Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Farmate Hain Sheikh Abdur Razzaq

فرماتے ہیں شیخ عبدالرزاق
فرخندہ سیر ستودہ اخلاق

پوچھا یہ جناب سے کسی نے
کب خود کو ولی حضور سمجھے؟

فرمایا کہ دس برس کے تھے ہم
جاتے تھے جو پڑھنے کے لیے ہم

پہنچانے کے واسطے فرشتے ٔ
مکتب کو ہمارے ساتھ جاتے

جب مدرسہ تک پہنچتے تھے ہم
لڑکوں سے یہ کہتے تھے وہ اُس دم

محبوبِ خدا کے بیٹھنے کو
اِطفال جگہ فراخ کر دو(۱)

ایک شخص کو ایک روز دیکھا
دیکھا تھا نہ اس سے پہلے اصلاَ

اُس نے یہ کسی مَلک سے پوچھا
کچھ مجھ کو بتاؤ حال اِن کا

یہ کون صبّی ہیں باوجاہت
سرکار میں جن کی ہے یہ عزت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) ، صفحہ18 پر ہے ، اَفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللّٰہِ یعنی اُٹھو اور خدا کے ولی کو جگہ دو۔قادری

بولا کہ ولی ہیں اولیا سے
توقیر یہ پائیں گے خدا سے

بے تبع عطا عطا کریں گے
بے پردہ لقا عطا کریں گے

تمکیں انہیں بے حجاب دیں گے
جو دیں گے وہ بے حساب دیں گے

حاصل ہو انہیں وہ قرب اللہ(ا)
جس میں نہ ہو مکر کو کبھی راہ

سائل کو کہ وقت کا ’’بَدَلْ‘‘ تھا
چالیس برس کے بعد دیکھا

اے دل یہ طریقِ سروراں ہے
آئینِ اکابرِ جہاں ہے

شہزادہ جو مدرسے سدھاریں
خدام اَدب چلیں جلو میں

تھا عالم قدس سے جو وہ ماہ
خالق نے کیے فرشتے ہمراہ

یعنی کہ نواسے کے جلو میں
نانا کے غلام خدمتیں دیں

وسائلِ بخشش

...

Daaya Hoein Aik Roz Hazir

دایہ ہوئیں ایک روز حاضر
اور عرض یہ کی کہ عبدِ قادِر

بچپن میں تو اُڑ کے گود سے تم
ہو جاتے تھے آفتاب میں گم

امکان میں ہے یہ حال اب بھی
کر سکتے ہو یہ کمال اب بھی

ارشاد ہوا بخوش بیانی
وہ عہد تھا عہدِ ناتُوانی

اُس وقت ہم صغیر سِنْ تھے
کمزوری و ضُعف کے وہ دن تھے

طاقت تھی جو ہم میں مہر سے کم
چھپ جاتے تھے آفتاب میں ہم

اب ایسے ہزار مہر آئیں
گُم ہم میں ہوں پھر پتا نہ پائیں

صدقے ترے اے جمال والے
قربان تری تجلیوں کے

تو رُخ سے اگر اُٹھا دے پردے
ہر ذرّہ کو آفتاب کر دے

وہ حسن دیا تجھے خدا نے
محبوب کیا تجھے خدا نے

ہر جلوہ بہار گلشنِ نور
ہر عکس طرازِ دامنِ نور

تو نورِ جنابِ کبریا ہے
تو چشم و چراغِ مصطفی ہے

کہتی ہے یہ تیرے رُخ کی تنویر
میں سُورۂ نور کی ہوں تفسیر

اے دونوں جہان کے اجالے
تاریکیِ قبر سے بچا لے

میں داغِ گناہ کہاں چھپاؤں
یہ رُوے سیاہ کسے دکھاؤں

ظلمت ہو بیان کیا گناہ کی
چھائی ہوئی ہے گھٹا گناہ کی

اے مہر ذرا نقاب اٹھا دے
للہ خوشی کا دن دکھا دے

پھر شامِ اَلم نے کی چڑھائی
بغداد کے چاند کی دُہائی

آفت میں غلام ہے گرفتار
اب میری مدد کو آؤ سرکار

حالِ دلِ بے قرار سُن لو
للہ میری پکار سُن لو

وسائلِ بخشش

...

Manqool Hai Tohfa Main Riwayat


منقول ہے ’تحفہ‘ میں روایت
بچپن میں ہوا یہ قصدِ حضرت

کھیتی کو کریں وسیلۂ رزق
مسنون ہے کسبِ حیلۂ رزق

جس دن یہ خیال شاہ کو آیا
لکھتے ہیں وہ روز عرفہ کا تھا

نر گاؤ کو لے چلے جو آقا
منہ پھیر اس طرح وہ بولا

یہ حکم نہ آپ کو دیا ہے
مخلوق نہ اس لیے کیا ہے(۱)

سن کر یہ کلام ڈر گئے آپ
گھر آئے تو سقف پر گئے آپ

وہ نیّرِ دیں جو بام پر آئے
حاجی عرفات میں نظر آئے

سبحان اللہ اے تیری شان
یہ بام کہاں، کہاں وہ میدان

صدہا منزل کا فاصلہ تھا
یاں پاؤں تلے کا ماجرا تھا

ہاں چاند ہیں بامِ آسماں ہے
گردُوں سے قمر کو سب عیاں ہے

یہ دیکھ کر آئے پیشِ مادر
گویا ہوئے اس طرح سے سرور

امی مجھے اِذن کی ہو اِمداد
اب کارِ خدا میں کیجیے آزاد

بغداد کو جاؤں علم سیکھوں
اللہ کے نیک بندے دیکھوں

مادر نے سبب جو اس کا پوچھا
دیکھا تھا جو کچھ وہ کہہ سنایا

وہ روئیں، اُٹھیں، گئیں، پھر آئیں
میراثِ پدر جو تھی وہ لائیں

وارثِ پدرِ حضورِ عالی
دینار شمار میں تھے اَسّی

چالیس اُن میں سے شاہ نے پائے
چالیس برادرِ دوم نے

دینار وہ اُمّ مشفقہ نے
جامہ میں سئیے بغل کے نیچے

پھر عہد لیا کہ راستی کو
ہر حال میں اپنے ساتھ رکھو

پھر بہر سفر ملی اجازت
باہر آئیں برائے رخصت

اِرشاد ہوا برائے یزداں
کرتی ہوں میں تجھ سے قطع اے جاں

اب تیری یہ پیاری پیاری صورت
آئے گی نظر نہ تا قیامت

جیلاں سے چلا وہ شاہ ذی جاہ
اک چھوٹے سے قافلہ کے ہمراہ

ہمدان سے جو لوگ باہر آئے
قزاق انہوں نے ساٹھ پائے

لُوٹا، مارا، کیا گرفتار
شاہ کو نہ دیا کسی نے آزار

اک شخص ادھر بھی ہو کے نکلا
پوچھا کہ تمہارے پاس ہے کیا

مولیٰ نے کیا یہ سُن کے اظہار
جامہ میں سلے ہوئے ہیں دینار

رہزن نے کہا، کہو! کہاں ہیں؟
فرمایا تہِ بغل نہاں ہیں

گنتی پوچھی وہ کہہ سنائی
موقع پوچھا جگہ بتائی

سُن کر یہ جواب چل دیا وہ
اس سچ کو ہنسی سمجھ لیا وہ

اک اور بھی سامنے سے گزرا
اس سے بھی یہ حال پیش آیا

وہ بھی سِرکا ہنسی سمجھ کر
چلتا ہوا دل لگی سمجھ کر

دونوں جو ملے دلوں کی صورت
کی ایک نے ایک سے حکایت

سردار کو حال جا سنایا
اُس نے انہیں بھیج کر بلایا

وہ آپ کو ساتھ لے کے پہنچے
جس ٹیلے پہ مال بانٹتے تھے

اس نے بھی کیے وہی سوالات
فرمائی حضور نے وہی بات

آخر ٹھہری کہ امتحاں ہو
اس جامہ کو چاک کر کے دیکھو

نکلے صادق کی کرتے تائید
چاکِ جیبِ سحر سے خورشید

یوسف کا قمیص تھا وہ کُرتا
تصدیق وہ چاک کیوں نہ کرتا

حیرت ہوئی اُس کو کی یہ گفتار
کیوں تم نے کیا یہ حال اظہار

فرمایا کہ ماں کی تھی نصیحت
یہ عہد لیا تھا وقتِ رُخصت

ہر حال میں راستی سے ہو کام
ہر کام میں بس اسی سے ہو کام

وہ عہد ہے صُورتِ امانت
کرتا نہیں اُس میں مَیں خیانت

سردار نے جب سُنے یہ اَحْوال
روتے روتے ہوا بُرا حال

سچوں کی تھی پُر اثر وہ تقریر
کیوں کرتی نہ دل میں گھر وہ تقریر

تاثیرِ بیاں بیاں ہو کیوں کر
دل کھینچ لیا ہے لب ہلا کر

رونے سے جو کچھ افاقہ پایا
سردار حضور سے یہ بولا

قائم رہو ماں کے عہد پر تم!
اور عہدِ خدا کو ہم کریں گُم!

کرتا ہوں میں ترک یہ معائب
ہوتا ہوں تمہارے آگے تائب

دیکھا جو یہ اُس کے ساتھیوں نے
سردار سے اس طرح وہ بولے

جب راہ زنی تھی اپنا پیشہ
سردار رہا ہے تو ہمیشہ

توبہ میں بھی ہم سے تو ہے اَقدم
یوں بھی کریں تیری پیروی ہم

تائب ہوئے، مال قافلہ کا
جس جس سے لیا تھا اس کو پھیرا

فرماتے ہیں ہاتھ پر ہمارے
کی توبہ اُنہوں نے سب سے پہلے

آقا میں بَلا میں مبتلا ہوں
شیطان کے دام میں پھنسا ہوں

اب میری مدد کو آؤ یا غوث
رہزن سے مجھے بچاؤ یا غوث

لُٹتا ہے غریب آہ سرکار
درکار ہے اک نگاہ سرکار

لُٹتا ہے میاں غلام تیرا
للہ! اِدھر بھی کوئی پھیرا

مضطر ہے بہت غلام آقا
جنگل میں ہوئی ہے شام آقا

قطاع طریق ہیں مقابل
نزدیک ہے شام دُور منزل

کیجیے میری سمت خوش خرامی
کہتے ہوئے لَا تَخَفْ غُلَامِیْ

ہو جائے شبِ اَلم کنارے
آ جاؤ کہ دن پھریں ہمارے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) میں ہے : یَا عَبْدَالْقَادِرِ مَا لِھٰذَا خُلِقْتَ وَ لَا بِھٰذَا اُمِرْتَ۔ قادری

وسائلِ بخشش

...

Manqool Hai Qol Sheikh e Imran


منقول ہے قول شیخ عمراں
فرماتے ہیں اس طرح وہ ذیشاں

اک دن میں گیا حضور سرکار
اور عرض یہ کی کہ شاہِ ابرار

گر کوئی با ادعاے نسبت
کہتا ہو کہ ہوں مرید حضرت

واقع میں نہ کی ہو بیعت اُس نے
پائی نہ ہو یہ کرامت اُس نے

خرقہ نہ کیا ہو یاں سے حاصل
کیا وہ بھی مریدوں میں ہے داخل

گویا ہوئے یوں خدا کے محبوب
جو آپ کو ہم سے کر دے منسوب

مقبول کرے خداے برتر
ہوں عفو گناہ اس کے یکسر

ہو گرچہ َاسیرِ دامِ عصیاں
ہے داخلِ زمرۂ مریداں (۱)

ہاں مژدہ ہو بہرِ قادریاں
ہے جوش پہ بحر فیضِ احساں

دیکھے تو کوئی حسنؔ کہاں ہے
وہ وقفِ غم و محن کہاں ہے

کہہ دو کہ گئی اَلم کی ساعت
سرکار لٹا رہے ہیں دولت

سلطان ہے بر سرِ عطا آ
دامن پھیلائے دوڑتا آ

کیوں کوہِ اَلم تجھے دبائے
کیوں کاوِشِ غم تجھے ستائے

سرکارِ کریم ہے یہ دربار
دربارِ کریم ہے دُربار

جھوٹوں بھی جو ہو غلام کوئی
اُس کا بھی رُکے نہ کام کوئی

رد کرنے کا یاں نہیں ہے معمول
ہیں نام کی نسبتیں بھی مقبول

تجھ کو تو ہے واقعی غلامی
لے دولت عشرتِ دوامی

اس ہاتھ میں آ کے ہاتھ دیجیے
اور دونوں جہاں میں چین کیجیے

احسانِ خدا کہ پیر پایا
اور پیر بھی دستگیر پایا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مریدوں میں قبول فرمایا بلکہ مزید بشارت عطا فرمائی چنانچہ بہجۃ الاسرار : 193 پر ہے: رَبِّیْ عَزَّوجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یَدْخُلَ اَصْحَابِیْ وَ…کُلُّ مُحِبّی فِی الْجَنَّۃِ یعنی میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور میرے ہم مذہبوں اور مجھ سے محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ قادری

 

 

...

Aey Dil Yeh Bayan Hai Qabil e Sair


اے دل یہ بیاں ہے قابل سیر
فرماتے ہیں حضرت ابوالخیر

ہیں اور میرے ساتھ کچھ مکرم
حاضر تھے حضورِ غوثِ اعظم

فرمانے لگے جنابِ والا
مقبول حضور حق تعالیٰ

ہم آج کہ بر سرِ عطا ہیں
اور مظہرِ رحمتِ خدا ہیں

جو کچھ مانگو عطا کریں گے
حاجت سب کی روا کریں گے

سن کر یہ ابو سعید اُٹھے
یوں پیش جنابِ شیخ اُٹھے

یہ خواہش دل ہے تاجدار آج
اِمداد ہو ترک اختیار آج

یعنی کہ فقط یہ چاہتا ہوں
میں اپنی طرف سے کچھ نہ چاہوں

پھر حضرت ابن قاید اُٹھ کر
گویا ہوئے اس طرح کہ سرور

ہے میری یہی مراد و حاجت
پاؤں میں مجاہدہ کی قوت

بزاز عمر نے عرض کی یہ
یا شاہ ہے مطلب دلی یہ

ہو خوفِ خدا مجھے عنایت
اور صدق و صفا عطا ہو حضرت

پھر بولے حَسَن کہ شاہِ عالم
یہ حال میرا فزوں ہو ہر دم

بولے یہ جمیل مجھ کو حضرت
حفظِ اوقات کی ہے حاجت

پھر بوالبرکات نے کہا یوں
محبوب ہو عشق مانگتا ہوں

پھر میں نے یہ عرض کی کہ سرکار
بندہ کو وہ معرفت ہے درکار

فارق رہے واردات میں جو
معلوم رہے یہ حال مجھ کو

رحمن کی طرف سے تھا یہ وارد
شیطاں کی طرف سے تھا یہ وارد

پھر شیخ خلیل حاضر آئے
سائل ہوئے جاہِ قطبیت کے

پائی جو سوال سن کے فرصت
فرمائی جواب میں یہ آیت

کُلاًّ نُّمِدُّ ھٰؤُلآَئِ وھٰؤلاَئِ مِِنْ عَطَآئِ رَبِّکَ وَ ماَ کَانَ عَطَآئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًاo
(ہم سب کو مدد دیتے ہیں اِن کو بھی اور اُن کو بھی تمہارے ربّ کی عطا سے اور تمہارے ربّ
کی عطا پر روک نہیں)۔ [ پارہ 15، بنی اسرائیل:20]

یعنی کہ ہوا یہ سب سے ارشاد
ہم کرتے ہیں فضلِ ربّ سے امداد

رُکتی ہے کہیں عطا خدا کی
کچھ حد نہیں فضلِ کبریا کی

بوالخیر یہ کہتے ہیں قسم سے
مطلب جو طلب کیے تھے پائے

ہے عام عطیہ شاہ باذِل
ہیہات گدا کدھر ہے غافل

ہاں تھام لے دامنِ معلّٰی
سر پاؤں پہ رکھ کے گود پھیلا

محتاج کو آج تاج دیں گے
ٹھہری ہے جو مانگی آج دیں گے

شاہا مری صرف یہ صدا ہے
منگتا ترا تجھ کو مانگتا ہے

بھٹکا پھرے کیوں گمان میرا
تو میرا تو سب جہان میرا

اے دل میں نثار فیض باری
کیا بزم دکھائی پیاری پیاری

ہے بیچ میں اک کریم باذِل
گھیرے ہوئے ہر طرف سے سائل

پروانوں میں شمع ہے نمودار
یا تاروں میں چاند ہے ضیا بار

محبوب ہے اپنے مائلوں میں
یا پھول ہزار بلبلوں میں

ذرّوں میں ہے مہر کی تجلّی
گِھر آئے ہیں آئنہ پہ طوطی

ہر عکس ہزار آن کی جاں
ایمان کی جاں، جان کی جاں

کہتا ہوں یہ حسنؔ کی زبانی
ہم آج ہیں شرح مَنْ رَاٰنِیْْ(۱)

پردۂ رُخ یہ دُور فرمائیں
کیا بزم! نصیب تک چمک جائیں

ہو چاند چکور بن کے شیدا
سورج کہے ذرّہ ہوں تمہارا

عالم سے نرالی ہیں ادائیں
دل کھینچنے والی ہیں ادائیں

وہ آنکھیں ہیں قابلِ زیارت
ہو جن میں یہ پیاری پیاری صورت

اُس دل کی خوشی کا کیا بیاں ہو
جس میں یہ جمال مہماں ہو

وہ پاؤں ہیں چومنے کے قابل
طے جن سے ہو اُن کے گھر کی منزل

اُن ہاتھوں کا ہے عجب نصیبہ
پایا ہے جنہوں نے دامن اُن کا

ایسوں سے پھرا ہوا ہے جو دل
برگشتہ نصیب ہے وہ غافل

خالی ہے جو اُن کی آرزو سے
وہ آنکھ بھری رہے لہو سے

کہہ دیجیے اُن کے مدعی سے
مایوسِ جناں ہو تو ابھی سے

کم بخت اگر یہی ہیں محتاج
تو کون ہے آج صاحبِ تاج

جو اُن سے ملا، ملا خدا سے
جو اُن سے پھرا، پھرا خدا سے

مردانِ خدا خدا نباشند
لیکن ز خدا جدا نباشند

جو اُن سے پھرے عجیب ہے وہ
بدبخت ہے، بدنصیب ہے وہ

ایسوں کو بُرا کہا ستم گر
ایمان نگل گیا ستم گر

اور تجھ کو ڈکار تک نہ آئی
اُف رے تیرے معدہ کی صفائی

چوپاں سے الگ الگ جو جائے
کب گُرْگ کے شر سے امن پائے

کہتا ہے تُو اُن کو خاک کا ڈھیر
ناپاک تری سمجھ کا ہے پھیر

شیطاں نے تجھے کیا ہے مجنوں
کیا تو نے سنا نہ لاَ یَمُوتُوں

کیا سُوجھی ہے منکر تصرف
اس درجہ ہے بدلگام تو اُف

قدرت اُنہیں دی ہے کبریا نے
مقبول کیا اُنہیں خدا نے

پھر کیوں نہ دکھائیں یہ کرامت
کیا جائے عجب ہے خرقِ عادت

مشرک تجھے شرک سُوجھتا ہے
زندوں کو خدا بنا لیا ہے

اُن زندوں کے آگے رُوپ بدلے
حکام و حکیم سے مدد لے

اُن زندوں کی زندگی سے ہے کور
جا مردے تو خود ہے زندہ درگور

غافل کہ مدد کے معنی کیا ہیں
فاعل ہے خدا یہ واسطہ ہیں

قرآن کی آیت جمیلہ
خود کہتی ہے وَابْتَغُوا الْوَسِیْلَہ(۱)

بیکار ہیں یہ تیری نظر میں
بے زینے چڑھا گرا سقر میں

تعظیم سے اُن کی تُو پھرا ہے
توہین کے بول بولتا ہے

اک اَمر کا تجھ سے ہوں میں سائل
دے اس کا جواب مجھ کو غافل

کس طرح خدا خدا کو جانا
اِسلام کہیں سے مول لایا

خالق نے کیا کلام تجھ سے
یا وحی سنا گئے فرشتے

کیا دین ہے باپ کی کمائی
یا اُمّ شفیقہ ساتھ لائی

گھر میں ترے چرخ سے گرا ہے
یا دین زمین سے اُگا ہے

جن لوگوں سے کل تجھے ملا دین
آج ان کی تُو کر رہا ہے توہین

احسان کا کیا یہی عوض تھا
نیکی کا مگر یہی ہے بدلا

جس گھر کی ملی تجھے غلامی
شایاں نہیں واں نمک حرامی

مقبولوں سے ہے تجھے عداوت
مردود ہے سب تیری عبادت

رہبر سے الگ چلا ہے غافل
کس طرح تجھے ملے گی منزل

خائن ہے تُو حقِ اولیا میں
سچ جان کہ آ گیا بَلا میں

محسن کے بُھلا دیے ہیں احساں
ہیں شومیِ بخت کے یہ ساماں

ایمان کا اب سے لے نہ تُو نام
بدنام کنندۂ نکو نام

جو دامنِ نا خدا کو چھوڑے
منجدھار میں اپنی ناؤ توڑے

نجدی پہ جو سر ُمنڈا کے بیٹھا
اولوں کا بھی کچھ خیال رکھا

ان باتوں کو اپنے دل سے کر دُور
کیوں اُن سے ہوا ہے بے خبر دُور

بس تیرے لیے نجات ہے یہ
سو بات کی ایک بات ہے یہ

ہے خیر حسنؔ کدھر گیا تو
ناپاکوں کے منہ عبث لگا تو

پڑھ کوئی غزل کہ وجد آئے
مستانہ سخن مزے دکھائے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے: طُوْبٰی لِمَنْ رَا ٰنِیْ اَوْ رَایَ مَنْ رَاٰنِیْ وَ اَنَا احَسْرُ عَلٰی مَنْ لَمْ یَرَنِیْ یعنی وہ شخص خوش ہو جائے کہ جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا یاجس نے میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو اور میں اس شخص پر حسرت کرتا ہوں کہ جس نے مجھے نہیں دیکھا۔ (بہجۃ الاسرار:191) قادری

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) قرآن پاک میں ہے وابتغوا الیہ الوسیلۃ یعنی اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔( پارہ 06، المائدہ:35)

وسائلِ بخشش

...

Allah Bara e Ghous e Azam

اﷲ! برائے غوث الاعظم
دے مجھ کو ولاے غوث الاعظم

دیدارِ خدا تجھے مبارک
اے محوِ لقاے غوث الاعظم

وہ کون کریم صاحبِ جُود
میں کون گداے غوث الاعظم

سُوکھی ہوئی کھتیاں ہری کر
اے ابرِ سخاے غوث الاعظم

اُمیدیں نصیب، مشکلیں حل
قربان عطاے غوث الاعظم

کیا تیزیِ مہرِ حشر سے خوف
ہیں زیرِ لواے غوث الاعظم

وہ اور ہیں جن کو کہیے محتاج
ہم تو ہیں گداے غوث الاعظم

ہیں جانبِ نالۂ غریباں
گوشِ شنواے غوث الاعظم

کیوں ہم کو ستائے نارِ دوزخ
کیوں رد ہو دعاے غوث الاعظم

بیگانے بھی ہو گئے یگانے
دَل کش ہے اداے غوث الاعظم

آنکھوں میں ہے نور کی تجلی
پھیلی ہے صباے غوث الاعظم

جو دم میں غنی کرے گدا کو
وہ کیا ہے عطاے غوث الاعظم

کیوں حشر کے دن ہو فاش پردہ
ہیں زیرِ قباے غوث الاعظم

آئینۂ روئے خوبرویاں
نقشِ کفِ پاے غوث الاعظم

اے دل نہ ڈر ان بلائوں سے اب
وہ آئی صداے غوث الاعظم

اے غم جو ستائے اب تو جانوں
لے دیکھ وہ آئے غوث الاعظم

تارِ نفسِ ملائکہ ہے
ہر تار قباے غوث الاعظم

سب کھول دے عقدہاے مشکل
اے ناخنِ پاے غوث الاعظم

کیا اُن کی ثنا لکھوں حسنؔ میں
جاں باد فداے غوث الاعظم

وسائلِ بخشش

...

Manqool Hai Qasim o Umar Se

منقول ہے قاسم و عمر سے
دل شاد ہوا ہے اِس خبر سے

کہتے تھے حضور مایۂ نُور
جب چہک کے گرے حسین منصور

اُس وقت میں تھا نہ کوئی ایسا
جو ہاتھ پکڑ کے روک لیتا

ہوتا جو وہ عہد ہم سے آباد
ہم کرتے ضرور اُن کی اِمداد

جو شخص ہوا ہے ہم سے بیعت
یاوَر ہیں ہم اُس کے تا قیامت

ہر حال میں اُس کا ساتھ دیں گے
پھسلے گا قدم تو ہاتھ دیں گے

اس شانِ رفیع کے تصدق
اس لطف وسیع کے تصدق

یا غوث صراط پر چلوں جب
لغزش میں نہ آنے پائے مرکب

ثابت قدمی یہ لطف دے جائے
جنت مجھے ہاتھوں ہاتھ لے جائے

گھبرائے صراط پر نہ خادم
حافظ ہو صداے رَبِ َسلِّمْ

وسائلِ بخشش

...

Kehte Hain Adi Bin Musafir


کہتے ہیں عدی بن مسافر
تھا مجلسِ وعظ میں مَیں حاضر

ناگاہ ہوا شروع باراں
ہونے لگی انجمن پریشاں

دیکھے جو یہ برہمی کے اَطوار
سر سوئے فلک اُٹھا کے اک بار

کہنے لگے اس طرح وہ ذیشاں
میں تو کروں جمع تُو پریشاں

فوراً وہ مقام چھوڑ کر ابر
تھا قطرہ فشاں اِدھر اُدھر برابر

اللہ رے جلالِ قادریّت
قربان کمالِ قادریّت

اے حاکم و بادشاہِ عالم
اے داد رس و پناہِ عالم

گِھر آئے ہیں غم کے کالے بادل
چھائے ہیں اَلم کے کالے بادل

سینہ میں جگر ہے پارہ پارہ
للہ! ادھر بھی اک اِشارہ

وسائلِ بخشش

...

Esa Ne Wo Maajra Sunaya

عیسیٰ نے وہ ماجرا سنایا
جس نے دلِ مُردہ کو جِلایا

کہتے ہیں کہ پیش شاہِ ابرار
آ کر یہ کیا کسی نے اظہار

اک شخص کہ حال میں مرا ہے
کیا جانیے اُس پہ کیا بَلا ہے

مرقد میں ہے درد مند ہر دم
ہے شور و فُغاں بلند ہر دم

فرمانے لگے یہ سُن کے حضرت
کیا ہم سے وہ کر چکا ہے بیعت

اُس کا کبھی یاں ہوا ہے آنا
کھایا ہے ہمارے گھر کا کھانا

مخبر نے کہا کہ شاہِ ذی جاہ
ان باتوں سے میں نہیں کچھ آگاہ

اِرشاد ہوا کرم کا جھالا
محروم پہ ہے فزوں برستا

کچھ دیر مراقبہ کیا پھر
ہیبت ہوئی روئے شاہ سے ظاہر

پھر آپ یہ سر اُٹھا کے بولے
دیتے ہیں ہمیں خبر فرشتے

اُس شخص نے ایک بار سرور
دیکھا تھا جمال روئے انور

اور دل میں گمانِ نیک لایا
اس وجہ سے حق نے اُس کو بخشا(۱)

اُس قبر کو جا کے پھر جو دیکھا
فریاد کا کچھ اثر نہ پایا

عیسیٰ نے عجب خبر سنائی
کی جس کی ادا نے جاں فزائی

کیوں جان میں جان آ نہ جائے
ٹوٹے ہوئے آسرے بندھائے

کیا جوشِ سُرور آج کل ہے
ہر دل سے نشاط ہم بغل ہے

شادی نے وہ نوبتیں بجا دیں
سوتی ہوئی قسمتیں جگا دیں

ہیں وقف زباں خوشی کی باتیں
دن عیش کے خرّمی کی باتیں

عالم سے خزاں ہوئی روانہ
آیا ہے بہار کا زمانہ

عشرت کا سماں بندھا ہوا ہے
ہر پیڑ نہال ہو رہا ہے

کیا موسمِ گل نے گُدگُدایا
ہر پھول نے قہقہہ اُڑایا

آنکھوں میں بسا ہے جلوۂ گل
کیوں کر نہ ہو باغ باغ بلبل

آباد سرور ہے گلستاں
ہر پھول چمن، چمن ہے خنداں

شبنم نے لُٹائے ہیں جو گوہر
ہے شاہدِ گل کی یہ نچھاور

مستوں کو صبا پکار لائی
گلزار چلو بہار آئی

تیار ہوئے جنوں کے ساماں
ہاتھوں میں لیے ہوئے گریباں

کرنے لگی فصلِ گل اِشارہ
ہو دامن و جیب پارہ پارہ

جب تک کہ ہے یہ بہار باقی
دامن میں رہے نہ تار باقی

سودے کا جما ہے آج بازار
سر بیچنے کو چلیں خریدار

مستوں نے کیا ہجوم ہر سمت
ہے موسمِ گل کی دُھوم ہر سمت

اک شور ہے سبزہ زار دیکھو
صحرا کو چلو بہار دیکھو

دیکھے تو کوئی حسنؔ کی رفتار
ہے سب سے نئے چلن کی رفتار

آنکھوں میں بہارِ اشک شادی
چہرہ سے ظہور بامرادی

ہونٹوں میں بھرا ہوا تبسم
خاموش کبھی کبھی تکلم

کرتے ہیں کسی کی جستجوئیں
دل سینہ میں دل میں آرزوئیں

کیفیتِ ذوق و وجد طاری
ہر گام لب و زباں سے جاری

یا غوث تیرے نثار جاؤں
قربان ہزار بار جاؤں

ہو جوش جہاں تیرے کرم کا
کیا ذکر وہاں غم و اَلم کا

وہ مژدہ سنا دیا ہے، تُو نے
روتوں کو ہنسا دیا ہے، تو نے

سلطان کریم تُو گدا میں
کھاتا ہوں تیرا دیا ہوا میں

یا شاہ غلام ہے خطا کار
زندانِ گناہ میں گرفتار

للہ کرو گرہ کشائی
اس دامِ بلا سے دو رہائی

بندے کو عذاب سے بچا لو
اپنے درِ پاک پر بُلا لو

عارِض سے نقاب اُٹھا کے اک بار
کر دو مجھے محو حُسنِ رخسار

دیکھوں جو بہار جلوہ حسن
ہو جاؤں نثار جلوۂ حسن

دل سے خلشِ اَلم نکل جائے
اَرمان کے ساتھ دم نکل جائے

پُر نُور میرا چراغ ہو جائے
مرقد مجھے خانہ باغ ہو جائے

محشر میں نہ پاؤں شرمساری
ہو ساتھ ترے ترا بھکاری

عزت سے میری بسر ہو دنیا
ذلت نہ ہو مجھ کو روزِ عقبیٰ

کافی ہو مجھے تیرا سہارا
محتاج رہوں نہ میں کسی کا

مغفور ہوں میرے سب اَبْ و جَدْ
ہوں منزلِ نور اُن کے مرقد

ماں میری کہ ہے کنیزِ سرکار
غم دُکھ سے نہ ہو کبھی خبردار

کونین میں میرے بھائیوں پر
ہو لطف حضور سایہ گستر

غم اُن سے جدا رہے ہمیشہ
مقبول دُعا رہے ہمیشہ

جس طرح کہ اب ہیں شِیر و شکر
یوہیں رہیں ہم جناں میں مل کر

دنیا میں الگ نہ ہونے پائے
جنت میں بھی ساتھ ساتھ جائیں

دل شاد رہیں حسین(۱) و حامد(۲)
آباد رہیں حسین و حامد

سرکار کریم سے عنایت
ہو دونوں کو دو جہاں کی نعمت

دونوں کی دعا نہ کیوں ہو دل سے
مشہور ہے میرے دونوں میٹھے

شاہا میرے دوست اور اعزّہ
منظور کرم رہیں ہمیشہ

بس اے دل محوِ اِلتجا بس
مشتاقِ حصولِ مدعا بس

بغداد سے آتی ہیں صدائیں
مقبول ہوئیں تری دُعائیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) بہجۃ الاسرار، صفحہ194 میں ہے کہ حضور غوث پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّہٗ رَا ٰیَ وَجْھَکَ وَ اَحْسَنَ بِکَ الظَّنَّ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَدْ رَحِمَہٗ بِذَالِکَ۔ یعنی اس نے آپ کا چہرہ دیکھا ہے اور آپ سے اس کو حسنِ ظن تھا اللہ عزوجل نے اس وجہ سے اس پر مہربانی فرمائی ہے۔ قادری

وسائلِ بخشش

...

Aey Kareem Bin Kareem

اے کریم بنِ کریم اے رہنما اے مقتدا      اخترِ برجِ سخاوت گوہرِ درجِ عطا
آستانے پہ ترے حاضر ہے یہ تیرا گدا              لاج رکھ لے دست و دامن کی مرے بہرِ خدا
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
شاہِ اقلیمِ ولایت سرورِ کیواں جناب ہے          تمہارے آستانے کی زمیں گردوں قباب
حسرتِ دل کی کشاکش سے ہیں لاکھوں اضطراب     التجا مقبول کیجے اپنے سائل کی شتاب
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
سالکِ راہِ خدا کو راہنما ہے تیری ذات          مسلکِ عرفانِ حق ہے پیشوا ہے تیری ذات
بے نوایانِ جہاں کا آسرا ہے تیری ذات        تشنہ کاموں کے لیے بحر عطا ہے تیری ذات
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ہر طرف سے فوجِ غم کی ہے چڑھائی الغیاث          کرتی ہے پامال یہ بے دست و پائی الغیاث
پھر گئی ہے شکل قسمت سب خدائی الغیاث        اے مرے فریادرس تیری دہائی الغیاث
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
منکشف کس پر نہیں شانِ معلی کا عروج          آفتابِ حق نما ہو تم کو ہے زیبا عروج
میں حضیضِ غم میں ہوں اِمداد ہو شاہا عروج       ہر ترقی پر ترقی ہو بڑھے دونا عروج
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
تا کجا ہو پائمالِ لشکرِ اَفکارِ روح          تابکے ترساں رہے بے مونس و غمخوار روح
ہو چلی ہے کاوشِ غم سے نہایت زار روح       طالبِ اِمداد ہے ہر وقت اے دلدار روح
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
دبدبہ میں ہے فلک شوکت ترا اے ماہِ کاخ        دیکھتے ہیں ٹوپیاں تھامے گدا و شاہ کاخ
قصر جنت سے فزوں رکھتا ہے عزو و جاہ کاخ          اب دکھا دے دیدۂ مشتاق کو للہ کاخ
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
توبہ سائل اور تیرے در سے پلٹے نامراد         ہم نے کیا دیکھے نہیں غمگین آتے جاتے شاد
آستانے کے گدا ہیں قیصر و کسریٰ قباد          ہو کبھی لطف و کرم سے بندۂ مضطر بھی یاد
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
نفس امارہ کے پھندے میں پھنسا ہوں العیاذ        در ترا بیکس پنہ کوچہ ترا عالم ملاذ
رحم فرما یا ملاذی لطف فرما یا ملاذ            حاضرِ در ہے غلامِ آستاں بہرِ لواذ
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
شہرِ یار اے ذی وقار اے باغِ عالم کی بہار      بحر احساں رشخۂ نیسانِ جودِ کردگار
ہوں خزانِ غم کے ہاتھوں پائمالی سے دوچار        عرض کرتا ہوں ترے در پر بچشمِ اشکبار
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
برسرِ پرخاش ہے مجھ سے عدوے بے تمیز          رات دن ہے در پئے قلبِ حزیں نفسِ رجیز
مبتلا ہے سو بلاؤں میں مری جانِ عزیز       حلِ مشکل آپ کے آگے نہیں دشوار چیز
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
اک جہاں سیرابِ اَبرِ فیض ہے اب کی برس     تر نوا ہیں بلبلیں پڑتا ہے گوشِ گل میں رس
ہے یہاں کشتِ تمنا خشک و زندانِ قفس          اے سحابِ رحمتِ حق سوکھے دھانوں پر برس
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
فصلِ گل آئی عروسانِ چمن ہیں سبز پوش       شادمانی کا نواںسنجانِ گلشن میں ہے جوش
جوبنوں پر آ گیا حسنِ بہارِ گل فروش           ہائے یہ رنگ اور ہیں یوں دام میںگم کردہ ہوش
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
دیکھ کر اس نفسِ بد خصلت کے یہ زشتی خواص         سوزِ غم سے دل پگھلتا ہے مرا شکلِ رصاص
کس سے مانگوں خونِ حسرت ہاے کشتہ کا قصاص         مجھ کو اس موذی کے چنگل سے عطا کیجے خلاص
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ایک تو ناخن بدل ہے شدتِ افکار قرض       اس پر اَعدا نے نشانہ کر لیا ہے مجھ کو فرض
فرض اَدا ہو یا نہ ہو لیکن مرا آزار فرض       رد نہ فرمائو خدا کے واسطے سائل کی عرض
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
نفس شیطاں میں بڑھے ہیں سو طرح کے اختلاط         ہر قدم در پیش ہے مجھ کو طریقِ پل صراط
بھولی بھولی سے کبھی یاد آتی ہے شکل نشاط       پیش بارِ کوہِ کاہِ ناتواں کی کیا بساط
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
آفتوں میں پھنس گیا ہے بندۂ دارالحفیظ       جان سے سو کاہشوں میں دم ہے مضطر الحفیظ
ایک قلبِ ناتواں ہے لاکھ نشتر الحفیظ      المدد اے داد رس اے بندہ پرور الحفیظ
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
صبح صادق کا کنارِ آسماں سے ہے طلوع       ڈھل چکا ہے صورتِ شب حسنِ رخسارِ شموع
طائروں نے آشیانوں میں کیے نغمے شروع          اور نہیں آنکھوں کو اب تک خوابِ غفلت سے رجوع
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
بدلیاں چھائیں ہوا بدلی ہوئے شاداب باغ          غنچے چٹکے پھول مہکے بس گیا دل کا دماغ
آہ اے جورِ قفس دل ہے کہ محرومی کا داغ           واہ اے لطفِ صبا گل ہے تمنا کا چراغ
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
آسماں ہے قوس فکریں تیر میرا دل ہدف         نفس و شیطاں ہر گھڑی کف برلب و خنجر بکف
منتظر ہوں میں کہ اب آئی صداے لا تخف        سرورِ دیں کا تصدق بحر سلطانِ نجف
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
بڑھ چلا ہے آج کل اَحباب میں جوشِ نفاق      خوش مذاقانِ زمانہ ہو چلے ہیں بد مذاق
سیکڑوں پردوں میں پوشیدہ ہے حسنِ اتفاق      برسر پیکار ہیں آگے جو تھے اہلِ وفاق
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ڈر درندوں کا اندھیری رات صحرا ہولناک        راہ نامعلوم رعشہ پائوں میں لاکھوں مغاک
دیکھ کر ابرِ سیہ کو دل ہوا جاتا ہے چاک       آئیے اِمداد کو ورنہ میں ہوتا ہوں ہلاک
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ایک عالم پر نہیں رہتا کبھی عالم کا حال        ہر کمالے را زوال و ہر زوالے را کمال
بڑھ چکیں شب ہاے فرقت اب تو ہو روزِ وصال       مہرادھرمنہ کر کہ میرے دن پھریں دل ہو نہال
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
گو چڑھائی کر رہے ہیں مجھ پہ اندوہ و اَلم       گو پیاپے ہو رہے ہیں اہلِ عالم کے ستم
پر کہیں چھٹتا ہے تیرا آستاں تیرے قدم        چارۂ دردِ دلِ مضطر کریں تیرے کرم
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ہر کمر بستہ عداوت پر بہت اہلِ زمن       ایک جانِ ناتواں لاکھوں الم لاکھوں محن
سن لے فریادِ حسن فرما دے اِمدادِ حسن        صبحِ محشر تک رہے آباد تیری انجمن
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
ہے ترے الطاف کا چرچا جہاں میں چار سو        شہرۂ آفاق ہیں یہ خصلتیں یہ نیک خو
ہے گدا کا حال تجھ پر آشکارا مو بمو           آجکل گھیرے ہوئے ہیں چار جانب سے عدو
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
شام ہے نزدیک منزل دور میں گم کردہ راہ           ہر قدم پر پڑتے ہیں اس دشت میں خس پوش جاہ
کوئی ساتھی ہے نہ رہبر جس سے حاصل ہو پناہ       اشک آنکھوں میں قلق دل میں لبوں پر آہ آہ
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من
تاج والوں کو مبارک تاجِ زر تختِ شہی         بادشا لاکھوں ہوئے کس پر پھلی کس کی رہی
میں گدا ٹھہروں ترا میری اسی میں ہے بہی       ظلِ دامن خاک در دیہیم و افسر ہے یہی
روے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے من
حرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے من

وسائلِ بخشش

 

...