Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Jaiegi Hansti Hoi Khuld Main Ummat Un Ki

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
کب گوارا ہوئی اﷲ کو رِقّت اُن کی

ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہگاروں کے
ٹوٹے دل کا جو سہارا نہ ہو رحمت اُن کی

دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہرِ قیامت ہم کو
جن کے سایہ میں ہیں ہم دیکھی ہے صورت اُن کی

حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ موقوف
جس نے جو پایا ہے پایا ہے بدولت اُن کی

اُن کا کہنا نہ کریں جب بھی وہ ہم کو چاہیں
سرکشی اپنی تو یہ اور وہ چاہت اُن کی

پار ہو جائے گا اک آن میں بیڑا اپنا
کام کر جائے گی محشر میں شفاعت اُن کی

حشر میں ہم سے گنہگار پریشاں خاطر
عفو رحمٰن و رحیم اور شفاعت اُن کی

خاکِ دَر تیری جو چہروں پہ مَلے پھرتے ہیں
کس طرح بھائے نہ اﷲ کو صورت اُن کی

عاصیو کیوں غمِ محشر میں مرے جاتے ہو
سنتے ہیں بندہ نوازی تو ہے عادت اُن کی

جلوۂ شانِ الہٰی کی بہاریں دیکھو
قد راء الحقَّ کی ہے شرح زیارت اُن کی

باغِ جنت میں چلے جائیں گے بے پوچھے ہم
وقف ہے ہم سے مساکین پہ دولت اُن کی

یاد کرتے ہیں عدو کو بھی دعا ہی سے وہ
ساری دنیا سے نرالی ہے یہ عادت اُن کی

ہم ہوں اور اُن کی گلی خلد میں واعظ ہی رہیں
اے حسنؔ اُن کو مبارک رہے جنت اُن کی

ذوقِ نعت

...

Hum ne Taqseer Ki Aadat Karli

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی
آپ اپنے پہ قیامت کر لی

میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا
مرے اﷲ نے رحمت کر لی

ذکر شہ سن کے ہوئے بزم میں محو
ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی

نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو
مرے پیارے بڑی رحمت کر لی

بال بیکا نہ ہوا پھر اُس کا
آپ نے جس کی حمایت کر لی

رکھ دیا سر قدمِ جاناں پر
اپنے بچنے کی یہ صورت کر لی

نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ
جو کی روٹی پہ قناعت کر لی

اُس سے فردوس کی صورت پوچھو
جس نے طیبہ کی زیارت کر لی

شانِ رحمت کے تصدق جاؤں
مجھ سے عاصی کی حمایت کر لی

فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا
آپ فاقہ پہ قناعت کر لی

اے حسنؔ کام کا کچھ کام کیا
یا یوہیں ختم پہ رُخصت کر لی

ذوقِ نعت

...

Kiya Khuda Daad Ap Ki Imdaad Hai

کیا خداداد آپ کی اِمداد ہے
اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے

مصطفےٰ تو برسرِ اِمداد ہے
عفو تو کہہ کیا ترا اِرشاد ہے

بن پڑی ہے نفس کافر کیش کی
کھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے

اس قدر ہم اُن کو بھولے ہائے ہائے
ہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے

نفسِ امارہ کے ہاتھوں اے حضور
داد ہے بیداد ہے فریاد ہے

پھر چلی بادِ مخالف لو خبر
ناؤ پھر چکرا گئی فریاد ہے

کھیل بگڑا ناؤ ٹوٹی میں چلا
اے مرے والی بچا فریاد ہے

رات اندھیری میں اکیلا یہ گھٹا
اے قمر ہو جلوہ گر فریاد ہے

عہد جو اُن سے کیا روزِ اَلست
کیوں دلِ غافل تجھے کچھ یاد ہے

میں ہوں میں ہوں اپنی اُمت کے لیے
کیا ہی پیارا پیارا یہ اِرشاد ہے

وہ شفاعت کو چلے ہیں پیشِ حق
عاصیو تم کو مبارک باد ہے

کون سے دل میں نہیں یادِ حبیب
قلبِ مومن مصطفےٰ آباد ہے

جس کو اُس دَر کی غلامی مل گئی
وہ غمِ کونین سے آزاد ہے

جن کے ہم بندے وہی ٹھہرے شفیع
پھر دلِ بیتاب کیوں ناشاد ہے

اُن کے دَر پر گر کے پھر اُٹھا نہ جائے
جان و دل قربان کیا اُفتاد ہے

یہ عبادت زاہدو بے حُبِّ دوست
مفت کی محنت ہے سب برباد ہے

ہم صفیروں سے ملیں کیوں کر حسنؔ
سخت دل اور سنگدل صیاد ہے

ذوقِ نعت

...

Ap k Dar Ki Ajab Toqeer Hai

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے

کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا
اُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے

جس سے باتیں کیں اُنھیں کا ہو گیا
واہ کیا تقریرِ پُر تاثیر ہے

جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو
خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے

صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کا
سینہ کی تحریر میں تحریر ہے

ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع نورِ شاہ
آفتابِ حُسن عالم گیر ہے

لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
اَبرِ جودِ شاہِ عالم گیر ہے

مجرمو اُن کے قدموں پر لوٹ جاؤ
بس رِہائی کی یہی تدبیر ہے

یا نبی مشکل کشائی کیجیے
بندۂ در بے دل و دل گیر ہے


وہ سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے

کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمۂ تنویر ہے

جانے والے چل دیئے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسنؔ تقدیر ہے

ذوقِ نعت

...

Na mayoos ho mere Dukh Dard Waley

نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والے
درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دوا لے

جو بیمار غم لے رہا ہو سنبھالے
وہ چاہے تو دَم بھر میں اس کو سنبھالے

نہ کر اس طرح اے دلِ زار نالے
وہ ہیں سب کی فریاد کے سننے والے

کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ
خدارا خبر میری اے ناخدا لے

سفر کر خیالِ رُخِ شہ میں اے جاں
مسافر نکل جا اُجالے اُجالے

تہی دست و سوداے بازارِ محشر
مری لاج رکھ لے مرے تاج والے

زہے شوکتِ آستانِ معلّٰی
یہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے

سوا تیرے اے ناخداے غریباں
وہ ہے کون جو ڈوبتوں کو نکالے

یہی عرض کرتے ہیں شیرانِ عالم
کہ تو اپنے کتوں کا کتا بنا لے

جسے اپنی مشکل ہو آسان کرنی
فقیرانِ طیبہ سے آ کر دعا لے

خدا کا کرم دستگیری کو آئے
ترا نام لے لیں اگر گرنے والے

دَرِ شہ پر اے دل مرادیں ملیں گی
یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اُٹھا لے

گھرا ہوں میں عصیاں کی تاریکیوں میں
خبر میری اے میرے بدرالدجیٰ لے

فقیروں کو ملتا ہے بے مانگے سب کچھ
یہاں جانتے ہی نہیں ٹالے بالے

لگائے ہیں پیوند کپڑوں میں اپنے
اُڑھائے فقیروں کو تم نے دوشالے

مٹا کفر کو ، دین چمکا دے اپنا
بنیں مسجدیں ٹوٹ جائیں شوالے

جو پیش صنم سر جھکاتے تھے اپنے
بنے تیری رحمت سے اﷲ والے

نگاہِ ز چشم کرم بر حسنؔ کن
بکویت رسید ست آشفتہ حالے

ذوقِ نعت

...

Nahi Woh Sadma Yeh Dil Ko Kis Ka

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے
کہ آج رُک رُک کے خونِ دل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے

لیا نہ ہو جس نے اُن کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو اُن کا باڑا
نہ کوئی ایسا بشر ہے باقی نہ کوئی ایسا ملک رہا ہے

کیا ہے حق نے کریم تم کو اِدھر بھی للہ نگاہ کر لو
کہ دیر سے بینوا تمہارا تمہارے ہاتھوں کو تک رہا ہے

ہے کس کے گیسوے مشک بو کی شمیم عنبر فشانیوں پر
کہ جاے نغمہ صفیر بلبل سے مشکِ اَذفر ٹپک رہا ہے

یہ کس کے رُوے نکو کے جلوے زمانے کو کر رہے ہیں روشن
یہ کس کے گیسوے مشک بو سے مشامِ عالم مہک رہا ہے

حسنؔ عجب کیا جو اُن کے رنگِ ملیح کی تہ ہے پیرہن پر
کہ َرنگ پُر نور مہر گردوں کئی فلک سے چمک رہا ہے

ذوقِ نعت

...

Muradain Mil Rahi Hain

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے

تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے
تری ہر ہر اَدا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے

بشر ہو یا مَلک جو ہے ترے دَر کا سوالی ہے
تری سرکار والا ہے ترا دربار عالی ہے

وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی ہے
دَیا کرنا کہ اس منگتا نے بھی گُدڑی بچھا لی ہے

منور دل نہیں فیضِ قدومِ شہ سے روضہ ہے
مشبکِ سینۂ عاشق نہیں روضہ کی جالی ہے

تمہارا قامتِ یکتا ہے اِکّا بزمِ وحدت کا
تمہاری ذاتِ بے ہمتا مثالِ بے مثالی ہے

فروغِ اخترِ بدر آفتابِ جلوۂ عارض
ضیاے طالعِ بدر اُن کا اَبروے ہلالی ہے

وہ ہیں اﷲ والے جو تجھے والی کہیں اپنا
کہ تو اﷲ والا ہے ترا اﷲ والی ہے

سہارے نے ترے گیسو کے پھیرا ہے بلاؤں کو
اِشارے نے ترے ابرو کے آئی موت ٹالی ہے

نگہ نے تیر زحمت کے دلِ اُمت سے کھینچے ہیں
مژہ نے پھانس حسرت کی کلیجہ سے نکالی ہے

فقیرو بے نواؤ اپنی اپنی جھولیاں بھر لو
کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکارِ عالی ہے

تجھی کو خلعتِ یکتائیِ عالم ملا حق سے
ترے ہی جسم پہ موزوں قباے بے مثالی ہے

نکالا کب کسی کو بزمِ فیضِ عام سے تم نے
نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے

بڑھے کیونکر نہ پھر شکل ہلال اسلام کی رونق
ہلالِ آسمانِ دیں تری تیغِ ہلالی ہے

فقط اتنا سبب ہے اِنعقادِ بزمِ محشر کا
کہ ُان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے

خدا شاہد کہ روزِ حشر کا کھٹکا نہیں رہتا
مجھے جب یاد آتا ہے کہ میرا کون والی ہے

اُتر سکتی نہیں تصویر بھی حسنِ سراپا کی
کچھ اس درجہ ترقی پر تمہاری بے مثالی ہے

نہیں محشر میں جس کو دسترس آقا کے دامن تک
بھرے بازار میں اِس بے نوا کا ہاتھ خالی ہے

نہ کیوں ہو اِتحادِ منزلت مکہ مدینہ میں
وہ بستی ہے نبی والی تو یہ اﷲ والی ہے

شرف مکہ کی بستی کو ملا طیبہ کی بستی سے
نبی والی ہی کے صدقے میں وہ اﷲ والی ہے

وہی والی وہی آقا وہی وارث وہی مولیٰ
میں اُن کے صدقے جاؤں اور میرا کون والی ہے

پکار اے جانِ عیسیٰ سن لو اپنے خستہ حالوں کی
مرض نے درد مندوں کی غضب میں جان ڈالی ہے

مرادوں سے تمہیں دامن بھرو گے نامرادوں کے
غریبوں بیکسوں کا اور پیارے کون والی ہے

ہمیشہ تم کرم کرتے ہو بگڑے حال والوں پر
بگڑ کر میری حالت نے مری بگڑی بنا لی ہے

تمہارے دَر تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں
نہ کوئی مجھ سا بیکس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے

حسنؔ کا درد دُکھ موقوف فرما کر بحالی دو
تمہارے ہاتھ میں دنیا کی موقوفی بحالی ہے

ذوقِ نعت

...

Kare Chara Sazi Ziarat Kisi Ki

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی
بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی

چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی
کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی

نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی
نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی

عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی
ہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی

ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے
سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی

کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی
خدا کو ہے جتنی محبت کسی کی

دمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں
شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی

رہے دل کسی کی محبت میں ہر دم
رہے دل میں ہر دم محبت کسی کی

ترا قبضہ کونین و مافیہا سب پر
ہوئی ہے نہ ہو یوں حکومت کسی کی

خدا کا دیا ہے ترے پاس سب کچھ
ترے ہوتے کیا ہم کو حاجت کسی کی

زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی
زمانہ میں بٹتی ہے دولت کسی کی

نہ پہنچیں کبھی عقلِ کل کے فرشتے
خدا جانتا ہے حقیقت کسی کی

ہمارا بھروسہ ہمارا سہارا
شفاعت کسی کی حمایت کسی کی

قمر اِک اشارے میں دو ٹکڑے دیکھا
زمانے پہ روشن ہے طاقت کسی کی

ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی

مصیبت زدو شاد ہو تم کہ اُن سے
نہیں دیکھی جاتی مصیبت کسی کی

نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار اُن کے
نہ جائے گی جنت میں اُمت کسی کی

ہم ایسے گنہگار ہیں زہد والو
ہماری مدد پر ہے رحمت کسی کی

مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد
نہیں چاہیے ہم کو جنت کسی کی

ہزاروں ہوں خورشید محشر تو کیا غم
یہاں سایہ گستر ہے رحمت کسی کی

بھرے جائیں گے خلد میں اہلِ عصیاں
نہ جائے گی خالی شفاعت کسی کی

وہی سب کا مالک اُنہیں کا ہے سب کچھ
نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی

رَفِعْنَا لَکَ ذَکرَکَ پر تصدق
سب اُونچوں سے اُونچی ہے رفعت کسی کی

اُترنے لگے مَا رَمَیْتَ یَدُ اﷲ
چڑھی ایسی زوروں پہ طاقت کسی کی

گدا خوش ہوں خَیرٌ لَّک کی صد ا ہے
کہ دن دُونی بڑھتی ہے دولت کسی کی

فتَرْضیٰ نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں
کہ ہو جائے راضی طبیعت کسی کی

خدا سے دعا ہے کہ ہنگامِ رُخصت
زبانِ حسنؔ پر ہو مدحت کسی کی

ذوقِ نعت

...

Jaan se Tang Hain Qaidi Gham e Tanhai Ki

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے

بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کے
کب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے

ہو غبارِ درِ محبوب کہ گردِ رہِ دوست
جزو اعظم ہیں یہی سرمۂ بینائی کے

خاک ہو جائے اگر تیری تمناؤں میں
کیوں ملیں خاک میں اَرمان تمنائی کے

وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کے چمکتے خورشید
لامکاں تک ہیں اُجالے تری زیبائی کے

دلِ مشتاق میں اَرمانِ لقا آنکھیں بند
قابلِ دید ہیں انداز تمنائی کے

لبِ جاں بخش کی کیا بات ہے سبحان اﷲ
تم نے زندہ کیے اِعجاز مسیحائی کے

اپنے دامن میں چھپائیں وہ مرے عیبوں کو
اے زہے بخت مری ذلّت و رُسوائی کے

دیکھنے والے خدا کے ہیں خدا شاہد ہے
دیکھنے والے ترے جلوۂ زیبائی کے

جب غبارِ رہِ محبوب نے عزت بخشی
آئینے صاف ہوئے عینکِ بینائی کے

بار سر پر ہے نقاہت سے گرا جاتا ہوں
صدقے جاؤں ترے بازو کی توانائی کے

عالم الغیب نے ہر غیب سے آگاہ کیا
صدقے اس شان کی بینائی و دانائی کے

دیکھنے والے تم ہو رات کی تاریکی میں
کان میں سمع کے اور آنکھ میں بینائی کے

عیبی نطفے ہیں وہ بے علم جنم کے اندھے
جن کو انکار ہیں اس علم و شناسائی کے

اے حسنؔ کعبہ ہی افضل سہی اِس دَر سے مگر
ہم تو خوگر ہیں یہاں ناصیہ فرسائی کے

ذوقِ نعت

...

Parde Jis Waqt Uthain Jalwa e Zaibai K

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے

دُھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی
خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے

حُسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے
گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے

ذرّۂ دشتِ مدینہ کی ضیا مہر کرے
اچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے

پیار سے لے لیے آغوش میں سر رحمت نے
پائے انعام ترے دَر کی جبیں سائی کے

لاشِ احباب اِسی دَر پر پڑی رہنے دیں
کچھ تو ارمان نکل جائیں جبیں سائی کے

جلو گر ہو جو کبھی چشمِ تمنائی میں
پردے آنکھوں کے ہوں پردے تری زیبائی کے

خاکِ پامال ہماری بھی پڑی ہے سرِ راہ
صدقے اے رُوحِ رواں تیری مسیحائی کے

کیوں نہ وہ ٹوٹے دلوں کے کھنڈر آباد کریں
کہ دکھاتے ہیں کمال انجمن آرائی کے

زینتوں سے ہیں حسینانِ جہاں کی زینت
زینتیں پاتی ہیں صدقے تری زیبائی کے

نام آقا ہوا جو لب سے غلاموں کے بلند
بالا بالا گئے غم آفتِ بالائی کے

عرش پہ کعبہ و فردوس و دلِ مومن میں
شمع افروز ہیں اِکے تری یکتائی کے

ترے محتاج نے پایا ہے وہ شاہانہ مزاج
اُس کی گُدڑی کو بھی پیوند ہوں دارائی کے

اپنے ذرّوں کے سیہ خانوں کو روشن کر دو
مہر ہو تم فلکِ انجمن آرائی کے

پورے سرکار سے چھوٹے بڑے اَرمان ہو سب
اے حسنؔ میرے مرے چھوٹے بڑے بھائی کے

ذوقِ نعت

...