Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Qibla Ka Bhi Rukh e Naiko Nazar Aaya

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا

محشر میں کسی نے بھی مری بات نہ پوچھی
حامی نظر آیا تو بس اِک تو نظر آیا

پھر بندِ کشاکش میں گرفتار نہ دیکھے
جب معجزۂ جنبشِ اَبرو نظر آیا

اُس دل کے فدا جو ہے تری دید کا طالب
اُن آنکھوں کے قربان جنھیں تو نظر آیا

سلطان و گدا سب ہیں ترے دَر کے بھکاری
ہر ہاتھ میں دروازے کا بازو نظر آیا

سجدہ کو جھکا جائے براہیم میں کعبہ
جب قبلۂ کونین کا اَبرو نظر آیا

بازارِ قیامت میں جنھیں کوئی نہ پوچھے
ایسوں کا خریدار ہمیں تو نظر آیا

محشر میں گنہ گار کا پلّہ ہوا بھاری
پلہ پہ جو وہ قربِ ترازو نظر آیا

یا دیکھنے والا تھا ترا یا ترا جویا
جو ہم کو خدا بِین و خدا جُو نظر آیا

شل ہاتھ سلاطیں کے اُٹھے بہرِ گدائی
دروازہ ترا قوتِ بازو نظر آیا

یوسف سے حسیں اور تمناے نظارہ
عالم میں نہ تم سا کوئی خوش رُو نظر آیا

فریادِ غریباں سے ہے محشر میں وہ بے چین
کوثر پہ تھا یا قربِ ترازو نظر آیا

تکلیف اُٹھا کر بھی دعا مانگی عدو کی
خوش خُلق نہ ایسا کوئی خوش خو نظر آیا

ظاہر ہیں حسنؔ احمد مختار کے معنی
کونین پہ سرکار کا قابو نظر آیا

ذوقِ نعت

...

Aisa Tujhe Khaliq Ne

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا

طلعت سے زمانے کو پُر انوار بنایا
نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا

دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوے
آئینوں کو جن جلوؤں نے دیوار بنایا

وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھے
اُس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا

اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع
تو نے ہی اُسے مطلعِ انوار بنایا

کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر
کونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا

کنجی تمھیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے
محبوب کیا مالک و مختار بنایا

اﷲ کی رحمت ہے کہ ایسے کی یہ قسمت
عاصی کا تمہیں حامی وغم خوار بنایا

آئینۂ ذاتِ احدیٰ آپ ہی ٹھہرے
وہ حسن دیا ایسا طرح دار بنایا

انوارِ تجلیّٰ سے وہ کچھ حیرتیں چھائیں
سب آئینوں کو پشت بدیوار بنایا

عالم کے سلاطین بھکاری ہیں بھکاری
سرکار بنایا تمھیں سرکار بنایا

گلزار کو آئینہ کیا منہ کی چمک نے
آئینہ کو رُخسار نے گل زار بنایا

یہ لذتِ پا بوس کہ پتھر نے جگر میں
نقشِ قدمِ سید ابرار بنایا

خدّام تو بندے ہیں ترے حسنِ خلق نے
پیارے تجھے بد خواہ کا غم خوار بنایا

بے پردہ وہ جب خاک نشینوں میں نکل آئے
ہر ذرّہ کو خورشیدِ پُر انوار بنایا

اے ماہِ عرب مہرِ عجم میں ترے صدقے
ظلمت نے مرے دن کو شبِ تار بنایا

ﷲ کرم میرے بھی ویرانۂ دل پر
صحرا کو ترے حسن نے گلزار بنایا

اﷲ تعالیٰ بھی ہوا اُس کا طرف دار
سرکار تمھیں جس نے طرفدار بنایا

گلزارِ جناں تیرے لیے حق نے بنائے
اپنے لیے تیرا گل رُخسار بنایا

بے یار و مددگار جنہیں کوئی نہ پوچھے
ایسوں کا تجھے یار و مددگار بنایا

ہر بات بد اعمالیوں سے میں نے بگاڑی
اَور تم نے مری بگڑی کو ہر بار بنایا

ان کے دُرِّ دنداں کا وہ صدقہ تھا کہ جس نے
ہر قطرۂ نیساں دُرِ شہوار بنایا

اُس جلوۂ رنگیں کا تصدق تھا کہ جس نے
فردوس کے ہر تختہ کو گلزار بنایا

اُس رُوحِ مجسم کے تبرک نے مسیحا
جاں بخش تمھیں یوں دمِ گفتار بنایا

اُس چہرۂ پُر نور کی وہ بھیک تھی جس نے
مہر و مہ و انجم کو پُر انوار بنایا

اُن ہاتھوں کاجلوہ تھا یہ اے حضرتِ موسیٰ
جس نے یدِبیضا کو ضیا بار بنایا

اُن کے لبِ رنگیں کے نچھاور تھی وہ جس نے
پتھر میں حسنؔ لعلِ پُر اَنوار بنایا

ذوقِ نعت

...

Tumhara Naam Musibat Mein Jab Liya Hoga

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا

گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گا
کیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا

خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرور
جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا

دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہو گا

خداے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی
خداے پاک خوشی اُن کی چاہتا ہو گا

کسی کے پاوں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے
کوئی اسیرِغم اُن کو پکارتا ہو گا

کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ
نہیں تو دَم میں غریبوں کا فیصلہ ہو گا

کسی کے پلّہ پہ یہ ہوں گے وقتِ وزنِ عمل
کوئی اُمید سے منہ اُن کا تک رہا ہو گا

کوئی کہے گا دہائی ہے یَا رَسُوْلَ اﷲ
تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہو گا

کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوے جحیم
وہ اُن کا راستہ پھِر پھِر کے دیکھتا ہو گا

شکستہ پا ہوں مرے حال کی خبر کردو
کوئی کسی سے یہ رو رو کے کہہ رہا ہو گا

خدا کے واسطے جلد اُن سے عرضِ حال کرو
کسے خبر ہے کہ دَم بھر میں ہائے کیا ہو گیا

پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا
تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہو گا

زبان سُوکھی دِکھا کر کوئی لبِ کوثر
جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہو گا

نشانِ خسروِ دیں دُور کے غلاموں کو
لِواے حمد کا پرچم بتا رہا ہو گا

کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر
کوئی صراط پر اُن کو پکارتا ہو گا

یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی
مقدس آنکھوں سے تار ا شک کا بندھا ہو گا

وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اندیشہ
ہجومِ فکر و تردد میں گھر گیا ہو گا

ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے
پکار سن کے اَسیروں کی دوڑتا ہو گا

عزیز بچہ کو ماں جس طرح تلاش کرے
خدا گواہ یہی حال آپ کا ہو گا

خدائی بھر اِنھیں ہاتھوں کو دیکھتی ہو گی
زمانہ بھر اِنھیں قدموں پہ لوٹتا ہو گا

بنی ہے دَم پہ دُہائی ہے تاج والے کی
یہ غل، یہ شور، یہ ہنگامہ، جابجا ہو گا

مقام فاصلوں ہر کام مختلف اِتنے
وہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہو گا

کہیں گے اور نبی اِذھَبُوْاِلٰی غَیرِی
مرے حضور کے لب پر اَ نَا لھَا ہو گا

دُعاے اُمتِ بدکار وردِ لب ہو گی
خدا کے سامنے سجدہ میں سر جھکا ہو گا

غلام اُن کی عنایت سے چین میں ہو نگے
عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہو گا

میں اُن کے دَر کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے
حسنؔ فقیر کا جنت میں بسترا ہو گا

ذوقِ نعت

...

Ye Ikram Hai Mustafa Par Khuda Ka

یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا

یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کا
کبھی ہاتھ اُٹھنے نہ پایا گدا کا

چمکتا ہوا چاند ثور و حرا کا
اُجالا ہوا بُرجِ عرشِ خدا کا

لحد میں عمل ہو نہ دیوِ بلا کا
جو تعویذ میں نقش ہو نقشِ پا کا

جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہارا
جو بندہ تمہارا وہ بندہ خدا کا

مرے گیسوؤں والے میں تیرے صدقے
کہ سر پر ہجومِ بَلا ہے بَلا کا

ترے زیرِ پا مسندِ ملکِ یزداں
ترے فرق پر تاجِ مُلکِ خدا کا

سہارا دیا جب مرے ناخدا نے
ہوئی ناؤ سیدھی پھرا رُخ ہوا کا

کیا ایسا قادر قضا و قدر نے
کہ قدرت میں ہے پھیر دینا قضا کا

اگر زیرِ دیوارِ سرکارِ بیٹھوں
مرے سر پہ سایہ ہو فضل خدا کا

ادب سے لیا تاجِ شاہی نے سر پر
یہ پایا ہے سرکار کے نقشِ پا کا

خدا کرنا ہوتا جو تحتِ مشیّت
خدا ہو کر آتا یہ بندہ خدا کا

اَذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو
پسِ ذکرِ حق ذکر ہے مصطفیٰ کا

کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے
تو پھر نام لے وہ حبیبِ خدا کا

یہ ہے تیرے ایماے اَبرو کا صدقہ
ہدف ہے اَثر اپنے تیرِ دُعا کا

ترا نام لے کر جو مانگے وہ پائے
ترا نام لیوا ہے پیارا خدا کا

نہ کیوں کر ہو اُس ہاتھ میں سب خدائی
کہ یہ ہاتھ تو ہاتھ ہے کبریا کا

جو صحراے طیبہ کا صدقہ نہ ملتا
کھلاتا ہی تو پھول جھونکا صبا کا

عجب کیا نہیں گر سراپا کا سایہ
سراپا سراپا ہے سایہ خدا کا

خدا مدح خواں ہے خدا مدح خواں ہے
مرے مصطفےٰ کا مرے مصطفےٰ کا

خدا کا وہ طالب خدا اُس کا طالب
خدا اُس کا پیارا وہ پیارا خدا کا

جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری
وہی در ہے داتا کی دولت سرا کا

ترے رُتبہ میں جس نے چون و چرا کی
نہ سمجھا وہ بدبخت رُتبہ خدا کا

ترے پاؤں نے سر بلندی وہ پائی
بنا تاجِ سر عرش ربِّ عُلا کا

کسی کے جگر میں تو سر پر کسی کے
عجب مرتبہ ہے ترے نقشِ پا کا

ترا دردِ الفت جو دل کی دوا ہو
وہ بے درد ہے نام لے جو دوا کا

ترے بابِ عالی کے قربان جاؤں
یہ ہے دوسرا نام عرشِ خدا کا

چلے آؤ مجھ جاں بلب کے سِرھانے
کہ سب دیکھ لیں پھر کے جانا قضا کا

بھلا ہے حسنؔ کا جنابِ رضا سے
بھلا ہو الٰہی جنابِ رضا کا

ذوقِ نعت

...

Agar Qismat Se Main Un Ki Gali Main

اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا

جو اے گل جامۂ ہستی تری پوشاک ہو جاتا
تو خارِ نیستی سے کیوں اُلجھ کر چاک ہو جاتا

جو وہ اَبرِ کرم پھر آبروے خاک ہو جاتا
تو اُس کے دو ہی چھینٹوں میں زمانہ پاک ہو جاتا

ہواے دامنِ رنگیں جو ویرانے میں آ جاتی
لباسِ گل میں ظاہر ہر خس و خاشاک ہو جاتا

لبِ جاں بخش کی قربت حیاتِ جاوداں دیتی
اگر ڈورا نفس کا ریشۂ مسواک ہو جاتا

ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی اُن کے دامن کی
الٰہی صبحِ محشر کا گریباں چاک ہو جاتا

اگر دو بوند پانی چشمۂ رحمت سے مل جاتا
مری ناپاکیوں کے میل دُھلتے پاک ہو جاتا

اگر پیوند ملبوسِ پیمبر کے نظر آتے
ترا اے حُلّۂ شاہی کلیجہ چاک ہو جاتا

جو وہ گل سُونگھ لیتا پھول مرجھایا ہوا بلبل
بہارِ تازگی میں سب چمن کی ناک ہو جاتا

چمک جاتا مقدر جب دُرِ دنداں کی طلعت سے
نہ کیوں رشتہ گہر کا ریشۂ مسواک ہو جاتا

عدو کی آنکھ بھی محشر میں حسرت سے نہ منہ تکتی
اگر تیرا کرم کچھ اے نگاہِ پاک ہو جاتا

بہارِ تازہ رہتیں کیوں خزاں میں دَھجیاں اُڑتیں
لباسِ گل جو اُن کی ملگجی پوشاک ہو جاتا

کماندارِ نبوت قادِر اندازی میں یکتا ہیں
دو عالم کیوں نہ اُن کا بستۂ فتراک ہو جاتا

نہ ہوتی شاق گر دَر کی جدائی تیرے ذرّہ کو
قمر اِک اَور بھی روشن سرِ اَفلاک ہو جاتا

تری رحمت کے قبضہ میں ہے پیارے قلبِ ماہیت
مرے حق میں نہ کیوں زہر گنہ تریاک ہوجاتا

خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شراکِ نعلِ پاکِ سیدِ لولاک ہو جاتا

تجلی گاہِ جاناں تک اجالے سے پہنچ جاتے
جو تو اے تَوسنِ عمرِ رواں چالاک ہو جاتا

اگر تیری بھرن اے ابرِ رحمت کچھ کرم کرتی
ہمارا چشمۂ ہستی اُبل کر پاک ہو جاتا

حسنؔ اہلِ نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مُشتِ خاک اُن کی گلی کی خاک ہو جاتا

ذوقِ نعت

...

Dushman Hai Gale ka Haar Aaqa

دشمن ہے گلے کا ہار آقا
لُٹتی ہے مری بہار آقا

تم دل کے لیے قرار آقا
تم راحتِ جانِ زار آقا

تم عرش کے تاجدار مولیٰ
تم فرش کے با وقار آقا

دامن دامن ہوائے دامن
گلشن گلشن بہار آقا

بندے ہیں گنہگار بندے
آقا ہیں کرم شعار آقا

اِس شان کے ہم نے کیا کسی نے
دیکھے نہیں زینہار آقا

بندوں کا اَلم نے دل دُکھایا
اَور ہو گئے بے قرار آقا

آرام سے سوئیں ہم کمینے
جاگا کریں با وقار آقا

ایسا تو کہیں سنا نہ دیکھا
بندوں کا اُٹھائیں بار آقا

جن کی کوئی بات تک نہ پوچھے
اُن پر تمھیں آئے پیار آقا

پاکیزہ دلوں کی زینت ایمان
ایمان کے تم سنگار آقا

صدقہ جو بٹے کہیں سلاطیں
ہم بھی ہیں اُمیدوار آقا

چکرا گئی ناؤ بے کسوں کی!
آنا مرے غمگسار آقا

اﷲ نے تم کو دے دیا ہے
ہر چیز کا اختیار آقا

ہے خاک پہ نقشِ پا تمہارا
آئینہ بے غبار آقا

عالم میں ہیں سب بنی کے ساتھی
بگڑی کے تمھیں ہو یار آقا

سرکار کے تاجدار بندے
سرکار ہیں تاجدار آقا

دے بھیک اگر جمالِ رنگیں
جنت ہو مرا مزار آقا

آنکھوں کے کھنڈر بھی اب بسا دو
دل کا تو ہوا وقار آقا

ایماں کی تاک میں ہے دشمن
آؤ دمِ احتضار آقا

ہو شمعِ شبِ سیاہ بختاں
تیرا رُخِ نور بار آقا

تُو رحمتِ بے حساب کو دیکھ
جُرموں کا نہ لے شمار آقا

دیدار کی بھیک کب بٹے گی
منگتا ہے اُمیدار آقا

بندوں کی ہنسی خوشی میں گزرے
اِس غم میں ہوں اشکبار آقا

آتی ہے مدد بَلا سے پہلے
کرتے نہیں انتظار آقا

سایہ میں تمہارے دونوں عالم
تم سایۂ کردگار آقا

جب فوجِ اَلم کرے چڑھائی
ہو اَوجِ کرم حصار آقا

ہر ملکِ خدا کے سچے مالک
ہر ملک کے شہر یار آقا

مانا کہ میں ہوں ذلیل بندہ
آقا تُو ہے با وقار آقا

ٹوٹے ہوئے دل کو دو سہارا
اَب غم کی نہیں سہار آقا

ملتی ہے تمھیں سے داد دل کی
سنتے ہو تمھیں پکار آقا

تیری عظمت وہ ہے کہ تیرا
اﷲ کرے وقار آقا

اﷲ کے لاکھوں کارخانے
سب کا تمھیں اختیار آقا

کیا بات تمہارے نقشِ پا کی
ہے تاجِ سرِ وقار آقا

خود بھیک دو خود کہو بھلا ہو
اِس دَین کے میں نثار آقا

وہ شکل ہے واہ وا تمہاری
اﷲ کو آئے پیار آقا

جو مجھ سے مجھے چھپائے رکھے
وہ جلوہ کر آشکار آقا

جو کہتے ہیں بے زباں تمہارے
گونگوں کی سنو پکار آقا

وہ دیکھ لے کربلا میں جس نے
دیکھے نہ ہو جاں نثار آقا

آرام سے شش جہت میں گزرے
غم دل سے نہ ہو دو چار آقا

ہو جانِ حسنؔ نثار تجھ پر
ہو جاؤں ترے نثار آقا

ذوقِ نعت

...

Wah Kya Martaba Hua Tera

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
تو خدا کا خدا ہوا تیرا

تاج والے ہوں اِس میں یا محتاج
سب نے پایا دیا ہوا تیرا

ہاتھ خالی کوئی پھرا نہ پھرے
ہے خزانہ بھرا ہوا تیرا

آج سنتے ہیں سننے والے کل
دیکھ لیں گے کہا ہوا تیرا

اِسے تو جانے یا خدا جانے
پیش حق رُتبہ کیا ہوا تیرا

گھرہیں سب بند دَرہیں سب تیغ
ایک دَر ہے کھلا ہوا تیرا

کام توہین سے ہے نجدی کو
تو ہوا یا خدا ہوا تیرا

تاجداروں کا تاجدار بنا
بن گیا جو گدا ہوا تیرا

اور میں کیا لکھوں خدا کی حمد
حمد اُسے وہ خدا ہوا تیرا

جو ترا ہو گیا خدا کا ہوا
جو خدا کا ہوا ہوا تیرا

حوصلے کیوں گھٹیں غریبوں کے
ہے اِرادہ بڑھا ہوا تیرا

ذات بھی تیری انتخاب ہوئی
نام بھی مصطفیٰ ہوا تیرا

جسے تو نے دیا خدا نے دیا
دَین رب کا دیا ہوا تیرا

ایک عالم خدا کا طالب ہے
اور طالب خدا ہوا تیرا

بزمِ اِمکاں ترے نصیب کھلے
کہ وہ دُولھا بنا ہوا تیرا

میری طاعت سے میرے جرم فزوں
لطف سب سے بڑھا ہوا تیرا

خوفِ وزنِ عمل کسے ہو کہ ہے
دل مدد پر تُلا ہوا تیرا

کام بگڑے ہوئے بنا دینا
کام کس کا ہوا ہوا تیرا

ہر اَدا دل نشیں بنی تیری
ہر سخن جاں فزا ہوا تیرا

آشکارا کمالِ شانِ حضور
پھر بھی جلوہ چھپا ہوا تیرا

پَردہ دَارِ اَدا ہزار حجاب
پھر بھی پردہ اُٹھا ہوا تیرا

بزمِ دنیا میں بزمِ محشر میں
نام کس کا ہوا ہوا تیرا

مَنْ رّاٰنِیْ فَقَدْ رَا اَلْحَقَّ
حُسن یہ حق نما ہوا تیرا

بارِ عصیاں سروں سے پھینکے گا
پیش حق سر جھکا ہوا تیرا

یمِ جودِ حضور پیاسا ہوں
یم گھٹا سے بڑھا ہوا تیرا

وصلِ وحدت پھر اُس پہ یہ خلوت
تجھ سے سایہ جدا ہوا تیرا

صنعِ خالق کے جتنے خاکے ہیں
رنگ سب میں بھرا ہوا تیرا

ارضِ طیبہ قُدومِ والا سے
ذرّہ ذرّہ سما ہوا تیرا

اے جناں میرے گل کے صدقے میں
تختہ تختہ بسا ہوا تیرا

اے فلک مہر حق کے باڑے سے
کاسہ کاسہ بھرا ہوا تیرا

اے چمن بھیک ہے تبسم کی
غنچہ غنچہ کھِلا ہوا تیرا

ایسی شوکت کے تاجدار کہاں
تخت تختِ خدا ہوا تیرا

اِس جلالت کے شہر یار کہاں
مِلک مُلکِ خدا ہوا تیرا

اِس وجاہت کے بادشاہ کہاں
حکم حکمِ خدا ہوا تیرا

خلق کہتی ہے لامکاں جس کو
شہ نشیں ہے سجا ہوا تیرا

زیست وہ ہے کہ حُسنِ یار رہے
دل میں عالم بسا ہوا تیرا

موت وہ ہے کہ ذکرِ دوست رہے
لب پہ نقشہ جما ہوا تیرا

ہوں زمیں والے یا فلک والے
سب کو صدقہ عطا ہوا تیرا

ہر گھڑی گھر سے بھیک کی تقسیم
رات دن دَر کھلا ہوا تیرا

نہ کوئی دو سَرا میں تجھ سا ہے
نہ کوئی دُوسرا ہوا تیرا

سوکھے گھاٹوں مرا اُتار ہو کیوں
کہ ہے دریا چڑھا ہوا تیرا

سوکھے دھانوں کی بھی خبر لے لے
کہ ہے بادل گھرا ہوا تیرا

مجھ سے کیا لے سکے عدو ایماں
اور وہ بھی دیا ہوا تیرا

لے خبر ہم تباہ کاروں کی
قافلہ ہے لٹا ہوا تیرا

مجھے وہ درد دے خدا کہ رہے
ہاتھ دل پہ دَھرا ہوا تیرا

تیرے سر کو ترا خدا جانے
تاجِ سر نقشِ پا ہوا تیرا

بگڑی باتوں کی فکر کر نہ حسنؔ
کام سب ہے بنا ہوا تیرا

ذوقِ نعت

...

Hazrat Sheikh Abdullah Shattari

معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
جب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا

ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھا
غم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا

تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مہ پارے بنے
تیری ہیبت سے فلک کا مہ دوپارا ہو گیا

اللہ اللہ محو حُسنِ روے جاناں کے نصیب
بند کر لیں جس گھڑی آنکھیں نظارا ہو گیا

یوں تو سب پیدا ہوئے ہیں آپ ہی کے واسطے
قسمت اُس کی ہے جسے کہہ دو ہمارا ہو گیا

تیرگی باطل کی چھائی تھی جہاں تاریک تھا
اُٹھ گیا پردہ ترا حق آشکارا ہو گیا

کیوں نہ دم دیں مرنے والے مرگِ عشقِ پاک پر
جان دی اور زندگانی کا سہارا ہو گیا

نام تیرا، ذکر تیرا، تو، ترا پیارا خیال
ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہو گیا

ذرّۂ کوے حبیب‘ اللہ رے تیرے نصیب
پاؤں پڑ کر عرش کی آنکھوں کا تارا ہو گیا

تیرے صانع سے کوئی پوچھے ترا حُسن و جمال
خود بنایا اور بنا کر خود ہی پیارا ہو گیا

ہم کمینوں کا اُنھیں آرام تھا اِتنا پسند
غم خوشی سے دُکھ تہِ دل سے گوارا ہو گیا

کیوں نہ ہو تم مالکِ مُلکِ خدا مِلک خدا
سب تمہارا ہے خدا ہی جب تمہارا ہو گیا

روزِ محشر کے اَلم کا دشمنوں کو خوف ہو
دُکھ ہمارا آپ کو کس دن گوارا ہو گیا

جو ازل میں تھی وہی طلعت وہی تنویر ہے
آئینہ سے یہ ہوا جلوہ دوبارا ہو گیا

تو نے ہی تو مصر میں یوسف کو یوسف کر دیا
تو ہی تو یعقوب کی آنکھوں کا تارا ہو گیا

ہم بھکاری کیا ہماری بھیک کس گنتی میں ہے
تیرے دَر سے بادشاہوں کا گزارا ہو گیا

اے حسنؔ قربان جاؤں اُس جمالِ پاک پر
سینکڑوں پردوں میں رہ کر عالم آرا ہو گیا

ذوقِ نعت

...

Bayan Ho Kis Zaban Se Martaba

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

الٰہی رحم فرما خادمِ صدیق اکبر ہوں
تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا

رُسل اور انبیا کے بعد جو افضل ہو عالم سے
یہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ صدیق اکبر کا

گدا صدیق اکبر کا خدا سے فضل پاتا ہے
خدا کے فضل سے میں ہوں گدا صدیق اکبر کا

نبی کا اور خدا کا مدح گو صدیق اکبر ہے
نبی صدیق اکبر کا خدا صدیق اکبر کا

ضیا میں مہر عالم تاب کا یوں نام کب ہوتا
نہ ہوتا نام گر وجہِ ضیا صدیق اکبر کا

ضعیفی میں یہ قوت ہے ضعیفوں کو قوی کر دیں
سَہارا لیں ضعیف و اَقویا صدیق اکبر کا

خدا اِکرام فرماتا ہے اَتْقٰی کہہ کے قرآں میں
کریں پھر کیوں نہ اِکرام اتقیا صدیق اکبر کا

صفا وہ کچھ ملی خاک سرِ کوئے پیمبر سے
مصَفّا آئینہ ہے نقشِ پا صدیق اکبر کا

ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت
بنا فخر سلاسِل سلسلہ صدیق اکبر کا

مقامِ خوابِ راحت چین سے آرام کرنے کو
بنا پہلوے محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

علی ہیں اُس کے دشمن اور وہ دشمن علی کا ہے
جو دشمن عقل کا دشمن ہوا صدیق اکبر کا

لٹایا راہِ حق میں گھر کئی بار اس محبت سے
کہ لُٹ لُٹ کر حسنؔ گھر بن گیا صدیق اکبر کا

ذوقِ نعت

...