لے وہ حبیبِ خدا کا

یہ ہے تیرے ایماے اَبرو کا صدقہ
ہدف ہے اَثر اپنے تیرِ دُعا کا

ترا نام لے کر جو مانگے وہ پائے
ترا نام لیوا ہے پیارا خدا کا

نہ کیوں کر ہو اُس ہاتھ میں سب خدائی
کہ یہ ہاتھ تو ہاتھ ہے کبریا کا

جو صحراے طیبہ کا صدقہ نہ ملتا
کھلاتا ہی تو پھول جھونکا صبا کا

عجب کیا نہیں گر سراپا کا سایہ
سراپا سراپا ہے سایہ خدا کا

خدا مدح خواں ہے خدا مدح خواں ہے
مرے مصطفےٰ کا مرے مصطفےٰ کا

خدا کا وہ طالب خدا اُس کا طالب
خدا اُس کا پیارا وہ پیارا خدا کا

جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری
وہی در ہے داتا کی دولت سرا کا

ترے رُتبہ میں جس نے چون و چرا کی
نہ سمجھا وہ بدبخت رُتبہ خدا کا

ترے پاؤں نے سر بلندی وہ پائی
بنا تاجِ سر عرش ربِّ عُلا کا

کسی کے جگر میں تو سر پر کسی کے
عجب مرتبہ ہے ترے نقشِ پا کا

ترا دردِ الفت جو دل کی دوا ہو
وہ بے درد ہے نام لے جو دوا کا

ترے بابِ عالی کے قربان جاؤں
یہ ہے دوسرا نام عرشِ خدا کا

چلے آؤ مجھ جاں بلب کے سِرھانے
کہ سب دیکھ لیں پھر کے جانا قضا کا

بھلا ہے حسنؔ کا جنابِ رضا سے
بھلا ہو الٰہی جنابِ رضا کا

ذوقِ نعت

...