Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Hazrat Molana Hakeem Muhammad Ramazan Ali Qadri

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
اس طرف بھی اک نظر اے برق تابان جمال

اک نظر بے پردہ ہو جائے جو لمعان جمال
مر دم دیدہ کی آنکھوں پر جو احسان جمال

جل گیا جس راہ میں سرد خرامان جمال
نقش پا سے کھل گئے لاکھوں گلستان جمال

ہے شب غم اور گرفتاران ہجران جمال
مہر کر ذرّوں پہ اے خورشید تابان جمال

کر گیا آخر لباسِ لالہ و گل میں ظہور
خاک میں ملتا نہیں خون شہیدانِ جمال

ذرّہ ذرّہ خاک کا ہو جائے گا خورشید حشر
قبر میں لے جائیں گے عاشق جو ارمانِ جمال

ہو گیا شاداب عالم آ گئی فصل بہار
اٹھ گیا پردہ کھلا باب گلستان جمال

جلوۂ موئے محاسن چہرۂ انور کے گرد
آبنوسی رحل پررکھا ہے قرآنِ جمال

اُس کے جلوے سے نہ کیوں کافور ہوں ظلمات کفر
پیش گاہِ نور سے آیا ہے فرمانِ جمال

کیا کہوں کتنا ہے ان کی رہ گزر میں جوش حسن
آشکارا ذرّہ ذرّہ سے ہے میدانِ جمال

ذرّۂ دَر سے ترے ہم سفر ہوں کیا مہر و قمر
یہ ہے سلطان جمال اور وہ گدایانِ جمال

کیا مزے کی زندگی ہے زندگی عشاق کی
آنکھیں اُن کی جستجو میں دل میں ارمانِ جمال

رو سیاہی نے شب دیجور کو شرما دیا
مونہہ اُجالا کر دے اے خورشید تابان جمال

ابروئے پر خم سے پیدا ہے ہلال ماہ عید
مطلع عارض سے روشن بدر تابان جمال

دل کشئ حسن جاناں کا ہو کیا عالم بیاں
دل فدائے آئینہ آئینہ قربان جمال

پیش یوسف ہاتھ کاٹے ہیں زنان مصر نے
تیری خاطر سر کٹا بیٹھے فدایان جمال

تیرے ذرہ پر شب غم کی جفائیں تابکے
نور کا تڑکا دکھا اے مہر تابان جمال

اتنی مدت تک ہو دید مصحف عارض نصیب
حفظ کر لوں ناظرہ پڑھ پڑھ کے قرآن جمال

یا خدا دل کی گلی سے کون گزرا ہے کہ آج
ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع مہر تابانِ جمال

اُن کے در پر اس قدر بٹتا ہے باڑہ نور کا
جھولیاں بھر بھر کے لاتے ہیں گدایان جمال

نور کی بارش حسنؔ پر ہو ترے دیدار سے
دل سے دھل جائے الٰہی داغ حرمان جمال

ذوقِ نعت

...

Bazm e Mehshar Munaqid Kar

بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
دل کے آئینوں کو مدت سے ہے ارمان جمال

اپنا صدقہ بانٹتا آتا ہے سلطان جمال
جھولیاں پھیلائے دوڑیں بے نوایان جمال

جس طرح سے عاشقوں کا دل ہے قربان جمال
ہے یونہی قربان تیری شکل پر جان جمال

بے حجابانہ دکھا دو اک نظر آن جمال
صدقے ہونے کے لئے حاضر ہیں خواہان جمال

تیرے ہی قامت نے چمکایا مقدر حسن کا
بس اسی اِکّے سے روشن ہے شبستان جمال

روح لے گی حشر تک خوشبوئے جنت کے مزے
گر بسا دے گا کفن عطر گریبانِ جمال

مر گئے عشاق لیکن وا ہے چشم منتظر
حشر تک آنکھیں تجھے ڈھونڈیں گی اے جانِ جمال

پیشگی ہی نقد جاں دیتے چلے ہیں مشتری
حشر میں کھولے گا یارب کون دو مکان جمال

عاشقوں کا ذکر کیا معشوق عاشق ہو گئے
انجمن کی انجمن صدقے ہے اے جان جمال

تیری ذُرّیت کا ہر ذرّہ نہ کیوں ہو آفتاب
سر زمینِ حُسن سے نکلی ہے یہ کان جمال

بزم محشر میں حسینان جہاں سب جمع ہیں
پر نظر تیری طرف اٹھتی ہے اے جان جمال

آ رہی ہے ظلمت شب ہائے غم پیچھا کیے
نور یزداں ہم کو لے لے زیر دامان جمال

وسعت بازار محشر تنگ ہے اس کے حضور
کس جگہ کھولے کسی کا حسن دکان جمال

خوبرویان جہاں کو بھی یہی کہتے سنا
تم ہو شان حسن جان حسن ایمان جمال

تیرہ و تاریک رہتی بزم خوبان جہاں
گر تیرا جلوہ نہ ہوتا شمع ایوان جمال

میں تصدق جاؤں اے شَمْسُ الضُّحیٰ بَدْرُ الدُّجیٰ
اس دل تاریک پر بھی کوئی لمعان جمال

سب سے پہلے حضرت یوسف کا نام پاک لوں
میں گناؤں گر تیرے امیدواران جمال

بے بصر پر بھی یہ اُن کے حسن نے ڈالا اثر
دل میں ہے پھوٹی ہوئی آنکھوں پہ ارمان جمال

عاشقوں نے رزم گاہوں میں گلے کٹوا دئیے
واہ کس کس لطف سے کی عید قربان جمال

یاخدا دیکھوں بہار خندۂ دنداں نما
بر سے کشت آرزو پر ابر نیسان جمال

ظلمت مرقد سے اندیشہ حسؔن کو کچھ نہیں
ہے وہ مداح حسیناں منقبت خوان جمال

ذوقِ نعت

...

Hazrat Khawaja Muhammad Mehmood Urf Rajan Bin Khawaja Ilmuddin

اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم

اِس بے کس و حزیں پر جو کچھ گزر رہی ہے
ظاہر ہے سب وہ تم پر ، تم پر سلام ہر دم

دُنیا و آخرت میں جب میں رہوں سلامت
پیارے پڑھوں نہ کیوں کر تم پر سلام ہر دم

دِل تفتگانِ فرقت پیاسے ہیں مدتوں سے
ہم کو بھی جامِ کوثر تم پر سلام ہر دم

بندہ تمہارے دَر کا آفت میں مبتلا ہے
رحم اے حبیبِ دَاور تم پر سلام ہر دم

بے وارثوں کے وارث بے والیوں کے والی
تسکینِ جانِ مضطر تم پر سلام ہر دم

للہ اب ہماری فریاد کو پہنچئے
بے حد ہے حال اَبتر تم پر سلام ہر دم

جلادِ نفسِ بد سے دیجے مجھے رِہائی
اب ہے گلے پہ خنجر تم پر سلام ہر دم

دَریوزہ گر ہوں میں بھی ادنیٰ سا اُس گلی کا
لطف و کرم ہو مجھ پر تم پر سلام ہر دم

کوئی نہیں ہے میرا میں کس سے داد چاہوں
سلطانِ بندہ پرور تم پر سلام ہر دم

غم کی گھٹائیں گھر کر آئی ہیں ہر طرف سے
اے مہر ذرّہ پرور تم پر سلام ہر دم

بُلوا کے اپنے دَر پر اب مجھ کو دیجے عزت
پھرتا ہوں خوار دَر دَر تم پر سلام ہر دم

محتاج سے تمہارے سب کرتے ہیں کنارا
بس اک تمھیں ہو یاور تم پر سلام ہر دم

بہرِ خدا بچاؤ اِن خار ہاے غم سے
اک دل ہے لاکھ نشتر تم پر سلام ہر دم

کوئی نہیں ہمارا ہم کس کے دَر پہ جائیں
اے بے کسوں کے یاور تم پر سلام ہر دم

کیا خوف مجھ کو پیارے نارِ جحیم سے ہو
تم ہو شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم

اپنے گداے دَر کی لیجے خبر خدارا
کیجے کرم حسنؔ پر تم پر سلام ہر دم

ذوقِ نعت

...

Sheikh Muhammad Meer Ilyas Mian Meer Baalai Peer Qadri

اے مدینہ کے تاجدار سلام
اے غریبوں کے غمگسار سلام

تری اک اک اَدا پر اے پیارے
سَو دُرودیں فدا ہزار سلام

رَبِّ سَلِّمْ کے کہنے والے پر
جان کے ساتھ ہو نثار سلام

میرے پیارے پہ میرے آقا پر
میری جانب سے لاکھ بار سلام

میری بگڑی بنانے والے پر
بھیج اے میرے کِردگار سلام

اُس پناہِ گناہ گاراں پر
یہ سلام اور کروڑ بار سلام

اُس جوابِ سلام کے صدقے
تا قیامت ہوں بے شمار سلام

اُن کی محفل میں ساتھ لے جائیں
حسرتِ جانِ بے قرار سلام

پردہ میرا نہ فاش حشر میں ہو
اے مرے حق کے راز دار سلام


وہ سلامت رہا قیامت میں
پڑھ لیے جس نے دل سے چار سلام

عرض کرتا ہے یہ حسنؔ تیرا
تجھ پہ اے خُلد کی بہار سلام

ذوقِ نعت

...

Khawaja Shamsuddin Muhammad Koswi


ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم

یہ پیاری ادائیں یہ نیچی نگاہیں
فدا جانِ عالم ہو اے جانِ عالم

کسی اور کو بھی یہ دولت ملی ہے
گداکس کے دَر کے ہیں شاہانِ عالم

میں دَر دَر پھروں چھوڑ کر کیوں ترا دَر
اُٹھائے بَلا میری احسانِ عالم

میں سرکارِ عالی کے قربان جاؤں
بھکاری ہیں اُس دَر کے شاہانِ عالم

مرے دبدبہ والے میں تیرے صدقے
ترے دَر کے کُتّے ہیں شاہانِ عالم

تمہاری طرف ہاتھ پھیلے ہیں سب کے
تمھیں پورے کرتے ہو ارمانِ عالم

مجھے زندہ کر دے مجھے زندہ کر دے
مرے جانِ عالم مرے جانِ عالم

مسلماں مسلماں ہیں تیرے سبب سے
مری جان تو ہی ہے ایمانِ عالم

مرے آن والے مرے شان والے
گدائی ترے دَر کی ہے شانِ عالم

تُو بحرِ حقیقت تو دریاے عرفاں
ترا ایک قطرہ ہے عرفانِ عالم

کوئی جلوہ میرے بھی روزِ سیہ پر
خدا کے قمر مہرِ تابانِ عالم

بس اب کچھ عنایت ہوا اب ملا کچھ
انھیں تکتے رہنا فقیرانِ عالم

وہ دُولھا ہیں ساری خدائی براتی
اُنھیں کے لیے ہے یہ سامانِ عالم

نہ دیکھا کوئی پھول تجھ سا نہ دیکھا
بہت چھان ڈالے گلستانِ عالم

ترے کوچہ کی خاک ٹھہری اَزل سے
مری جاں علاجِ مریضانِ عالم

کوئی جانِ عیسیٰ کو جا کر خبر دے
مرے جاتے ہیں درد مندانِ عالم

ابھی سارے بیمار ہوتے ہیں اچھے
اگر لَب ہلا دے وہ دَرمانِ عالم

سَمِیْعًاخدارا حسن ؔکی بھی سن لے
بَلا میں ہے یہ لوث دامانِ عالم

ذوقِ نعت

...

Jate Hain Soey Madina Ghar Se Hum

جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم

مار ڈالے بے قراری شوق کی
خوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم

بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہی
اب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم

تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں
ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم

اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع
ڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم

نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفراز
دل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم

گردن تسلیم خم کرنے کے ساتھ
پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم

گور کی شب تار ہے پر خوف کیا
لَو لگائے ہیں رُخِ انور سے ہم

دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں
جب لپٹ کر روئے اُن کے دَر سے ہم

کیا بندھا ہم کو خد اجانے خیال
آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم

جانے والے چل دیئے کب کے حسنؔ
پھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم

ذوقِ نعت

...

Akhund Mulla Muhammad Jamaluddin

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
فقیروں کے حاجت رَوا غوث اعظم

گھرا ہے بَلاؤں میں بندہ تمہارا
مدد کے لیے آؤ یا غوث اعظم

ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے
ترے ہاتھ ہے لاج یا غوث اعظم

مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوث اعظم

تمھیں دُکھ سنو اپنے آفت زدوں کا
تمھیں درد کی دو دوا غوث اعظم

بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ
بچا غوث اعظم بچا غوث اعظم

جو دکھ بھر رہا ہوں جو غم سہ رہا ہوں
کہوں کس سے تیرے سوا غوث اعظم

زمانے کے دُکھ درد کی رنج و غم کی
ترے ہاتھ میں ہے دوا غوث اعظم

اگر سلطنت کی ہوس ہو فقیرو
کہو شیئاً ﷲیا غوث اعظم

نکالا ہے پہلے تو ڈوبے ہوؤں کو
اور اب ڈوبتوں کو بچا غوث اعظم

جسے خلق کہتی ہے پیارا خدا کا
اُسی کا ہے تو لاڈلا غوث اعظم

کیا غورجب گیارھویں بارھویں میں
معمہ یہ ہم پر کھلا غوث اعظم

تمھیں وصلِ بے فصل ہے شاہِ دیں سے
دیا حق نے یہ مرتبہ غوث اعظم

پھنسا ہے تباہی میں بیڑا ہمارا
سہارا لگا دو ذرا غوث اعظم

مشائخ جہاں آئیں بہرِ گدائی
وہ ہے تیری دولت سرا غوث اعظم

مری مشکلوں کو بھی آسان کیجے
کہ ہیں آپ مشکل کشا غوث اعظم

وہاں سرجھکاتے ہیں سب اُونچے اُونچے
جہاں ہے ترا نقشِ پا غوث اعظم

قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا
کہا ہم نے جس وقت یا غوث اعظم

مجھے پھیر میں نفسِ کافر نے ڈالا
بتا جایئے راستہ غوث اعظم

کھلا دے جو مرجھائی کلیاں دلوں کی
چلا کوئی ایسی ہوا غوث اعظم

مجھے اپنی اُلفت میں ایسا گما دے
نہ پاؤں پھر اپنا پتا غوث اعظم

بچا لے غلاموں کو مجبوریوں سے
کہ تو عبدِ قادِر ہے یا غوث اعظم

دکھا دے ذرا مہر رُخ کی تجلی
کہ چھائی ہے غم کی گھٹا غوث اعظم

گرانے لگی ہے مجھے لغزشِ َپا
سنبھالو ضعیفوں کو یا غوث اعظم

لپٹ جائیں دامن سے اُس کے ہزاروں
پکڑ لے جو دامن ترا غوث اعظم

سروں پہ جسے لیتے ہیں تاج والے
تمہارا قدم ہے وہ یا غوث اعظم

دوائے نگاہے عطائے سخائے
کہ شد دردِ ما لا دوا یا غوث اعظم

ز ہر رو و ہر راہ رویم بگرداں
سوے خویش را ہم نما غوث اعظم

اَسیر کمند ہوا یم کریما
بہ بخشائے بر حالِ ما غوث اعظم

فقیر تو چشمِ کرم از تو دارد
نگاہے بحالِ گدا غوث اعظم

گدایم مگر از گدایانِ شاہے
کہ گویندش اہل صفا غوث اعظم

کمر بست بر خونِ من نفسِ قاتل
اَغِثنی برائے خدا غوث اعظم

اَدھر میں پیا موری ڈولت ہے نیّا
کہوں کا سے اپنی بپا غوث اعظم

بپت میں کٹی موری سگری عمریا
کرو مو پہ اپنی دَیاَ غوث اعظم

بھیو دو جو بیکنٹھ بگداد توسے
کہو موری نگری بھی آ غوث اعظم

کہے کس سے جا کر حسنؔ اپنے دل کی
سنے کون تیرے سوا غوث اعظم

ذوقِ نعت

...

Kon Kehta Hai k Zeenat Khuld Ki Achi Nahi

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوے نبی اچھی نہیں

رحم کی سرکار میں پُرسش ہے ایسوں کی بہت
اے دل اچھا ہے اگر حالت مری اچھی نہیں

تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہے
چودھویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں

کچھ خبر ہے میں بُرا ہوں کیسے اچھے کا بُرا
مجھ بُرے پر زاہدو طعنہ زنی اچھی نہیں

اُس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیں
آہ ایسی موت ایسی زندگی اچھی نہیں

اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطے
اُن کے دَر کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں

خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر
فکر کیا حالت اگر بیمار کی اچھی نہیں

سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بستر خاک پر
آرزوے تاج و تختِ خسروی اچھی نہیں

دردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب
مجھ کو اچھا کیجیے حالت مری اچھی نہیں

ذرّۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
گھٹتی بڑھتی چار دن کی چاندنی اچھی نہیں

موسمِ گل کیوں دکھائے جاتے ہیں یہ سبز باغ
دشتِ طیبہ جائیں گے ہم رہزنی اچھی نہیں

بے کسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز
کون کہتا ہے ہماری بے کسی اچھی نہیں

بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی
ورنہ اے بندے خدا کی بندگی اچھی نہیں

رُو سیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند
اِس اندھیرے پاکھ کی یہ تیرگی اچھی نہیں

خار ہاے دشتِ طیبہ چُبھ گئے دل میں مرے
عارضِ گل کی بہارِ عارضی اچھی نہیں

صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ
نور کا تڑکا ہے پیارے کاہلی اچھی نہیں

اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسنؔ
اُن کے دَر سے دُور رہ کر زندگی اچھی نہیں

ذوقِ نعت

...

Nigah e Lutf K Umeedwar Hum Bhi Hain

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے
تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا
اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے
سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دُھوم عالم میں
اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں

ذوقِ نعت

...

Kiya Karein Mehfil e Dildaar Ko Kiyoun Kar Deikhain

کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
اپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں

تابِ نظارہ تو ہو ، یار کو کیوں کر دیکھیں
آنکھیں ملتی نہیں دیدار کو کیوں کر دیکھیں

دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیں
اثرِ جلوۂ رفتار کو کیوں کر دیکھیں

جن کی نظروں میں ہے صحراے مدینہ بلبل
آنکھ اُٹھا کر ترے گلزار کو کیوں کر دیکھیں

عوضِ عفو گنہ بکتے ہیں اِک مجمع ہے
ہائے ہم اپنے خریدار کو کیوں کر دیکھیں

ہم گنہگار کہاں اور کہاں رؤیتِ عرش
سر اُٹھا کر تری دیوار کو کیوں کر دیکھیں

اور سرکار بنے ہیں تو انھیں کے دَر سے
ہم گدا اور کی سرکار کو کیوں کر دیکھیں

دستِ صیاد سے آہو کو چھڑائیں جو کریم
دامِ غم میں وہ گرفتار کو کیوں کر دیکھیں

تابِ دیدار کا دعویٰ ہے جنھیں سامنے آئیں
دیکھتے ہیں ترے رُخسار کو کیوں کر دیکھیں

دیکھیے کوچۂ محبوب میں کیوں کر پہنچیں
دیکھیے جلوۂ دیدار کو کیوں کر دیکھیں

اہل کارانِ سقر اور اِرادہ سے حسنؔ
ناز پروردۂ سرکار کو کیوں کر دیکھیں

ذوقِ نعت

...