Maulana Jameel Ur Rahman  

Hamd Hai Us Zaat Ko Jis ne Musalman Kardiya

حمد ہے اس ذات کو جس نے مسلماں کردیا
عشقِ سلطان جہاں سینہ میں پنہاں کردیا

جلوۂ زیبانےآئینہ کو حیراں کردیا
مہرومہ کو انکے تلؤوں نے پیشماں کردیا

اے شہ لولاک تیری آفرینش کے لیے
حق نے لفظ کن سی پیدا سازو ساماں کردیا

کیا کشش تھی سرورِ عالم کے حسن پاک میں
سیکڑوں کفار کو دم میں مسلماں کردیا

ہوگئی کافور ظلمت دل منور ہوگئے
جس طرح بھی اسں نے اپنا روئے تاباں کردیا

نعمت کونین دیکر ان کے دست پاک میں
دونوں عالم کو خدا نے ان کا مہماں کردیا

یاد فرماکر قسم حق نے زمیں پاک کی
خاک نعلِ مصطفےٰ کو تاجِ شاہاں کردیا

دورہی سےسبزگنبد کی جھلک کو دیکھ کر
عاشقوں نے ٹکڑے ٹکڑے جیب و داماں کردیا

اُس عرب کے چاند کا جلوہ مجھے درکار ہے
جس نے ہر ذرے کو اپنے ماہِ تاباں کردیا

سیکڑوں مردہ دلوں کو روئے ایماں بخش کر
زندۂ جاوید اے عیسیٰ دوراں کردیا

گریہ وزاری نے راتوں کو تری ابرکرم
مثلِ گل صبح قیامت ہم کو خنداں کرگیا

یارسول اللہ اغثنی وقت ہے امداد کا
نفس کافر نے مجھے بیحد پریشاں کردیا

تیر نصرت ایسے نازک وقت میں حامی رہی
نجدیوں نے یا نبی لاکھوں کو شیطاں کردیا

ہے جمیل قادری یہ فضل اللہ و رسول
تیرا مرشد حضرت احمد رضا خاں کردیا

قبالۂ بخشش

...

Qubool Banda e Dar Ka Salam Karlaina

قبول بندۂ درکا سلام کرلینا
سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا

مرے گناہوں کے دفتر کھلیں جو پیشِ خدا
حضور اس گھڑی تم لطف عام کرلینا

جو چاہتے ہوکہ سرد آتشِ دوزخ
دلوں پہ نقشِ محمد کا نام کرلینا

ملاہے خوب ہی نسخہ گناہگاروں کو
تمہارے نام سے دوزخ حرام کرلینا

تمہارے حسن میں رکھ کر کشش کہا حق نے
کہ دشمنوں کو دکھا کر غلام کرلینا

یہ ہے حضورکا ہی مرتبہ شب معراج
بغیر واسطہ رب سے کلام کرلینا

حبیب عرش سےبھی پار جاکے رب سے ملے
کلیم کو تھا میسّر کلام کرلینا

خدانے کہہ دیا محبوب سے کہ محشر میں
گناہگاروں کا تم انتظام کرلینا

ہے نزع و قبر و قیامت کا خوف اگر تم کو
تو وردِ نام نبی صبح و شام کرلینا

مدینے جاتے ہیں زائر تو ان سے کہتا ہوں
مری طرف سے بھی عرض اک سلام کرلینا

جمیل قادری اٹھو جو عزم طیبہ ہے
چلو یہ عمر وہیں پرتمام کرلینا

قبالٔہ بخشش

...

Do Alam Main Roshan Hai Ika Tumhara

دو عالم میں روشن ہےاکا تمہارا
ہوا لامکاں تک اجالا تمہارا

نہ کیوں گائے بلبل ترانہ تمہارا
کہ پاتی ہے ہر گل میں جلوہ تمہارا

زمیں والے کیا جانیں رتبہ تمہارا
ہے اونچا فلک سے پھر یرا تمہارا

پڑھا بے زبانوں نے کلمہ تمہارا
ہے سنگ و شجر میں بھی چرچا تمہارا

چھڑائے گا غم سے اشارہ تمہارا
اتارے گا پل سے سہارا تمہارا

تمہیں ہو جوابِ سوالاتِ محشر
تمہیں کو پکارے گا بندہ تمہارا

فترضےٰ کی یہ پیاری پیاری صدا ہے
کہ ہوگا قیامت میں چاہا تمہارا

مرے پاس بخشش کی مہری سند ہے
یہ کہتا ہے خطِ شفیعا تمہارا

پھیریں کس لیے تشنہ کامانِ محشر
ہے لبریز رحمت کا دریا تمہارا

بہت خؤش ہیں عشاق جب سے سنا ہے
قیامت میں ہوگا نظارا تمہارا

نہیں ہے اگر زہد و طاعت تو کیا غم
وسیلہ تو لایا ہوں مولےٰ تمہارا

ہو تم حاکم و فاتح باب رحمت
کہ ہے وصف انا فتحنا تمہارا

عمل پوچھے جاتے ہیں سرکار آؤ
کہیں ڈر نہ جائے نکما تمہارا

جو انبار عصیاں ہیں سر پر تو کیا غم
بہا دے گا اِک دم میں اہلا تمہارا

ڈرے آفتابِ قیامت سے کیوں کر
جو بندہ ہوا میرے آقا تمہارا

بنایا تمہیں حق نے مختار و حاکم
وہ کیا ہے نہیں جس پہ قبضہ تمہارا

کیا حق نے بحر کمالات تم کو
نہ پایا کسی نے کنارہ تمہارا

میسر کسی کو نہیں ایسی رفعت
کہ جیسا ہوا پایہ بالا تمہارا

رفعنا کا جلوہ دکھانے کو حق نے
لکھا عرش پر نامِ والا تمہارا

قبائل کے حصے کیے جب خدا نے
کیا سب سے اعلیٰ قبیلہ تمہارا

اذانوں میں خطبوں میں شادی وغم میں
غرض ذکر ہوتا ہے ہر جا تمہارا

یہ فرش زمیں ہے تمہاری ہی خاطر
بنا ہے سما ء شامیانہ تمہارا

منور ہوا آسمانِ رسالت
اجالا ہے ایسا دل آرا تمہارا

بھرے اسمیں اسرار و علمِ دو عالم
کشادہ کیا حق نے سینہ تمہارا

بحکم خداتم ہو موجود ہر جا
بظاہر ہے طیبہ ٹھکانا تمہارا

تمہاری صفت حق نے فرمائی شاہد
ہر ایک جا ہے موجود جلوہ تمہارا

کسی جاہے طٰحٰہ و یٰس کہیں پر
لقب ہے سراجامنیراً تمہارا

جسے حق کے دیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے میری جان چہرہ تمہارا

خدا ہم کو بخشے وہ چشم خدا بیں
رہے کچھ نہ پردہ ہمارا تمہارا

کیا تم کو نور مجسم خدا نے
زمیں پر نہیں پڑتا سایہ تمہارا

کمالوں کا مخزن جمالوں کا گلشن
خدا نے بنایا گھرانا تمہارا

دل پاک بیدار اور چشم خفتہ
نرالا تھا عالم میں سونا تمہارا

خدا نے کیا اپنے پیارے سے وعدہ
وہ پیارا ہمارا جو پیارا تمہارا

وہی ہے خداکی قسم بندۂ حق
ہوا جو بھی دنیا میں بندہ تمہارا

صحابہ سے تقدیر والوں کے قرباں
ہے پایا جنہوں نے زمانہ تمہارا

شبِ وصل میں ابنیا و ملک نے
پڑھا آسمانوں پہ خطبہ تمہارا

گمی عقل کونین راز دنی میں
سمجھ میں نہ آیا معمار تمہارا

مبدل ہوئے انبیاکے صحائف
محرف نہ ہوگا صحیفہ تمہارا

ہوا کفر کا فور پھیلا اجالا
قدم جب ہوا زیب دیناتمہارا

جو عبدالصنم تھے ہوئے بت شکن وہ
سنا جب نبوت کا دعویٰ تمہارا

مقدر میں تھا جن کے ایمان لانا
وہ فوراً بنا دل سے بندہ تمہارا

رضاعت کے ایام میں یہ حکومت
کہ تھا قرصِ مہ ایک کھلونا تمہارا

شہ دیں تمہاری ولادت کے باعث
ہے جمعہ سے افضل دوشنبہ تمہارا

بتوں سے کیا پاک قبلہ بنایا
ہے ممنون و شاکر یہ کعبہ تمہارا

بھلا کون کعبہ کو کعبہ سمجھتا
جو آقا نہ ہوتا مدینہ تمہارا

جمادات نے دی تمہاری شہادت
پڑھا سنگریزوں نے کلمہ تمہارا

صدا دے رہا ہے حجر موم ہوکر
مہ مہر کی جاں ہے تلوا تمہارا

تمہارے ہی سایہ میں پلتا ہے عالم
ہے کونین کے سرپہ سایہ تمہارا

ازل سے ابد تک دو عالم پلیں گے
مگر کم نہ ہوگا خزانہ تمہارا

خدا ہے تمہارا خدائی تمہاری
یہ عرش و فلک سب علاقہ تمہارا

غریبو سوائے در مصطفیٰ کے
کہیں بھی نہ ہوگا گزارا تمہارا

فقیرو بجز وائی بیکساں کے
نہیں ہے کہیں بھی ٹھکانا تمہارا

گداؤں کی ہے بھیڑ جب سےسنا ہے
کہ بابِ اجابت ہوا وا تمہارا

صدا دیتے آتے ہیں منگتا ہزاروں
کہ داتا رہے بول بالا تمہارا

کوئی بھیج دو ابرِ رحمت کا ٹکڑا
کہ ہم پر برس جائے جھالا تمہارا

عرب والے پھیرا ہماری طرف بھی
ہےہر سمت رحمت کا دورا تمہارا

اسی وقت دھلجائیں عصیاں کے دفتر
شہا جس پہ پڑجائے چھیٹا تمہارا

خدا نے بہت آستانے بنائے
مگر اصل ہے آستانہ تمہارا

مطالب کا قبلہ ہے گر سبز گنبد
مقاصد کا کعبہ ہے روضہ تمہارا

یہ ہے داب شاہی کہ رب العلا نے
دلایا ملائک سے پہرہ تمہارا

سوائے درِ پاک کے میرے آقا
بتاؤ کہاں جائے منگتا تمہارا

نہ بچتے عذابوں سے دنیا میں منکر
جو ان کو ان ملتا وسیلہ تمہارا

کھدا ہے مرے دل کی انگشتری پر
وہ نامِ خدا نامِ والا تمہارا

نکیرین کیا مجھ سے سختی کریں گے
ہے آئینہ دل میں نقشہ تمہارا

خدا یا نکیرین مجھ سے یہ پوچھیں
کہ پہنچا دیں طیبہ کو لاشہ تمہارا

تڑپ کر بصد شوق ان سے کہوں میں
میں بے حد ہی ممنون ہوں گا تمہارا

دعا ہے کہ جب وقت ہوجا نکنی کا
ہو دل میں احد لب پہ کلمہ تمہارا

خدا نے حیاتِ ابد اس کو بخشی
اگر مر گیا کوئی شیدا تمہارا

دعا ہے کہ جب قبر میں مجھ کو رکھیں
مدینے سے اٹھ جائے پردہ تمہارا

سوا ل ِنکیرین پرمیں لحد میں
دکھا دونگا مولےٰ یہ طغرا تمہارا

دمِ نزع و قبر اور روز قیامت
غرض ہر جگہ ہے سہارا تمہارا

گرے سارے منکر جہنم میں پل سے
نہ پھسلا کوئی نام لیوا تمہارا

نہ حوروں کا طالب نہ کچھ فکر جنت
دکھا دے خدا مجھ کو صحرا تمہارا

عجب نگہت جانفزا ہے تمہاری
کوئی راہ بھٹکا نہ جو یا تمہارا

اسی سے ہوئی عنبر و مشک مشتق
ہے خوشبو کا مصدر پسینہ تمہارا

جلیں منکر ان قیام وولادت
رہے گا یہ چرچا ہمیشہ تمہارا

سنو منکرانِ قیام و محافل
عجب رنگ کا ہے عقیدہ تمہارا

بتاتے ہو شرک اور ہوتے ہو شامل
یہ ہے بےحیائی کا آنا تمہارا

جمیؔل اب تو خوش ہو ندا آرہی ہے
کہ مقبول ہے یہ قصیدہ تمہارا

قبالٔہ بخشش

...

Khuda Ne Jis K Sar Per Taj Rakha Apni Rehmat Ka


خدا نے جس کے سرپرتاج رکھا اپنی رحمت کا
درود اس پر ہو، وہ حاکم بنا ملک رسالت کا

وہ ماحی کفر و ظلمت شرک و بدعات و ضلالت کا
وہ حافظ اپنی ملت کا وہ ناصر اپنی امت کا

مداوا کیسے فرمائے کوئی بیمارِ فرقت کا
کہ دیدار نبی مرہم ہے اس دل کی جراحت کا

اثر کیا ہو سکے گا مہر محشر کی حرارت کا
ہمارے سر پہ ہوگا شامیانہ انکی رحمت کا

کبھی دیدار حق ہوگا کبھی نظارہ حضرت کا
ہمیں ہنگامۂ عیدین ہوگا دن قیامت کا

نہ کیو ں ہو آشکار تیرا جلوہ ذرہ ذرہ میں
شہنشاہِ مدینہ تو ہےپر تو نورِ وحدت کا

دمِ آخر سرِ بالیں خرامِ ناز فرماؤ
خدارا حال دیکھو مبتلائے وردِ فرقت کا

دمِ آخر سر بالیں یہ فرماتے ہوئے آؤ
نہ گھبرا خوفِ مرقدسےنہ کر کھٹکا قیامت کا

ہمیں بھی ساتھ لےلو قافلہ والو ذرا ٹھہرو
بہت مدت سے ارماں ہے مدینے کی زیارت کا

میر آنکھیں مدینے کی زیارت کو ترستی ہیں
چمک جائے الٰہی اب تو تارا مری قسمت کا

قسم حق کی وہ دن عیدین سے بڑھ کر سمجھوں گا
نظر آئے گا جس دن سبز گنبد انکی تربت کا

میں سمجھوں گا مری کشت ِتمنا میں بہار آئی
نظر آئے گا جس دن سبز گنبد انکی تربت کا

کلی کھل جائے گی دل کی جگر ہوجائےگا ٹھنڈا
نظر آئے گا جس دن سبز گنبد انکی تربت کا

میں سمجھوں گا ہوا جنت میں داخل موت سے پہلے
نظر آئے گا جس دن سبز گنبد انکی تربت کا

دکھا دے فیض استاد حسن حضار محفل کو
جمیؔل قادری پھر ہوبیاں پر لطف مدحت کا

قبالۂ بخشش

...

Bayan Tum Se Karoun Kis Wastey Main Apni Halat Ka

بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا

خدائی بھر کے مالک ہو خدائی تم سے باہر ہے
نہ کوئی ہے نہ ہوگا حشر تک تم سے حکومت کا

نہ کیوں شاہ وگدا پھیلائیں جھولی آستانے پر
کہ رکھا حق نے تیرے سر پہ تاج اپنی نیابت کا

تو وہ ہے ظل حق نور مجسم پر تو قدرت
پسند آیا ترے صانع کو نقشہ تیری صورت کا

مرے والی ترے صدقہ میں ہم سے نابکاروں نے
لقب قرآن میں پایا خداسے خیر امت کا

انہیں کیا خوف ہو عقبی کا اور کیا فکر دنیا کی
جمائے بیٹھے ہیں جو دل پہ نقشہ تیری صورت کا

شرف بخشا انہیں مولیٰ تعالیٰ نے ملائک پر
صلہ پایا یہ جبریل امیں نے تیری خدمت کا

مدینے میں ہزاروں جنتیں ان کو نظر آئیں
نظارہ کرتو لیں اک بار رضواں میری جنت کا

رجاؤیاس دامید و تمنا دل کے اندر ہیں
مرا سینہ نہیں گویا کہ گنجینہ ہے حسرت کا

نہ عابد ہیں نہ زاہد ہیں مگر ہم تیرے بندے ہیں
سہارا ہے ہمیں تیری حمایت کا شفاعت کا

رسول اللہ کا جو ہوگیا رب ہوگیا اس کا
فقط ذاتِ مقدس ہےوسیلہ حق کی قربت کا

بلندی فلک کا جب کبھی مجھ کو خیال آیا
کھچا نقشہ مری آنکھوںمیں روضے کی زیارت کا

بجز دیدار جاسکتی ہے کیوں کر تشنگی اس کی
جو پیاسا ہے مرے مولاتری رویت کے شربت کا

وہ گیسوئے مبارک کیوں نہ جانِ مشک و عنبر ہوں
کہ جن کے واسطے شانہ بنا ہے دستِ قدرت کا

عبث ہے اس کو اہلِ بیت سے دعویٰ محبت کا
جو منکر ہوگیا صدیق اکبر کی خلافت کا

منافق جس قدر چاہیں کریں کوشش گھٹا نے کی
قیامت تک رہے گا بول بالا اہلسنت کا

ابو جہل لعیں عالم ہے جس کے کفر پر شاہد
تعجب کیا اگر دشمن تھا وہ شانِ رسالت کا

وہابی کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں توہین مولیٰ کی
بروز حشر لے کر آئیں گے تمغہ عداوت کا

وہابی تخم بو جہل لعیں کا ایک پودا ہے
ثمر لاتا ہےمحبوب الہٰی کی عداوت کا

علوم غیب کا منکر تری تنقیص کا جویاں
وہابی بن گیا پتلا ضلالت کا خباثت کا

جمیل قادری کی یا نبی اتنی تمنا ہے
چھپا لے روز محشر اس کو دامن تیری رحمت کا

قبالۂ بخشش

 

...

Woh Husun Hai Aey Sayed e Abrar Tumhara

وہ حسن ہے اے سیدابرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالب دیدار تمہارا

محبوب ہو تم خالق کل مالک کل کے
کیوں خلق پہ قبضہ نہ ہوسرکار تمہارا

کیوں دید کے مشتاق نہ ہوں حضرت یوسف
اللہ کا دیدار ہے دیدار تمہارا

اللہ نے بنایا تمہیں کو نین کا حاکم
اور رکھا لقب احمد مختار تمہارا

بگڑے ہوئے سب کام سنبھل جائیں اسی دم
دل سے کوئی گرنام لے اک بار تمہارا

امت کے ہو تم حامی و غمخوار طرفدار
اللہ تعالیٰ ہے طرفدار تمہارا

تم اول و آخر ہو تمہیں باطن و ظاہر
رب کرتا ہے یہ مرتبہ اظہار تمہارا

کیا جانیے ما اوحیٰ میں کیا راز ہیں مخفی
تم جانتے ہو یا وہی ستار تمہارا

تم پیارے نبی نور جلی سر خفی ہو
اللہ تعالیٰ ہے خبردار تمہارا

سر ہے وہی سر جس میں ترا دھیان ہے ہر آن
اور دل ہے وہی جو ہے طلبگار تمہارا

جس کو مرض عشق نہیں ہے وہ ہے بیمار
اچھا تو وہی ہے جو ہے بیمار تمہارا

ہر وقت ترقی پہ رہے در محبت
چنگا نہ ہو مولیٰ کبھی بیمار تمہارا

دل میں نہیں کچھ اس کے سوا اور تمنا
اللہ دکھا دے ہمیں دربار تمہارا

یہ ارض و سما خوان ہیں مہمان زمانہ
سرکار نہیں کون نمک خوار تمہارا

ہر دم ہے تمہیں اپنی غلاموں پہ عنایت
دن رات کا یہ کار ہے سرکار تمہارا

بے مانگے عطا کرتے ہو من مانی مرادیں
دینا ہے غلاموں کو ہے کردار تمہارا

کیوں عرض کروں مجھ کو ہے اس چیز کی حاجت
سب جانتا ہے یہ دلِ بیمار تمہارا

بالیں پہ چلے آؤ دمِ نزع خدارا
دم توڑتا ہے ہجر میں بیمار تمہارا

لاشے کو کریں دفن مدینہ میں فرشتے
مرجائے اگرہند میں بیمار تمہارا

پرواز کرے جسم سے جب روح تو دل میں
اللہ ہو اور لب پہ ہو اقرار تمہارا

امت بھی تمہاری ہوئی اللہ کو پیاری
اللہ سے وہ پیار ہے سرکار تمہارا

اٹھ جائے مدینے سے لحد کا مری پردہ
میں دیکھ لو وہ چاند سا رخسار تمہارا

دن رات جو کرتے ہیں خطاؤں پہ خطاہیں
بخشش کے لیے ان کی ہے اصرار تمہارا

اللہ نے وعدہ یہ کیا ہے شب معراج
دوزخ میں رہے گا نہ گنہگار تمہارا

جب تم کو بلایا شبِ معراج خدا نے
جبریل بنا غاشیہ بردار تمہارا

بندوں کو کسی وقت بھی دل سے نہ بھلایا
ہے امت عاصی پہ عجب پیار تمہارا

کیوں عاصیوں غم سے ہی دل افگار تمہارا
غمخوار تمہارا ہے وہ دلدار تمہارا

لو آیا وہ حامی و مددگار تمہارا
بیڑاا ہوا اے اہل سنن پار تمہارا

اے عاصیوں تم اپنے گناہوں سے یہ کہدو
سرکار مدینہ ہے خریدار تمہارا

میدا ن قیامت میں بجز ذات مقدس
اور عاصیوں ہے کون خریدار تمہارا

گھبرائے گنہگار تو رحمت نے پکارا
اے عاصیوں آپہنچا مددگار تمہارا

اعمال نہ کچھ پوچھنا رحمت کے مقابل
جس وقت جمے حشر میں دربار تمہارا

دنیا میں قیامت میں سر پل پہ لحد میں
دامن نہ چھٹے ہاتھ سے سرکار تمہارا

اے کاش ملائک سر محشر کہیں مجھ سے
لو دھل گیا سب جرموں کا طومار تمہارا

اعداد کو جلانے کے لیے نار حسد میں
ہم ذکر کیے جائیں گے سرکار تمہارا

تو حید پہ مرتے ہیں مگر اس سے ہیں غافل
اللہ کا انکار ہے انکار تمہارا

توہین کو توحید سمجھتے ہیں وہابی
سمجھے انہیں رب واحد قہار تمہارا

بلبل ہے جمیلِ رضوی اے گل وحدت
مل جائے اسے رہنے کو گلزار تمہارا

قبالۂ بخشش

...

Khuda Ne Is Qadar Uncha Kiya Paaya Muhammad Ka

خدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہنچا نا کسی نے آج تک رتبہ محمد کا

بحکم حق اترتے ہیں فرشتے خاص رحمت کے
کیا کرتے ہیں جب اہل سنن چرچا محمد کا

تعجب کیا اگر انسان گزارے عمر مدحت میں
ثنا خواں ہے دو عالم میں ہر ایک ذرہ محمد کا

سیہ کاروں کی کیا گنتی کہ درگاہ الہٰی میں
وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں حضرت موسیٰ محمد کا

عدیم المثل ولاثانی ہے وہ ذات مبارک یوں
بنایا ہی نہیں اللہ نے سایہ محمد کا

بڑھی جب ظلمت کفرو ضلالت بزم دنیا میں
توروشن کردیا اللہ نے اکا محمد کا

کسی تیرا ک کو اس کا کنارہ مل نہیں سکتا
کہ جاری بحروحدت سے ہوا چشمہ محمد کا

شہنشاہِ مدینہ بادشاہِ ہفت کشور ہے
ہوا اللہ کی ہرشے پہ ہے قبضہ محمد کا

تصدق ایسی رفعت پر کہ برسوں قبل دنیا میں
سناتے آئے مژدہ حضرت عیسیٰ محمد کا

نرالی پیاری پیاری روشنی ہے شمع باری میں
کہ ہے سارا زمانہ دل سے پروانہ محمد کا

مدینے کے مقدر عرش کی تقدیر پر قرباں
کہاں قسمت کہ اس دل میں ہو کاشانہ محمد کا

رفعنا کا رکھا ہے تاج سر حق تعالیٰ نے
پھر یر اعرش اعظم پر اُڑا کس کا محمد کا

نہ کیوں کر مشک و عنبر مست ہوں گیسو کی خوشبو سے
کہ حق کا دست قدرت ہوگیا شانہ محمد کا

الم نشرح لک صدرک سے یوں آواز آتی ہے
کشادہ کردیا اللہ نےسینہ محمد کا

بصیرت حق نے دی ہے جن کی آنکھوں کو وہ کہتے ہیں
ہے روشن مہرومہ سےبڑھ کے ہر ذرہ محمد کا

خرابی آنکھ کی ہے گرنہ دیکھے ان کے جلوے کو
کہ عالم میں کسی سے بھی نہیں پردہ محمد کا

بلاوصل نبی وصل الہی غیر ممکن ہے
خدا کے گھر پہنچنے کو ہے دروازہ محمد کا

گنہگاروں کی اس سےمشکلیں آسان ہوتی ہیں
نہ کیوں کر سب سے بڑھ کر نام ہو پیارا محمد کا

نہیں ہے جوغلام مصطفیٰ بندہ ہے شیطان کا
وہی ہے بندۂ حق جو ہوا بندہ محمد کا

جمیل قادری ایسی سنارنگیں غزل کوئی
کہ بیخود ہو یہاں ہر ایک مستانہ محمد کا

قبالۂ بخشش

...

Hamarey Dil K Aieney Main Hai Naqsha Muhammad Ka

ہمارے دل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
ہماری آنکھ کی پتلی میں جلوہ محمد کا

خس و خاشاک سے بدتر ہے بیگانہ محمد کا
اسے ہوشیار سمجھو جو ہے دیوانہ محمد کا

تمہارےہی لیے تھا اے گنہگار روسیہ کا رو
وہ شب بھر جاگنا اور رات بھر رونا محمد کا

غلامانِ محمد کے سروں سے بارعصیاں کو
اڑا لیجائیگا اک آن میں جھونکا محمد کا

سیہ ہیں نامۂ اعمال اپنے گر چہ اے زاہد
مگر کافی ہے دھلنے کے لیے چھینٹا محمد کا

ندا ہوگی یہ محشر میں گنہگارو نہ گھبراؤ
وہ دیکھو ابر رحمت جھوم کر اٹھا محمد کا

اگر چہ عابدوں کےپاس سامانِ عبادت ہے
گنہگاروں کو کافی ہے فقط ایما محمد کا

لحد کا خوف کیوں ہو روز محشر کا ہو کیا کھٹکا
لیے جاتا ہوں دل پرلکھ کے میں طغرا محمد کا

خدا کے سامنے پیشی ہوئی جس دم تو کہہ دوں گا
برا ہوں یا بھلا لیکن ہوں میں بندہ محمد کا

تعجب کیا اگر منہ پھیر لے جنت سے شیدائی
کہ ہے رشک بہار خلد ہر کوچہ محمد کا

کو ئی جائے گا دوزخ کو کوئی جنت میں پہنچے گا
مدینے کی طرف دوڑے گا دیوانہ محمد کا

الہٰی اس تنِ خاکی میں جب تک جان باقی ہے
رہے دل میں احد اورور دِلب کلمہ محمد کا

نکالیں روح تن سے قابض الارواح جب آکر
خدا یا وردلب اس وقت ہو کلمہ محمد کا

ھوا المعطی والی قاسم سے صاف ظاہر ہے
بٹے گا حشر تک کونین میں باڑا محمد کا

نہیں موقوف کچھ ان کی عطا اس ایک عالم پر
ملے گا حشر میں بھی دیکھا صدقہ محمد کا

جمیل قادری مشکل ہے مدحت ختم کر اس پر
کہ حق کے بعد بالا سب سے ہے رتبہ محمد کا

میں ہوں بندہ رضا کا اور رضا احمد کے بندہ ہیں
جمیل قادری میں یوں ہوا بندہ محمد کا

قبالۂ بخشش

...

Kon Hai Woh Jo Likhe Rutba e Aaala Un Ka

کون ہے وہ جو لکھے رتبۂ اعلےٰ ان کا
وصف جب خود ہی کرے چاہنے والا ان کا

کیوں دل افروز نہ ہو جلوۂ زیبا ان کا
دونو ں عالم میں چمکتا ہے تجلی ان کا

نعمتوں کا ہے خزانہ در والا ان کا
دونوں عالم میں بٹاکرتا ہے باڑا ان کا

ایک عالم ہی نہیں والہ دشید ان کا
ہے خدا وند جہاں چاہنے والا ان کا

تشنگی دل کی بجھا دیتا ہے چھینٹا ان کا
خوان افضال پہ مہماں ہے زمانہ ان کا

سر بسر نور خدا ہے قد بالا ان کا
نور بھردیتا ہے آنکھوں میں اجالا ان کا

ملک و جن و بشر پڑھتے ہیں کلمہ ان کا
جانور سنگ و شجر کرتے ہیں چرچا ان کا

کون سی شے ہے وہ جس پر نہیں قبضہ ان کا
کعبہ وارض و سما عرش معلے ان کا

زندگی پاتا ہے کونین میں مردہ ان کا
دم بھر ا کرتے ہیں ہر وقت مسیحا ان کا

حشر میں پل سے اتارے گا سہارا ان کا
بیڑیاں کٹنے کو کافی ہے اشارہ ان کا

مجھ سا عاضی نہ سہی کوئی مگر اے زاہد
جنسا شافع نہیں ہے مجھ کو وسیلہ ان کا

ذکر سے ٹیک لگی دل کو خدایا دآیا
فکر سے ہوگیا آنکھوں کو نظارہ ان کا

بھیک لینے کو چلے آتے ہیں لاکھوں منگتا
جس نے جو مانگا دیا کام ہے دینا ان کا

چاند سورج شب اسریٰ میں مقابل ہی نہ تھے
منہ چھپا لیتے اگر دیکھتے تلوا ان کا

بو سے لیتا کبھی آنکھوں کو منور کرتا
ہاتھ آتا جو کہیں نقشِ کفِ پا انکا

آنکھ اٹھا کر نہ کبھی دیکھتے وہ جنت کی طرف
اک نظر دیکھ لیا جس نے مدینہ ان کا

جان و دل کرتیں فدانقش قدم پہ ان کے
دیکھ لیتیں جو کبھی حسن زلیخا ان کا

حشر والے یہ کہیں دیکھ کے محشر میں مجھے
وہ چلا آتا ہے اک بندۂ شیدا ان کا

دی منادی نے ندا حشر میں اے مشتاقو
دیکھ لو آج کہ بے پردہ ہے جلوہ ان کا

سب مہینوں میں مبارک ہے ربیع الاول
جمعہ سے فضل میں برتر ہے دو شنبہ ان کا

میں رضا کا ہوں رضا ان کے تو میں ان کا ہوں
یوں ہی رکھے مجھے اللہ تعالیٰ ان کا

تجھ کو کیا فکر ہے بخشش کی جمؔیل رضوی
ہاتھ میں ہے ترے دامانِ معلّٰے ان کا

قبالۂ بخشش

...