Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Hazrat Sheikh Sirajuddin Chishti

ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس

کس بَلا میں ہیں گرفتارِ اسیرانِ قفس
کل تھے مہمانِ چمن آج ہیں مہمانِ قفس

حیف در چشمِ زدن صحبتِ یار آخر شد
اب کہاں طیبہ وہی ہم وہی زندانِ قفس

روے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد
ہائے کیا قہر کیا اُلفتِ یارانِ قفس

نوحہ گر کیوں نہ رہے مُرغِ خوش اِلحانِ چمن
باغ سے دام ملا دام سے زِندانِ قفس

پائیں صحراے مدینہ تو گلستاں مل جائے
ہند ہے ہم کو قفس ہم ہیں اسیرانِ قفس

زخمِ دل پھول بنے آہ کی چلتی ہے نسیم
روز افزوں ہے بہارِ چمنستانِ قفس

قافلہ دیکھتے ہیں جب سوے طیبہ جاتے
کیسی حسرت سے تڑپتے ہیں اسیرانِِ قفس

تھا چمن ہی ہمیں زنداں کہ نہ تھا وہ گل تر
قید پر قید ہوا اور یہ زِندانِ قفس

دشتِ طیبہ میں ہمیں شکل وطن یاد آئی
بد نصیبی سے ہوا باغ میں ارمانِ قفس

اَب نہ آئیں گے اگر کھل گئی قسمت کی گرہ
اب گرہ باندھ لیا ہم نے یہ پیمانِ قفس

ہند کو کون مدینہ سے پلٹنا چاہے
عیشِ گلزار بھلا دے جو نہ دورانِ قفس

چہچہے کس گل خوبی کی ثنا میں ہیں حسنؔ
نکہتِ خلد سے مہکا ہے جو زِندانِ قفس

ذوقِ نعت

...

Janab e Mustafa houn jis se Naakhus

جنابِ مصطفےٰ ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن ہو کہ اُس سے خدا خوش

شہِ کونین نے جب صدقہ بانٹا
زمانے بھر کو دَم میں کر دیا خوش

سلاطیں مانگتے ہیں بھیک اُس سے
یہ اپنے گھر سے ہے اُن کا گدا خوش

پسندِ حقِ تعالیٰ تیری ہر بات
ترے انداز خوش تیری ادا خوش

مٹیں سب ظاہر و باطن کے امراض
مدینہ کی ہے یہ آب و ہوا خوش

فَتَرْضٰی کی محبت کے تقاضے
کہ جس سے آپ خوش اُس سے خدا خوش

ہزاروں جرم کرتا ہوں شب و روز
خوشا قسمت نہیں وہ پھر بھی نا خوش

الٰہی دے مرے دل کو غمِ عشق
نشاطِ دَہر سے ہو جاؤں ناخوش

نہیں جاتیں کبھی دشت نبی سے
کچھ ایسی ہے بہاروں کو فضا خوش

مدینہ کی اگر سرحد نظر آئے
دلِ ناشاد ہو بے اِنتہا خوش

نہ لے آرام دم بھر بے غمِ عشق
دلِ مضطر میں خوش میرا خدا خوش

نہ تھا ممکن کہ ایسی معصیت پر
گنہگاروں سے ہو جاتا خدا خوش

تمہاری روتی آنکھوں نے ہنسایا
تمہارے غمزدہ دل نے کیا خوش

الٰہی دُھوپ ہو اُن کی گلی کی
مرے سر کو نہیں ظِلّ ہما خوش

حسنؔ نعت و چنیں شیریں بیانی
تو خوش باشی کہ کر دی وقتِ ما خوش

ذوقِ نعت

...

Khuda ki khalq main Sab Anbiya Khaas

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ انبیا میں مصطفےٰ خاص

نرالا حُسنِ انداز و اَدا خاص
تجھے خاصوں میں حق نے کر لیا خاص

تری نعمت کے سائل خاص تا عام
تری رحمت کے طالب عام تا خاص

شریک اُس میں نہیں کوئی پیمبر
خدا سے ہے تجھ کو واسطہ خاص

گنہگارو! نہ ہو مایوسِ رحمت
نہیں ہوتی کریموں کی عطا خاص

گدا ہوں خاص رحمت سے ملے بھیک
نہ میں خاص اور نہ میری اِلتجا خاص

ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایا
تمھیں ہو مالکِ مُلکِ خدا خاص

غریبوں بے نواؤں بے کسوں کو
خدا نے در تمہارا کر دیا خاص

جو کچھ پیدا ہوا دونوں جہاں میں
تصدق ہے تمہاری ذات کا خاص

تمہاری انجمن آرائیوں کو
ہوا ہنگامۂ قَالُوْا بَلٰی خاص

نبی ہم پایہ ہوں کیا تو نے پایا
نبوت کی طرح ہر معجزہ خاص

جو رکھتا ہے جمالِ مَنْ رَّاٰنِیْ
اُسی منہ کی صفت ہے وَالضُّحٰی خاص

نہ بھیجو اور دروازوں پر اِس کو
حسنؔ ہے آپ کے در کا گدا خاص

ذوقِ نعت

...

Sun lo Khuda Ke Waste

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض

اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
جیسے ہو بادشاہ کے دَر پہ گدا کی عرض

عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تُلا ہوا
وہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض

قربان اُن کے نام کے بے اُن کے نام کے
مقبول ہو نہ خاصِ جنابِ خدا کی عرض

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے مہر سن لے ذرّۂ بے دست و پا کی عرض

اے بے کسوں کے حامی و یاور سوا ترے
کس کو غرض ہے کون سنے مبتلا کی عرض

اے کیمیاے دل میں ترے دَر کی خاک ہوں
خاکِ دَر حضور سے ہے کیمیا کی عرض

اُلجھن سے دُور نور سے معمور کر مجھے
اے زُلفِ پاک ہے یہ اَسیرِ بلا کی عرض

دُکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں اُنہیں
مقبول کیوں نہ ہو دلِ درد آشنا کی عرض

کیوں طول دوں حضور یہ دیں یہ عطا کریں
خود جانتے ہیں آپ مرے مدعا کی عرض

دَامن بھریں گے دولتِ فضلِ خدا سے ہم
خالی کبھی گئی ہے حسنؔ مصطفےٰ کی عرض

ذوقِ نعت

...

Chasm e Dil Chahey jo Anwaar se Rabt

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
رکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط

اُن کی نعمت کا طلبگار سے میل
اُن کی رحمت کا گنہگار سے ربط

دشتِ طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہار
ہو عنادِل کو نہ گلزار سے ربط

یا خدا دل نہ ملے دُنیا سے
نہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط

نفس سے میل نہ کرنا اے دل
قہر ہے ایسے ستم گار سے ربط

دلِ نجدی میں ہو کیوں حُبِّ حضور
ظلمتوں کو نہیں اَنوار سے ربط

تلخیِ نزع سے اُس کو کیا کام
ہو جسے لعل شکر بار سے ربط

خاک طیبہ کی اگر مل جائے
آپ صحت کرے بیمار سے ربط

اُن کے دامانِ گہر بار کو ہے
کاسۂ دوست طلبگار سے ربط

کل ہے اجلاس کا دن اور ہمیں
میل عملہ سے نہ دربار سے ربط

عمر یوں اُن کی گلی میں گزرے
ذرّہ ذرّہ سے بڑھے پیار سے ربط

سرِ شوریدہ کو ہے دَر سے میل
کمر خستہ کو دیوار سے ربط

اے حسنؔ خیر ہے کیا کرتے ہو
یار کو چھوڑ کر اَغیار سے ربط

ذوقِ نعت

...

Khak e Taiba ki agar Dil main Ho

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
عیبِ کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ

دل میں روشن ہو اگر شمع وِلاے مولیٰ
دُزدِ شیطا ں سے رہے دین کی دولت محفوظ

یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں
شکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ

سلسلہ زُلفِ مبارک سے ہے جس کے دل کو
ہر بَلا سے رکھے اﷲ کی رحمت محفوظ

تھی جو اُس ذات سے تکمیل فرامیں منظور
رکھی خاتم کے لیے مہر نبوت محفوظ

اے نگہبان مرے تجھ پہ صلوٰۃ اور سلام
دو جہاں میں ترے بندے ہیں سلامت محفوظ

واسطہ حفظِ الٰہی کا بچا رہزن سے
رہے ایمانِ غریباں دمِ رحلت محفوظ

شاہیِ کون و مکاں آپ کو دی خالق نے
کنز قدرت میں اَزل سے تھی یہ دولت محفوظ

تیرے قانون میں گنجائش تبدیل نہیں
نسخ و ترمیم سے ہے تری شریعت محفوظ

جسے آزاد کرے قامتِ شہ کا صدقہ
رہے فتنوں سے وہ تا روزِ قیامت محفوظ

اُس کو اَعدا کی عداوت سے ضرر کیا پہنچے
جس کے دل میں ہو حسنؔ اُن کی محبت محفوظ

ذوقِ نعت

...

Madine Main Hai Woh Saman e Bargah e Rafee

مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
عروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع

نہیں گدا ہی سرِ خوانِ بارگاہِ رفیع
خلیل بھی تو ہیں مہمانِ بارگاہِ رفیع

بنائے دونوں جہاں مجرئی اُسی دَر کے
کیا خدا نے جو سامانِ بارگاہِ رفیع

زمینِ عجز پہ سجدہ کرائیں شاہوں سے
فلک جناب غلامانِ بارگاہِ رفیع

ہے انتہاے علا ابتداے اَوج یہاں
ورا خیال سے ہے شانِ بارگاہِ رفیع

کمند رشتۂ عمر خضر پہنچ نہ سکے
بلند اِتنا ہے ایوانِ بارگاہِ رفیع

وہ کون ہے جو نہیں فیضیاب اِس دَر سے
سبھی ہیں بندۂ احِسانِ بارگاہِ رفیع

نوازے جاتے ہیں ہم سے نمک حرام غلام
ہماری جان ہو قربانِ بارگاہِ رفیع

مطیع نفس ہیں وہ سرکشانِ جن و بشر
نہیں جو تابعِ فرمانِ بارگاہِ رفیع

صلاے عام ہیں مہماں نواز ہیں سرکار
کبھی اٹھا ہی نہیں خوانِ بارگاہِ رفیع

جمالِ شمس و قمر کا سنگار ہے شب و روز
فروغِ شمسۂ ایوانِ بارگاہِ رفیع

ملائکہ ہیں فقط دابِ سلطنت کے لیے
خدا ہے آپ نگہبانِ بارگاہِ رفیع

حسنؔ جلالتِ شاہی سے کیوں جھجکتا ہے
گدا نواز ہے سلطانِ بارگاہِ رفیع

ذوقِ نعت

...

Khoosboo e Dasht e Taiba se Bus Jaey

خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
مہکائے بوے خلد مرا سر بسر دماغ

پایا ہے پاے صاحبِ معراج سے شرف
ذرّاتِ کوے طیبہ کا ہے عرش پر دماغ

مومن فداے نور و شمیم حضور ہیں
ہر دل چمک رہا ہے معطر ہے ہر دماغ

ایسا بسے کہ بوے گل خلد سے بسے
ہو یاد نقشِ پاے نبی کا جو گھر دماغ

آباد کر خدا کے لیے اپنے نور سے
ویران دل ہے دل سے زیادہ کھنڈر دماغ

ہر خارِ طیبہ زینتِ گلشن ہے عندلیب
نادان ایک پھول پر اتنا نہ کر دماغ

زاہد ہے مستحقِ کرامت گناہ گار
اللہ اکبر اتنا مزاج اس قدر دماغ

اے عندلیب خارِ حرم سے مثالِ گل
بک بک کے ہرزہ گوئی سے خالی نہ کر دماغ

بے نور دل کے واسطے کچھ بھیک مانگتے
ذرّاتِ خاکِ طیبہ کا ملتا اگر دماغ

ہر دم خیالِ پاک اقامت گزیں رہے
بن جائے گر دماغ نہ ہو رہ گزر دماغ

شاید کہ وصف پاے نبی کچھ بیاں کرے
پوری ترقیوں پہ رسا ہو اگر دماغ

اُس بد لگام کو خر دجال جانئے
منہ آئے ذکر پاک کو سن کر جو خر دماغ

اُن کے خیال سے وہ ملی امن اے حسنؔ
سر پر نہ آئے کوئی بَلا ہو سپر دماغ

ذوقِ نعت

...

Kuch Gham Nahi Agarchey Zamana Ho Bar Khilaf

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف

اُن کا عدو اسیرِ بَلاے نفاق ہے
اُس کی زبان و دل میں رہے عمر بھر خلاف

کرتا ہے ذکرِ پاک سے نجدی مخالفت
کم بخت بد نصیب کی قسمت ہے بر خلاف

اُن کی وجاہتوں میں کمی ہو محال ہے
بالفرض اک زمانہ ہو اُن سے اگر خلاف

اُٹھوں جو خوابِ مرگ سے آئے شمیم یار
یا ربّ نہ صبحِ حشر ہو بادِ سحر خلاف

قربان جاؤں رحمتِ عاجز نواز پر
ہوتی نہیں غریب سے اُن کی نظر خلاف

شانِ کرم کسی سے عوض چاہتی نہیں
لاکھ اِمتثالِ امر میں دل ہو ادھر خلاف

کیا رحمتیں ہیں لطف میں پھر بھی کمی نہیں
کرتے رہے ہیں حکم سے ہم عمر بھر خلاف

تعمیل حکمِ حق کا حسنؔ ہے اگر خیال
ارشادِ پاک سرورِ دیں کا نہ کر خلاف

ذوقِ نعت

...

Rehmat na kis tarah Ho Gunahgar Ki Taraf

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف

جانِ جناں ہے دشتِ مدینہ تری بہار
بُلبل نہ جائے گی کبھی گلزار کی طرف

انکار کا وقوع تو کیا ہو کریم سے
مائل ہوا نہ دل کبھی اِنکار کی طرف

جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی
منہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف

منہ اُس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کی
جس کی نگاہ ہے ترے رُخسار کی طرف

جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیں
چُپ بیٹھے دیکھتے تری رفتار کی طرف

محشر میں آفتاب اُدھر گرم اور اِدھر
آنکھیں لگی ہیں دامنِ دلدار کی طرف

پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے دَر کے سامنے
گردن جھکی ہوئی تری دیوار کی طرف

گو بے شمار جرم ہوں گو بے عدد گناہ
کچھ غم نہیں جو تم ہو گنہگار کی طرف

یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مرا
میں خاک پر نگاہ دَرِ یار کی طرف

کعبے کے صدقے دل کی تمنا مگر یہ ہے
مرنے کے وقت منہ ہو دَرِ یار کی طرف

دے جاتے ہیں مراد جہاں مانگیے وہاں
منہ ہونا چاہیے درِ سرکار کی طرف

روکے گی حشر میں جو مجھے پا شکستگی
دوڑیں گے ہاتھ دامنِ دلدار کی طرف

آہیں دلِ اسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
اور آپ دوڑے آئے گرفتار کی طرف

دیکھی جو بے کسی تو انہیں رحم آ گیا
گھبرا کے ہو گئے وہ گنہگار کی طرف

بٹتی ہے بھیک دوڑتے پھرتے ہیں بے نوا
دَر کی طرف کبھی کبھی دیوار کی طرف

عالم کے دل تو بھر گئے دولت سے کیا عجب
گھر دوڑنے لگیں درِ سرکار کی طرف

آنکھیں جو بند ہوں تو مقدر کھلے حسنؔ
جلوے خود آئیں طالبِ دیدار کی طرف

ذوقِ نعت

...