Maulana Hasan Raza Khan Sahab  

Hai Pak Rutba Fikr Say Us Bay Niaz Ka

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا

شہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب
کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا

لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرئے ہوئے
اللہ رے جگر ترے آگاہ راز کا

غش آ گیا کلیم سے مشتاقِ دید کو
جلوہ بھی بے نیاز ہے اُس بے نیاز کا

ہر شے سے ہیں عیاں مرے صانع کی صنعتیں
عالم سب آئینوں میں ہے آئینہ ساز کا

اَفلاک و ارض سب ترے فرماں پذیر ہیں
حاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا

اس بے کسی میں دل کو مرے ٹیک لگ گئی
شُہرہ سنا جو رحمتِ بے کس نواز کا

مانندِ شمع تیری طرف لَو لگی رہے
دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم
دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا

بندہ پہ تیرے نفسِ لعیں ہو گیا محیط
اللہ کر علاج مری حرص و آز کا

کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ
بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کار ساز کا

ذوقِ نعت

...

Fikr e Asfal Hai Meri Martaba Aala Tera

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلیٰ تیرا
وصف کیا خاک لکھے خاک کا پُتلا تیرا

طور پر ہی نہیں موقوف اُجالا تیرا
کون سے گھر میں نہیں جلوۂ زیبا تیرا

ہر جگہ ذکر ہے اے واحد و یکتا تیرا
کون سی بزم میں روشن نہیں اِکّا تیرا

پھر نمایاں جو سر طُور ہو جلوہ تیرا
آگ لینے کو چلے عاشقِ شیدا تیرا

خِیرہ کرتا ہے نگاہوں کو اُجالا تیرا
کیجیے کون سی آنکھوں سے نظارہ تیرا

جلوۂ یار نرالا ہے یہ پردہ تیرا
کہ گلے مل کے بھی کھلتا نہیں ملنا تیرا

کیا خبر ہے کہ عَلَی الْعَرْش کے معنی کیا ہیں
کہ ہے عاشق کی طرح عرش بھی جویا تیرا

اَرِنِیِْ گوئے سرِ طُور سے پوچھے کوئی
کس طرح غش میں گراتا ہے تجلّا تیرا

پار اُترتا ہے کوئی، غرق کوئی ہوتا ہے
کہیں پایاب کہیں جوش میں دریا تیرا

باغ میں پھول ہوا، شمع بنا محفل میں
جوشِ نیرنگ در آغوش ہے جلوہ تیرا

نئے انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں
آنکھیں مشتاق رہیں دل میں ہو جلوہ تیرا

شہ نشیں ٹوٹے ہوئے دل کو بنایا اُس نے
آہ اے دیدۂ مشتاق یہ لکھا تیرا

سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم
کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ معمّا تیرا

طُور کا ڈھیر ہوا غش میں پڑے ہیں موسیٰ
کیوں نہ ہو یار کہ جلوہ ہے یہ جلوہ تیرا

چار اضداد کی کس طرح گرہ باندھی ہے
ناخنِ عقل سے کھلتا نہیں عقدہ تیرا

دشتِ ایمن میں مجھے خاک نظر آئے گا
مجھ میں ہو کر نظر آتا نہیں جلوہ تیرا

ہر سحر نغمۂ مرغانِ نواسنج کا شور
گونج تا ہے ترے اوصاف سے صحرا تیرا

وحشیِ عشق سے کھلتا ہے تو اے پردۂ یار
کچھ نہ کچھ چاکِ گریباں سے ہے رشتہ تیرا

سچ ہے اِنسان کو کچھ کھو کے ملا کرتاہے
آپ کو کھو کے تجھے پائے گا جویا تیرا

ہیں ترے نام سے آبادی و صحرا آباد
شہر میں ذکر ترا، دشت میں چرچا تیرا

برقِ دیدار ہی نے تو یہ قیامت توڑی
سب سے ہے اور کسی سے نہیں پردہ تیرا

آمدِ حشر سے اک عید ہے مشتاقوں کی
اسی پردے میں تو ہے جلوۂ زیبا تیرا

سارے عالم کو تو مشتاقِ تجلّی پایا
پوچھنے جایئے اب کس سے ٹھکانا تیرا

طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو
کون کہتا ہے کہ اپنوں سے ہے پردہ تیرا

کام دیتی ہیں یہاں دیکھیے کس کی آنکھیں
دیکھنے کو تو ہے مشتاق زمانہ تیرا

مے کدہ میں ہے ترانہ تو اَذاں مسجد میں
وصف ہوتا ہے نئے رنگ سے ہر جا تیرا

چاک ہو جائیں گے دل جیب و گریباں کس کے
دے نہ چھپنے کی جگہ راز کو پردہ تیرا

بے نوا مفلس و محتاج و گدا کون کہ میں
صاحبِ جود و کرم، وصف ہے کس کا تیرا

آفریں اہلِ محبت کے دلوں کو اے دوست
ایک کوزے میں لیے بیٹھے ہیں دریا تیرا

اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے
تو مرا مالک و مولیٰ ہے میں بندہ تیرا

اُنگلیاں کانوں میں دے دے کے سنا کرتے ہیں
خلوتِ دل میں عجب شور ہے برپا تیرا

اب جماتا ہے حسنؔ اُس کی گلی میں بستر
خوب رویوں کا جو محبوب ہے پیارا تیرا

ذوقِ نعت

...

Jinno Insaan o Malak Ko Hai Bharosa Tera

جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ کل ہے درِ والا تیرا

واہ اے عطرِ خدا ساز مہکنا تیرا
خوب رو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا

دَہر میں آٹھ پہر بٹتا ہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا

لا مکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
دُور پہنچایا ترے حسن نے شہرہ تیرا

جلوۂ یار اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا

یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار، دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا

کیا کہے وصف کوئی دشتِ مدینہ تیرا
پھول کی جانِ نزاکت میں ہے کانٹا تیرا

کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پہ لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا

خسروِ کون و مکاں اور تواضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا، خاک بچھونا تیرا

خوب رویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حُسنِ دل آرا تیرا

دشتِ پُر ہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
اے مرے خضر اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

بادشاہانِ جہاں بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا

دشمن و دوست کے منہ پر ہے کشادہ یکساں
روے آئینہ ہے مولیٰ درِ والا تیرا

پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ اگر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا

نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں اُن کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا

آفتوں میں ہے گرفتار غلامِ عجمی
اے عرب والے اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

اُونچے اُونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کوئی رُتبۂ اعلیٰ تیرا

خارِ صحراے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مرِی جان مرِے دل میں ہے رستہ تیرا

کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا، بندہ ترا، مانگنے والا تیرا

اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اُونچے اُونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا

بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہو
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا

کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابرِ کرم
سُوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا

ہائے پھر خندۂ بے جا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا

حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہ گاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا

سوزنِ گم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا

صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا

خاص بندوں کے تصدّق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا

بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے اَبرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا

حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخوارِ دل شب میں یہ رونا تیرا

عملِ نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسا مرے آقا تیرا

بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوۂ دل دار چمکنا تیرا

اُونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذرّہ تیرا

اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سُوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا

میرے آقا تو ہیں وہ ابرِ کرم، سوزِ اَلم
ایک چھینٹے کا بھی ہو گا نہ یہ دُہرا تیرا

اب حسنؔ منقبتِ خواجۂ اجمیر سنا
طبع پرُ جوش ہے رُکتا نہیں خامہ تیرا

ذوقِ نعت

...

Khwaja e Hind Woh Darbar

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

مئے سر جوش در آغوش ہے شیشہ تیرا
بے خودی چھائے نہ کیوں پی کے پیالہ تیرا

خفتگانِ شبِ غفلت کو جگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کا نہ سونا تیرا

ہے تری ذات عجب بحرِ حقیقت پیارے
کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا

جورِ پامالیِ عالم سے اُسے کیا مطلب
خاک میں مل نہیں سکتا کبھی ذرّہ تیرا

کس قدر جوشِ تحیّر کے عیاں ہیں آثار
نظر آیا مگر آئینے کو تلوا تیرا

گلشن ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ اے ابرِ کرم زورِ برسنا تیرا

کیا مہک ہے کہ معطر ہے دماغِ عالم
تختۂ گلشنِ فردوس ہے روضہ تیرا

تیرے ذرّہ پہ معاصی کی گھٹا چھائی ہے
اس طرف بھی کبھی اے مہر ہو جلوہ تیرا

تجھ میں ہیں تربیتِ خضر کے پیدا آثار
بحر و بَر میں ہمیں ملتا ہے سہارا تیرا

پھر مجھے اپنا درِ پاک دکھا دے پیارے
آنکھیں پرُ نور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا

ظِلّ حق غوث پہ، ہے غوث کا سایہ تجھ پر
سایہ گستر سرِ خدام پہ سایہ تیرا

تجھ کو بغداد سے حاصل ہوئی وہ شانِ رفیع
دنگ رہ جاتے ہیں سب دیکھ کے رُتبہ تیرا

کیوں نہ بغداد میں جاری ہو ترا چشمۂ فیض
بحرِ بغداد ہی کی نہر ہے دریا تیرا

کرسی ڈالی تری تختِ شہِ جیلاں کے حضور
کتنا اُونچا کیا اللہ نے پایا تیرا

رشک ہوتا ہے غلاموں کو کہیں آقا سے
کیوں کہوں رشک دہِ بدر ہے تلوا تیرا

بشر افضل ہیں ملک سے تری یوں مدح کروں
نہ ملک خاص بشر کرتے ہیں مُجرا تیرا

جب سے تو نے قدمِ غوث لیا ہے سر پر
اولیا سر پر قدم لیتے ہیں شاہا تیرا

محیِ دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدیں ہے
اے حسنؔ کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

ذوقِ نعت

...

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دُھوم ذرّوں میں اناالشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
اُن کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق وآداب بہم گرمِ کشاکش رہتے
عشقِ گم کردہ تواں عقل سے اُلجھا کرتا

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دِل بگڑ تا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوے دَر گرِتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہیِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا

ہم رہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
اُلفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا

دلِ حیراں کو کبھی ذوقِ تپش پہ لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اُس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رَحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا

موت اُس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اُس در سے کنارا کرتا

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

ذوقِ نعت

...

Asiyon Ko Dar Tumhara Mil Gaya

عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا

فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی
مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا

کشفِ رازِ مَنْ رَّاٰنِی یوں ہوا
تم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا

بے خودی ہے باعثِ کشفِ حجاب
مل گیا ملنے کا رستہ مل گیا

اُن کے دَر نے سب سے مستغنی کیا
بے طلب بے خواہش اِتنا مل گیا

ناخدائی کے لیے آئے حضور
ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا

دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا
نفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا

خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن
مجھ کو صحراے مدینہ مل گیا

آنکھیں پُرنم ہو گئیں سر جھک گیا
جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا

ہے محبت کس قدر نامِ خدا
نامِ حق سے نامِ والا مل گیا

اُن کے طالب نے جو چاہا پا لیا
اُن کے سائل نے جو مانگا مل گیا

تیرے دَر کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب
مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا

اے حسنؔ فردوس میں جائیں جناب
ہم کو صحراے مدینہ مل گیا

ذوقِ نعت

...

Dil mera Duniya Pe Sheda Ho Gaya

 

دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
اے مِرے اﷲ یہ کیا ہو گیا

کچھ مرے بچنے کی صورت کیجیے
اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہو گیا

عیب پوشِ خلق دامن سے ترے
سب گنہ گاروں کا پردہ ہو گیا

رکھ دیا جب اُس نے پتھر پر قدم
صاف اک آئینہ پیدا ہو گیا

دُور ہو مجھ سے جو اُن سے دُور ہے
اُس پہ میں صدقے جو اُن کا ہو گیا

گرمیِ بازارِ مولیٰ بڑھ چلی
نرخِ رحمت خوب سستا ہو گیا

دیکھ کر اُن کا فروغِ حسنِ پا
مہر ذرّہ ، چاند تارا ہو گیا

رَبِ سَلِّمْ وہ اِدھر کہنے لگے
اُس طرف پار اپنا بیڑا ہو گیا

اُن کے جلوؤں میں ہیں یہ دلچسپیاں
جو وہاں پہنچا وہیں کا ہو گیا

تیرے ٹکڑوں سے پلے دونوں جہاں
سب کا اُس دَر سے گزارا ہو گیا

السلام اے ساکنانِ کوے دوست
ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہو گیا

اُن کے صدقے میں عذابوں سے چھٹے
کام اپنا نام اُن کا ہو گیا

سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہو گیا

حسنِ یوسف پر زلیخا مٹ گئیں
آپ پر اﷲ پیارا ہو گیا

اُس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
آپ کے دَر کا جو کتا ہو گیا

زاہدوں کی خلد پر کیا دُھوم تھی
کوئی جانے گھر یہ اُن کا ہو گیا

غول اُن کے عاصیوں کے آئے جب
چھنٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہو گیا

جا پڑا جو دشتِ طیبہ میں حسنؔ
گلشن جنت گھر اُس کا ہو گیا

 ذوقِ نعت

...

Kahoun Kiya Haal Zahid Gulshan e Taiba Ki Nuzhat Ka

کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا

تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نامِ پاک کی آقا
کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا

وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے
نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا

بلاتے ہیں اُسی کو جس کی بگڑی وہ بناتے ہیں
کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا

کھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشن
عرب کے چاند صدقے کیا ہی کہنا تیری طلعت کا

نہ کر رُسواے محشر، واسطہ محبوب کا یا ربّ
یہ مجرم دُور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا

مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
ہجومِ جود نے روکا ہے بڑھنا دستِ حاجت کا

شبِ اسریٰ ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
کہ اب تک عرشِ اعظم منتظر ہے تیری رُخصت کا

یہاں کے ڈوبتے دَم میں اُدھر جا کر اُبھرتے ہیں
کنارا ایک ہے بحرِ ندامت بحرِ رحمت کا

غنی ہے دل، بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا

طوافِ روضۂ مولیٰ پہ ناواقف بگڑتے ہیں
عقیدہ اَور ہی کچھ ہے اَدب دانِ محبت کا

خزانِ غم سے رکھنا دُور مجھ کو اُس کے صدقے میں
جو گل اے باغباں ہے عطر تیرے باغِ صنعت کا

الٰہی بعدِ مردن پردہ ہاے حائل اُٹھ جائیں
اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمعِ تُربت کا

سنا ہے روزِ محشر آپ ہی کا منہ تکیں گے سب
یہاں پورا ہوا مطلب دلِ مشتاقِ رؤیت کا

وجودِ پاک باعث خِلقتِ مخلوق کا ٹھہرا
تمہاری شانِ وحدت سے ہوا اِظہار کثرت کا

ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچۂ جاناں
سلامِ شوق پہنچے بے کسانِ دشتِ غربت کا

حسنؔ سرکارِ طیبہ کا عجب دربارِ عالی ہے
درِ دولت پہ اک میلہ لگا ہے اہلِ حاجت کا

ذوقِ نعت

...

Tasawur Lutf Daita Hai Dahaan e Pak Sarwar Ka

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کا
بھرا آتا ہے پانی میرے منہ میں حوضِ کوثر کا

جو کچھ بھی وصف ہو اُن کے جمالِ ذرّہ پرور کا
مرے دیوان کا مطلع ہو مطلع مہرِ محشر کا

مجھے بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
لیے جاؤں گا چھوٹا سا کوئی ذرّہ ترے دَر کا

جو اک گوشہ چمک جائے تمہارے ذرّۂ دَر کا
ابھی منہ دیکھتا رہ جائے آئینہ سکندر کا

اگر جلوہ نظر آئے کفِ پاے منور کا
ذرا سا منہ نکل آئے ابھی خورشید محشر کا

اگر دم بھر تصور کیجیے شانِ پیمبر کا
زباں پہ شور ہو بے ساختہ اﷲ اکبر کا

اُجالا طور کا دیکھیں جمالِ جاں فزا دیکھیں
کلیم آ کر اُٹھا دیکھیں ذرا پردہ ترے دَر کا

دو عالم میہماں، تو میزباں، خوانِ کرم جاری
اِدھر بھی کوئی ٹکڑا میں بھی کتّا ہوں ترے دَر کا

نہ گھر بیٹھے ملے جوہر صفا و خاکساری کے
مریدِ ذرّۂ طیبہ ہے آئینہ سکندر کا

اگر اُس خندۂ دنداں نما کا وصف موزوں ہو
ابھی لہرا چلے بحرِ سخن سے چشمہ گوہر کا

ترے دامن کا سایہ اور دامن کتنے پیارے ہیں
وہ سایہ دشتِ محشر کا یہ حامی دیدۂ تر کا

تمہارے کوچہ و مرقد کے زائر کو میسر ہے
نظارہ باغِ جنت کا ، تماشا عرشِ اکبر کا

گنہ گارانِ اُمت اُن کے دامن پر مچلتے ہوں
الٰہی چاک ہو جس دم گریباں صبحِ محشر کا

ملائک جن و اِنساں سب اِسی در کے سلامی ہیں
دو عالم میں ہے اک شہرہ مرے محتاج پرور کا

الٰہی تشنہ کامِ ہجر دیکھے دشتِ محشر میں
برسنا ابرِ رحمت کا ، چھلکنا حوضِ کوثر کا

زیارت میں کروں اور وہ شفاعت میری فرمائیں
مجھے ہنگامۂ عیدین یا رب دن ہو محشر کا

نصیب دوستاں اُن کی گلی میں گر سکونت ہو
مجھے ہو مغفرت کا سلسلہ ہر تار بستر کا

وہ گریہ اُسْتُنِ حَنَّانہ کا آنکھوں میں پھرتا ہے
حضوری نے بڑھایا تھا جو پایہ اَوجِ منبر کا

ہمیشہ رہروانِ طیبہ کے زیرِ قدم آئے
الٰہی کچھ تو ہو اِعزاز میرے کاسۂ سر کا

سہارا کچھ نہ کچھ رکھتا ہے ہر فردِ بشر اپنا
کسی کو نیک کاموں کا حسنؔ کو اپنے یاوَر کا

ذوقِ نعت

...

Mujrim e Haibat Zada Jab Fard e Isyan


مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطفِ شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا

دل کے آئینہ میں جو تصویرِ جاناں لے چلا
محفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا

رہروِ جنت کو طیبہ کا بیاباں لے چلا
دامنِ دل کھینچتا خارِ مغیلاں لے چلا

گل نہ ہو جائے چراغِ زینتِ گلشن کہیں
اپنے سر میں مَیں ہواے دشتِ جاناں لے چلا

رُوے عالم تاب نے بانٹا جو باڑا نور کا
ماہِ نو کشتی میں پیالا مہرِ تاباں لے چلا

گو نہیں رکھتے زمانے کی وہ دولت اپنے پاس
پَر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے چلا

تیری ہیبت سے ملا تاجِ سلاطیں خاک میں
تیری رَحمت سے گدا تختِ سلیماں لے چلا

ایسی شوکت پر کہ اُڑتا ہے پھریرا عرش پر
جس گدا نے آرزو کی اُن کو مہماں لے چلا

دبدبہ کس سے بیاں ہو اُن کے نامِ پاک کا
شیر کے منہ سے سلامت جانِ سلماں لے چلا

صدقے اُس رحمت کے اُن کو روزِ محشر ہر طرف
ناشکیبا شورِ فریادِ اَسیراں لے چلا

ساز و سامانِ گداے کوے سرور کیا کہوں
اُس کا منگتا سروری کے ساز و ساماں لے چلا

دو قدم بھی چل نہ سکتے ہم سرِ شمشیر تیز
ہاتھ پکڑے رَبِّ سَلِّمْ کا نگہباں لے چلا

دستگیرِ خستہ حالاں دست گیری کیجیے
پاؤں میں رعشہ ہے سر پر بارِ عصیاں لے چلا

وقتِ آخر نا اُمیدی میں وہ صورت دیکھ کر
دِل شکستہ دل کے ہر پارہ میں قرآں لے چلا

قیدیوں کی جنبشِ اَبرو سے بیڑی کاٹ دو
ورنہ جُرموں کا تسلسل سوے زنداں لے چلا

روزِ محشر شاد ہوں عاصی کہ پیشِ کبریا
رَحم اُن کو اُمَّتِیْ گویاں و گِریاں لے چلا

شکل شبنم راتوں کا رونا ترا ابرِ کرم
صبحِ محشر صورتِ گل ہم کو خنداں لے چلا

کشتگانِ ناز کی قسمت کے صدقے جایئے
اُن کو مقتل میں تماشاے شہیداں لے چلا

اختر اِسلام چمکا ، کفر کی ظلمت چھنٹی
بدر میں جب وہ ہلالِ تیغِ بُرّاں لے چلا

بزمِ خوباں کو خدا نے پہلے دی آرائشیں
پھر مرے دُولہا کو سوے بزمِ خوباں لے چلا

اﷲ اﷲ صرصرِ طیبہ کی رنگ آمیزیاں
ہر بگولا نزہتِ سروِ گلستاں لے چلا

قطرہ قطرہ اُن کے گھرسے بحرِ عرفاں ہو گیا
ذرّہ ذرّہ اُن کے دَر سے مہرِ تاباں لے چلا

صبحِ محشر ہر اداے عارضِ روشن ہیں وہ
شمع نور افشاں پئے شامِ غریباں لے چلا

شافعِ روزِ قیامت کا ہوں ادنیٰ امتی
پھر حسنؔ کیا غم اگر میں بارِ عصیاں لے چلا

ذوقِ نعت

...