Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Imam ul AuliaHazrat Ahmad Kabir Rifaee

تم ہو حسرت نکالنے والے
نامرادوں کے پالنے والے

میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا
آپ ہیں جب سنبھالنے والے

تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
اور ہوتے ہیں ٹالنے والے

لبِ جاں بخش سے جِلا دل کو
جان مردے میں ڈالنے والے

دستِ اقدس بجھا دے پیاس مری
میرے چشمے اُبالنے والے

ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں
تخت پر خاک ڈالنے والے

روزِ محشر بنا دے بات مری
ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے

بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
اے غریبوں کے پالنے والے

ختم کر دی ہے اُن پہ موزونی
واہ سانچے میں ڈھالنے والے

اُن کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے

پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
ڈوبتوں کو نکالنے والے

خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا
اَرے او نام اچھالنے والے

کام کے ہوں کہ ہم نکمّے ہوں
وہ سبھی کے ہیں پالنے والے

زنگ سے پاک صاف کر دل کو
اندھے شیشے اُجالنے والے

خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے
دل سے کانٹا نکالنے والے

ذوقِ نعت

...

Allah Allah Shah e Konain


اﷲ اﷲ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے
ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری

تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلک خدا کا مالک
راج تیرا ہے زمانے میں حکومت تیری

تیرے انداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو ترے
سب حسینوں میں پسند آئی ہے صورت تیری

اُس نے حق دیکھ لیا جس نے اِدھر دیکھ لیا
کہہ رہی ہے یہ چمکتی ہوئی طلعت تیری

بزم محشر کا نہ کیوں جائے بلاوا سب کو
کہ زمانے کو دکھانی ہے وجاہت تیری

عالم رُوح پہ ہے عالم اجسام کو ناز
چوکھٹے میں ہے عناصر کے جو صورت تیری

جن کے سر میں ہے ہوا دشتِ نبی کی رضواں
اُن کے قدموں سے لگی پھرتی ہے جنت تیری

تو وہ محبوب ہے اے راحتِ جاں دل کیسے
ہیزمِ خشک کو تڑپا گئی فرقت تیری

مہ و خورشید سے دن رات ضیا پاتے ہیں
مہ و خورشید کو چمکاتی ہے طلعت تیری

گٹھریاں بندھ گئی پر ہاتھ ترا بند نہیں
بھر گئے دل نہ بھری دینے سے نیت تیری

موت آ جائے مگر آئے نہ دل کو آرام
دم نکل جائے مگر نکلے نہ اُلفت تیری

دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اﷲ اﷲ
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری

مجمعِ حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
ڈھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت تیری

نہ ابھی عرصۂ محشر نہ حسابِ اُمت
آج ہی سے ہے کمر بستہ حمایت تیری

تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والے
درد دُکھ بھول گئے دیکھ کے صورت تیری

ٹوپیاں تھام کے گر عرشِ بریں کو دیکھیں
اُونچے اُونچوں کو نظر آئے نہ رفعت تیری

حُسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالم تیرا
جس کو اﷲ کرے پیار وہ صورت تیری

دونوں عالم کے سب ارمان نکالے تو نے
نکلی اِس شانِ کرم پر بھی نہ حسرت تیری

چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میں
غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری

ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
تو ہے اُن کا تو حسنؔ تیری ہے جنت تیری

ذوقِ نعت

...

Bagh e Jannat Mein Nirali

اغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے

اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے
اُن کے اَبرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے

سنگریزوں نے حیاتِ ابدی پائی ہے
ناخنوں میں ترے اِعجازِ مسیحائی ہے

سر بالیں اُنھیں رحمت کی اَدا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے

جانِ گفتار تو رفتار ہوئی رُوحِ رواں
دم قدم سے ترے اِعجازِ مسیحائی ہے

جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمال
اے حسیں تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے

تیرے جلوؤں میں یہ عالم ہے کہ چشمِ عالم
تابِ دیدار نہیں پھر بھی تماشائی ہے

جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے

سر سے پا تک تری صورت پہ تصدق ہے جمال
اُس کو موزونیِ اَعضا یہ پسند آئی ہے

تیرے قدموں کا تبرک یدِ بیضاے کلیم
تیرے ہاتھوں کا دیا فضلِ مسیحائی ہے

دردِ دل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے
بے کسوں کی اِسی سرکار میں سنوائی ہے

آپ آئے تو منور ہوئیں اندھی آنکھیں
آپ کی خاکِ قدم سرمۂ بینائی ہے

ناتوانی کا اَلم ہم ضعفا کو کیا ہو
ہاتھ پکڑے ہوئے مولا کی توانائی ہے

جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو
تو ہی تو جانِ مسیحا و مسیحائی ہے

چشم بے خواب کے صدقے میں ہیں بیدار نصیب
آپ جاگے تو ہمیں چین کی نیند آئی ہے

باغِ فردوس کھلا فرش بچھا عرش سجا
اِک ترے دم کی یہ سب انجمن آرائی ہے

کھیت سر سبز ہوئے پھول کھلے میل دُھلے
اور پھر فضل کی گھنگھور گھٹا چھائی ہے

ہاتھ پھیلائے ہوئے دوڑ پڑے ہیں منگتا
میرے داتا کی سواری سرِ حشر آئی ہے

نااُمیدو تمھیں مژدہ کہ خدا کی رحمت
اُنھیں محشر میں تمہارے ہی لیے لائی ہے

فرش سے عرش تک اک دُھوم ہے اﷲ اﷲ
اور ابھی سینکڑوں پردوں میں وہ زیبائی ہے

اے حسنؔ حُسنِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں
ذرّے ذرّے سے عیاں جلوۂ زیبائی ہے

ذوقِ نعت

...

Huzoor e Kaaba Hazir Hain

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے

نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دِکھانے کے
مگر اُن کا کرم ذرّہ نواز و بندہ پرور ہے

خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں
یہ اُونچا گھر ہے اِس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے

تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر
طوافِ خانۂ کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے

خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگِ اسود کا
ہمارا منہ اور اِس قابل عطاے ربِ اکبر ہے

جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر
چلے آؤ چلے آؤ یہ گھر رحمن کا گھر ہے

مقامِ حضرتِ خلّت پدر سا مہرباں پایا
کلیجہ سے لگانے کو حطیم آغوشِ مادر ہے

لگاتا ہے غلافِ پاک کوئی چشم پُر نم سے
لپٹ کر ملتزم سے کوئی محو وصلِ دلبر ہے

وطن اور اُس کا تڑکا صدقے اس شامِ غریبی پر
کہ نورِ رُکن شامی رُوکشِ صبحِ منور ہے

ہوئے ایمان تازہ بوسۂ رُکن یمانی سے
فدا ہو جاؤں یمن و ایمنی کا پاک منظر ہے

یہ زمزم اُس لیے ہے جس لیے اس کو پئے کوئی
اِسی زمزم میں جنت ہے اِسی زمزم میں کوثر ہے

شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی سے
کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاقِ اکبر ہے

صفاے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعیٰ سے
یہاں کی بے قراری بھی سکونِ جانِ مضطر ہے

ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا
اُنھیں کے فضل سے دن جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے

نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم ان کا
جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حجِ اکبر ہے

حسنؔ حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی
چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے

ذوقِ نعت

...

Sahar Chamki Jamal e Fasl e Gul

سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے
نسیمِ روح پرور سے مشامِ جاں معطر ہے

قریب طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
قدم اُن کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

ارے او سونے والے دِل ارے اوسونے والے دِل
سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

سہانی طرز کی طلعت نرالی رنگ کی نکہت
نسیمِ صبح سے مہکا ہوا پُر نور منظر ہے

تعالیٰ اﷲ یہ شادابی یہ رنگینی تعالیٰ اﷲ
بہارِ ہشت جنت دشتِ طیبہ پر نچھاور ہے

ہوائیں آ رہی ہیں کوچۂ پُر نورِ جاناں کی
کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے

منور چشمِ زائر ہے جمالِ عرشِ اعظم سے
نظر میں سبز قُبّہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

یہ رفعت درگہِ عرش آستاں کے قرب سے پائی
کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراجِ دیگر ہے

محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اﷲ کا گھرہے

نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور اِن آنکھوں نے کیا دیکھا
جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر
طلب دل میں صداے یا رسول اﷲ لب پر ہے

لکھا ہے خامۂ رحمت نے دَر پر خط قدرت سے
جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
خدا ہے اس کا مولیٰ یہ خدائی بھر کا سرور ہے

زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں
یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے

عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
خدائی پر ہے قابو بس خدائی اس سے باہرہے

کرم کے جوش ہیں بذل و نعم کے دَور دَورے ہیں
عطاے با نوا ہر بے نوا سے شیر و شکر ہے

کوئی لپٹا ہے فرطِ شوق میں روضے کی جالی سے
کوئی گردن جھکائے رُعب سے با دیدۂ تر ہے

کوئی مشغولِ عرض حال ہے یوں شادماں ہو کر
کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے

کمینہ بندۂ دَر عرض کرتا ہے حضوری میں
جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثنا گر ہے

تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
کہ اِن ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطینِ زمانہ کو
تری سرکار عالی ہے ترا دربار برتر ہے

تری دولت تری ثروت تری شوکت جلالت کا
نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے

مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
ترا گھر بیچ میں چاروں طرف اﷲ کا گھر ہے

تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش
پسینے پر ترے قربان رُوحِ مشک و عنبر ہے

غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
دل مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پرور ہے

جو سب اچھوں میں ہے اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

رکھوں میں حاضری کی شرم ان اعمال پر کیونکر
مرے امکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بُلانے کی
تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے

مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیوں کر ہو یہ کیوں کرہے

بُلا کر اپنے کُتّے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا
پھر اس شانِ کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے
تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اِس دَر کے زائر کو
کہ یہ درگاہِ والا رحمتِ خالص کا منظرہے

مبارک ہو حسنؔ سب آرزوئیں ہو گئیں پوری
اب اُن کے صدقے میں عیشِ ابد تجھ کو میسر ہے

ذوقِ نعت

...

Baharon per hai Aaraishain Gulzar e Jannat Ki

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی

کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی
فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی

گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی
کوئی تقدیر تو دیکھے اَسیرانِ محبت کی

شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیوں کر ہو
ہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغِ جنت کی

کرم والوں نے دَر کھولا تو رحمت نے سماں باندھا
کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل شہادت کی

علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارے
زمیں سے آسماں تک دُھوم ہے اِن کی سیادت کی

زمین کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا
جمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نور و ظلمت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کو
یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جانِ تازہ پائیں پروانے
یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو
یہ وہ شمعیں ہیں جن سے رُوح ہو کافور ظلمت کی

دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر
کہ بزم گل رُخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں
ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں
اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشکِ یتیماں سے
بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی

ہواے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے
سبیلیں رکھی ہیں دیدار نے خود اپنے شربت کی

اُدھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے
ادھر ساغر لیے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے
بہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے رُوح جنت کی

ہوائیں گلشن فردوس سے بس بس کر آتی ہیں
نرالی عطر میں ڈوبی ہوئی ہے رُوح نکہت کی

دلِ پُر سوز کے سُلگے اگر سوز ایسی حرکت سے
کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لَپٹ سوزِ محبت کی

ادھر چلمن اُٹھی حسنِ ازل کے پاک جلوؤں سے
ادھر چمکی تجلی بدرِ تابانِ رسالت کی

زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے
کہ کھنچ کھنچ کر مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی

گھٹائیں مصطفیٰ کے چاند پر گھر گھر کر آئی ہیں
سیہ کارانِ اُمت تِیرہ بختانِ شقاوت کی

یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُس کے خون کے پیاسے
بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامانِ قیامت کی

اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وار چلتے ہیں
مٹا دی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی

مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا
پَرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی

کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دلیری نے
بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اِس شجاعت کی

تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے
فدا شیرانہ حملوں کی اَدا پر رُوح جرأت کی

نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے
نکل آتی زمین کربلا سے نہر جنت کی

مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی اُن کو کٹوانا
کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رُؤیت کے شربت کی

شہید ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر
جو موجیں باڑ پر آ جاتی ہیں دریاے اُلفت کی

یہ وقتِ زخم نکلا خوں اچھل کر جسمِ اطہر سے
کہ روشن ہو گئی مشعل شبستانِ محبت کی

سرِ بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا
تنِ بے سر کو سرداری ملی مُلکِ شہادت کی

حسنؔ سُنّی ہے پھر افراط و تفریط اِس سے کیوں کر ہو
اَدب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سُنت کی

ذوقِ نعت

...

Najdiya Sakht Hi Gandi Hai Tabiyat Kaisi


نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

خاک منہ میں ترے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر
مِٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری

تیرے نزدیک ہوا کذب الٰہی ممکن
تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری

بلکہ کذّاب کیا تو نے تو اِقرار وقوع
اُف رے ناپاک یہاں تک ہے خباثت تیری

علم شیطاں کا ہوا علمِ نبی سے زائد
پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری

بزمِ میلاد ہو ’کانا‘ کے جنم سے بدتر
ارے اندھے ارے مردود یہ جرأت تیری

علمِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول
کفر آمیز جنوں زا ہے جہالت تیری

یادِ خر سے ہو نمازوں میں خیال اُن کا بُرا
اُف جہنم کے گدھے اُف یہ خرافت تیری

اُن کی تعظیم کرے گا نہ اگر وقتِ نماز
ماری جائے گی ترے منہ پہ عبادت تیری

ہے کبھی بوم کی حلت تو کبھی زاغ حلال
جیفہ خواری کی کہیں جاتی ہے عادت تیری

ہنس کی چال تو کیا آتی ، گئی اپنی بھی
اِجتہادوں ہی سے ظاہر ہے حماقت تیری

کھلے لفظوں میں کہے قاضی شوکاں مدد دے
یا علی سُن کے بگڑ جائے طبیعت تیری

تیری اٹکے تو وکیلوں سے کرے اِستمداد
اور طبیبوں سے مدد خواہ ہو علت تیری

ہم جو اﷲ کے پیاروں سے اِعانت چاہیں
شرک کا چرک اُگلنے لگے ملت تیری

عبدِ وہاب کا بیٹا ہوا شیخِ نجدی
اُس کی تقلید سے ثابت ہے ضلالت تیری

اُسی مشرک کی ہے تصنیف ’کتاب التوحید‘
جس کے ہر فقرہ پہ ہے مہرِ صداقت تیری

ترجمہ اس کا ہوا ’تفویۃ الایماں‘ نام
جس سے بے نور ہوئی چشمِ بصیرت تیری

واقفِ غیب کا اِرشاد سناؤں جس نے
کھول دی تجھ سے بہت پہلے حقیقت تیری

زلزلے نجد میں پیدا ہوں فتن برپا ہوں
یعنی ظاہر ہو زمانے میں شرارت تیری

ہو اِسی خاک سے شیطان کی سنگت پیدا
دیکھ لے آج ہے موجود جماعت تیری

سر مُنڈے ہونگے تو پاجامے گھٹنے ہونگے
سر سے پا تک یہی پوری ہے شباہت تیری

اِدعا ہو گا حدیثوں پہ عمل کرنے کا
نام رکھتی ہے یہی اپنا جماعت تیری

اُن کے اعمال پہ رشک آئے مسلمانوں کو
اس سے تو شاد ہوئی ہو گی طبیعت تیری

لیکن اُترے گا نہ قرآن گلوں سے نیچے
ابھی گھبرا نہیں باقی ہے حکایت تیری

نکلیں گے دین سے یوں جیسے نشانہ سے تیر
آج اس تیر کی نخچیر ہے سنگت تیری

اپنی حالت کو حدیثوں کے مطابق کر لے
آپ کھل جائے گی پھر تجھ پہ خباثت تیری

چھوڑ کر ذکر تیرا اب ہے خطاب اپنوں سے
کہ ہے مبغوض مجھے دل سے حکایت تیری

مرے پیارے مرے اپنے مرے سُنّی بھائی
آج کرنی ہے مجھے تجھ سے شکایت تیری

تجھ سے جو کہتا ہوں تو دل سے سُن انصاف بھی کر
کرے اﷲ کی توفیق حمایت تیری

گر ترے باپ کو گالی دے کوئی بے تہذیب
غصہ آئے ابھی کچھ اور ہو حالت تیری

گالیاں دیں اُنھیں شیطانِ لعیں کے پیرو
جن کے صدقے میں ہے ہر دولت و نعمت تیری

جو تجھے پیار کریں جو تجھے اپنا فرمائیں
جن کے دل کو کرے بے چین اَذیت تیری

جو ترے واسطے تکلیفیں اُٹھائیں کیا کیا
اپنے آرام سے پیاری جنہیں راحت تیری

جاگ کر راتیں عبادت میں جنھوں نے کاٹیں
کس لیے ، اِس لیے کٹ جائے مصیبت تیری

حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی
اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری

اُن کے دشمن سے تجھے ربط رہے میل رہے
شرم اﷲ سے کر کیا ہوئی غیرت تیری

تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے
جوش میں آئی جو اِس درجہ حرارت تیری

اُن کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دشمن
وہ قیامت میں کریں گے نہ رفاقت تیری

اُن کے دشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتا ہوں
دعویٰ بے اصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری

بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی
اُن سے عشق اُن کے عدو سے ہو عداوت تیری

اہلِ سنت کا عمل تیری غزل پر ہو حسنؔ
جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری

ذوقِ نعت

...

Saaqi Kuch Apney Baadakashoun Ki Khabar Bhi Hai


ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بے کسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
جوشِ عطش بھی شدّتِ سوزِ جگر بھی ہے
کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہے
ایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کا
جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا

اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دے
ٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے
تازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطف تام دے
یہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دے
اُٹھیں سرور آئیں مزے جھوم جھوم کر
ہو جاؤں بے خبر لبِ ساغر کو چوم کر

فکرِ بلند سے ہو عیاں اقتدارِ اوج
چہکے ہزار خامہ سرِ شاخسارِ اوج
ٹپکے گل کلام سے رنگِ بہارِ اوج
ہو بات بات شانِ عروج افتخارِ اوج
فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
مضموں فرازِ عرش سے اُونچے نکل چلیں

اِس شان اِس اَدا سے ثناے رسول ہو
ہر شعر شاخِ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو
حُضّار پر سحابِ کرم کا نزول ہو
سرکار میں یہ نذرِ محقر قبول ہو
ایسی تعلّیوں سے ہو معراج کا بیاں
سب حاملانِ عرش سنیں آج کا بیاں
معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے
ہم تیرہ اختروں کی شفاعت کی رات ہے
اعزاز ماہِ طیبہ کی رُؤیت کی رات ہے
پھیلا ہوا ہے سرمۂ تسخیر چرخ پر
یا زلف کھولے پھرتی ہیں حوریں اِدھر اُدھر

دل سوختوں کے دل کا سویدا کہوں اِسے
پیر فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اِسے
دیکھوں جو چشمِ قیس سے لیلیٰ کہوں اِسے
اپنے اندھیرے گھر کا اُجالا کہوں اِسے
یہ شب ہے یا سوادِ وطن آشکار ہے
مشکیں غلافِ کعبۂ پروردگار ہے

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
کوئی گلیم پوشِ مراقب ہے با خدا
مشکیں لباس یا کوئی محبوبِ دلربا
یا آہوے سیاہ یہ چرتے ہیں جا بجا
ابرِ سیاہ مست اُٹھا حالِ وجد میں
لیلیٰ نے بال کھولے ہیں صحراے نجد میں

یہ رُت کچھ اور ہے یہ ہوا ہی کچھ اور ہے
اب کی بہارِ ہوش رُبا ہی کچھ اور ہے
روے عروسِ گل میں صفا ہی کچھ اور ہے
چبھتی ہوئی دلوں میں اَدا ہی کچھ اور ہے
گلشن کھلائے بادِ صبا نے نئے نئے
گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

ہر ہر کلی ہے مشرق خورشیدِ نور سے
لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیِ طور سے
روہت ہے سب کے منہ پہ دلوں کے سُرور سے
مردے ہیں بے قرار حجابِ قبور سے
ماہِ عرب کے جلوے جو اُونچے نکل گئے
خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے

ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
نیسانِ جودِ ربّ گہر افشانیوں میں ہے
چشمِ کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
غل آمدِ حضور کا رُوحانیوں میں ہے
اک دُھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
بہرِ براق خلد کو جبریل جاتے ہیں

ذوقِ نعت

...

Hoa Houn Daad e Sitam Ko Main Hazir e Darbaar

ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دربار
گواہ ہیں دلِ محزون و چشمِ دریا بار
طرح طرح سے ستاتا ہے زمرۂ اشرار
بدیع بہر خدا حرمتِ شہِ ابرار
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

اِدھر اقارب عقارب عدو اجانب و خویش
اِدھر ہوں جوشِ معاصی کے ہاتھ سے دل ریش
بیاں میں کس سے کروں ہیں جو آفتیں در پیش
پھنسا ہے سخت بلاؤں میں یہ عقیدت کیش
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

نہ ہوں میں طالبِ افسر نہ سائل دیہیم
کہ سنگ منزلِ مقصد ہے خواہش زر و سیم
کیا ہے تم کو خدا نے کریم ابنِ کریم
فقط یہی ہے شہا آرزوے عبد اثیم
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

ہوا ہے خنجر افکار سے جگر گھائل
نفس نفس ہے عیاں دم شماریِ بسمل
مجھے ہو مرحمت اب داروے جراحتِ دل
نہ خالی ہاتھ پھرے آستاں سے یہ سائل
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

تمہارے وصف و ثنا کس طرح سے ہوں مرقوم
کہ شانِ ارفع و اعلیٰ کسے نہیں معلوم
ہے زیرِ تیغِ الم مجھ غریب کا حلقوم
ہوئی ہے دل کی طرف یورشِ سپاہِ ہموم
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

ہوا ہے بندہ گرفتار پنجۂ صیاد
ہیں ہر گھڑی ستم ایجاد سے ستم ایجاد
حضور پڑتی ہے ہر روز اک نئی اُفتاد
تمہارے دَر پہ میں لایا ہوں جور کی فریاد
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

تمام ذرّوں پہ کاالشمس ہیں یہ جود و نوال
فقیر خستہ جگر کا بھی رد نہ کیجے سوال
حسنؔ ہوں نام کو پر ہوں میں سخت بد افعال
عطا ہو مجھ کو بھی اے شاہ جنسِ حسنِ مآل
مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار
نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار

ذوقِ نعت

...

Assalam Aey Khosrawey Dunya O Deen

السلام اے خسروِ دنیا و دیں
السلام اے راحتِ جانِ حزیں

السلام اے بادشاہِ دو جہاں
السلام اے سرورِ کون و مکاں

السلام اے نورِ ایماں السلام
السلام اے راحتِ جاں السلام

اے شکیبِ جانِ مضطر السلام
آفتاب ذرّہ پرور السلام

درد و غم کے چارہ فرما السلام
درد مندوں کے مسیحا السلام

اے مرادیں دینے والے السلام
دونوں عالم کے اُجالے السلام

درد و غم میں مبتلا ہے یہ غریب
دم چلا تیری دُہائی اے طبیب

نبضیں ساقط رُوح مضطرجی نڈھال
دردِ عصیاں سے ہوا ہے غیر حال

بے سہاروں کے سہارے ہیں حضور
حامی و یاور ہمارے ہیں حضور

ہم غریبوں پر کرم فرمائیے
بد نصیبوں پر کرم فرمائیے

بے قراروں کے سرھانے آئیے
دل فگاروں کے سرھانے آئیے

جاں بلب کی چارہ فرمائی کرو
جانِ عیسیٰ ہو مسیحائی کرو

شام ہے نزدیک، منزل دُور ہے
پاؤں کیسے جان تک رنجور ہے

مغربی گوشوں میں پھوٹی ہے شفق
زردیِ خورشید سے ہے رنگ فق

راہ نامعلوم صحرا پُر خطر
کوئی ساتھی ہے نہ کوئی راہبر

طائروں نے بھی بسیرا لے لیا
خواہش پرواز کو رُخصت کیا

ہر طرف کرتا ہوں حیرت سے نگاہ
پر نہیں ملتی کسی صورت سے راہ

سو بلائیں چشمِ تر کے سامنے
پاس کی صورت نظر کے سامنے

دل پریشاں بات گھبرائی ہوئی
شکل پر اَفسردگی چھائی ہوئی

ظلمتیں شب کی غضب ڈھانے لگیں
کالی کالی بدلیاں چھانے لگیں

ان بلاؤں میں پھنسا ہے خانہ زاد
آفتوں میں مبتلا ہے خانہ زاد

اے عرب کے چاند اے مہر عجم
اے خدا کے نور اے شمع حرم

فرش کی زینت ہے دم سے آپ کے
عرش کی عزت قدم سے آپ کے

آپ سے ہے جلوۂ حق کا ظہور
آپ ہی ہیں نور کی آنکھوں کے نور

آپ سے روشن ہوئے کون و مکاں
آپ سے پُر نور ہے بزمِ جہاں

اے خداوندِ عرب شاہِ عجم
کیجیے ہندی غلاموں پر کرم

ہم سیہ کاروں پہ رحمت کیجیے
تیرہ بختوں کی شفاعت کیجیے

اپنے بندوں کی مدد فرمایئے
پیارے حامی مسکراتے آیئے

ہو اگر شانِ تبسم کا کرم
صبح ہو جائے شبِ دیجورِ غم

ظلمتوں میں گم ہوا ہے راستہ
المدد اے خندۂ دنداں نما

ہاں دکھا جانا تجلی کی اَدا
ٹھوکریں کھاتا ہے پردیسی ترا

دیکھیے کب تک چمکتے ہیں نصیب
دیر سے ہے لو لگائے یہ غریب

ملتجی ہوں میں عرب کے چاند سے
اپنے ربّ سے اپنے ربّ کے چاند سے

میں بھکاری ہوں تمہارا تم غنی
لاج رکھ لو میرے پھیلے ہاتھ کی

تنگ آیا ہو دلِ ناکام سے
اِس نکمّے کو لگا دو کام سے

آپ کا دربار ہے عرش اِشتباہ
آپ کی سرکار ہے بے کس پناہ

مانگتے پھرتے ہیں سلطان و امیر
رات دن پھیری لگاتے ہیں فقیر

غم زدوں کو آپ کر دیتے ہیں شاد
سب کو مل جاتی ہے منہ مانگی مراد

میں تمہارا ہوں گداے بے نوا
کیجے اپنے بے نواؤں پر عطا

میں غلام ہیچ کارہ ہوں حضور
ہیچ کاروں پر کرم ہے پَر ضرور

اچھے اچھوں کے ہیں گاہک ہر کہیں
ہم بدوں کی ہے خریداری یہیں

کیجیے رحمت حسنؔ پر کیجیے
دونوں عالم کی مرادیں دیجیے

ذوقِ نعت

...