Miscellaneous Topics  

Najdiya Sakht Hi Gandi Hai Tabiyat Kaisi


نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

خاک منہ میں ترے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر
مِٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری

تیرے نزدیک ہوا کذب الٰہی ممکن
تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری

بلکہ کذّاب کیا تو نے تو اِقرار وقوع
اُف رے ناپاک یہاں تک ہے خباثت تیری

علم شیطاں کا ہوا علمِ نبی سے زائد
پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری

بزمِ میلاد ہو ’کانا‘ کے جنم سے بدتر
ارے اندھے ارے مردود یہ جرأت تیری

علمِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول
کفر آمیز جنوں زا ہے جہالت تیری

یادِ خر سے ہو نمازوں میں خیال اُن کا بُرا
اُف جہنم کے گدھے اُف یہ خرافت تیری

اُن کی تعظیم کرے گا نہ اگر وقتِ نماز
ماری جائے گی ترے منہ پہ عبادت تیری

ہے کبھی بوم کی حلت تو کبھی زاغ حلال
جیفہ خواری کی کہیں جاتی ہے عادت تیری

ہنس کی چال تو کیا آتی ، گئی اپنی بھی
اِجتہادوں ہی سے ظاہر ہے حماقت تیری

کھلے لفظوں میں کہے قاضی شوکاں مدد دے
یا علی سُن کے بگڑ جائے طبیعت تیری

تیری اٹکے تو وکیلوں سے کرے اِستمداد
اور طبیبوں سے مدد خواہ ہو علت تیری

ہم جو اﷲ کے پیاروں سے اِعانت چاہیں
شرک کا چرک اُگلنے لگے ملت تیری

عبدِ وہاب کا بیٹا ہوا شیخِ نجدی
اُس کی تقلید سے ثابت ہے ضلالت تیری

اُسی مشرک کی ہے تصنیف ’کتاب التوحید‘
جس کے ہر فقرہ پہ ہے مہرِ صداقت تیری

ترجمہ اس کا ہوا ’تفویۃ الایماں‘ نام
جس سے بے نور ہوئی چشمِ بصیرت تیری

واقفِ غیب کا اِرشاد سناؤں جس نے
کھول دی تجھ سے بہت پہلے حقیقت تیری

زلزلے نجد میں پیدا ہوں فتن برپا ہوں
یعنی ظاہر ہو زمانے میں شرارت تیری

ہو اِسی خاک سے شیطان کی سنگت پیدا
دیکھ لے آج ہے موجود جماعت تیری

سر مُنڈے ہونگے تو پاجامے گھٹنے ہونگے
سر سے پا تک یہی پوری ہے شباہت تیری

اِدعا ہو گا حدیثوں پہ عمل کرنے کا
نام رکھتی ہے یہی اپنا جماعت تیری

اُن کے اعمال پہ رشک آئے مسلمانوں کو
اس سے تو شاد ہوئی ہو گی طبیعت تیری

لیکن اُترے گا نہ قرآن گلوں سے نیچے
ابھی گھبرا نہیں باقی ہے حکایت تیری

نکلیں گے دین سے یوں جیسے نشانہ سے تیر
آج اس تیر کی نخچیر ہے سنگت تیری

اپنی حالت کو حدیثوں کے مطابق کر لے
آپ کھل جائے گی پھر تجھ پہ خباثت تیری

چھوڑ کر ذکر تیرا اب ہے خطاب اپنوں سے
کہ ہے مبغوض مجھے دل سے حکایت تیری

مرے پیارے مرے اپنے مرے سُنّی بھائی
آج کرنی ہے مجھے تجھ سے شکایت تیری

تجھ سے جو کہتا ہوں تو دل سے سُن انصاف بھی کر
کرے اﷲ کی توفیق حمایت تیری

گر ترے باپ کو گالی دے کوئی بے تہذیب
غصہ آئے ابھی کچھ اور ہو حالت تیری

گالیاں دیں اُنھیں شیطانِ لعیں کے پیرو
جن کے صدقے میں ہے ہر دولت و نعمت تیری

جو تجھے پیار کریں جو تجھے اپنا فرمائیں
جن کے دل کو کرے بے چین اَذیت تیری

جو ترے واسطے تکلیفیں اُٹھائیں کیا کیا
اپنے آرام سے پیاری جنہیں راحت تیری

جاگ کر راتیں عبادت میں جنھوں نے کاٹیں
کس لیے ، اِس لیے کٹ جائے مصیبت تیری

حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی
اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری

اُن کے دشمن سے تجھے ربط رہے میل رہے
شرم اﷲ سے کر کیا ہوئی غیرت تیری

تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے
جوش میں آئی جو اِس درجہ حرارت تیری

اُن کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دشمن
وہ قیامت میں کریں گے نہ رفاقت تیری

اُن کے دشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتا ہوں
دعویٰ بے اصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری

بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی
اُن سے عشق اُن کے عدو سے ہو عداوت تیری

اہلِ سنت کا عمل تیری غزل پر ہو حسنؔ
جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری

ذوقِ نعت

...

Invitation of Urs-e-Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi

منظوم دعوت نامہ
برائے عرسِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلو ی قُدِّسَ سِرُّہٗ
[مؤرّخہ ۷؍دسمبر ۲۰۱۵ء مطابق۲۴؍صفر المظفّر ۱۴۳۷ھ(۲۵؍ ویں شب)، بمقام: میمن مسجد مصلح الدین گارڈن (سابقہ کھوڑی گارڈن)، کراچی]
منجانب: انجمن ضیائے طیبہ ،کراچی

رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا
لو پھر ماہِ صفر نے چمن دل کا، کِھلایا
مبارک اہلِ دل کو! رضا کا عرس آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

یہ آیا عرسِ احمد رضا ستّانوے واں
تو گویا جشنِ صد سالہ بھی نزدیک آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ضیائے طیبہ عرسِ رضا پھر کر رہی ہے
گزشتہ سالوں میں بھی شرف اس نے یہ پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہیں شہ محفوظِ حق اور حسین احمد مقرّر
خطابوں سے جنھوں نے سدا جادو جگایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

وہیں عبد المجید اور محسن فیضی بھی تو
خطابوں سے کریں گے ہدایت کے عطایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

خطابوں کے علاوہ، ثنا خوانیّ و لنگر
یہی وہ سلسلہ ہے سدا جو چلتا آیا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

وہیں پر ہو گی اُن سب ہی کی دستار بندی
ضیائے طیبہ نے جن کو بھی حافظ بنایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

جناب اشفاق احمد، جو تھے رضویّ و مفتی
اِسی تقریب میں اُن کا چہلم طے ہے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہے عرسِ اعلیٰ حضرت کی اِس تقریب پر، شاہ
تراب الحق کی پھر سرپرستی کا بھی سایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

دسمبر سات کو، نو بجے شب، پیر کا دن
رضا کے عرس کو اب یہی دن طے ہے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

تمامی اہلِ سنّت کو دعوت عرس کی ہے
ضیائے طیبہ نے ہے بہ صد چاہت بلایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

سو میمن مسجدِ مصلح الدّیں گارڈن میں
ہوں حاضر عرس میں سب کہ ہو رحمت کا سایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

معزّز شخصیات و گرامی قدْر علما
سدا تشریف لائے ہمارا دل بڑھایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ہیں جو اِس انجمن کے اراکین اور بانی
یہ دعوت نامہ اُن کی طرف سے سب نے پایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

ضیائے طیبہ کا ہے یہ دعوت نامہ، جس کو
نؔدیم احمد نے شعروں کے رنگوں سے سجایا
رضا کا عرس آیا بہاریں ساتھ لایا

...

Shajra Sharif of Naqshbandi Scholars

شجرہ شریف
مشائخ نقشبندیہ مجددیہ جماعتیہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین


یا الٰہی! خیر کر خیرلوریٰ کے واسطے
اور پیارے یارِ غارِ حرا کے واسطے

شیخ سلمان اور خواجہ قاسم پارسا
جعفر صادق رئیسِ اصفیا کے واسطے

بایزید برگزیدہ بوالحسن شیخِ بزرگ
بو علی فارمدی مردِ خدا کے واسطے

یوسفِ ہمدان و عبدالخالق اہل غجدوان
ریوگر کے خواجہ عارف پرصفا کے واسطے

خواجہ محمود فغنوی اور علی رامتینی
حضرت بابا سماسی مقتدا کے واسطے

سید میر کلال اور صدرِ بزم نقشبند
شاہ بہاء الدین سراپا اتقا کے واسطے

خواجگان عطار و یعقوب و عبیداللہ غنی
زاہد و درویشِ محمد اولیاء کے واسطے

خواجہ امکنگی و حضرت باقی باللہ مردِ حق
احمد سرہند مجدد باخدا کے واسطے

خواجہ معصوم اور ابوالقاسم محمد نقشبند
شاہ زبیر و خواجہ اشرف اتقیا کے واسطے

شاہ جمال اللہ شاہِ عیسیٰ محمد باوفا
خواجہ فیض اللہ غلام مجتبےٰ کے واسطے

خواجہ نور محمد و فقیر مصطفےٰ
حضرت شاہِ جماعت خوش ادا کے واسطے

صورت و سیرت میں یکتا سید محمد حسین
دین و دنیا میں ہمارے رہنما کے واسطے

اے خدا، اے مالکِ ارض و سما
بخش دے میرے گناہ سب اولیاء کے واسطے

مشکلیں آسان ہوں اور حاجتیں بر آئیں سب
نقشبندی سلسلہ کے اولیاء کے واسطے

(تاریخِ مشائخ نقشبند)

...

Dil mera Duniya Pe Sheda Ho Gaya

 

دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
اے مِرے اﷲ یہ کیا ہو گیا

کچھ مرے بچنے کی صورت کیجیے
اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہو گیا

عیب پوشِ خلق دامن سے ترے
سب گنہ گاروں کا پردہ ہو گیا

رکھ دیا جب اُس نے پتھر پر قدم
صاف اک آئینہ پیدا ہو گیا

دُور ہو مجھ سے جو اُن سے دُور ہے
اُس پہ میں صدقے جو اُن کا ہو گیا

گرمیِ بازارِ مولیٰ بڑھ چلی
نرخِ رحمت خوب سستا ہو گیا

دیکھ کر اُن کا فروغِ حسنِ پا
مہر ذرّہ ، چاند تارا ہو گیا

رَبِ سَلِّمْ وہ اِدھر کہنے لگے
اُس طرف پار اپنا بیڑا ہو گیا

اُن کے جلوؤں میں ہیں یہ دلچسپیاں
جو وہاں پہنچا وہیں کا ہو گیا

تیرے ٹکڑوں سے پلے دونوں جہاں
سب کا اُس دَر سے گزارا ہو گیا

السلام اے ساکنانِ کوے دوست
ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہو گیا

اُن کے صدقے میں عذابوں سے چھٹے
کام اپنا نام اُن کا ہو گیا

سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہو گیا

حسنِ یوسف پر زلیخا مٹ گئیں
آپ پر اﷲ پیارا ہو گیا

اُس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
آپ کے دَر کا جو کتا ہو گیا

زاہدوں کی خلد پر کیا دُھوم تھی
کوئی جانے گھر یہ اُن کا ہو گیا

غول اُن کے عاصیوں کے آئے جب
چھنٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہو گیا

جا پڑا جو دشتِ طیبہ میں حسنؔ
گلشن جنت گھر اُس کا ہو گیا

 ذوقِ نعت

...

Zamane bhar mey Mumtaz-o-Juda hona Mubarak ho

زمانے بھر میں ممتاز و جدا ہونا مبارک ہو
(ممتاز قادری کے نام )
عرض نمودہ : ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدرضوی 
 
نبی کی شانِ اقدس پہ فدا ہونا مبارک ہو
زمانے بھر میں ممتاز و جدا ہونا مبارک ہو
 
چلے آ مطمئن ہوکر ، چلے آ مطمئن ہوکر
تری خاطر ملائک کی ندا ہونا مبارک ہو
 
جنازہ دے رہاتھا یہ گواہی حق پہ ہے ممتاز
ترا ممتاز ، محبوبِ خدا ہونا مبارک ہو
 
میں ہوں ممتاز ہاں ممتاز ہاں ممتاز ہوں میں بھی
زمانے بھر میں اب ایسی صدا ہونا مبارک ہو
 
نشانِ منزلِ الفت ترا مرقد بنے گا اب
تری تربت پہ رحمت کی رِدا ہونا مبارک ہو
 
قیامت تک پڑھے جائیں گے خطبے تیری چاہت کے
گلستانِ عقیدت میں فدا ہونا مبارک ہو
 
چلیں گے کاروانِ اہل حق تیری قیادت میں
محبت کی ڈگر کا مقتدا ہونا مبارک ہو
 
مشاہدسرخرو ہوں گے نبی کے نام لیوا سب 
نبی کے در کا تیرا بھی ، گدا ہونا مبارک ہو

 

...

Mumtaz Qadri ki khidmat mey Salam

تیری ممتاز شوکت پہ لاکھوں سلام
تیری ممتاز قوّت پہ لاکھوں سلام
ہنستے ہنستے ہوئے چڑھ گیا دار پر
تیری ممتاز جرأت پہ لاکھوں سلام
دار پر بھی ثنا لب پہ جاری رہی
تیری ممتاز عادت پہ لاکھوں سلام
چاند سا منہ چمکتا دمکتا ترا
تیری ممتاز طلعت پہ لاکھوں سلام
کرگیا کام ”ممتاز” ممتاز تُو
تیری ممتاز خدمت پہ لاکھوں سلام
تھا جنازہ گواہی کہ حق پر ہے تو
تیری ممتاز عظمت پہ لا کھوں سلام
تو نے ناموس کا حق ادا کردیا
تیری ممتاز رفعت پہ لاکھوں سلام
تجھ سے ایوانِ باطل سہم سا گیا
تیری ممتاز ہیبت پہ لاکھوں سلام
 تیری چاہت کے خطبے رہیں گے سدا
تیری ممتاز عزت پہ لاکھوں سلام
شرق سے غرب تک آج چرچا ترا
تیری ممتاز شہرت پہ لاکھوں سلام
پڑھ رہا ہے مُشاہد بصد شوق و ناز
تیری ممتاز شوکت پہ لاکھوں سلام

...

Poetry of Peer Syed Ghulam Mohiuddin Golra Sharif

 

 

حضرت پیر سید غلام محی الدین بابوجی گولڑہ شریف علیہ الرحمۃ

اس مملکت کا مردِ مسلماں چلا گیا
روتا ہوں میں کہ پیکر ایماں چلا گیا

بے دست وپا تھے سربازار لٹ گئے
ناموسِ مصطفیٰ کا نگہباں چلا گیا

اے مرگِ ناگہاں تِرا شکوےٰ کریں تو کیا
جائیں کہاں کہ درد کا درماں چلا گیا

رویا کروں گا اُں کی جدائی میں روز و شب
میرے لیے تو منبع عرفاں چلا گیا

اُن کا وجود آیۂ ربِّ و دود تھا
میر اُمم کے عشق کا عنواں چلا گیا

یہ سوچتا ہوں اُں سے اب ملاقات کہاں
رختِ سفر لپیٹ کے سلطاں چلا گیا

دینِ ہدیٰ کی جوت جگائی تمام عمر
طاعت گزارِ خواجہ گیہاں چلا گیا

ا ُس کی نظیر کرۂ ارضی پہ اب کہاں
ابھرا، اُبھر کے نیّر تاباں چلا گیا

دیکھے ہیں میں نےاُس کی لحد پر ملائکہ
خلدِ بریں میں یوسفِ کنعاں چلا گیا

 

 

...

Poetry of Peer Syed Ghulam Mohiuddin Golra Sharif

 

 

حضرت پیر سید غلام محی الدین بابوجی گولڑہ شریف علیہ الرحمۃ

اس مملکت کا مردِ مسلماں چلا گیا
روتا ہوں میں کہ پیکر ایماں چلا گیا

بے دست وپا تھے سربازار لٹ گئے
ناموسِ مصطفیٰ کا نگہباں چلا گیا

اے مرگِ ناگہاں تِرا شکوےٰ کریں تو کیا
جائیں کہاں کہ درد کا درماں چلا گیا

رویا کروں گا اُں کی جدائی میں روز و شب
میرے لیے تو منبع عرفاں چلا گیا

اُن کا وجود آیۂ ربِّ و دود تھا
میر اُمم کے عشق کا عنواں چلا گیا

یہ سوچتا ہوں اُں سے اب ملاقات کہاں
رختِ سفر لپیٹ کے سلطاں چلا گیا

دینِ ہدیٰ کی جوت جگائی تمام عمر
طاعت گزارِ خواجہ گیہاں چلا گیا

ا ُس کی نظیر کرۂ ارضی پہ اب کہاں
ابھرا، اُبھر کے نیّر تاباں چلا گیا

دیکھے ہیں میں نےاُس کی لحد پر ملائکہ
خلدِ بریں میں یوسفِ کنعاں چلا گیا

 

 

...

Saney Ne Ik Baagh Lagaya


صانع نے اِک باغ لگایا
باغ کو رشک خلد بنایا

خلد کو اس سے نسبت ہو کیا
گلشن گلشن صحرا صحرا

چھائے لطف و کرم کے بادل
آئے بذل و نعم کے بادل

خوب گھریں گھنگھور گھٹائیں
کرنے لگیں غل شور گھٹائیں

لہریں کرتی نہریں آئیں
موجیں کرتی موجیں لائیں

سرد ہوا کے آئے جھونکے
آنکھوں میں نیند کے لائے جھونکے

سبزہ لہریں لیتا نکلا
مینہ کو دعائیں دیتا نکلا

بولے پپیہے کوئل کوکی
ساعت آئی جام و سبو کی

پھرتی ہے بادِ صبا متوالی
پتے پتے ڈالی ڈالی

چپے چپے ہوائیں گھومیں
پتلی پتلی شاخیں جھومیں

فصلِ بہار پر آیا جوبن
جوبن اور گدرایا جوبن

گل پر بلبل سرو پہ قمری
بولے اپنی اپنی بولی

چٹکیں کچی کچی کلیاں
خوشبو نکلی بس گئیں گلیاں

آئیں گھٹائیں کالی کالی
جگنو چمکے ڈالی ڈالی

کیوں کر کہیے بہار کی آمد
آمد اور کس پیار کی آمد

چال میں سو انداز دکھاتی
طرزِ خرامِ ناز اُڑاتی

رنگ رُخِ گل رنگ دکھاتی
غم کو گھٹاتی دل کو بڑھاتی

یاس کو کھوتی آس بندھاتی
آنکھ کے رستے دل میں سماتی

گھونگھٹ اُٹھائے شاہد گل کا
رنگ جمائے ساغر و مُل کا

طرزِ تبسم سب کو دکھاتی
فرطِ طرب سے ہنستی ہنساتی

ساتھ میں بادل کالے کالے
مست طرب برساتے جھالے

تشنہ لبوں کو پانی دیتی
مژدۂ راحت جانی دیتی

ابر سے دو دو چھینٹے لڑتی
برق سے پیہم ہنستی اکڑتی

آتشِ غم پر چھینٹا دیتی
سوختہ دل کی دعائیں لیتی

حسنِ سراپا نور کا عالم
سر سے پا تک حور کا عالم

مست جوانی محو تجمل
ابرِ سیہ سے کھولے کاکل

پھول کا سر سے پا تک زیور
شکل عروسِ تازہ معطر

اوڑھے دوپٹہ آبِ رواں کا
برق نے جس پر لچکا ٹانکا

لب کی مسی ہے رنگ سوسن
غازۂ عارض جلوۂ گلشن

آتش گل سے کاجل پارا
سُرمہ لگایا پیارا پیارا

باغ نے کی پھولوں کی نچھاور
ڈالی لائے پیڑ بنا کر

کنگھی شانہ بنا کر لائی
نہر آئینہ دکھانے لائی

غنچوں نے اپنی گٹھری کھولی
کشتی لائے قباے گل کی

غل ہے بادِ بہاری آئی
شاہد گل کی سواری آئی

اب کی بہار انداز سے آئی
آئی اور کس ناز سے آئی

پھولے پھول ، عنادِل چہکے
گلشن مہکے، صحرا مہکے

رنگ خزاں عالم سے ہوا ہے
پھولوں سے گلزار بھرا ہے

دامن گل چیں دامن دامن
بھرنے لگے گلہاے گلشن

ذوقِ نعت

...