Most Favourite Poetry  

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دُھوم ذرّوں میں اناالشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
اُن کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق وآداب بہم گرمِ کشاکش رہتے
عشقِ گم کردہ تواں عقل سے اُلجھا کرتا

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دِل بگڑ تا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوے دَر گرِتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہیِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا

ہم رہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
اُلفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا

دلِ حیراں کو کبھی ذوقِ تپش پہ لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اُس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رَحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا

موت اُس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اُس در سے کنارا کرتا

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

ذوقِ نعت

...

Bayan Ho Kis Zaban Se Martaba

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

الٰہی رحم فرما خادمِ صدیق اکبر ہوں
تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا

رُسل اور انبیا کے بعد جو افضل ہو عالم سے
یہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ صدیق اکبر کا

گدا صدیق اکبر کا خدا سے فضل پاتا ہے
خدا کے فضل سے میں ہوں گدا صدیق اکبر کا

نبی کا اور خدا کا مدح گو صدیق اکبر ہے
نبی صدیق اکبر کا خدا صدیق اکبر کا

ضیا میں مہر عالم تاب کا یوں نام کب ہوتا
نہ ہوتا نام گر وجہِ ضیا صدیق اکبر کا

ضعیفی میں یہ قوت ہے ضعیفوں کو قوی کر دیں
سَہارا لیں ضعیف و اَقویا صدیق اکبر کا

خدا اِکرام فرماتا ہے اَتْقٰی کہہ کے قرآں میں
کریں پھر کیوں نہ اِکرام اتقیا صدیق اکبر کا

صفا وہ کچھ ملی خاک سرِ کوئے پیمبر سے
مصَفّا آئینہ ہے نقشِ پا صدیق اکبر کا

ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت
بنا فخر سلاسِل سلسلہ صدیق اکبر کا

مقامِ خوابِ راحت چین سے آرام کرنے کو
بنا پہلوے محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

علی ہیں اُس کے دشمن اور وہ دشمن علی کا ہے
جو دشمن عقل کا دشمن ہوا صدیق اکبر کا

لٹایا راہِ حق میں گھر کئی بار اس محبت سے
کہ لُٹ لُٹ کر حسنؔ گھر بن گیا صدیق اکبر کا

ذوقِ نعت

...

Umangey Josh Per Aaein Iradey Gudgudate Hain

امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
جمیلِ قادری شاید حبیب حق بلاتے ہیں

جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھرمیں
وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں

انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرش اعظم کا
تری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں

مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکر
غبار رفرش طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں

خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا
مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں

شہ طیبہ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں
وہ جس کو چاہتے ہیں شاہ دم بھر میں بناتے ہیں

مدینے کی طلب میں جونہیں لیتے ہیں جنت کو
انہیں تشریف لاکر حضرت رضواں سناتے ہیں

تصدق جان عالم اس کریمی و رحیمی کے
گنہ کرتے ہیں ہم وہ اپنی رحمت سے چھپاتے ہیں

وہابی قادیانی کا ندھوی و نیچری سب کی
خبر لینا یہ ہر دم اہلسنت کو ستاتے ہیں

جمیلِ قادری کو دیکھ کر حوروں میں غل ہوگا
یہی ہیں وہ کہ جو نعت حبیب حق سناتے ہیں

قبالۂ بخشش

...

Hazrat Shah Kamal Kathreli


اے ساقیِ مہ لقا کہاں ہے
مے خوار کے دل رُبا کہاں ہے

بڑھ آئی ہیں لب تک آرزوئیں
آنکھوں کو ہیں مَے کی جستجوئیں

محتاج کو بھی کوئی پیالہ
داتا کرے تیرا بول بالا

ہیں آج بڑھے ہوئے اِرادے
لا منہ سے کوئی سبُو لگا دے

سر میں ہیں خمار سے جو چکر
پھرتا ہے نظر میں دَورِ ساغر

دے مجھ کو وہ ساغرِ لبالب
بس جائیں مہک سے جان و قالب

بُو زخم جگر کے دیں جو انگور
ہوں اہلِ زمانہ نشہ میں چُور

کیف آنکھوں میں دل میں نور آئیں
لہراتے ہوئے سُرور آئیں

جوبن پہ اَداے بے خودی ہو
بے ہوش فداے بے خودی ہو

کچھ ابرو ہوا پہ تو نظر کر
ہاں کشتیِ مے کا کھول لنگر

مے خوار ہیں بے قرار ساقی
بیڑے کو لگا دے پار ساقی

مے تاک رہے ہیں دیدۂ وا
دیوانہ ہے دل اسی پری کا

منہ شیشوں کے جلد کھول ساقی
قُلْقُل کے سنا دے بول ساقی

یہ بات ہے سخت حیرت انگیز
پُنْبَہ سے رُکی ہے آتشِ تیز

جب تک نہ وہاں شیشہ ہو وا
ہو وصف شراب سے خبر کیا

تا مرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد

کہتی ہیں اُٹھی ہوئی اُمنگیں
پھر لطف دکھا چلیں ترنگیں

پھر جوش پر آئے کیف مستی
پھر آنکھ سے ٹپکے مے پرستی

خواہش ہے مزاج آرزو کی
سنتا ہی رہوں ڈھلک سبُو کی

گہرا سا کوئی مجھے پلا جام
کہتی ہے ہوس کہ جام لا جام

دے چھانٹ کے مجھ کو وہ پیالی
لے آئے جو چہرے پر بحالی

ہوں دل میں تو نور کی ادائیں
آنکھوں میں سُرور کی ادائیں

ہو لطف فزا یہ جوشِ ساغر
دل چھین لے لب سے لب ملا کر

کچھ لغزشِ پا جو سر اٹھائے
بہکانے کو پھر نہ ہوش آئے

لطف آئے تو ہوش کو گمائیں
جب ہوش گئے تو لطف پائیں

یہ مے ہے میری کھنچی ہوئی جاں
یا رہ گئے خون ہو کے اَرماں

یہ بادہ ہے دل رُباے میکش
دردِ میکش دواے میکش

ہے تیز بہت مجھے یہ ڈر ہے
اُڑتی نہ پھرے کہیں بطِ مے

شیشہ میں ہے مے پری کی صورت
یا دل میں بھرا ہے خونِ حسرت

ساغر ہیں بشکل چشم میگوں
شیشہ ہے کسی کا قلب پُر خوں

مے خوار کی آرزو یہ مے ہے
مشتاق کی آبرو یہ مے ہے

ہو آتش تر جو مہر گستر
دم بھر میں ہو خشک دامنِ تر

ٹھنڈے ہیں اس آگ سے کلیجے
گرمی پہ ہیں مے کشوں کے جلسے

بہکا ہے کہاں دماغِ مُخْتَلْ
پہنچا ہے کدھر خیالِ اَسفل

یہ بادہ ہے آبروے کوثر
نتھرا ہوا آب جوے کوثر

یہ پھول ہے عطر باغِ رضواں
ایمان ہے رنگ، بُو ہے عرفاں

اس مے میں نہیں ہے دُرو کا نام
کیوں اہلِ صفا نہ ہوں مے آشام

جو رِند ہیں اس کے پارسا ہیں
بہکے ہوئے دل کے رہ نما ہیں

زاہد کی نثار اس پہ جاں ہے
واعظ بھی اسی سے تر زباں ہے

جام آنکھیں اُن آنکھوں میں مروّت
شیشے ہیں دل، اُن دلوں میں ہمت

ان شیشوں سے زندہ قلب مردم
قُلْقُل سے عیاں اداے قم قم

اللہ کا حکم وَ اشْرَبُوْا ہے
بے جا ہے اگر پئیں نہ یہ مے

اے ساقیِ با خبر خدارا
لا دے کوئی جام پیارا پیارا

جوبن ہے بہارِ جاں فزا پر
بادل کا مزاج ہے ہوا پر

ہر پھول دلہن بنا ہوا ہے
نکھرے ہوئے حسن میں سجا ہے

مستانہ گھٹائیں جھومتی ہیں
ہر سمت ہوائیں گھومتی ہیں

پڑتی ہے پھوہار پیاری پیاری
نہریں ہیں لسانِ فیضِ جاری

بلبل ہے فداے خندۂ گل
بھاتی ہے اداے خندۂ گل

ظاہر میں بہارِ دل رُبا ہے
باطن میں کچھ اور گل کھلا ہے

غنچوں کے چٹکنے سے اظہار
کھلنے لگے پردہاے اسرار

ہے سرو ’’الف‘‘ کی شکل بالکل
اور صورتِ ’’لام‘ زلفِ سنبل

تشدید‘عیاں ہے کنگھیوں سے
نرگس کی بیاض چشم ہے ’ھے

صانع کی یہ صنع ہے نمودار
اللّٰہ‘ لکھا بخط گل زار

خوشبو میں بسا ہے خلعتِ گل
دل جُو ہیں ترانہاے گل

ہے آفت ہوش موسم گل
پھر اس پہ یہ صبح کا تجمل

تاروں کا فلک پہ جھلملانا
شمعوں کا سپید منہ دکھانا

مرغانِ چمن کی خوشنوائی
شوخانِ چمن کی دلرُبائی

کلیوں کی چٹک مہک گلوں کی
مستانہ صفیر بلبلوں کی

پرواز طیور آشیاں سے
اور بارشِ نور آسماں سے

مسجد میں اَذاں کا شور برپا
زُہاد وضو کیے مہیا

آنکھوں سے فراق خواب غفلت
منزل سے مسافروں کی رخصت

میخانوں میں مے کشوں کی دھومیں
دل ساغر مے کی آرزو میں

لب پر یہ سخن کہ جام پائیں
دل میں یہ ہوس سرور آئیں

کہتا ہے کوئی فدائے ساقی
بھاتی ہے مجھے ادائے ساقی

پایا ہے کسی نے جام رنگیں
دل کو کوئی دے رہا ہے تسکیں

اے قلب حزیں چہ شورو شین است
چوں ساقی تو ابوالحسین است

برخیز و بگیر جام سرشار
بنشیں و بنوش و کیف بردار

ناشاد بیاد شاد میرو
پُر دامن و بامراد میرو

مایوس مشو کہ خوش جنابے ست
بر چرخِ سخاوت آفتابے ست

ہوش و سرہوش را رہا کن
مے نوش و بدیگراں عطا کن

تُو نور ہے تیرا نام نوری
دے مجھ کو بھی کوئی جام نوری

ہر جرعہ ہو حامل کرامات
ہر قطرہ ہو کاشف مقامات

ہوں دل کی طرح سے صاف راہیں
اسرار پہ جا پڑیں نگاہیں

بغداد کے پھول کی مہک آئے
نکہت سے مشام روح بس جائے

گھٹ جائے ہوس بڑھیں اُمنگیں
آنکھوں سے ٹپک چلیں ترنگیں

یہ بادۂ تند لطف دے جائے
بغداد مجھے اُڑا کے لے جائے

جس وقت دیارِ یار دیکھوں
دیکھوں درِ شہریار دیکھوں

بے تابیِ دل مزے دکھا جائے
خود رفتگی میرے لینے کو آئے

دل محوِ جمال شکر باری
شَیئاً لِلّٰہ زباں پہ جاری

خم فرق زمین آستاں پر
قسمت کا دماغ آسماں پر

سینہ میں بہار کی تجلی
دل میں رُخِ یار کی تجلی

ہاتھوں میں کسی کا دامنِ پاک
آنکھوں میں بجائے سُرمہ وہ خاک

لب پر یہ صدا مراد دیجیے
ناشاد گدا کو شاد کیجیے

آیا ہے یہ بے کسی کا مارا
پایا ہے بہت بڑا سہارا

حسرت سے بھرا ہوا ہے سینہ
دل داغ ملال کا خزینہ

یہ دن مجھے بخت نے دکھایا
قسمت سے درِ کریم پایا

اے دست تہی و جانِ مضطر
مژدہ ہو رسا ہوا مقدر

گزرے وہ بکاؤ بین کے دن
اب خیر سے آئے چین کے دن

آیا ہوں میں درگہِ سخی میں
پہنچا ہوں کریم کی گلی میں

پرواہ نہیں کسی کی اب کچھ
بے مانگے ملے گا مجھ کو سب کچھ

اب دونوں جہاں سے بے غمی ہے
سرکار غنی ہے کیا کمی ہے

اے حُبّ وطن سقر کی ٹھہرا
اب کس کو پسند ساتھ تیرا

جائیں گے نہ اُس دیار سے ہم
اٹھیں گے نہ کوئے یار سے ہم

کون اُٹھتا ہے ایسے آستاں سے
اُٹھے نہ جنازہ بھی یہاں سے

کیا کام کہ چھوڑ کر یہ گلشن
کانٹوں میں پھنسائیں اپنا دامن

ہے سہل ہمیں جہاں سے جانا
مشکل ہے اس آستاں سے جانا

کیوں لطف بہار چھوڑ جائیں
کیوں نازِ خزاں اُٹھانے آئیں

دیکھا نہ یہاں اَسیر کوئی
محتاج نہیں فقیر کوئی

ہر وقت عیاں ہے فیضِ باری
ہر فصل ہے موسمِ بہاری

ہر شب میں شب برات کا رنگ
ہر روز میں روزِ عید کا ڈھنگ

تفریح و سُرور ہر گھڑی ہے
نوروز کی روز حاضری ہے

ہے عیش کی یہ خوشی ہمیشہ
حاضر رہے ہر گھڑی ہمیشہ

پیوستہ خوشی کا راج ہے یاں
ہر سن سنِ اِبْتِہاج ہے یاں

شوال ہے یاں کا ہر مہینہ
ہر چاند میں ماہِ عید دیکھا

انوار سے ہے بھری ہوئی رات
ہر شب ہے یہاں کی چاندنی رات

راحت نے یہاں لیا ہے آرام
آرام ہے اس جناب کا رام

مقصود دل انبساط خاطر
خدام کی خدمتوں میں حاضر

شادی کی ہوس یہیں رہوں میں
آرام مجاوروں کو دوں میں

حُضَّار سے کاوِشِ اَلم دُور
دل غم سے جدا تو دل سے غم دُور

طلعت سے دل و دماغ روشن
مقبول دعا چراغ روشن

آراستہ بزمِ خُسروی ہے
شادی کی گھڑی رَچی ہوئی ہے

مدّاح حضور آ رہے ہیں
اپنی اپنی سنا رہے ہیں

ہاں اے حسنـؔ اے غلام سرکار
مدّاح حضور نغز گفتار

مشتاق سخن ہیں اہل محفل
منّت کش انتظار ہے دل

کچھ منقبتیں سنا دعا لے
سرکار سے مدح کا صلہ لے

اے خالقِ قادر و توانا
اے واحد بے مثال و دانا

دے طبع کو سیل کی روانی
دل کش ہو اداے خوش بیانی

ہر حرف سے رنگ گل عیاں ہو
ہر لفظ ہزار داستاں ہو

مقبول میرا کلام ہو جائے
وہ کام کروں کہ نام ہو جائے

دے ملک سخن کا تاج یا رب
رکھ لے میری آج لاج یا رب

اے سیّدِ خوش بیاں کرم کر
اے افصحِ افصحاں کرم کر

اے رُوحِ امیں مدد کو آنا
لغزش سے کلام کو بچانا

وسائلِ بخشش

...