Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Na Kiyoun Aaraishain Karta Khuda Dunya K Samaan Main

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میں
تمھیں دُولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ امکاں میں

یہ رنگینی یہ شادابی کہاں گلزارِ رضواں میں
ہزاروں جنتیں آ کر بسی ہیں کوے جاناں میں

خزاں کا کس طرح ہو دخل جنت کے گلستاں میں
بہاریں بس چکی ہیں جلوۂ رنگینِ جاناں میں

تم آئے روشنی پھیلی ہُوا دن کھل گئی آنکھیں
اندھیرا سا اندھیرا چھا رہا تھا بزمِ اِمکاں میں

تھکا ماندہ وہ ہے جو پاؤں اپنے توڑ کر بیٹھا
وہی پہنچا ہوا ٹھہرا جو پہنچا کوے جاناں میں

تمہارا کلمہ پڑھتا اُٹھے تم پر صدقے ہونے کو
جو پائے پاک سے ٹھوکر لگا دو جسمِ بے جاں میں

عجب انداز سے محبوبِ حق نے جلوہ فرمایا
سُرور آنکھوں میں آیا جان دل میں نور ایماں میں

فداے خار ہاے دشتِ طیبہ پھول جنت کے
یہ وہ کانٹے ہیں جن کو خود جگہ دیں گل رگِ جاں میں

ہر اک کی آرزو ہے پہلے مجھ کو ذبح فرمائیں
تماشا کر رہے ہیں مرنے والے عیدِ قرباں میں

ظہورِ پاک سے پہلے بھی صدقے تھے نبی تم پر
تمہارے نام ہی کی روشنی تھی بزمِ خوباں میں

کلیم آسا نہ کیونکر غش ہو اُن کے دیکھنے والے
نظر آتے ہیں جلوے طور کے رُخسارِ تاباں میں

ہوا بدلی گھرے بادل کھلے گل بلبلیں چہکیں
تم آئے یا بہارِ جاں فزا آئی گلستاں میں

کسی کو زندگی اپنی نہ ہوتی اِس قدر میٹھی
مگر دھوون تمہارے پاؤں کا ہے شیرۂ جاں میں

اُسے قسمت نے اُس کے جیتے جی جنت میں پہنچایا
جو دم لینے کو بیٹھا سایۂ دیوارِ جاناں میں

کیا پروانوں کو بلبل نرالی شمع لائے تم
گرے پڑتے تھے جو آتش پہ وہ پہنچے گلستاں میں

نسیمِ طیبہ سے بھی شمع گل ہو جائے لیکن یوں
کہ گلشن پھولیں جنت لہلہا اُٹھے چراغاں میں

اگر دودِ چراغ بزمِ شہ چھو جائے کاجل سے
شبِ قدرِ تجلی کا ہو سرمہ چشمِ خوباں میں

کرم فرمائے گر باغِ مدینہ کی ہوا کچھ بھی
گل جنت نکل آئیں ابھی سروِ چراغاں میں

چمن کیونکر نہ مہکیں بلبلیں کیونکر نہ عاشق ہوں
تمہارا جلوۂ رنگیں بھرا پھولوں نے داماں میں

اگر دودِ چراغِ بزم والا مَس کرے کچھ بھی
شمیمِ مشک بس جائے گل شمعِ شبستاں میں

یہاں کے سنگریزوں سے حسنؔ کیا لعل کو نسبت
یہ اُن کی راہ گزر میں ہیں وہ پتھر ہے بدخشاں میں

ذوقِ نعت

...

Ajab Karam Shah e Wala


عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا اُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں

جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کی
نگاہِ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں

مجھے فسردگئ بخت کا اَلم کیا ہو
وہ ایک دم میں خزاں کو بہار کرتے ہیں

خدا سگانِ نبی سے یہ مجھ کو سنوا دے
ہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتے ہیں

ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضیلتیں ہم پر
کہ پاس رہتے ہیں طوفِ مزار کرتے ہیں

جو خوش نصیب یہاں خاکِ دَر پہ بیٹھتے ہیں
جلوسِ مسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں

ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے
جو دم میں آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں

اشارہ کر دو تو بادِ خلاف کے جھونکے
ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں

تمہارے دَر کے گداؤں کی شان عالی ہے
وہ جس کو چاہتے ہیں تاجدار کرتے ہیں

گدا گدا ہے گدا وہ توکیا ہی چاہے ادب
بڑے بڑے ترے دَر کا وقار کرتے ہیں

تمام خلق کو منظور ہے رضا جن کی
رضا حضور کی وہ اختیار کرتے ہیں

سنا کے وصفِ رُخِ پاک عندلیب کو ہم
رہینِ آمدِ فصلِ بہار کرتے ہیں

ہوا خلاف ہو چکرائے ناؤ کیا غم ہے
وہ ایک آن میں بیڑے کو پار کرتے ہیں

اَنَا لَھَا سے وہ بازار کسمپرساں میں
تسلّیِ دلِ بے اختیار کرتے ہیں

بنائی پشت نہ کعبہ کی اُن کے گھر کی طرف
جنھیں خبر ہے وہ ایسا وقار کرتے ہیں

کبھی وہ تاجورانِ زمانہ کر نہ سکیں
جو کام آپ کے خدمت گزار کرتے ہیں

ہواے دامنِ جاناں کے جاں فزا جھونکے
خزاں رسیدوں کو باغ و بہار کرتے ہیں

سگانِ کوئے نبی کے نصیب پر قرباں
پڑے ہوئے سرِ راہ افتخار کرتے ہیں

کوئی یہ پوچھے مرے دل سے میری حسرت سے
کہ ٹوٹے حال میں کیا غمگسار کرتے ہیں

وہ اُن کے دَر کے فقیروں سے کیوں نہیں کہتے
جو شکوۂ ستمِ روزگار کرتے ہیں

تمہارے ہجر کے صدموں کی تاب کس کو ہے
یہ چوبِ خشک کو بھی بے قرار کرتے ہیں

کسی بَلا سے اُنھیں پہنچے کس طرح آسیب
جو تیرے نام سے اپنا حصار کرتے ہیں

یہ نرم دل ہیں وہ پیارے کہ سختیوں پر بھی
عدو کے حق میں دعا بار بار کرتے ہیں

کشودِ عقدۂ مشکل کی کیوں میں فکر کروں
یہ کام تو مرے طیبہ کے خار کرتے ہیں

زمینِ کوئے نبی کے جو لیتے ہیں بوسے
فرشتگانِ فلک اُن کو پیار کرتے ہیں

تمہارے دَر پہ گدا بھی ہیں ہاتھ پھیلائے
تمھیں سے عرضِ دُعا شہر یار کرتے ہیں

کسے ہے دید جمالِ خدا پسند کی تاب
وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں

ہمارے نخلِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے
درختِ خشک کو جو باردار کرتے ہیں

پڑے ہیں خوابِ تغافل میں ہم مگر مولیٰ
طرح طرح سے ہمیں ہوشیار کرتے ہیں

سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے اُنھیں
جو اپنے جان و دل اُن پر نثار کرتے ہیں

اُنھیں کا جلوہ سرِ بزم دیکھتے ہیں پتنگ
انھیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں

مرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے
عبث اسیرِ اَلم انتشار کرتے ہیں

جو ذرّے آتے ہیں پاے حضور کے نیچے
چمک کے مہر کو وہ شرمسار کرتے ہیں

جو موئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں
شجاعتیں وہ دمِ کارزار کرتے ہیں

جدھر وہ آتے ہیں اب اُس میں دل ہوں یا راہیں
مہک سے گیسوؤں کی مشکبار کرتے ہیں

حسنؔ کی جان ہو اُس وسعتِ کرم پہ نثار
کہ اک جہان کو اُمیدوار کرتے ہیں

ذوقِ نعت

...

Sun lo Meri Iltija Achey Miyan

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں
میں تصدق میں فدا اَچھے میاں

اب کمی کیا ہے خدا دے بندہ لے
میں گدا تم بادشا اچھے میاں

دین و دنیا میں بہت اچھا رہا
جو تمہارا ہو گیا اچھے میاں

اس بُرے کو آپ اچھا کیجیے
آپ اچھے میں بُرا اچھے میاں

ایسے اچھے کا بُرا ہوں میں بُرا
جن کو اچھوں نے کہا اچھے میاں

میں حوالے کر چکا ہوں آپ کے
اپنا سب اچھا بُرا اچھے میاں

آپ جانیں مجھ کو اِس کی فکر کیا
میں بُرا ہوں یا بھلا اچھے میاں

مجھ بُرے کے کیسے اچھے ہیں نصیب
میں بُرا ہوں آپ کا اچھے میاں

اپنے منگتا کو بُلا کر بھیک دی
اے میں قربانِ عطا اچھے میاں

مشکلیں آسان فرما دیجیے
اے مرے مشکل کشا اچھے میاں

میری جھولی بھر دو دستِ فیض سے
حاضرِ دَر ہے گدا اچھے میاں

دَم قدم کی خیر منگتا ہوں ترا
دَم قدم کی خیر لا اچھے میاں

جاں بلب ہوں دردِ عصیاں سے حضور
جاں بلب کو دو شفا اچھے میاں

دشمنوں کی ہے چڑھائی الغیاث
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

نفسِ سرکش دَر پئے آزار ہے
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

شام ہے نزدیک صحرا ہولناک
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

نزع کی تکلیف اِغواے عدو
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

وہ سوالِ قبر وہ شکلیں مہیب
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

پرسشِ اعمال اور مجھ سا اثیم
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

بارِ عصیاں سر پہ رعشہ پاؤں میں
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

خالی ہاتھ آیا بھرے بازار میں
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

مجرمِ ناکارہ و دیوانِ عدل
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

پوچھتے ہیں کیا کہا تھا کیا کیا
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

پا شکستہ اور عبورِ پل صراط
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

خائن و خاطی سے لیتے ہیں حساب
ہے مدد کا وقت یا اچھے میاں

بھول جاؤں میں نہ سیدھی راہ کو
میرے اچھے رہنما اچھے میاں

تم مجھے اپنا بنا لو بہرِ غوث
میں تمہارا ہو چکا اچھے میاں

کون دے مجھ کو مرادیں آپ دیں
میں ہوں کس کا آپ کا اچھے میاں

یہ گھٹائیں غم کی یہ روزِ سیاہ
مہر فرما مہ لقا اچھے میاں

احمدِ نوری کا صدقہ ہر جگہ
منہ اُجالا ہو مرا اچھے میاں

آنکھ نیچی دونوں عالم میں نہ ہو
بول بولا ہو مرا اچھے میاں

میرے بھائی جن کو کہتے ہیں رضاؔ
جو ہیں اِس دَر کے گدا اچھے میاں

اِن کی منہ مانگی مرادیں ہوں حصول
آپ فرمائیں عطا اچھے میاں

عمر بھر میں اِن کے سایہ میں رہوں
اِن پہ سایہ آپ کا اچھے میاں

مجھ کو میرے بھائیوں کو حشر تک
ہو نہ غم کا سامنا اچھے میاں

مجھ پہ میرے بھائیوں پہ ہر گھڑی
ہو کرم سرکار کا اچھے میاں

مجھ سے میرے بھائیوں سے دُور ہو
دُکھ مرض ہر قسم کا اچھے میاں

میری میرے بھائیوں کی حاجتیں
فضل سے کیجے رَوا اچھے میاں

ہم غلاموں کے جو ہیں لخت جگر
خوش رہیں سب دائما اچھے میاں

پنجتن کا سایہ پانچوں پر رہے
اور ہو فضل خدا اچھے میاں

سب عزیزوں سب قریبوں پر رہے
سایۂ فضل و عطا اچھے میاں

غوثِ اعظم قطبِ عالم کے لیے
رَد نہ ہو میری دعا اچھے میاں

ہو حسنؔ سرکارِ والا کا حسنؔ
کیجیے ایسی عطا اچھے میاں!

ذوقِ نعت

...

Dil Main Ho Yaad Teri

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو

آستانے پہ ترے سر ہو اَجل آئی ہو
اَور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو

خاک پامال غریباں کو نہ کیوں زندہ کرے
جس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو

اُس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت
خاکِ طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو

تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پر
ہم کو حاصل شرفِ ناصیہ فرسائی ہو

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے
کب وہ چاہیں گے مری حشر میں رُسوائی ہو

کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خواہش
جلوۂ یار جو شمع شبِ تنہائی ہو

خلعتِ مغفرت اُس کے لیے رحمت لائے
جس نے خاکِ درِ شہ جاے کفن پائی ہو


یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتا کے لیے ایسی ہی یکتائی ہو

ذکر خدّام نہیں مجھ کو بتا دیں دشمن
کوئی نعمت بھی کسی اور سے گر پائی ہو

جب اُٹھے دستِ اَجل سے مری ہستی کا حجاب
کاش اِس پردہ کے اندر تری زیبائی ہو

دیکھیں جاں بخشیِ لب کو تو کہیں خضر و مسیح
کیوں مرے کوئی اگر ایسی مسیحائی ہو

کبھی ایسا نہ ہوا اُن کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو

بند جب خوابِ اجل سے ہوں حسنؔ کی آنکھیں
اِس کی نظروں میں ترا جلوۂ زیبائی ہو

ذوقِ نعت

...

Aey Rahat e Jaan Jo Tere Qadmoun Se Laga Ho

اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقشِ کفِ پَا ہو

ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو
سایہ بھی تو اک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو

اﷲ کا محبوب بنے جو تمھیں چاہے
اُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو

دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو ترے دَر پر
اُفتادِ دو عالم سے تعلق اُسے کیا ہو

اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر
جس سے رطبِ سوختہ کی نشوونما ہو

ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو
گر عکس فگن دل میں وہ نقشِ کفِ پَا ہو

اُس دَر کی طرف اس لیے میزاب کا منہ ہے
وہ قبلۂ کونین ہے یہ قبلہ نما ہو

بے چین رکھے مجھ کو ترا دردِ محبت
مِٹ جائے وہ دل پھر جسے ارمانِ دوا ہو

یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا
ایمان مجھے پھیرنے کو تو نے دیا ہو

اُس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ
تم جس میں گھڑی بھر کے لیے جلوہ نما ہو

مقبول ہیں اَبرو کے اشارہ سے دعائیں
کب تیر کماندارِ نبوت کا خطا ہو

ہو سلسلہ اُلفت کا جسے زُلفِ نبی سے
اُلجھے نہ کوئی کام نہ پابندِ بَلا ہو

شکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو نہیں سکتا
دل اُن پہ فدا جانِ حسنؔ اُن پہ فدا ہو

ذوقِ نعت

...

Tum Zate Khuda Se Na Juda

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اﷲ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو

یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو
وہ دو کہ ہمیشہ مرے گھر بھر کا بھلا ہو

جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰ
اے جانِ جہاں وہ تری ٹھوکر سے اَدا ہو

ٹوٹے ہوئے دم جوش پہ طوفانِ معاصی
دامن نہ ملے اُن کا تو کیا جانیے کیا ہو

یوں جھک کے ملے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو
اﷲ نے اپنے ہی لیے خاص کیا ہو

مِٹی نہ ہو برباد پسِ مرگ الٰہی
جب خاک اُڑے میری مدینہ کی ہوا ہو

منگتا تو ہیں منگتا کوئی شاہوں میں دکھا دے
جس کو مرے سرکار سے ٹکڑا نہ ملا ہو

قدرت نے اَزل میں یہ لکھا اُن کی جبیں پر
جو اِن کی رِضا ہو وہی خالق کی رِضا ہو

ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تُلا ہے
کچھ کام نہیں اِس سے بُرا ہو کہ بھلا ہو

سو جاں سے گنہگار کا ہو رختِ عمل چاک
پردہ نہ کھلے گر ترے دامن سے بندھا ہو

اَبرار نکوکار خدا کے ہیں خدا کے
اُن کا ہے وہ اُن کا ہے جو بد ہو جو بُرا ہو

اَے نفس اُنھیں رَنج دیا اپنی بدی سے
کیا قہر کیا تو نے ارے تیرا بُرا ہو

اﷲ یونہی عمر گزر جائے گدا کی
سر خم ہو دَرِ پاک پر اور ہاتھ اُٹھا ہو

شاباش حسنؔ اور چمکتی سی غزل پڑھ
دل کھول کر آئینۂ ایماں کی جِلا ہو

ذوقِ نعت

...

Tum Zate Khuda Se Na Juda


دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو

کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو
جو بھیک لیے راہِ گدا دیکھ رہا ہو

گر وقتِ اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں اَدا ہو

ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار
رُتبہ سے تنزل کرے تو ظلِّ ہُما ہو

موقوف نہیں صبح قیامت ہی پہ یہ عرض
جب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو

دے اُس کو دمِ نزع اگر حور بھی ساغر
منہ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو

فردوس کے باغوں سے اِدھر مل نہیں سکتا
جو کوئی مدینہ کے بیاباں میں گما ہو

دیکھا اُنھیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہو

آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا
خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کا بھلا ہو

ویراں ہوں جب آباد مکاں صبحِ قیامت
اُجڑا ہوا دل آپ کے جلوؤں سے بسا ہو

ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو

جب دینے کو بھیک آئے سرِ کوے گدایاں
لب پر یہ دعا تھی مرے منگتا کا بھلا ہو

جھُک کر اُنھیں ملنا ہے ہر اِک خاک نشیں سے
کس واسطے نیچا نہ وہ دامانِ قبا ہو

تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
ہے ترکِ اَدب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہو

دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ
اے چارۂ دل دردِ حسنؔ کی بھی دوا ہو

ذوقِ نعت

...

Ajab Rang Par Hai Bahare Madina

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہے نثارِ مدینہ

مبارک رہے عندلیبو تمھیں گل
ہمیں گل سے بہتر ہے خارِ مدینہ

بنا شہ نشیں خسروِ دو جہاں کا
بیاں کیا ہو عز و وقارِ مدینہ

مری خاک یا رب نہ برباد جائے
پسِ مرگ کر دے غبارِ مدینہ

کبھی تو معاصی کے خِرمن میں یا رب
لگے آتشِ لالہ زارِ مدینہ

رگِ گل کی جب نازکی دیکھتا ہوں
مجھے یاد آتے ہیں خارِ مدینہ

ملائک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنی
شب و روز خاکِ مزارِ مدینہ

جدھر دیکھیے باغِ جنت کھلا ہے
نظر میں ہیں نقش و نگارِ مدینہ

رہیں اُن کے جلوے بسیں اُن کے جلوے
مرا دل بنے یادگارِ مدینہ

حرم ہے اسے ساحتِ ہر دو عالم
جو دل ہو چکا ہے شکارِ مدینہ

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ یہاں کا
ہمیں اک نہیں ریزہ خوارِ مدینہ

بنا آسماں منزلِ ابنِ مریم
گئے لامکاں تاجدارِ مدینہ

مرادِ دل بلبلِ بے نوا دے
خدایا دکھا دے بہارِ مدینہ

شرف جن سے حاصل ہوا اَنبیا کو
وہی ہیں حسنؔ افتخارِ مدینہ

ذوقِ نعت

...

Na Ho Aram Jis Bimar Ko

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے

تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم
گزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے

شبِ اسریٰ کے دُولھا پر نچھاور ہونے والی تھی
نہیں تو کیا غرض تھی اِتنی جانوں کے بنانے سے

کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب
لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانے سے

نہ کیوں اُن کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھے
جو اپنی آنکھیں مَلتے ہیں تمہارے آستانے سے

تمہارے تو وہ اِحساں اور یہ نافرمانیاں اپنی
ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے سے

بہارِ خلد صدقے ہو رہی ہے روے عاشق پر
کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے

زمیں تھوڑی سی دے دے بہرِ مدفن اپنے کوچے میں
لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے

پلٹتا ہے جو زائر اُس سے کہتا ہے نصیب اُس کا
ارے غافل قضا بہتر ہے یاں سے پھر کے جانے سے

بُلا لو اپنے دَر پر اب تو ہم خانہ بدوشوں کو
پھریں کب تک ذلیل و خوار دَر دَر بے ٹھکانے سے

نہ پہنچے اُن کے قدموں تک نہ کچھ حسنِ عمل ہی ہے
حسنؔ کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے

ذوقِ نعت

...

Mubarak Ho Wo Shah Pardey Se

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے

چکوروں سے کہو ماہِ دل آرا ہے چمکنے کو
خبر ذرّوں کو دو مہرِ منور آنے والا ہے

فقیروں سے کہو حاضر ہوں جو مانگیں گے پائیں گے
کہ سلطانِ جہاں محتاج پرور آنے والا ہے

کہو پروانوں سے شمع ہدایت اب چمکتی ہے
خبر دو بلبلوں کو وہ گل تر آنے والا ہے

کہاں ہیں ٹوٹی اُمیدیں کہاں ہیں بے سہارا دل
کہ وہ فریاد رس بیکس کا یاور آنے والا ہے

ٹھکانہ بے ٹھکانوں کا سہارا بے سہاروں کا
غریبوں کی مدد بیکس کا یاور آنے والا ہے

بر آئیں گی مرادیں حسرتیں ہو جائیں گی پوری
کہ وہ مختارِ کل عالم کا سرور آنے والا ہے

مبارک درد مندوں کو ہو مژدہ بیقراروں کو
قرارِ دل شکیبِ جانِ مضطر آنے والا ہے

گنہ گاروں نہ ہو مایوس تم اپنی رہائی سے
مدد کو وہ شفیعِ روزِ محشر آنے والا ہے

جھکا لائے نہ کیوں تاروں کو شوقِ جلوۂ عارض
کہ وہ ماہِ دل آرا اب زمیں پر آنے والا ہے

کہاں ہیں بادشاہانِ جہاں آئیں سلامی کو
کہ اب فرمانرواے ہفت کشور آنے والا ہے

سلاطینِ زمانہ جس کے دَر پر بھیک مانگیں گے
فقیروں کو مبارک وہ تونگر آنے والا ہے

یہ ساماں ہو رہے تھے مدتوں سے جس کی آمد کے
وہی نوشاہ با صد شوکت و فر آنے والا ہے

وہ آتا ہے کہ ہے جس کا فدائی عالم بالا
وہ آتا ہے کہ دل عالم کا جس پر آنے والا ہے

نہ کیوں ذرّوں کو ہو فرحت کہ چمکا اخترِ قسمت
سحر ہوتی ہے خورشیدِ منور آنے والا ہے

حسنؔ کہہ دے اُٹھیں سب اُمتی تعظیم کی خاطر
کہ اپنا پیشوا اپنا پیمبر آنے والا ہے

ذوقِ نعت

...