Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Jo Ho Sir Ko Rasai Un K Dar Tak

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک

وہ جب تشریف لائے گھرسے در تک
بھکاری کا بھرا ہے دَر سے گھر تک

دُہائی ناخداے بے کساں کی
ٔکہ سلاکبِ اَلم پہنچا کمر تک

الٰہی دل کو دے وہ سوزِ اُلفت
پُھنکے سنہک جلن پہنچے جگر تک

نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل
دعائںے جا نہںا سکتںے اَثر تک

گزر کی راہ نکلی رہ گزر مںق
ابھی پہنچے نہ تھے ہم اُن کے دَر تک

خدا یوں اُن کی اُلفت مںں گما دے
نہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک

بجائے چشم خود اُٹھتا نہ ہو آڑ
جمالِ یار سے ترنی نظر تک

تری نعمت کے بُھوکے اہلِ دولت
تری رحمت کا پاھسا ابر تک

نہ ہو گا دو قدم کا فاصلہ بھی
الٰہ آباد سے احمد نگر تک

تمہارے حسن کے باڑے کے صدقے
نمک خوار ملاحت ہے قمر تک

شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے
شبستانِ دنیٰ سے اُن کے گھر تک

بلائے جان ہے اب ویرانیِ دل
چلے آؤ کبھی اس اُجڑے گھر تک

نہ کھول آنکھںل نگاہِ شوقِ ناقص
بہت پردے ہںن حسنِ جلوہ گر تک

جہنم مںد دھکں ان نجدیوں کو
حسنؔ جھوٹوں کو یوں پہنچائںن گھر تک

ذوق نعت

...

Dam e Iztirab Mujhko


دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے

تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے
تو اُنھیں سے دُور بھاگے جنھیں تجھ پہ پیار آئے

مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہی
مری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے

مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دے
وہ اگر مرے سرھانے دمِ احتضار آئے

سببِ وفورِ رحمت میری بے زبانیاں ہیں
نہ فغاں کے ڈھنگ جانوں نہ مجھے پکار آئے

کھلیں پھول اِس پھبن کے کھلیں بخت اِس چمن کے
مرے گل پہ صدقے ہو کے جو کبھی بہار آئے

نہ حبیب سے محب کا کہیں ایسا پیار دیکھا
وہ بنے خدا کا پیارا تمھیں جس پہ پیار آئے

مجھے کیا اَلم ہو غم کا مجھے کیا ہو غم اَلم کا
کہ علاج غم اَلم کا میرے غمگسار آئے

جو امیر و بادشا ہیں اِسی دَر کے سب گدا ہیں
تمھیں شہر یار آئے تمھیں تاجدار آئے

جو چمن بنائے بَن کو جو جِناں کرے چمن کو
مرے باغ میں الٰہی کبھی وہ بہار آئے

یہ کریم ہیں وہ سرور کہ لکھا ہوا ہے دَر پر
جسے لینے ہوں دو عالم وہ اُمیدوار آئے

ترے صدقے جائے شاہا یہ ترا ذلیل منگتا
ترے دَر پہ بھیک لینے سبھی شہر یار آئے

چمک اُٹھے خاکِ تیرہ بنے مہر ذرّہ ذرّہ
مرے چاند کی سواری جو سر مزار آئے

نہ رُک اے ذلیل و رُسوا درِ شہریار پر آ
کہ یہ وہ نہیں ہیں حاشا جنھیں تجھ سے عار آئے

تری رحمتوں سے کم ہیں مرے جرم اس سے زائد
نہ مجھے حساب آئے نہ مجھے شمار آئے

گل خلد لے کے زاہد تمھیں خارِ طیبہ دے دوں
مرے پھول مجھ کو دیجے بڑے ہوشیار آئے

بنے ذرّہ ذرّہ گلشن تو ہو خار خار گلبن
جو ہمارے اُجڑے بَن میں کبھی وہ نگار آئے

ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہ
وہ وقار لے کے جائے جو ذلیل و خوار آئے

ترے دَر کے ہیں بھکاری ملے خیر دم قدم کی
ترا نام سن کے داتا ہم اُمیدوار آئے

حسنؔ اُن کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میں
کہ یہ وہ نہیں جو غافل پسِ اِنتظار آئے

...

Isey Kehte Hain Khizar Qom

اِسے کہتے ہیں خضر قوم بعض احمق زمانہ میں
یہ وہ ہے آٹھ سو کم کر کے جو کچھ رہ گیا باقی

مزارِ پیر نیچر سے بھی نکلے گی صدا پیہم
چڑھا جاؤ گرہ میں ہو جو کچھ پیسا ٹکا باقی

نئی ہمدردیاں ہیں لوٹ کر ایمان کی دولت
نہ چھوڑا قوم میں افلاس عقبیٰ کے سوا باقی

ظروفِ مے کدہ توڑے تھے چن کر محتسب نے سب
الٰہی رہ گیا کس طرح یہ چکنا گھڑا باقی

مریدوں پر جو پھیرا دست شفقت پیر نیچر نے
نہ رکھا دونوں گالوں پر پتا بھی بال کا باقی

مسلماں بن کے دھوکے دے رہا ہے اہل ایماں کو
یہی ہے ایک پہلے وقت کا بہروپیا باقی

غضب ہے نیچری حُسنِ خرد پر ناز کرتے ہیں
نہیں کیا شیر پور میں کوئی ان کے جوڑ کا باقی

علی گڑھ کے سفر میں صرف کر دی دولتِ ایماں
بتاؤ مجھ کو زیر مدِّ باقی کیا رہا باقی

گیا ایمان تو داڑھی بھی پیچھے سے روانہ کی
پرانے رنگ کا اب کیوں رہے کوئی پتا باقی

بپا بوٹے بہ بر کوٹے و بر سر سُرخ سر پوشے
کہو اب بھی مسلماں ہونے میں کچھ رہ گیا باقی

عقب میں ہے اگر کتا تو پھر میں کیا کہوں کیوں ہے
جو آگے ہے تو ان کا ہے یہی اک پیشوا باقی

مشائخ تو مشائخ ہیں کرامت تو کرامت ہے
انہوں نے انبیا میں بھی نہ رکھا معجزا باقی

یہ منکر اس کے منکر اس کے منکر سب کے منکر ہیں
سمجھ لیجے کہ سارے کلمہ میں ہے حرفِ لا باقی

رسولی کو رسالت کی سند سمجھے ہیں کیا جاہل
نہ رکھا جو نبی کہنے میں کوئی مرحلہ باقی

کیا تو پارسل ایمان کا سی ایس آئی کو
پر اس کے ٹوٹنے کا دل میں اندیشہ رہا باقی

لگائی احتیاطاً چار جانب آڑ داڑھی کی
اور اتنے وزن کی محصول میں تھی تھی بھجا باقی

عجب ہے نیچری بے وقت کی کیوں کر اُڑاتے ہیں
اگر تم نے چری دیکھو نہ پاؤ گے صدا باقی

جو مرغی کے گلے کا گھونٹنا جائز سمجھتے ہیں
انہیں پھر حرمت و حلت سے کیا مطلب رہا باقی

چھری کانٹا لیے مُردار مرغی سے جو لڑتے ہوں
پھر ایسوں کی شجاعت میں رہا کیا مرحلہ باقی

الٰہی نیچریت ہے کہ کوئی بالخوارہ ہے
سر ُمو بھی نہ رکھا جس نے داڑھی کا پتا باقی

جسے تکتی تھیں وقت بذلہ سنجی غیر قومیں سب
سوائے ڈیم فول اُس منہ میں اب کچھ نہ رہا باقی

علم ان کے مسلمانوں کے ہیں اور ان سے ظاہر ہے
برائے نام اب اسلام ان میں رہ گیا باقی

مڈل نے مذہب و ملت سے غفلت میں رکھا کیا کیا
نہ یادِ کبریا باقی نہ ذکرِ مصطفی باقی

قریبِ پاس جا کر دُور ایماں سے ہوئے اکثر
جو دُور اس پاس سے ہیں پاسِ دیں ان کو رہا باقی

ملی ہے زک پہ زک بدمذہبوں کو اہل سنت سے
مگر اب بھی ہے وہ جرأت وہ ہمت حوصلہ باقی

اگر ایمان رکھتے ہوں تو وہ ایمان سے کہہ دیں
جو دل میں منصفی آنکھوں میں ہو شرم و حیا باقی

ثبوتِ حق میں اہل حق نے تحقیقات کی کیا کیا
کوئی اِیراد کوئی شبہہ کوئی شک رہا باقی

معاند اہل سنت پر اگر پا جائیں گے قابو
مسلمانی کا عالم میں نہ چھوڑیں گے پتا باقی

حسنؔ پہلے تو کرتا ہے دعا ان کی ہدایت کی
نہ ہو منظور تو ان کو فنا فرما دے یَا بَاقِی

ذوقِ نعت

...

Naami Khasta Na Nalam Bacha Roo

نامیؔ خستہ نہ نالم بچہ رو
کوہ افتاد دریغا افتاد

دلم از فرقت استادم سوخت
ازلبم چوں نہ برآید فریاد

ہر کہ پُرسید زمن باعث غم
گفتمش سوئے جناں رفت استاد

سال فوتش ز جوابم جوئید
دیگر امروز نمید ارم یاد

۱۳۲۶ھ
تمت٭

...

Gulraiz Bana Hai Shak e Khama

گلریز بنا ہے شاخِ خامہ
فردوس بنا ہوا ہے نامہ

نازل ہیں وہ نور کے مضامیں
یاد آتے ہیں طور کے مضامیں

سینہ ہے تجلّیوں کا مسکن
ہے پیشِ نگاہ دشتِ ایمن

توحید کے لطف پا رہا ہوں
وحدت کے مزے اُڑا رہا ہوں

دل ایک ہے دل کا مدعا ایک
ایماں ہے مرا کہ ہے خدا ایک

وہ ایک نہیں جسے گنیں ہم
وہ ایک نہیں جو دو سے ہو کم

دو ایک سے مل کے جو بنا ہو
وہ ایک کسی کا کب خدا ہو

اَحْوَل ہے جو ایک کو کہے دو
اندھوں سے کہو سنبھل کے دیکھو

اُس ایک نے دو جہاں بنائے
اک ’کُنْ‘ سے سب انس و جاں بنائے

اوّل ہے وہی، وہی ہے آخر
باطن ہے وہی، وہی ہے ظاہر

ظاہر نے عجب سماں دکھایا
موجود ہے اور نظر نہ آیا

کس دل میں نہیں جمال اُس کا
کس سر میں نہیں خیال اُس کا

وہ ’حبلِ ورِید‘ سے قریں ہے
ہاں تاب نظر میں نہیں ہے

فرمان ہے یُؤمِنُونَ بِالْغَیْب
نادیدہ وہ نورِ حق ہے لارَیْب

آنکھوں میں نظر، نظر کناں ہے
آنکھیں تو کہیں، نظر کہاں ہے

سب کچھ نظر آئے اس نظر سے
پر دیکھیں نظر کو کس نظر سے

جب خلق کو یہ صفت عطا ہو
وہ کیا نظر آئے جو خدا ہو

جو وہم و قیاس سے قریں ہے
خالق کی قسم خدا نہیں ہے

جو بھید کو اُس کے پا گئے ہیں
ہستی اپنی مٹا گئے ہیں

کچھ راز اُدھر کا جس نے پایا
پھر کر وہ اِدھر کبھی نہ آیا

کچھ جلوہ جسے دکھا دیا ہے
صُمٌّ بُکْمٌ بنا دیا ہے

دل میں ہیں ہزاروں بحر پُر جوش
ہے حکم زبان کو کہ خاموش

اک جلوہ سے طور کو جلایا
بے ہوش کلیم کو بنایا

پنہاں ہیں جو سنگ میں شرارے
کرتے ہیں کچھ اور ہی اِشارے

ہے شعلہ فشاں یہ عشق کامل
پتھر میں کہاں سے آ گیا دل

ذات اُس کی ہے معطیِ مرادات
قائم ہیں صفات پاک بالذات

باقی ہے کبھی فنا نہ ہو گا
ہے جس کو فنا خدا نہ ہو گا

جیسا چاہا جسے بنایا
کچھ اس سے کہے یہ کس کا پایا

مومن بھی اسی کا کھاتے ہیں رزق
کافر بھی وہیں سے پاتے ہیں رزق

شب دن کو کرے تو رات کو دن
جو ہم کو محال اُس کو ممکن

ایجاد وجود ہو عدم سے
حادِث ہو حُدُوْث یوں قِدم سے

اللہ تبارک و تعالیٰ
ہے دونوں جہان سے نرالا

قادر ہے ذوالجلال ہے وہ
آپ ہی اپنی مثال ہے وہ

ہر عیب سے پاک ذات اُس کی
ہر رَیب سے پاک بات اُس کی

شایاں ہے اُسی کو کبریائی
بے شک ہے وہ لائق خدائی

کس وقت نہاں ہیں اُس کے جلوے
ہرشے سے عیاں ہیں اُس کے جلوے

پروانہ چراغ پر مٹا کیوں
بلبل ہے گل کی مبتلا کیوں

قمری ہے اسیرِ سرو آزاد
یاں مہتاب سے ہے چکور دل شاد

شمع و گل و سَرو و ماہ کیا ہیں
کچھ اور ہی جلوے دل رُبا ہیں

عالم میں ہے ایک دُھوم دن رات
اے جلوۂ یار تیری کیا بات

گلزار میں عندلیب نالاں
پروانہ ہے بزم میں پُر افشاں

ہر دل کو تیری ہی جستجو ہے
ہر لب پہ تیری ہی گفتگو ہے

گفتار و تجسسِ دل و لب
پیارے یہ ترے ہی کام ہیں سب

تیری ہی یہ صنعتیں عیاں ہیں
ہم کس کو کہیں کہ ہم کہاں ہیں

تو نے ہی کھلائے ہیں یہ سب گل
ہے تیری ہی شان کا تجمل

تو نے ہی کیے جمیل پیدا
تو نے ہی کیا دلوں کو شیدا

وسائلِ بخشش

...

Aya Hai Jo Zikr e Mahjabeena

آیا ہے جو ذکرِ مہ جبیناں
قابو میں نہیں دلِ پریشاں

یاد آئی تجلیِ سرِ طور
آنکھوں کے تلے ہے نور ہی نور

یا رب یہ کدھر سے چاند نکلا
اُٹھا ہے نقاب کس کے رُخ کا

کس چاند کی چاندنی کھِلی ہے
یہ کس سے میری نظر ملی ہے

ہے پیشِ نگاہ جلوہ کس کا
یا رب یہ کہاں خیال پہنچا

آیا ہوں میں کس کی رہ گزر میں
بجلی سی چمک گئی نظر میں

آنکھوں میں بسا ہے کس کا عالم
یاد آنے لگا ہے کس کا عالم

اب میں دلِ مضطرب سنبھالوں
یا دید کی حسرتیں نکالوں

اللہ! یہ کس کی انجمن ہے
دنیا میں بہشت کا چمن ہے

ہر چیز یہاں کی دل رُبا ہے
جو ہے وہ ادھر ہی دیکھتا ہے

شاہانِ زمانہ آ رہے ہیں
بستر اپنے جما رہے ہیں

پروانوں نے انجمن کو چھوڑا
بلبل نے چمن سے منہ کو موڑا

ہے سرو سے آج دُور قمری
آئینوں کو چھوڑ آئی طوطی

عالم کی جھکی ہوئی ہے گردن
پھیلے ہیں ہزاروں دست و دامن

مظلوم سنا رہے ہیں فریاد
ہے لائقِ لطف حالِ ناشاد

بے داد و ستم کی داد دیجیے
للہ ہمیں مراد دیجیے

بیماروں کو مل رہی ہے صحت
کمزوروں میں بٹ رہی ہے طاقت

جو آج ہیں سرورانِ عالم
کہتے ہیں جنہیں سرانِ عالم

اُمیدیں بھرے ہوئے دلوں میں
شامل ہیں یاں کے سائلوں میں

یہ شہر ہے یا جہانِ عزت
یہ در ہے کہ آسمانِ عزت

اس در سے ہے عز و جاہِ کونین
کہتے ہیں اسے پناہِ کونین

اس در کو فلک جناب کہیے
ان ذرّوں کو آفتاب کہیے

عشاق کی آرزو یہ در ہے
محتاج کی آبرو یہ گھر ہے

ہم سب ہیں اس آستاں کے بندے
ہیں دونوں جہاں یہاں کے بندے

دربار ہے اُس حبیبِ رب کا
مختار ہے جو عجم و عرب کا

اے خامۂ خوش نما سنبھلنا
اس راہ میں سر جھکائے چلنا

یہ وصفِ حبیبِ کبریا ہے
یہ نعتِ جنابِ مصطفی ہے

اے دل نہیں وقتِ بے خودی یہ
ہے ساعتِ مدحتِ نبی یہ

دیکھ اے دلِ بے قرار و بے تاب
ملحوظ رہیں یہاں کے آداب

ہشیار میرے مچلنے والے
یاں چلتے ہیں سر سے چلنے والے

ہے منع یہاں بلند آواز
ہر بات اَدا ہو صورتِ راز

سب حال اِشاروں میں اَدا ہو
یاں نالہ بھی ہو تو بے صدا ہو

جو جانتے ہیں یہاں کے رتبے
بھر لیتے ہیں منہ میں سنگریزے

خاموش ہیں یوں سب انجمن میں
گویا کہ زباں نہیں دَہن میں

ہے جلوہ فزا وہ شاہِ کونین
بے چین دلوں کا جس سے ہے چین

دل دار و انیس خستہ حالاں
فریاد رس شکستہ بالاں

مرہم نہ زخمِ دل فگاراں
تسکیں دہِ جانِ بے قراراں

غم خوار یہی ہے غم زدوں کا
حامی ہے یہی ستم زدوں کا

ایمان کی جان ہی تو یہ ہے
قرآن کی زبان ہی تو یہ ہے

یکتا ہے یہ خوش اَدائیوں میں
معشوق یہاں فدائیوں میں

شادابیِ ہر چمن ہے یہ گل
ہیں آٹھوں بہشت اس کے بلبل

رکھتی ہے جو سوزشِ جگر شمع
پروانہ ہے اس کے حسن پر شمع

دیکھے تو کوئی یہ جوشِ فیضاں
عالم کے بھرے ہیں جیب و داماں

ہے لطف یہ شانِ میزبانی
ہر وقت ہے سب کی میہمانی

دربانوں کے اس لیے ہیں پہرے
در پر کوئی آ کے پھر نہ جائے

ہر لحظہ یہاں یہی عطا ہے
ہر وقت یہ در کھلا ہوا ہے

مایوس گیا نہ کوئی مضطر
یاں سنتے ہیں سب کی دل لگا کر

فریاد کی ہے یہاں رسائی
ناشاد کی ہے یہاں رسائی

وہ کون ہے جس نے آہ کی ہو
اور اُس کو مراد یاں نہ دی ہو

ہیں سب کی یہ داد دینے والے
منہ مانگی مراد دینے والے

محرومِ عطاے شاہ رہا کون
مایوس یہاں سے پھر گیا کون

یاں کہتے نہیں کبھی پھر آنا
کب چاہیں یہ در بدر پھرانا

کیوں دیر ہو سب یاں ہیں موجود
رحمت، قدرت، غنا، کرم، جود

سرکار میں کون سی نہیں شے
ہاں ایک ’نہیں‘ یاں نہیں ہے

جاتے کو یہ ہیں بلانے والے
آئے ہوئے کو بٹھانے والے

سوتے کو یہ خواب سے جگائیں
بیدار کو گھر پہ جا کر لائیں

یوسف ہے غلام کا خریدار
ہر وقت لگا ہوا ہے بازار

یہ دست کرم ہے گوہر افشاں
گوہر اَفشاں و شکر افشاں

محتاج غریب کو گُہر دے
ہر تلخ نصیب کو شکر دے

شکر شکرِ بکام اس سے
گوہر گوہر کا نام اس سے

اُمت کی دعا میں اس کو دیکھو
دامانِ گدا میں اس کو دیکھو

اس ہاتھ کا نام ہے یَدُ اللّٰہ
مَنْ عَاھَدَہٗ یُعَاھِدُ اللّٰہ

وہ درد نہیں جو یہ نہ کھو دے
وہ داغ نہیں جو یہ نہ دھو دے

گاہے یہ سرِ یتیم پر ہے
گاہے یہ دلِ دو نیم پر ہے

بیمار کے واسطے عصا ہے
اندھوں کے لیے یہ رہ نما ہے

محتاجوں کے دل غنی کیے ہیں
ہاتھوں میں خزانے بھر دیے ہیں

عیسیٰ کی زباں میں ہیں جو برکات
اُس ہاتھ کے سامنے ہیں اک بات

گر قالبِ مردہ کو وہ جاں دے
یہ ریزۂ سنگ کو زباں دے

قالب تو مکان ہی ہے جاں کا
پتھر میں ہے کام کیا زباں کا

ہے نائب دستِ جودِ رب ہاتھ
ہیں دستِ نگر اُسی کے سب ہاتھ

جس دل کی شکیب کو یہ پہنچا
ہو جاتا ہے ہاتھ بھر کلیجا

ہاتھ آئی ہے ہاتھ کے وہ قدرت
اُس ہاتھ کے پاؤں چومے ہیبت

پھر پھر گئے منہ ستم گروں کے
اُٹھ اُٹھ گئے پاؤں لشکروں کے

اُس ہاتھ میں ہے نظامِ عالم
کرتا ہے یہ اِنتظامِ عالم

اُس ہاتھ میں ہیں جہان کے دل
ناخن میں پڑے ہیں حلِ مشکل

تکتی ہیں اُسی کو سب نگاہیں
کونین کی اُس طرف ہیں راہیں

زنجیرِ اَلم کو توڑتا ہے
ٹوٹے ہوئے دل یہ جوڑتا ہے

جن ہاتھوں پہ ہے یہ ہاتھ پہنچا
اُن ہاتھوں پہ ہاتھ ہے خدا کا

دینے میں نہ کی ہے دیر اُس نے
بھوکوں کو کیا ہے سیر اُس نے

اے دستِ عطا میں تیرے صدقے
اے ابرِ سخا میں تیرے صدقے

جب تیز ہو آفتابِ محشر
جب کانٹے پڑیں لب و زباں پر

جب تیرے سوا نہ ہو ٹھکانا
یوں اپنی طرف مجھے بلانا

اے پیاسے کدھر چلا اِدھر آ
اب تک تو کہاں رہا اِدھر آ

آ تیری لگی کو ہم بجھا دیں
آ آبِ خنک تجھے پلا دیں

لے تشنۂ کربلا کا صدقہ
لے کشتۂ بے خطا کا صدقہ

او سُوکھی ہوئی زبان والے
لے آتشِ تشنگی بجھا لے

اُس ہاتھ کی قدرتیں ہیں ظاہر
اعجاز ہیں دست بستہ حاضر

اک مہ سے فلک کو دو قمر دے
مغرب کو نمازِ عصر کر دے

خورشید کو کھینچ لائے دم میں
نم چاہیں تو یم بہائے دم میں

کچھ بھی اشارہ جو اس کا پا جائیں
لُنجے ابھی دوڑتے ہوئے آئیں

کیا دستِ کریم کی عطا ہے
دیکھو جسے وہ بھرا پڑا ہے

بندے تو ہوں کیا عطا سے محروم
دشمن بھی نہیں سخا سے محروم

دینے میں عدُو عدُو نہیں ہے
یاں دست کشی کی خو نہیں ہے

جس کی کہ عدُو پہ بھی عطا ہو
اُس دستِ کرم کی کیا ثنا ہو

بس اے حسنـؔ شکستہ پا بس
اب آگے نہیں رہا تیرا بس

ہے وقتِ دُعا نہ ہو تو مضطر
اُس ہاتھ سے کہہ قدم پکڑ کر

مدّاح کو مدح کا صلہ دے
بگڑے ہوئے کام سب بنا دے

ڈوبوں تو مجھے نکال لینا
پھسلے جو قدم سنبھال لینا

ہر وقت رہے تیری عطا ساتھ
پھیلیں نہ کسی کے آگے یہ ہاتھ

مجھ پر نہ پڑے کبھی کچھ اُفتاد
ہر لحظہ سِپر ہو تیری اِمداد

شیطاں میرے دل پہ نہ بس پائے
دشمن کبھی دسترس نہ پائے

گر مجھ کو گرائے لغزشِ پا
تو ہاتھ پکڑ کے کھینچ لینا

غم دل نہ مرا دُکھانے پائے
صورت نہ اَلم لگانے پائے

دم بھر نہ اَسیرِ بے کسی ہوں
مجبور نہ ہوں کہ قادری ہوں

ہوں دل سے گداے آل و اصحاب
ہر دم ہوں فداے آل و اصحاب

یاروں پہ تیرے نثار ہوں میں
پیاروں پہ تیرے نثار ہوں میں

وسائلِ بخشش

...

Hazrat Shah Kamal Kathreli


اے ساقیِ مہ لقا کہاں ہے
مے خوار کے دل رُبا کہاں ہے

بڑھ آئی ہیں لب تک آرزوئیں
آنکھوں کو ہیں مَے کی جستجوئیں

محتاج کو بھی کوئی پیالہ
داتا کرے تیرا بول بالا

ہیں آج بڑھے ہوئے اِرادے
لا منہ سے کوئی سبُو لگا دے

سر میں ہیں خمار سے جو چکر
پھرتا ہے نظر میں دَورِ ساغر

دے مجھ کو وہ ساغرِ لبالب
بس جائیں مہک سے جان و قالب

بُو زخم جگر کے دیں جو انگور
ہوں اہلِ زمانہ نشہ میں چُور

کیف آنکھوں میں دل میں نور آئیں
لہراتے ہوئے سُرور آئیں

جوبن پہ اَداے بے خودی ہو
بے ہوش فداے بے خودی ہو

کچھ ابرو ہوا پہ تو نظر کر
ہاں کشتیِ مے کا کھول لنگر

مے خوار ہیں بے قرار ساقی
بیڑے کو لگا دے پار ساقی

مے تاک رہے ہیں دیدۂ وا
دیوانہ ہے دل اسی پری کا

منہ شیشوں کے جلد کھول ساقی
قُلْقُل کے سنا دے بول ساقی

یہ بات ہے سخت حیرت انگیز
پُنْبَہ سے رُکی ہے آتشِ تیز

جب تک نہ وہاں شیشہ ہو وا
ہو وصف شراب سے خبر کیا

تا مرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد

کہتی ہیں اُٹھی ہوئی اُمنگیں
پھر لطف دکھا چلیں ترنگیں

پھر جوش پر آئے کیف مستی
پھر آنکھ سے ٹپکے مے پرستی

خواہش ہے مزاج آرزو کی
سنتا ہی رہوں ڈھلک سبُو کی

گہرا سا کوئی مجھے پلا جام
کہتی ہے ہوس کہ جام لا جام

دے چھانٹ کے مجھ کو وہ پیالی
لے آئے جو چہرے پر بحالی

ہوں دل میں تو نور کی ادائیں
آنکھوں میں سُرور کی ادائیں

ہو لطف فزا یہ جوشِ ساغر
دل چھین لے لب سے لب ملا کر

کچھ لغزشِ پا جو سر اٹھائے
بہکانے کو پھر نہ ہوش آئے

لطف آئے تو ہوش کو گمائیں
جب ہوش گئے تو لطف پائیں

یہ مے ہے میری کھنچی ہوئی جاں
یا رہ گئے خون ہو کے اَرماں

یہ بادہ ہے دل رُباے میکش
دردِ میکش دواے میکش

ہے تیز بہت مجھے یہ ڈر ہے
اُڑتی نہ پھرے کہیں بطِ مے

شیشہ میں ہے مے پری کی صورت
یا دل میں بھرا ہے خونِ حسرت

ساغر ہیں بشکل چشم میگوں
شیشہ ہے کسی کا قلب پُر خوں

مے خوار کی آرزو یہ مے ہے
مشتاق کی آبرو یہ مے ہے

ہو آتش تر جو مہر گستر
دم بھر میں ہو خشک دامنِ تر

ٹھنڈے ہیں اس آگ سے کلیجے
گرمی پہ ہیں مے کشوں کے جلسے

بہکا ہے کہاں دماغِ مُخْتَلْ
پہنچا ہے کدھر خیالِ اَسفل

یہ بادہ ہے آبروے کوثر
نتھرا ہوا آب جوے کوثر

یہ پھول ہے عطر باغِ رضواں
ایمان ہے رنگ، بُو ہے عرفاں

اس مے میں نہیں ہے دُرو کا نام
کیوں اہلِ صفا نہ ہوں مے آشام

جو رِند ہیں اس کے پارسا ہیں
بہکے ہوئے دل کے رہ نما ہیں

زاہد کی نثار اس پہ جاں ہے
واعظ بھی اسی سے تر زباں ہے

جام آنکھیں اُن آنکھوں میں مروّت
شیشے ہیں دل، اُن دلوں میں ہمت

ان شیشوں سے زندہ قلب مردم
قُلْقُل سے عیاں اداے قم قم

اللہ کا حکم وَ اشْرَبُوْا ہے
بے جا ہے اگر پئیں نہ یہ مے

اے ساقیِ با خبر خدارا
لا دے کوئی جام پیارا پیارا

جوبن ہے بہارِ جاں فزا پر
بادل کا مزاج ہے ہوا پر

ہر پھول دلہن بنا ہوا ہے
نکھرے ہوئے حسن میں سجا ہے

مستانہ گھٹائیں جھومتی ہیں
ہر سمت ہوائیں گھومتی ہیں

پڑتی ہے پھوہار پیاری پیاری
نہریں ہیں لسانِ فیضِ جاری

بلبل ہے فداے خندۂ گل
بھاتی ہے اداے خندۂ گل

ظاہر میں بہارِ دل رُبا ہے
باطن میں کچھ اور گل کھلا ہے

غنچوں کے چٹکنے سے اظہار
کھلنے لگے پردہاے اسرار

ہے سرو ’’الف‘‘ کی شکل بالکل
اور صورتِ ’’لام‘ زلفِ سنبل

تشدید‘عیاں ہے کنگھیوں سے
نرگس کی بیاض چشم ہے ’ھے

صانع کی یہ صنع ہے نمودار
اللّٰہ‘ لکھا بخط گل زار

خوشبو میں بسا ہے خلعتِ گل
دل جُو ہیں ترانہاے گل

ہے آفت ہوش موسم گل
پھر اس پہ یہ صبح کا تجمل

تاروں کا فلک پہ جھلملانا
شمعوں کا سپید منہ دکھانا

مرغانِ چمن کی خوشنوائی
شوخانِ چمن کی دلرُبائی

کلیوں کی چٹک مہک گلوں کی
مستانہ صفیر بلبلوں کی

پرواز طیور آشیاں سے
اور بارشِ نور آسماں سے

مسجد میں اَذاں کا شور برپا
زُہاد وضو کیے مہیا

آنکھوں سے فراق خواب غفلت
منزل سے مسافروں کی رخصت

میخانوں میں مے کشوں کی دھومیں
دل ساغر مے کی آرزو میں

لب پر یہ سخن کہ جام پائیں
دل میں یہ ہوس سرور آئیں

کہتا ہے کوئی فدائے ساقی
بھاتی ہے مجھے ادائے ساقی

پایا ہے کسی نے جام رنگیں
دل کو کوئی دے رہا ہے تسکیں

اے قلب حزیں چہ شورو شین است
چوں ساقی تو ابوالحسین است

برخیز و بگیر جام سرشار
بنشیں و بنوش و کیف بردار

ناشاد بیاد شاد میرو
پُر دامن و بامراد میرو

مایوس مشو کہ خوش جنابے ست
بر چرخِ سخاوت آفتابے ست

ہوش و سرہوش را رہا کن
مے نوش و بدیگراں عطا کن

تُو نور ہے تیرا نام نوری
دے مجھ کو بھی کوئی جام نوری

ہر جرعہ ہو حامل کرامات
ہر قطرہ ہو کاشف مقامات

ہوں دل کی طرح سے صاف راہیں
اسرار پہ جا پڑیں نگاہیں

بغداد کے پھول کی مہک آئے
نکہت سے مشام روح بس جائے

گھٹ جائے ہوس بڑھیں اُمنگیں
آنکھوں سے ٹپک چلیں ترنگیں

یہ بادۂ تند لطف دے جائے
بغداد مجھے اُڑا کے لے جائے

جس وقت دیارِ یار دیکھوں
دیکھوں درِ شہریار دیکھوں

بے تابیِ دل مزے دکھا جائے
خود رفتگی میرے لینے کو آئے

دل محوِ جمال شکر باری
شَیئاً لِلّٰہ زباں پہ جاری

خم فرق زمین آستاں پر
قسمت کا دماغ آسماں پر

سینہ میں بہار کی تجلی
دل میں رُخِ یار کی تجلی

ہاتھوں میں کسی کا دامنِ پاک
آنکھوں میں بجائے سُرمہ وہ خاک

لب پر یہ صدا مراد دیجیے
ناشاد گدا کو شاد کیجیے

آیا ہے یہ بے کسی کا مارا
پایا ہے بہت بڑا سہارا

حسرت سے بھرا ہوا ہے سینہ
دل داغ ملال کا خزینہ

یہ دن مجھے بخت نے دکھایا
قسمت سے درِ کریم پایا

اے دست تہی و جانِ مضطر
مژدہ ہو رسا ہوا مقدر

گزرے وہ بکاؤ بین کے دن
اب خیر سے آئے چین کے دن

آیا ہوں میں درگہِ سخی میں
پہنچا ہوں کریم کی گلی میں

پرواہ نہیں کسی کی اب کچھ
بے مانگے ملے گا مجھ کو سب کچھ

اب دونوں جہاں سے بے غمی ہے
سرکار غنی ہے کیا کمی ہے

اے حُبّ وطن سقر کی ٹھہرا
اب کس کو پسند ساتھ تیرا

جائیں گے نہ اُس دیار سے ہم
اٹھیں گے نہ کوئے یار سے ہم

کون اُٹھتا ہے ایسے آستاں سے
اُٹھے نہ جنازہ بھی یہاں سے

کیا کام کہ چھوڑ کر یہ گلشن
کانٹوں میں پھنسائیں اپنا دامن

ہے سہل ہمیں جہاں سے جانا
مشکل ہے اس آستاں سے جانا

کیوں لطف بہار چھوڑ جائیں
کیوں نازِ خزاں اُٹھانے آئیں

دیکھا نہ یہاں اَسیر کوئی
محتاج نہیں فقیر کوئی

ہر وقت عیاں ہے فیضِ باری
ہر فصل ہے موسمِ بہاری

ہر شب میں شب برات کا رنگ
ہر روز میں روزِ عید کا ڈھنگ

تفریح و سُرور ہر گھڑی ہے
نوروز کی روز حاضری ہے

ہے عیش کی یہ خوشی ہمیشہ
حاضر رہے ہر گھڑی ہمیشہ

پیوستہ خوشی کا راج ہے یاں
ہر سن سنِ اِبْتِہاج ہے یاں

شوال ہے یاں کا ہر مہینہ
ہر چاند میں ماہِ عید دیکھا

انوار سے ہے بھری ہوئی رات
ہر شب ہے یہاں کی چاندنی رات

راحت نے یہاں لیا ہے آرام
آرام ہے اس جناب کا رام

مقصود دل انبساط خاطر
خدام کی خدمتوں میں حاضر

شادی کی ہوس یہیں رہوں میں
آرام مجاوروں کو دوں میں

حُضَّار سے کاوِشِ اَلم دُور
دل غم سے جدا تو دل سے غم دُور

طلعت سے دل و دماغ روشن
مقبول دعا چراغ روشن

آراستہ بزمِ خُسروی ہے
شادی کی گھڑی رَچی ہوئی ہے

مدّاح حضور آ رہے ہیں
اپنی اپنی سنا رہے ہیں

ہاں اے حسنـؔ اے غلام سرکار
مدّاح حضور نغز گفتار

مشتاق سخن ہیں اہل محفل
منّت کش انتظار ہے دل

کچھ منقبتیں سنا دعا لے
سرکار سے مدح کا صلہ لے

اے خالقِ قادر و توانا
اے واحد بے مثال و دانا

دے طبع کو سیل کی روانی
دل کش ہو اداے خوش بیانی

ہر حرف سے رنگ گل عیاں ہو
ہر لفظ ہزار داستاں ہو

مقبول میرا کلام ہو جائے
وہ کام کروں کہ نام ہو جائے

دے ملک سخن کا تاج یا رب
رکھ لے میری آج لاج یا رب

اے سیّدِ خوش بیاں کرم کر
اے افصحِ افصحاں کرم کر

اے رُوحِ امیں مدد کو آنا
لغزش سے کلام کو بچانا

وسائلِ بخشش

...

Tohfa K Hai Gohar e Laali

تحفہ‘ کہ ہے گوہر لآلی
فرماتے ہیں اس میں یوں معالی

جب زیب زماں ہوئے وہ سرور
تھی ساٹھ برس کی عمر مادر

یہ بات نہیں کسی پہ مخفی
یہ عمر ہے عمرِ نا اُمیدی

اس اَمر سے ہم کو کیا عجب ہو
مولود کی شان کو تو دیکھو

نومید کے درد کی دوا ہے
مایوس دلوں کا آسرا ہے

کیا کیجیے بیان دستگیری
ہے جوش پہ شانِ دستگیری

گرتے ہوؤں کو کہیں سنبھالا
ڈوبے ہوؤں کو کہیں نکالا

سب داغ الم مٹا دیے ہیں
بیٹھے ہوئے دل اُٹھا دیے ہیں

نومید دلوں کی ٹیک ہے وہ
امداد میں آج ایک ہے وہ

یاوَر جو نصیب ہے ہمارا
قسمت سے ملا ہے کیا سہارا

طوفانِ اَلم سے ہم کو کیا باک
ہے ہاتھ میں کس کا دامنِ پاک

آفت کا ہجوم کیا بلا ہے
کس ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے

بالفرض اگر غلامِ سرکار
دریاے الم میں ہو گرفتار

خود بحر ہو اس خیال میں گُم
دُکھ دے نہ اسے میرا تلاطُم

سوچے یہی سیل کی روانی
پھر جائے نہ آبرو پہ پانی

طوفان ہو اس قلق میں بے تاب
موجیں بنیں ماہیانِ بے آب

گرداب ہو گرد پھر کے صدقے
ساحل لبِ خشک سے دعا دے

ہو چشمِ حباب اشک سے تر
ہر موج کہے یہ ہاتھ اُٹھا کر

رکھ لے میری اے کریم تُو لاج
غیرت سے نہ ڈوبنا پڑے آج

وسائلِ بخشش

...

Moulana Abdul Haq Muhadis

مولانا عبدِ حق محدث
وہ سرورِ انبیا کے وارث

ہے اُن کی کتاب پاک ’اخبار‘
تحریر ہے اس میں ذکرِ اخیار

مرقوم ہے اس میں یہ روایت
چمکا جو وہ ماہِ قادریت

آیا رمضان کا زمانہ
روزوں کا ہوا جہاں میں چرچا

کی شہرِ صیام کی یہ توقیر
دن میں نہ پیا حضور نے شِیر

گو عالمِ شِیر خوارگی تھا
پر پاسِ شریعتِ نبی تھا

جب تک نہ ہو پیروِ شریعت
کیا جانے حقیقتِ طریقت

جو راہ نہ پوچھے مصطفی سے
کس طرح وہ جا ملے خدا سے

جس شخص نے راستہ کو چھوڑا
منزل کی طرف سے منہ کو موڑا

جو آپ ہی راہ گُم کیے ہو
کیا راہ بتائے وہ کسی کو

خود گم سے کوئی پتا نہ پوچھے
گمراہ سے راستہ نہ پوچھے

رہبر کی جو اقتدا نہ بھولا
وہ بھول کے راستہ نہ بھولا

وسائلِ بخشش

...