Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Woh Uthi Deikh Lo Gird e Sawari


وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری
عیاں ہونے لگے انوارِ باری

نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیں
کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں

مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے
چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے

فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں
یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں

یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے
یہی فریاد رس ہیں بے بسوں کے

یہی ٹوٹے دلوں کو جوڑتے ہیں
یہی بند اَلم کو توڑتے ہیں

اَسیروں کے یہی عقدہ کشا ہیں
غریبوں کے یہی حاجت روا ہیں

یہی ہیں بے کلوں کی جان کی کل
انہیں سے ٹیک ہے ایمان کی کل

شکیب بے قراراں ہے انہیں سے
قرارِ دل فگاراں ہے انہیں سے

اِنہیں سے ٹھیک ہے سامانِ عالم
اِنہیں پر ہے تصدق جانِ عالم

یہی مظلوم کی سنتے ہیں فریاد
یہی کرتے ہیں ہر ناشاد کو شاد

انہیں کی ذات ہے سب کا سہارا
انہیں کے دَر سے ہے سب کا گزارا

انہیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں
انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں

انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں
انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں

انہیں کو پیڑ سجدے کر رہے ہیں
انہیں کے پاؤں پر سر دھر رہے ہیں

انہیں کی کرتے ہیں اَشجار تعظیم
انہیں کو کرتے ہیں اَحجار تسلیم

انہیں کو یاد سب کرتے ہیں غم میں
یہی دکھ درد کھو دیتے ہیں دم میں

یہی کرتے ہیں ہر مشکل میں اِمداد
یہی سنتے ہیں ہر بے کس کی فریاد

انہیں ہر دم خیالِ عاصیاں ہے
انہیں پر آج بارِ دو جہاں ہے

کسے قدرت نہیں معلوم اِن کی
مچی ہے دو جہاں میں دُھوم اِن کی

سہارا ہیں یہی ٹوٹے دلوں کا
یہی مرہم ہیں غم کے گھائلوں کا

یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت
کریں خود جَو کی روٹی پر قناعت

فزوں رُتبہ ہے صبح و شام اِن کا
محمد مصطفی ہے نام اِن کا

مزین سر پہ ہے تاجِ شفاعت
عیاںہے جس سے معراجِ شفاعت

بدن میں وہ عباے نور آگیں
کہ جس کی ہر اَدا میں لاکھ تزئیں

کہوں کیا حال نیچے دامنوں کا
جھکا ہے رحمتِ باری کا پلّہ

یہی دامن تو ہیں اے جانِ مضطر
مچل جائیں گے ہم محشر میں جن پر

سواری میں ہجومِ عاشقاں ہے
کوئی چپ ہے کوئی محو فُغاں ہے

کوئی دامن سے لپٹا رو رہا ہے
کوئی ہر گام محو اِلتجا ہے

کوئی کہتا ہے حق کی شان ہیں یہ
کوئی کہتا ہے میری جان ہیں یہ

یہ کہتا ہے کوئی بیمارِ فرقت
ترقی پر ہے اب آزارِ فرقت

ادھر بھی اِک نظر او تاج والے
کوئی کب تک دلِ مضطر سنبھالے

ز مہجوری بر آمد جانِ عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم

نہ آخر رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنِی
ز محروماں چرا فارغ نشینی

بدہ دستے زپا اُفتادگاں را
بکن دلداریِ دلدادگاں را

بہت نزدیک آ پہنچا وہ پیارا
فدا ہے جان و دل جس پر ہمارا

اُٹھیں تعظیم کو یارانِ محفل
ہوا جلوہ نما وہ جانِ محفل

خبر تھی جن کے آنے کی وہ آئے
جو زینت ہیں زمانے کی وہ آئے

فقیرو جھولیاں اپنی سنبھالو
بڑھو سب حسرتیں دل کی نکالو

پکڑ لو اِن کا دامن بے نواؤ
مرا ذمہ ہے جو مانگو وہ پاؤ

مجھے اِقرار کی عادت ہے معلوم
نہیں پھرتا ہے سائل اِن کا محروم

کرو تو سامنے پھیلا کے دامن
یہ سب کچھ دیں گے خالی پا کے دامن

حسنؔ ہاں مانگ لے جو مانگنا ہو
بیاں کر آپ سے جو مدعا ہو

مرے آقا مرے سردار ہو تم
مرے مالک مرے مختار ہو تم

تصدق تم پر اپنی جان کر دوں
ملیں تو دو جہاں قربان کر دوں

تمہیں افضل کیا سب سے خدا نے
دیا تاجِ شفاعت کبریا نے

تمہیں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ہم
تمہارے در پہ آئے بیٹھے ہیں ہم

تمہارا نام ہم کو حرزِ جاں ہے
یہی تو داروے دردِ نہاں ہے

بلا لیجے مدینے میں خدارا
نہیں اب ہند میں اپنا گزارا

تمہارا دَر ہو اور سر ہو ہمارا
اسی کوچے میں ہو بستر ہمارا

قضا آئے تو آئے اِس گلی میں
رہے باقی نہ حسرت کوئی جی میں

نہ ہو گور و کفن ہم کو میسر
پڑا یوں ہی رہے لاشہ زمیں پر

سگانِ کوچۂ پُر نور آئیں
مرے پیارے مرے منظور آئیں

مرے مُردے پہ ہوں آ کر فراہم
غذا اپنی کریں سب مل کے باہم

ہمیشہ تم پہ ہو رحمت خدا کی
دعا مقبول ہو مجھ سے گدا کی

ذوقِ نعت

...

Ya Rab Too Hai Sab Ka Mola


یا ربّ تو ہے سب کا مولیٰ
سب سے اعلی سب سے اولیٰ

تیری ثنا ہو کس کی زباں سے
لائے بشر یہ بات کہاں سے

تیری اک اک بات نرالی
بات نرالی ذات نرالی

تیرا ثانی کوئی نہ پایا
ساتھی ساجھی کوئی نہ پایا

تو ہی دے اور تو ہی دلائے
تیرے دیے سے عالم پائے

تو ہی اوّل تو ہی آخر
تو ہی باطن تو ہی ظاہر

کیا کوئی تیرا بھید بتائے
تو وہ نہیں جو فہم میں آئے

پہلے نہ تھا کیا اب کچھ تو ہے
کوئی نہیں کچھ سب کچھ تو ہے

تو ہی ڈبوئے تو ہی اچھالے
تو ہی بگاڑے تو ہی سنبھالے

تجھ پر ذرّہ ذرّہ ظاہر
نیت ظاہر اِرادہ ظاہر

تجھ سے بھاگ کے جانا کیسا
کوئی اور ٹھکانا کیسا

تو ہی یاد دلا کے بھلائے
تو ہی بھلا کے یاد دلائے

تو ہی چھٹا دے تو ہی ملا دے
تو ہی گما دے تو ہی پتا دے

کوئی نہ تھا جب بھی تھا تو ہی
تھا تو ہی تو ہو گا تو ہی

تیرے دَر سے جو بھاگ کے جائیں
ہر پھر تیرے ہی دَر پر آئیں

تیری قدرت کا ہے نمونہ
نارِ خلیل و بادِ مسیحا

آٹھ پہر ہے لنگر جاری
سب ہیں تیرے دَر کے بھکاری

ذوقِ نعت

...

Saney Ne Ik Baagh Lagaya


صانع نے اِک باغ لگایا
باغ کو رشک خلد بنایا

خلد کو اس سے نسبت ہو کیا
گلشن گلشن صحرا صحرا

چھائے لطف و کرم کے بادل
آئے بذل و نعم کے بادل

خوب گھریں گھنگھور گھٹائیں
کرنے لگیں غل شور گھٹائیں

لہریں کرتی نہریں آئیں
موجیں کرتی موجیں لائیں

سرد ہوا کے آئے جھونکے
آنکھوں میں نیند کے لائے جھونکے

سبزہ لہریں لیتا نکلا
مینہ کو دعائیں دیتا نکلا

بولے پپیہے کوئل کوکی
ساعت آئی جام و سبو کی

پھرتی ہے بادِ صبا متوالی
پتے پتے ڈالی ڈالی

چپے چپے ہوائیں گھومیں
پتلی پتلی شاخیں جھومیں

فصلِ بہار پر آیا جوبن
جوبن اور گدرایا جوبن

گل پر بلبل سرو پہ قمری
بولے اپنی اپنی بولی

چٹکیں کچی کچی کلیاں
خوشبو نکلی بس گئیں گلیاں

آئیں گھٹائیں کالی کالی
جگنو چمکے ڈالی ڈالی

کیوں کر کہیے بہار کی آمد
آمد اور کس پیار کی آمد

چال میں سو انداز دکھاتی
طرزِ خرامِ ناز اُڑاتی

رنگ رُخِ گل رنگ دکھاتی
غم کو گھٹاتی دل کو بڑھاتی

یاس کو کھوتی آس بندھاتی
آنکھ کے رستے دل میں سماتی

گھونگھٹ اُٹھائے شاہد گل کا
رنگ جمائے ساغر و مُل کا

طرزِ تبسم سب کو دکھاتی
فرطِ طرب سے ہنستی ہنساتی

ساتھ میں بادل کالے کالے
مست طرب برساتے جھالے

تشنہ لبوں کو پانی دیتی
مژدۂ راحت جانی دیتی

ابر سے دو دو چھینٹے لڑتی
برق سے پیہم ہنستی اکڑتی

آتشِ غم پر چھینٹا دیتی
سوختہ دل کی دعائیں لیتی

حسنِ سراپا نور کا عالم
سر سے پا تک حور کا عالم

مست جوانی محو تجمل
ابرِ سیہ سے کھولے کاکل

پھول کا سر سے پا تک زیور
شکل عروسِ تازہ معطر

اوڑھے دوپٹہ آبِ رواں کا
برق نے جس پر لچکا ٹانکا

لب کی مسی ہے رنگ سوسن
غازۂ عارض جلوۂ گلشن

آتش گل سے کاجل پارا
سُرمہ لگایا پیارا پیارا

باغ نے کی پھولوں کی نچھاور
ڈالی لائے پیڑ بنا کر

کنگھی شانہ بنا کر لائی
نہر آئینہ دکھانے لائی

غنچوں نے اپنی گٹھری کھولی
کشتی لائے قباے گل کی

غل ہے بادِ بہاری آئی
شاہد گل کی سواری آئی

اب کی بہار انداز سے آئی
آئی اور کس ناز سے آئی

پھولے پھول ، عنادِل چہکے
گلشن مہکے، صحرا مہکے

رنگ خزاں عالم سے ہوا ہے
پھولوں سے گلزار بھرا ہے

دامن گل چیں دامن دامن
بھرنے لگے گلہاے گلشن

ذوقِ نعت

...

Aaein Baharain Barsey Jhaley


آئیں بہاریں برسے جھالے
نغمہ سرا ہیں گلشن والے

شاہد گل کا جوبن اُمڈا
دل کو پڑے ہیں جان کے لالے

ابرِ بہاری جم کر برسا
خوب چڑھے ہیں ندّی نالے

کوئل اپنی کُوک میں بولی
آئے بادل کالے کالے

حسنِ شباب ہے لالہ و گل پر
قہر ہیں اُٹھتے جوبن والے

پھیلی ہیں گلشن میں ضیائیں
شمع و لگن ہیں سرو اور تھالے

عارضِ گل سے پردہ اٹھا
بلبلِ مضطر دل کو سنبھالے

جوشِ طبیعت روکے تھامے
شوقِ رُؤیت دیکھے بھالے

سن کے بہار کی آمد آمد
ہوش سے باہر ہیں متوالے

بوٹے گل رویانِ کم سن
پیارے پیارے بھولے بھالے

فیضِ اَبر بہاری پہنچا
پودے پودے تھالے تھالے

جمع ہیں عقد عروسِ گل میں
سب رنگین طبیعت والے

بانٹتی ہے نیرنگیِ موسم
بزم میں سرخ و سبز دو شالے

نکہت آئی عطر لگانے
پھول نے ہار گلوں میں ڈالے

پنکھے جھلنے والی نسیمیں
بادل پانی دینے والے

گاتے ہیں مل مل کے عنادل
سہرا مبارک ہو ہریالے

ایسی فصل میں جوشِ طبیعت
کس سے سنبھلے کون سنبھالے

آنکھ نے کیا کیا دل کو اُبھارا
تارِ نظر نے ڈورے ڈالے

کیسا موسم پیارا موسم
اُس پر نورِ سحر کے اُجالے

شمعوں کے چہروں پہ سپیدی
تارے رُخصت ہونے والے

نکلے اپنے گھروں سے مسافر
گھر بھر کر کے خدا کے حوالے

آئی کان میں بانگِ مؤذن
چونکے مسجد جانے والے

پہلے کچھ احباب سے مل کر
ہجر کی شب کے رونے والے

کوئی کسی سے طالب رخصت
درد انگیز کسی کے نالے

عشق سراپا عجز و زاری
حسن و نازش رد سوالے

خواب ہوئے آنکھوں سے رُخصت
نیند سے چونکے سونے والے

ساقی نے میخانہ کھولا
سائل آئے جھولی ڈالے

دیکھیے بادہ کشوں کی آمد
لب پہ دعا ہاتھوں میں پیالے

خواہش مے میں سب کی زباں پر
تیرے صدقے اے متوالے

داتا آج پیالا بھر دے
ہم سے فقیروں کی بھی دعا لے

خشکی لب سے دم ہے لبوں پر
پیارے کب تک ٹالے بالے

شوق کو ہم بہلائیں کہاں تک
لا اے پینے پلانے والے

گہرا سا اک جام عطا کر
جھوم کر آئیں کیف نرالے

رنگ پہ پھر آ جائیں ترنگیں
لطف سُرور سے رُوح مزا لے

لغزشِ پا کے ہاتھوں مے کش
خوب مزے گر گر کر اُٹھا لے

جب ہوں قائل تیزیِ مے کے
ہاتھ میں اُڑ کر آئیں پیالے

کہتے اُٹھے ہر رِند سے بادل
دل کو بڑھائے غم کو گھٹا لے

پینا کیسا پلانا کیسا
آج تو حوضِ مے میں نہا لے

ہاں اے لغزشِ پا کے شیدا
گرتے گرتے لطف اُٹھا لے

بادہ و حسنِ دل کش گلشن
بے خود ہیں سب دیکھنے والے

ایسی فصل میں بخت نے ہم کو
ڈال دیا صیاد کے پالے

سوزِ فراق نے آگ لگا دی
آتش گل نے چھالے ڈالے

ہجر میں بارش ابرِ غضب ہے
پڑتے ہیں زخمی دل پر بھالے

آگ لگاؤ ایسے مینہ کو
جلتے ہیں اور بھی جلنے والے

فصل بہاراں صحن گلستاں
کوے رقیب و ماہ جمالے

اے تری قدرت دیدۂ تر کو
آنکھیں دکھائیں ندّی نالے

سوزِ جدائی کس کو سناؤں
پڑ گئے کام و زباں میں چھالے

کنج قفس آلامِ جدائی
گوشۂ عزلت ماہ خیالے

آئے ترس اس دکھ پر کس کو
مجھ بے کس کی کون دعا لے

پنجۂ وحشت تو نہ ہوا شل
زخم ہوئے چھل چھل کر آلے

جو کچھ گزری جو کچھ بیتی
کس سے کہیں دُکھ بھرنے والے

اے ظالم اے دردِ جدائی
اب تو پڑے ہیں تیرے پالے

جان غضب میں ہے ترے ہاتھوں
دل میں چٹکی لینے والے

ناؤ میں خاک کہاں سے آئی
کھانا ہے تو ظالم کھا لے

تیرے بس میں قید ہوئے ہیں
جتنا ستایا جائے ستا لے

ملدے ہونٹوں کو آہ و فغاں پر
خاموشی کو باتیں سنا لے

اُن سے کریں گے تیری شکایت
ہم ہیں جن کے ناز کے پالے

سب کے حامی سب کے یاور
جان کی راحت دل کے اُجالے

عرض کروں اب مطلع ایسا
دل سے جو خارِ الم کو نکالے

ذوقِ نعت

...

Chaey Gham k Badal Kaaley


چھائے غم کے بادل کالے
میری خبر اے بدرِ دُجیٰ لے

گرتا ہوں میں لغزشِ پا سے
آ اے ہاتھ پکڑنے والے

زُلف کا صدقہ تشنہ لبوں پر
برسا مہر و کرم کے جھالے

خاک مری پامال ہو کب تک
نیچے نیچے دامن والے

پھرتا ہوں میں مارا مارا
پیارے اپنے دَر پہ بُلا لے

کام کیے بے سوچے سمجھے
راہ چلا بے دیکھے بھالے

ناری دے کر خط غلامی
تجھ سے لیں جنت کے قبالے

تو ترے احساں میرے یاور
ہیں مرے مطلب تیرے حوالے

تیرے صدقے تیرے قرباں
میرے آس بندھانے والے

بگڑی بات کو تو ہی بنائے
ڈوبتی ناؤ کو تو ہی سنبھالے

تم سے جو مانگا فوراً پایا
تم نہیں کرتے ٹالے بالے

وسعت خوانِ کرم کے تصدق
دونوں عالم تم نے پالے

دیکھیں جنہوں نے تیری آنکھیں
وہ ہیں حق کے دیکھنے والے

تیرے عارض گورے گورے
شمس و قمر کے گھر کے اُجالے

اَبر لطف و غلافِ کعبہ
تیرے گیسو کالے کالے

آفت میں ہے غلامِ ہندی
تیری دُہائی مدینے والے

تنہا میں اے حامیِ بے کس
سینکڑوں ہیں دُکھ دینے والے

تیرے لطف ہوں میرے یاور
تیرا قہر عدو کو جا لے

آج ہے پیشی میں ہوں مجرم
زیر دامن مجھ کو چھپا لے

روزِ حساب اور مجھ سا عاصی
میری بگڑی بات بنا لے

تورے بل بل جاؤں کھویا
ندیا گہری نیّا ہالے

گھِر گھِر آئے گم کے بدرا
جیرا کانپت کملی والے

رین اندھیری دُور نگریا
توری دہائی جگ اُجیالے

تن من دھن کی سدھ بدھ بسری
موری کھبریا مورے پیا لے

نیناں کے بلہاری جاوے
درسن بھچّا جو منگتا لے

وا کو سمندر پار ہو جا دو
جا کو ڈراویں ندی نالے

اپنے حسین و حسن کے حسن کو
زہرِ کرب و بلا سے بچا لے

ذوقِ نعت

 

...

Saaqiya Kiyoun Aaj Rindoun Per Hai

ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
کیوں نہیں دیتا ہمیں جامِ شرابِ ارغواں

تشنہ کاموں پر ترس کس واسطے آتا نہیں
کیوں نہیں سنتا ہے مے خواروں کی فریاد و فغاں

جام کیوں اوندھے پڑے ہیں کیوں ہیں منہ شیشوں کے بند
عقدۂ لاحل بنا ہے کیوں ہر اِک خُمِ مے کا دہاں

کیوں صدا قلقل کی مینا سے نہیں ہوتی بلند
کیوں اُداسی چھا رہی ہے کیوں ہوئی سونی دکاں

کیوں ہے مہر خامشی منہ پر سبُو کے جلوہ ریز
کچھ نہیں کھلتا مجھے کیسا بندھا ہے یہ سماں

کس قدر اعضا شکن ہے یہ خمارِ جاں گسل
ہے جماہی پر جماہی ٹوٹتی ہیں ہڈیاں

کیا غضب ہے تجھ کو اِس حالت پہ رحم آتا نہیں
خشک ہے منہ میں زباں آتی ہیں پیہم ہچکیاں

آمدِ بادِ بہاری ہے گلستاں کی طرف
فصلِ گلشن کر رہی ہے کیا ہی رنگ آمیزیاں

ابر کی اٹکھیلیوں سے جوبنوں پر ہے بہار
پڑ رہی ہیں پیاری پیاری ننھی ننھی بوندیاں

چار جانب سے گھٹاؤں نے بڑھائے ہیں قدم
توسِن بادِ صبا پر لی ہے راہِ بوستاں

جشن گل کا شور ہے فصل چمن کا زور ہے
ابر اٹھا ہے گرجتا کوندتی ہیں بجلیاں

ٹکٹکی باندھے ہوئے نرگس تماشے پر ہے لوٹ
محو وصف جلوۂ گلشن ہے سوسن کی زباں

شاخِ گل پر بلبلیں ہیں نغمہ سنجِ فصل گل
سرو پر بیٹھی ہوئی کرتی ہیں کُو کُو قمریاں

اس قدر ہے جوش پر حسن عروسِ گل کہ آج
باغ میں ملتی نہیں بلبل کو جاے آشیاں

ٹھنڈی ٹھنڈی پیاری پیاری چلتی ہے بادِ نسیم
جھومتی ہیں وجد میں کیا کیا چمن کی ڈالیاں

مست و بے خود بیٹھے ہیں مرغانِ گلشن شاخ شاخ
کر رہے ہیں اپنی اپنی لے میں مدحت خوانیاں

تا کہ دیکھے گل کا جوبن نرگسِ مخمور بھی
سوتے سوتے چونک کر اُٹھی ہے مَلتی انکھڑیاں

دیتے ہیں غنچے چٹک کر یہ صدا ہر سمت سے
ہم بھی دیکھیں گے ذرا فصل بہاری کا سماں

کب ہیں یہ شبنم کے قطرے برگِ گل پر آشکار
ہیں عروسِ گل کے کانوں میں جڑاؤ پتیاں

گُدگُداتی ہے مرے دل کو ہواے مے کشی
آرزوئیں کر رہی ہیں کس قدر اٹکھیلیاں

حسرتیں کہتی ہیں ہم کو کس پہ چھوڑا آپ نے
خواہشیں کرتی ہیں شکوے کیوں ہوئے نا مہرباں

دیر کارِ خیر میں اس درجہ کرتا ہے کوئی
ہاں خدارا ساقیا اِرحم بحال نیمِ جاں

چار دن کی چاندنی ہے یہ اندھیرا پاکھ ہے
پھر کہاں ہم اور کہاں یہ دُختِ رز کی شوخیاں

پانی پی پی کر دعا دوں تجھ کو گر پاؤں مراد
دیر کیوں کرتا ہے پیارے فصل گلشن پھر کہاں

دے کوئی ساغر چھلکتا سا شرابِ تند کا
بول بالا ہو ترا اے ساقیِ حاتم نشاں

مدح کرتا ہوں میں اب اک رہنما کے عرس کی
چھوڑ کر فکرِ خط و خالِ حسینانِ جہاں

واہ وا کیا عرس ہے، کیا عرس ہے کیا عرس ہے
جس میں ہیں تشریف فرما غوث و اَبدالِ جہاں

سر جھکائے بیٹھے ہیں حلقہ کیے سارے مرید
حالِ دل کرتے ہیں سرکارِ معلی میں عیاں

ہر اَدا سے انکشافِ معنی و مقصود ہے
ہو رہا ہے کیا لطیفوں میں عیاں سرِ نہاں

ہے کہیں ذکر جلی تو ہے کہیں ذکر خفی
اپنے اپنے حال میں مصروف ہیں پیر و جواں

دل کے آئینوں کی صیقل ذکر ارّہ سے کہیں
ہیں کسی جا ذکر قمری کی عیاں رنگینیاں

ضرب اِلَّا اللّٰہ سے کرتا ہے کوئی دل کو صاف
ہے کہیں اثبات نفی غیر کا لا سے عیاں

سب کو منہ مانگی مرادیں ملتی ہیں اِس عرس میں
آتے ہیں روتے ہوئے جاتے ہیں ہنستے شادماں

اس طرف ایسی بہاریں اس طرف حکم خدا
جاتی ہے سر پیٹتی اس بزم سے عمر رواں

کچھ خبر بھی ہے تجھے اے دل یہ کس کا عرس ہے
پائی اس محفل نے کس سے زیب و زین و عزو شاں

طالب مطلوبِ یزداں حضرتِ فضلِ رسول
موردِ فضل رسول و رحم خلاق جہاں

سالکِ راہِ حقیقت رہروِ مقصودِ شرع
رہنماے گمرہاں و پیشواے مرشداں

حاکم اصل فروع و عالم رمز اُصول
واقفِ حالِ حقیقت کاشفِ سِرِّ نہاں

حامیِ دین پیغمبر ماحیِ بنیادِ کفر
زاہد زین عبادت واعظ شیوا بیاں

آفتابِ چرخِ علم و ماہتابِ برجِ حلم
گوہر درج شرف یاقوت کانِ عز و شاں

شاہ دیہیم جلال و خسرو تخت کمال
نائب شاہنشہِ کونین فخر مرسلاں

انجمن آراے شرع و شمع بزمِ معرفت
زینت بستانِ فقر و زیبِ گلزارِ جناں

سیف مسلول حقیقت فارسِ مضمارِ فقر
طلعت شمع ہدایت مقتداے سالکاں

مزرعِ اِسلام کو اَبر کرم ذاتِ جناب
خرمن اَدیانِ باطل کو ہے برقِ بے اماں

حاضر عرسِ معلی ہیں بہت اربابِ علم
وہ پڑھوں مطلع کہ سن کر سن ہوں سب اہل زباں

گر کبھی فرمائے تو توحیدِ واحد کا بیاں
کہہ دے ہندوے فلک بھی ٹھیک ہے یہ بے گماں

دی خداے پاک نے تجھ کو حیاتِ بے ممات
لایموتون ہے تیری شان میں اے جانِ جاں

دین پیغمبر کو تیری ذات سے ہے تقویت
تیرے جلوؤں سے منور خطۂ ہندوستاں

تیرے اچھے ہونے میں کس کو رہی جاے سخن
تیرے مرشد کے ہیں مرشد حضرتِ اچھے میاں

مُلحِدوں کو بات تیری سیف ہے جبار کی
معتقد کو قول تیرا موجب امن و اماں

دے جو کچھ دینا ہو شاہا اس کے جلدومیں مجھے
تیرے دَر پہ لے کے آیا ہوں قصیدۂ ارمغاں

ہو دعاے خیر میری دین و دنیا کی قبول
یہ صلہ پائے شہا تیرا گداے آستاں

اے حسنؔ اب کر دعا اللہ سے با التجا
کیا عجب ہے گر کہیں آمیں گروہِ قدسیاں

یا خدا جب تک ہے مہر و ماہ میں جلوہ گری
دَہر میں قائم رہے جب تک یہ دورِ آسماں

کُنج خلوت میں ہو جب تک زاہد گوشہ نشیں
شمع کو حاصل ہیں جب تک انجمن آرائیاں

کعبہ کے در پر ہے جب تک فرقِ زاہد سجدہ ریز
شاغل حمد خدا جب تک رہیں کرّو بیاں

جلوۂ وحدت رہے کثرت میں جب تک آشکار
صوفیوں کا دَہر میں جب تک رہے نام و نشاں

مولوی عبد قادر زیب سجادہ رہیں
تابع فرمانِ والا ہو ہر اک پیر و جواں

دے مدد اقوالِ والا کو کلام اللہ پاک
پیش حضرت قول دشمن کا ہو شاخِ زعفراں

ان کے دشمن کو ہمیشہ کلفت و کربت نصیب
جو دعا گو ہیں رہیں فرحت نصیب و شادماں

ذوقِ نعت

...

Dunya O Deen K Is K Maqasid Husool Hain

دنیا و دیں کے اس کے مقاصد حصول ہیں
جس کی مدد پہ حضرت فضل رسول ہیں

منکر تری فضیلت و جاہ و جلال کی
بے دیں ہیں یا حسود ہیں یا بوالفضول ہیں

حاضر ہوئے ہیں مجلس عرسِ حضور میں
کیا ہم پہ حق کے لطف ہیں فضل رسول ہیں

کافی ہے خاک کرنے کو یک نالۂ رسا
دفتر اگرچہ نامۂ عصیاں کے طول ہیں

خاکِ درِ حضور ہے یا ہے یہ کیمیا
یہ خارِ راہ ہیں کہ یہ جنت کے پھول ہیں

ذوقِ نعت

...

Tawanai Nahi Sadma Uthaney Ki Zara Baaqi

توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
نہ پوچھو ہائے کیا جاتا رہا کیا رہ گیا باقی

زمانے نے ملائیں خاک میں کیفیتیں ساری
بتا دو گر کسی شے میں رہا ہو کچھ مزا باقی

نہ اب تاثیر مقناطیس حسن خوب رویاں میں
نہ اب دل کش نگاہوں میں رہا دل کھینچنا باقی

نہ جلوہ شاہد گل کا نہ غل فریادِ بلبل کا
نہ فضل جاں فزا باقی نہ باغِ دل کشا باقی

نہ جوبن شوخیاں کرتا ہے اُونچے اُونچے سینوں پر
نہ نیچی نیچی نظروں میں ہے اندازِ حیا باقی

کہاں وہ قصر دل کش اور کہاں وہ دلربا جلسے
نہ اس کا کچھ نشاں قائم نہ اس کا کچھ پتا باقی

کہاں ہیں وہ چلا کرتے تھے جن کے نام کے سکے
نشاں بھی ہے زمانہ میں اب ان کے نام کا باقی

کہاں ہیں وہ کہ جن کے دم سے تھے آباد لاکھوں گھر
خدا شاہد جو ان کی قبر کا بھی ہو پتا باقی

شجاعت اپنے سر پر ڈالتی ہے خاک میداں کی
نہ کوئی صف شکن باقی نہ کوئی سُورما باقی

سحر جا کر اسے دیکھا تو سناٹا نظر آیا
وہ محفل جس میں شب کو تھی نہ تل رکھنے کی جا باقی

نہ کل تک نیند آتی تھی جنہیں بے فرش کل سے کل
نہیں آج ان غریبوں کے گھروں میں بوریا باقی

جنہیں سب جانِ جاں کہتے تھے جن پر جان جاتی تھی
فنا کے ہاتھ سے کَے دن رہی ان کی بقا باقی

مبارک دل مبارک آرزو ہے حکم عنقا میں
نہ اب وہ دل ہی باقی ہے نہ دل کا مدعا باقی

خدا ہی جانے کیا کیا گل ہوئے کس کس طرح مٹی
خبر کی جب خبر پائیں کہ ہو کچھ مبتدا باقی

کسی کو ذکر کرتے بھی نہ دیکھا ان کا عالم میں
زبانِ حال پر شاید ہو کچھ یہ ماجرا باقی

عبث ہم یاد کر کے رو رہے ہیں آج پہلوں کو
ہمیں کل روئیں گے پچھلے اگر ہے یہ فنا باقی

یہ دو آنکھیں ہیں رونا سینکڑوں کو روئیں کس کس کو
یہ اک دل غم بہت پھر غم نہ رہ جائیں گے کیا باقی

یہ مطلب ہے کہ ان باتوں سے مطلب ہی نہ رکھیں ہم
ہمیں کیا مر گیا کوئی کہ کوئی بچ رہا باقی

جو کوئی مر گیا تو حکم ہی سے جان دی اس نے
جو کوئی بچ رہا تو حکم ہی سے بچ رہا باقی

یہ جینا کیا مرے گر آج تو کل دوسرا دن ہے
مریں اس زندگی پر جو رہے بعد فنا باقی

وہ پیاری زندگی کیا ہے یہی اسلام کی دولت
یہ ہے وہ بے بہا نعمت رہے جو دائما باقی

فناے تابِ مہر و ماہ ہے روشن زمانے پر
مگر اس کا اُجالا رات دن ہے ایک سا باقی

یہ سچ ہے ضعف کی حالت میں ہے اِسلام بے شک ہے
مگر اب بھی ہے اس کی اگلی شوکت جا بجا باقی

ابھی بُرجوں کے گرنے کی چلی آتی ہیں آوازیں
ابھی تک کوشک کسریٰ میں ہے وہ زلزلہ باقی

چمکتی ہیں ابھی تک بدر کے میدان میں تیغیں
نگاہوں میں ہے اب تک بجلیوں کا کوندنا باقی

مسلماں قبر میں بھی ہیں فدا صدیق اکبر پر
ابھی تک یہ اَثر ہے حُب یارِ غار کا باقی

ابھی تک خاک کے نیچے بہادر کانپ اٹھتے ہیں
ابھی تک صولت فاروق کا ہے دبدبا باقی

غنی کی شرم کے جلوے مسلمانوں کے دل میں ہیں
مسلمانوں کی آنکھوں میں ہے اب تک وہ حیا باقی

ابھی ہے نعرہاے شیر حق کی گونج کانوں میں
ابھی ہے ہیبت مرحب کش و خیبر کشا باقی

مسلمانوں کی تلواروں نے جو قبضے بٹھائے ہیں
رہے گا ان کا پھل ان باغیوں پر دائما باقی

بیانِ شوکتِ اسلام پورا ہو نہیں سکتا
فنا ہو جائیں گے ہم ذکر یہ رہ جائے گا باقی

مٹائیں شوق سے اسلام کو اسلام کے دشمن
وہ خود مٹ جائیں گے اور یہ رہے گا دائما باقی

اگرچہ اس کی تلواروں نے بے گنتی ہی چھانٹے ہیں
مگر بد خواہ اس کے پھر بھی ہیں بے انتہا باقی

قدم رکھیں تو رکھیں پھونک کر اسلام کے رہرو
ابھی منزل میں ہے کانٹوں کا کھٹکا جا بجا باقی

مٹایا چاہتے ہیں دین کو ایمان کے دشمن
ابھی مر مٹ کے ہیں شیطان سے بے انتہا باقی

کہیں تقلید کے انکار پر سو سو دلیلیں ہیں
کہیں دعویٰ نہ چھوڑیں گے درود و فاتحہ باقی

کہیں پابند دونوں ہاتھ کا رفع یدیں اب تک
کہیں بالجہر آمیں پر ہے فریاد و بُکا باقی

کسی جا بعد مردن خاک کہہ دینا اکابر کو
کہیں توہین قبر انبیا و اولیا باقی

کسی جا یا رسول اللہ پر ہے شرک کا فتویٰ
کہیں کوشش نہ رکھیں ذکر اِستمداد کا باقی

کہیں تسلیم پر شش مثل کے انکار سے منکر
کہیں تفہیم پر امکانِ کذبِ کبریا باقی

طریقِ ذکر محبوبانِ حق پر حجتیں قائم
جوازِ محفل میلاد پر چون و چرا باقی

لڑے جاتے ہیں مرغے پر کٹے مرتے ہیں بکرے پر
ذرا دیکھیں تو ہے ایماں کا بھی کچھ پتا باقی

انھیں بیکار باتوں پر جھگڑ کر یہ ہوا حاصل
بجائے دین و ملت صرف جھگڑا رہ گیا باقی

یہاں تک باغیوں نے فرع میں شاخیں نکالی ہیں
کہ اُن کی اصل میں اَب کچھ نہیں غیر از خطا باقی

تبرّے کی کہیں بوچھار یارانِ پیمبر پر
کہیں آلِ نبی سے ہے تعلق رنج کا باقی

یزید اس کام کو اِک سال کر کے نار میں پہنچا
یہاں ہے سینکڑوں سالوں سے نقل کربلا باقی

وہ پردیسی مسافر تخت سے ان کو غرض مطلب
الٰہی پھر نمونہ ہے یہ کس کے تخت کا باقی

یہ تاشے باجے کب تھے سید مظلوم کی جانب
کہ جن کا جاہلوں میں ہے ابھی تک پیٹنا باقی

کہاں تک فتح ظالم کی بنائی جائے گی صورت
شہِ مظلوم سے کینہ رہے گا تا کجا باقی

محبت کا ہے دعویٰ آل سے پر دیکھنا یہ ہے
عداوت کا دقیقہ کوئی ان سے رہ گیا باقی

توہب (۱) اور تشیع سے ہوا جو کچھ ہوا لیکن
نہ رکھا نیچریت نے ذرا تسمہ لگا باقی

اگر دعوی مرا محتاجِ حجت ہے تو سن لیجے
کلام اُس کا نہیں جس کو غمِ روزِ جزا باقی

ذوقِ نعت

...

Tera Zahoor Hoa Chasm e Noor Ki Ronaq

ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق

رہے نہ عفو مںچ پھر ایک ذرّہ شک باقی
جو اُن کی خاکِ قدم ہو قبور کی رونق

نہ فرش کا یہ تجمل نہ عرش کا یہ جمال
فقط ہے نور و ظہورِ حضور کی رونق

تمہارے نور سے روشن ہوئے زمنی و فلک
ییہ جمال ہے نزدیک و دُور کی رونق

زبانِ حال سے کہتے ہںد نقشِ پا اُن کے
ہمںن ہںے چہرۂ غلمان و حور کی رونق

ترے نثار ترا ایک جلوۂ رنگںح
بہارِ جنت و حور و قصور کی رونق

ضاا زمنو و فلک کی ہے جس تجلّی سے
الٰہی ہو وہ دلِ ناصبور کی رونق

ییٰ فروغ تو زیبِ صفا و زینت ہے
ییٰ ہے حسن تجلّی و نور کی رونق

حضور ترتہ و تاریک ہے یہ پتھر دل
تجلّیوں سے ہوئی کوہِ طور کی رونق

سجی ہے جن سے شبستانِ عالمِ امکاں
وہی ہں مجلسِ روزِ نشور کی رونق

کریں دلوںکومنورسراج(۱)کے جلوے
فروغِ بزمِ عوارف ہو نور (۲) کی رونق

دعا خدا سے غمِ عشقِ مصطفےٰ کی ہے
حسنؔ یہ غم ہے نشاط و سُرور کی رونق

۱۔ سراج العوارف مصنفہ حضرت پر و مرشد برحق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
۲۔ تخلص حضرت سد نا شاہ ابوالحسنر احمد نوری مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

ذوق نعت

...