Manqabat (Praise of Allah’s friends)  

Gharq Ishq e Mustafa Qutb e Madina Tayiba

غرقِ عشقِ مصطفیٰ (ﷺ)، قطبِ مدینہ طیّبہ
فیض کا اک سلسلہ قطبِ مدینہ طیّبہ

روشنی پھیلا رہا ہے نام قطبِ وقت کا
دینِ احمد کی ضیا قطبِ مدینہ طیّبہ

نیک سیرت، نیک طینت، نیک خو، مہماں نواز
با کمال و پارسا، قطبِ مدینہ طیّبہ

حق پرست و حق نگر، حق آشنا و حق رسا
حق بیان و حق نوا، قطبِ مدینہ طیّبہ

خوش جمال و خوش کلام و خوش دل و خوش اعتقاد
خوش خصال و خوش ادا، قطبِ مدینہ طیّبہ

محفلِ نعت ان کے ہاں ہر روز ہوتی منعقد
مہتمم ہوتے سدا، قطبِ مدینہ طیّبہ

عمر گذری حاضری میں سیّدِ کونین(ﷺ)کی
فیض یابِ مصطفیٰ (ﷺ)، قطبِ مدینہ طیّبہ

تھے شہنشاہِ بریلی کے خلیفہ مُجاز
قاسمِ فیضِ رضا، قطبِ مدینہ طیّبہ

ساکنِ شہرِ مدینہ، مرکزِ مہر و وفا
مصدرِ حلمِ و حیا، قطبِ مدینہ طیّبہ

پاک باز و پاک باطن ، عادتاً دل کے غنی
دوست دارِ اِتّقا، قطبِ مدینہ طیّبہ

میں نے بھی ناؔزش اٹھایا آپ کی صحبت کا فیض
پیکرِ صدق و صفا، قطبِ مدینہ طیّبہ

 

...

Muhammad Ki Dua Qutb e Madina

محمد کی دعا قطبِ مدینہ
رضا کے دِل رُبا قطبِ مدینہ

ہوئی آسان فوراً میری مشکل
زباں سے جب کہا قطبِ مدینہ

ولی بھی تھے ولی گر بھی تھے، واللہ!
امامِ اولیا قطبِ مدینہ

فنا فی الغوث اعظم، مہرِ تاباں
فروغِ قلبِ ما قطبِ مدینہ

وہ تھے قؔائد کے قائد اس جہاں میں
مدینے کی فضا قطبِ مدینہ

 

...

Zia Uddin Nigar e Asfiya Hain

ضیاءُالدیں نگارِ اَصفیا ہیں
ضیاءُالدیں بہارِ اَتقیا ہیں

ضیاءُالدیں ضیائے مصطفیٰ ہیں
ضیاءالدین قطبِ اولیا ہیں

محیطِ بے کراں عشقِ نبی کا
رضا کا عکسِ کامل با رضا ہیں

جوارِ گنبدِ خَضرا میں رہ کر
ہوئے محبوب پر آخر فِدا ہیں

بلا تشکیک ہیں قطبِ مدینہ
فنا فی المصطفیٰ و مرتضیٰ ہیں

جمالِ یار چہرے پر فروزاں
دلیلِ نور ہیں نور الہدیٰ ہیں

سراپا شفقت و رافت سراپا
کرم ہیں، جود ہیں، مہر و وفا ہیں

جسے دیکھا انھیں کا ہو گیا وہ
نبی کے خلق کا عکسِ صفا ہیں

نبی کی نعت کی محفل سجا کر
عبادت کا سدا لیتے مزا ہیں

وہ سلطانِ عجم، شیخِ عرب ہیں
وہ اَقطابِ زمانہ کا دیا ہیں

ہیں قطبِ قادری، غوثِ زمانہ
کمالِ حضرتِ غوث الوریٰ ہیں

ہوا ہے خاص ان پہ فضلِ رحماں
جو بیٹے پہ کیے جاتے عطا ہیں

میں کہتا جا رہا ہوں شعر، صؔائم!
وہ میرے سامنے جلوہ نما ہیں

 

...

Aah Badr e Auliya Jaata Rehta

آہ! بدرِ اولیا جاتا رہا!
تاجْدارِ اصفیاء جاتا رہا

اہلِ حق کا پیشوا جاتا رہا
سُنّیوں کا مقتدا جاتا رہا

واصفِ شاہِ دَنٰی جاتا رہا!
عاشقِ غوث الوریٰ جاتا رہا

کیا مناقب ہوں بیاں مجھ سے بھلا
رہبرِ راہِ ہدا جاتا رہا

اہلِ سنّت اہلِ حق ، اہلِ نظر
کا معظّم رہ نما، جاتا رہا

جس سے پر رونق تھا اسلامی چمن
وہ جمالِ اولیاء جاتا رہا

تھا ضیاءُ الدین احمد نامِ پاک
مظہرِ احمد رضا جاتا رہا

نام میں ’’الشاہ مدنی‘‘ جب مِلا
سالِ رحلت مل گیا جاتا رہا

چار ذی الحجہ تھی روزِ جمعہ تھا
سوئے جنّت با خُدا جاتا رہا

جس نے عالم کو منوّر کردیا!
آہ! وہ شمسِ رضا جاتا رہا

ہے دُرودِ رضویّہ میں دیکھ لو
اُس کی رحلت کا پتا جاتا رہا

یعنی
اَللہُ رَبُّ مُحَمَّدٍ صَلّٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَا نَحْنُ عِبَادِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَا.

مسجدِ نبوی سے سُن لی جب اذاں
کرنے جمعے کو ادا جاتا رہا

ملنے محبوبِ خُدا سے بالقیں!
جب بُلاوا آ گیا جاتا رہا

ربِّ کعبہ کی حضوری کےلیے!
اس جہاں سے دائما جاتا رہا

سوئے فردوسِ بریں کلمہ شریف
پڑھتے پڑھتے با خُدا جاتا رہا

اہلِ بیتِ پاک کے قدموں کا وُہ
بوسہ لینے با خُدا جاتا رہا

بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ جس کا دَر
بے کسوں کا آسرا جاتا رہا

مَوْتِ عَالِمْ مَوْتِ عَالَمْ ہے حدیث
زندگی کا اب مزہ جاتا رہا

فضلِ رَحمٰں عالِم ذی شان کو
چھوڑ کر پانی ضیا جاتا رہا

اے اماؔنت! بس یہی تاریخ ہے
’’نَآئِبُ الشَّاہِ رَضَا‘‘ (۱۴۰۱ھ) جاتا رہا

...

Jisay Ushaq Deitey Hain Salami

جسے عشّاق دیتے ہیں سلامی
نہیں بُھولے گی وہ ذاتِ گرامی

متاعِ اہلِ سُنّت تھے وہ واللہ
ضیاءُ الدیں ہے جن کا نامِ نامی

شہِ ابرار کی تھی ان پہ شفقت
شہِ بغداد نے انگشت تھامی

امام احمد رضا ہیں ان کے مرشِد
لجاتے ہیں جنھیں دیکھے سے جامی

نظر سے کر دیے سب راز افشا
میسر تھا انھیں علمِ دوامی

ہوا ہے مستفیض اُن سے زمانہ
سراپا جُود تھے شیخِ گرامی

ہر اک ان کے محاسن کا ہے شاہد
کوئی رومی ہو یا (ہو) کوئی شامی

کیا دیں کا اندھیرے میں اُجالا
ضیائے دین تھے حضرت امامی

رہا مدحِ نبی ہر دم وظیفہ
رہے عشقِ نبی کے وہ پیامی

رہے ثابت قدم ہر جا پہ حضرت
گھٹائیں لاکھ اُٹھیں انتقامی

ہے مجلس میں بھی ان کا فیض جاری
بہ شکلِ سیّدی موسیٰ کے وہ پیامی

جہانِ بے وفا سے چل بسے وہ
کہ جن کی ذات تھی عشقِ تمامی

کہاں گم گشتگانِ راہ جائیں
کہاں سے اَب ملے گی خوش کلامی
!
ہوئے آسودہ کوئے مصطفیٰ میں
عجب پائی ہے معراجِ غلامی

عرب کے اور عجم کے شیخِ برحق
ہیں جنّت میں مدینے کے مقامی

سدا ان کا منوّر آستاں ہو
سدا جاری رہے وہ فیضِ عامی

مُقرّب ہو رسولِ محترم کے
عطا کیجے ہمیں قُربِ منامی

ق

الٰہی! فیضِ حضرت عام کر دے
ہے زوروں پر کفر کی بے لگامی

گلوں کو رنگ، رنگوں کو بقا دے
کہ پھرتے ہیں چمن میں شر کے حامی

کہاں تک ان کے میں اوصاف لکھوں
حقیقت میں تھے وہ مہجوؔرِ خامی

...

Na Yeh Qisa Hai Koi Aur Na Koi Kahani Hai

نہ یہ قصّہ ہے کوئی اور نہ یہ کوئی کہانی ہے
نہ یہ زورِ قلم ہے اور نہ اس کی در فشانی ہے
حقیقت سے جو ہے بھر پور ایسی حق بیانی ہے
ضیاءُ الدین احمد کی دلوں پہ حکمرانی ہے

نہ رُکنے پائے راہِ شرع و سنّت سے قدم اُن کے
جہاں کی رفعتیں اُن کی نظر میں  راہ کے تنکے

ضیاءُ الدین احمد قادری فیضِ مسلسل تھے
یہ تھے مجموعۂ حسنات الطافِ مکمّل تھے
یہ اپنے چاہنے والوں کی ہر مشکل کا بھی حل تھے
کتابِ زیست کے ہر باب کی شرحِ مفصّل تھے

گزارے چین کے دن گنبدِ خَضرا کے سائے میں
رہے اَسّی برس تک یہ شہ بطحٰی کے سایہ میں

ضیاءُ الدین تھے، روحانیت کے جوہرِ قابل
بفضلِ حق تعالیٰ تھے علومِ دین کے حامل
یہ پابندِ شریعت بھی تھے اور تھے ذاکر و شاغل
خلافت قادری سلسلہ کی ان کو تھی حاصل

امامِ اہلِ سنّت نے دیا ان کو وثیقہ بھی!
یہ تھے احمد رضا خاں اعلیٰ حضرت کے خلیفہ بھی

فیوضِ پیر سے دارین کی دولت مِلی ان کو
بزرگوں سےچلی آئی تھی وہ نعمت مِلی ان کو
مدینے میں رسولِ پاک کی قربت مِلی ان کو
یہ قربت کیا ملی بس جیتے جی جنّت مِلی ان کو

بہر رُخ، زندگی حضرت کی تابندہ نظر آئی
پسِ مردن بھی یہ ہستی درخشندہ نظر آتی

تھی عمر اٹھارہ سال ان کی، مگر یہ دیکھیے قسمت
وطن کو چھوڑ کر کی آپ نے بغداد کو ہجرت
فیوضِ غوثِ اعظم سے ہوئے جب بہرہ ور حضرت
بڑھی ایمان کی دولت ، ملی عِرفان کی نعمت

مِلی ہے آٹھ سال ان کو سعادت حاضری کی بھی
ہوئی ہے قادری جلوے سے روشن زندگی اُن کی

دل و روح و نظر تھے قادری فیضان سے روشن
وہ انوارِ فیوضِ غوث کا تھا ان کا دل مسکن
ہوا سر سبز اور شاداب بھی عِرفان کا گلشن
شریعت کے بنے مخزن، طریقت کے ہوئے معدن

حضورِ غوثِ اعظم سے تعلّق وہ تعلّق ہے
غلامی اِن کو مِل جائے تو پھر سب کچھ تَصدّق ہے

وہی ہیں پیرِ پیراں ، میرِ میراں غوثِ صمدانی
خدا نے جن کو بخشا رتبۂ محبوبِ سبحانی
خزانہ آپ کا ہے نازشِ
گنجِ سلیمانی
جہانِ اولیا پر حشر تک ہے ان کی سُلطانی

فیوضِ پیکراں ہے آستانہ غوثِ اعظم کا
خُدا ہے غوثِ اعظم کا، زمانہ غوثِ اعظم کا

گھڑی آخر وہ آئی اور بھی جب سرفرازی کی
نئی آئی نظر اِک شان حق کی کارسازی کی
ملی ہے قوّتِ پرواز ان کو شاہ بازی کی
بشارت میں تھی پنہاں شان بھی بندہ نوازی کی

ہوا ارشاد حضرت ارضِ طیبہ کو کریں ہجرت
قوی تر تا کہ ہوجائے قوی بغداد کی نسبت

بشارت ملتے ہی حضرت مدینے کو چلے آئے!
جو دولت غوث نے دی تھی اُسے بھی ساتھ لے آئے
نہ گھبرائے، اگرچہ آئے نازک مرحلے آئے
اُمنگیں تازہ تازہ اور نوادر حوصلے لائے

وہ جب آئے تو ترکوں کی خلافت کا زمانہ تھا
مگر پیشِ نطر اُن کے نبی کا آستانہ تھا

شریفِ مکّہ کا دَور آ گیا اُن کی نگاہوں میں
نشیب آئے فراز آئے ہمیشہ اُن کی راہوں میں
کبھی تھے عامیوں میں اور کبھی تھے شہنشاہوں میں
نظر آئے برابر مسجدوں میں خانقاہوں میں

مدینے میں سعودی دَور بھی برسا برس دیکھا
ذرا سا بھی نہ بدلے آپ، گو سارا جہاں بدلا

یہ عالم جس پہ نازاں ہو، مقدّر ایسا پایا تھا
رسول اللہ نے ان کو مدینے میں بلایا تھا
نبی کے نور نے ہستی کو ان کی جگمگایا تھا
شرف یہ اختصاصی آپ کے حصّے میں آیا تھا

رسولِ پاک جس پر مہرباں، حق مہرباں ہوگا
ہُوا حق مہرباں تو مہرباں سارا جہاں ہوگا

نظارہ گنبدِ خَضرا کا روز و شب یہ کرتے تھے
ان ہی اَنوار سے ممدوح کے جوہر نکھرتے تھے
یہ
بحرِ معرفت میں ڈوبتے تھے اور اُبھرتے تھے
ہمیشہ نت نئے صدقوں سے دامن اپنا بھرتے تھے

مقدّر کے دھنی بے شک ضیاءُ الدین احمد تھے
بفیضِ
حُبِّ ختم المرسلین اونچے ہوئے تھے

رہا اَسّی برس تک سلسلہ رُشد و ہدایت کا
شریعت کا، طریقت، معرفت کا اور حقیقت کا
رکھا اونچا ہی جھنڈا آپ نے حق و صداقت کا
ملا تھا آپ کو ثمرہ بھی فیضانِ رسالت کا

اندھیرے آئے تو چمکے یہ حق کی روشنی بن کر
ہر اک عہدِ حکومت میں رہے حضرت جری بن کر

خدا و مصطفیٰ سے رابطہ اور دُنیا سے بے گانہ
رہے ہیں
حُبِّ شمعِ غوث پر یہ بن کے پروانہ
یہی ہے مختصر سے مختصر حضرت کا افسانہ
خزانہ دولتِ دارین کا تھا ان کا کاشانہ

نہ ہٹنے پائے راہِ شرع و سنّت سے قدم ان کے
نبی کے فیض سےجاری رہے لطف و کرم ان کے

غمِ رحلت وہ ہے جو خون کے آنسو رُلاتا ہے
بھلاؤ لاکھ پھر بھی لُطف ان کا یاد آتا ہے
یہاں آتا ہے جو بھی ایک دن دنیا سے جاتا ہے
یہ سب ہے ٹھیک، مرؔزا! دل کہاں سے چین پاتا ہے

ہوا گم دین و دُنیا کا گُہر دن کے اُجالے میں
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

...

Karte Hain Jin o Bashar Har Waqt Charcha Ghous Ka

کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈنکا غوث کا

نار دوزخ سے بچائیگا سہارا غوث کا
لے چلے گا خلد میں ادنیٰ اشارہ غوث کا

نزع میں مرقد میں محشر میں مدد فرمائیں گے
ہوچکا ہے عہد پہلےہی ہمارا غوث کا

خالق کون و مکاں نے پہلے ہی روزازل
لکھ دیا ہے میری پیشانی پہ بندہ غوث کا

کیا عجب بے پوچھے مجھ کو چھوڑ دیں منکر نکیر
دیکھ کر میرے کفن پر نام لکھا غوث کا

نزع میں مرقد میں محشر میں کہیں بھی یا خدا
ہاتھ سے چھوٹے نہ دامان معلیٰ غوث کا

ہاں ذرا ٹھہرو فرشتو پھر جوچاہو ہوچھنا
کر تو لینے دو مجھے پہلے نظارہ غوث کا

سب خس و خاشاکِ عصیاں آن میں بہ جائے گا
جو ش پر آجائے گا جس وقت دریا غوث کا

جھولیاں پھیلاؤ دوڑ و بھیک لو دامن بھرو
بٹ رہا ہے آستاں پر عام باڑا غوث کا

آنکھیں ملنے کے لیے ہاتھ آئے چوکھٹ غوث کی
سر رگڑ نے کے لیے ملجائے روضہ غوث کا

سجدہ گاہِ جن و انساں آپ کا نقش قدم
تاج والوں کے لیے ہے تاج تلوا غوث کا

روشنی خسمع سے کیا کام اندھی آ نکھ کو
مومنوں کے چشم دل میں ہے اجالا غوث کا

سلطنت شاہِ مدینہ نے عطا فرمائی ہے
رائج اقلیم و ولایت میں ہے سکہ غوث کا

جلتے ہیں دشمن خدا کے ان کے ذکر و فکر سے
ورد سب اللہ والے کر تےہیں یا غوث کا

کر رہے ہیں اشقیا کوشش گھٹانے کی مگر
روز افزوں ہورہا ہے بول بالا غوث کا

نقشۂ شاہ مدینہ صاف آتا ہے نظر
جب تصور میں جماتے ہیں سراپا غوث کا

صدقے اس بندہ نوازی کے فدا اس دین کے
ہم سے کتے پل رہے ہیں کھا کے ٹکڑا غوث کا

حشر میں اٹھا ہوا ہے روئے انور سے نقاب
عاشقو دل کھول کے کر لو نظارہ غوث کا

عمر بھر رکھنا جمیل قادری و ردزباں
نام حق کا اور حبیب کبریا کا غوث کا

غوث کو کیوں کر نہ آئے پیار تم پر اے جمیل
ہے رضا مرشد تمہارا جبکہ پیارا غوث کا

قبالہ ٔ بخشش

...

Khuda Ke Fazal Se Hum Per Hai Saya

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوث اعظم کا

بلیات و غم افکار کیوں کر گھیر سکتے ہیں
سروں پر نام لیووں کے ہے پنجہ غوث اعظم کا

مریدی لاتخف کہہ کر تسلی دی غلاموں کو
قیامت تک رہے بے خوف بندہ غوث اعظم کا

جواپنے کو کہےمیرا مریدوں میں وہ داخل ہے
یہ فرمایا ہوا ہے میرے آقا غوث اعظم کا

سجل ان کو دیا وہ رب نے جس میں صاف لکھا ہے
کہ جائے خلد میں ہر نام لیوا غوث اعظم کا

ہماری لاج کس کے ہاتھ ہے بغداد والے کے
مصیبت ٹال دینا کام کس کا غوث اعظم کا

جہاز تاجراں گرداب سے فوراً نکل آیا
وظیفہ جب انہوں نے پڑھ لیا یا غوث اعظم کا

گئے اک وقت میں ستر مریدوں کے یہاں آقا
سمجھ میں آنہیں سکتا معمار غوث اعظم کا

شفا پاتے ہیں صدہا جاں بلب امراض مہلک سے
عجب دار الشفا ہے آستانہ غوث اعظم کا

نہ کیوں کر اولیا اس آستانے کے بنیں منگتا
کہ اقلیم ولایت پر ہے قبضہ غوث اعظم کا

بلاکر کافروں کو دیتے ہیں ابدال کا رتبہ
ہمیشہ جوش پر رہتا ہے دریا غوث اعظم کا

بلاداللہ ملکی تحت حکمی سے یہ ظاہر ہے
کہ عالم میں ہر اک شے پہ ہے قبضہ غوث اعظم کا

وولانی علی الاقطاب جمعاً صاف کہتا ہے
کہ ہر قطب ہے عالم میں چیلا غوث اعظم کا

فحکمی نافذ فی کل حال سے ہوا ظاہر
تصرف انس و جن سب پر ہی آقا غوث اعظم کا

سلاطین جہاں کیوں کر نہ ان کے رعب سے کانپیں
نہ لایا شیر کو خطرے میں میں کتا غوث اعظم کا

ہوئی اک دیو سے لڑکی رہا اس نام لیوا کی
پڑھا جنگل میں جب اس نے وظیفہ غوث اعظم کا

ہوا موقوف فوراً ہی برسنا اہل مجلس پر
جو پایا ابر باراں نے اشارہ غوث اعظم کا

نیا ہفتہ نیا دن سال نو جس وقت آتا ہے
ہر اک پہلے بجا لاتا ہے مجرا غوث اعظم کا

جو حق چاہے وہ یہ چاہیں جو یہ چاہیں وہ حق چاہے
تو مٹ سکتا ہے پھر کس طرح چا غوث اعظم کا

فقہیوں کے دلوں سے دھو دیا ان کے سوالوں کو
دلوں پر ہے بنی آدم کے قبضہ غوث اعظم کا

وہ کہہ کر قم باذن اللہ جِلا دیتے ہیں مردوں کو
بہت مشہور ہے احیائے موتٰی غوث اعظم کا

جِلایا استخوانِ مرغ کو دست کرم رکھ کر
بیاں کیا ہو سکے احیائے موتٰی غوث اعظم کا

الی یا مبارک آتی تھی آواز خلوت میں
یہیں سے جان لے منکر تو رتبہ غوث اعظم کا

فرشتہ مدرسے تک ساتھ پہنچا نے کو جاتےتھے
یہ دربا الہٰی میں ہے رتبہ غوث اعظم کا

سفر سے واپسی میں دین اقدس کو کیا زندہ
محی الدین ہو ایوں نام والا غوث اعظم کا

جو فرمایا کہ دوشِ اولیا پر ہے قدم میرا
لیا سر کو جھکا کر سب نےتلوا غوث اعظم کا

دمِ فرماں خراساں میں معین الدین چشتی نے
جھکا کر سرلیا آنکھوں پہ تلوا غوث اعظم کا

نہ کیوں کر سلطنت دونوں جہاں کی ان کو حاصل ہو
سروں پر اپنے لیتے ہیں جو تلوا غوث اعظم کا

لعاب اپنا چٹایا احمد مختار نے ان کو
تو پھر کیسے نہ ہوتا بول بالا غوث اعظم کا

رسول اللہ نے خلعت پنہایا برسرِ مجلس
بجے کیوں کر نہ پھر عالم میں ڈنکا غوث اعظم کا

محرر چارسو مجلس میں حاضر ہوکے لکھتے تھے
ہوا کرتا تھا جو ارشاد والا غوث اعظم کا

اگر چہ مرغ سب کے بول کر خاموش ہوتے ہیں
مگر ہاں مرغ بولے گا ہمیشہ غوث اعظم کا

کھلے ہفتا دوراک آن میں علم لدنی کے
خزینہ بن گیا علموں کا سینہ غوث اعظم کا

ہمارا ظاہر و باطن ہے ان کے آگے آئینہ
کسی شے سے نہیں عالم میں پردہ غوث اعظم کا

پڑھی لاحول اور شیطاں کے دھوکے کو کیا غارت
علو م و فضل سے وہ نور چمکا غوث اعظم کا

قصیدے میں جناب غوث کے دیکھو نظرت کو
تو سوجھے دور کے ظاہر ہو رتبہ غوث اعظم کا

رہے پابند احکامِ شریعت ابتداہی سے
نہ چھوٹا شیر خواری میں بھی روزہ غوث اعظم کا

ہے جب عرشِ الٰہی پہلی منزل ان کے زینہ کی
تو پھر کس کی سمجھ میں آئے رتبہ غوث اعظم کا

محمد کا رسولوں میں ہے جیسے مرتبہ اعلیٰ
ہے افضل اولیا میں یوں ہی رتبہ غوث اعظم کا

عطا کی ہے بلندی حق نے اہل اللہ کے جھنڈوں کو
مگر سب سے کیا اونچا پھریرا غوث اعظم کا

اسی باعث سے ہیں قبروں میں اپنی اولیا زندہ
حیات دائمی پاتا ہے کشتہ غوث اعظم کا

مری جانکندنی کا وقت راحت سے بدل جائے
سر بالیں اگر ہوجائے پھیرا غوث اعظم کا

رہائی مل گئی اس کو عذاب قبرو محشر سے
یہاں پر مل گیا جس کو وسیلہ غوث اعظم کا

یہ سنتے ہیں نکیرین اس پہ کچھ سختی نہیں کرتے
لکھا ہوتا ہے جس کے دل پہ طغرا غوث اعظم کا

عزیز دکر چکو تیار جب میرے جنازے کو
تو لکھ دینا کفن پر نام والا غوث اعظم کا

لحد میں جب فرشتے مجھ سے پوچھیں گے تو کہہ دوں گا
طریقہ قادری ہوں نام لیوا غوث اعظم کا

ندا دے گا مناوی حشر میں یوں قادریوں کو
کدھر ہیں قادری کرلیں نظارہ غوث اعظم کا

چلا جائے بلا خوف و خطر فردوس اعلیٰ میں
فقط اک شرف ہے ہو نام لیوا غوث اعظم کا

فرشتو روکتے ہو کیوں مجھے جنت میں جانے سے
یہ دیکھو ہاتھ میں دامن ہے کس کا غوث اعظم کا

جناب غوث دولھا اور براتی اولیا ہوں گے
مزہ دکھلائے گا محشر میں سہرا غوث اعظم کا

یہ کیسی روشنی پھیلی ہے میدان قیامت میں
نقاب اٹھا ہوا ہے آج کس کا غوث اعظم کا

یہ محشر میں کھلے ہیں گیسوئے عنبر فشاں کس کے
برستا ہے کرم کا کس کے جھالا غوث اعظم کا

یہ قیدی چھٹ رہے ہیں اس لیے میدان محشر میں
خدا خود بانٹتا ہے آج صدقہ غوث اعظم کا

گزاری کھیل میں کل اب ہوئی اعمال کی پرسش
مگر کام آگیا اس دم وسیلہ غوث اعظم کا

کبھی قدموں پہ لوٹوں گا کبھی دامن پہ مچلوں گا
بتا دوں گا کہ یوں چھٹتا ہے بندہ غوث اعظم کا

ٹھکانا اس کے نیچے یا خدا مل جائےہم کو بھی
کھڑا ہو حشر میں جس وقت جھنڈا غوث اعظم کا

خدا وندا دعا مقبول کر ہم روسیاہوں کی
گناہوں کو ہمارے بخش صدقہ غوث اعظم کا

مری پھوٹی ہوئی تقدیر کی قسمت چمک جائے
بنائے مجھ کو سگ اپنا جو کتا غوث اعظم کا

لحد میں بھی کھلی ہیں اس لیے عشاق کی آنکھیں
کہ ہوجائے یہیں شاید نظارہ غوث اعظم کا

صدا ئے صور سن کر قبر سے اٹھتے ہی پوچھوں گا
کہ بتلاؤ کدھر ہے آستانہ غوث اعظم کا

کچھ اک ہم ہی نہیں ہیں آستانِ پاک کے کتے
زمانہ پل رہا ہے کھا کے ٹکڑا غوث اعظم کا

نبیﷺ نور الہٰی اور یہ نورِ مصطفائی ہیں
تو پھر نوری نہ ہو کیوں کر گھرانہ غوث اعظم کا

نبیﷺ کے نور کو گر دیکھنا چاہے انہیں دیکھے
سراپا نور احمد ﷺہے سراپا غوث اعظم کا

رسول اللہ کا ﷺدشمن ہے غوث پاک کا دشمن
رسول اللہﷺ کا پیارا ہے پیارا غوث اعظم کا

مخالف کیا کرے میرا کہ ہے بے حدکرم مجھ پر
خدا کا رحمۃ اللعٰلمین کا غوث اعظم کا

جمیل قادری سو جاں سے ہو قربان مرشد پر
بنایا جس نے تجھ جیسے کو بندہ غوث اعظم کا

قبالۂ بخشش

 
...

Karoun Kiya Haal e Dil Izhar Ya Ghous

کروں کیا حال دل اظہار یا غوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یا غوث

نکا لو بحر غم سے میری کشتی
ہے حائل بیچ میں منجدھار یا غوث

سوا تیرے کہوں کس سےغم اپنا
نہیں میرا کوئی غم خوار یا غوث

مدد کا وقت ہے امداد کیجئے
مری حالت ہوئی ہے زار یا غوث

دل تاریک پر فرما دے صیقل
مرا سینہ ہو پر انوار یا غوث

عطا کر صحت کا مل اسے بھی
یہ بندہ ہے ترا بیمار یا غوث

بلا بغداد میں للہ آقا
دکھا اپنا مجھے دربار یاغوث

اشارے سے تری رحمت کے بن جائے
یہ اُجڑا بن مرا گلزار یا غوث

مری آنکھوں کو میرے دل کے اندر
نظر آئیں تیرے انوار یا غوث

نہ گھبراؤں شبِ تارِ لحد سے
نظر آئیں ترے انوار یاغوث

کھلے جب خواب مرقد سے مری آنکھ
مجھے ہو آپ کا دیدار یا غوث

تمہارے روے روشن کو کہوں کیا
قمر یا مطلعِ انوار یا غوث

رہ موصل ہوئی اک آن میں طے
کرامت آپ کی رفتار یا غوث

مدد فرمائیے یا غوث اعظم
مرا کوئی نہیں ہے یار یا غوث

مدد کا وقت ہے سرکار آؤ
کیا غم نے مجھے لاچار یا غوث

نکالا سیکڑوں ڈوبے ہوؤں کو
مرے بیڑے کو کردو پار یا غوث

بڑھا کر ہاتھ ایک ٹکڑا اٹھا دو
کہ یہ بندہ بھی ہے حق دار یا غوث

اَغثْنی یَا حَبِیْبِیْ غَوْثُ الْاَعْظَمْ
ہوا ہے غم گلے کا ہار یا غوث

کہاں تک میں پھروں بے کار شاہا
مجھے کر دیجئے باکار یا غوث

پڑا سوتا ہے میرا بخت خفتہ
ذرا کر دیجئے بیدار یا غوث

مئے عرفاں کا ایک ساغر پلا کر
مجھے کر دیجئے ہشیار یا غوث

خودی ایسی مٹا دل سے کہ مل جائیں
خدا اور احمد مختار یا غوث

مجھے ایسی عطا کر یاد اپنی
نہ بھولوں میں تجھے زنہار یا غوث

فنا کریوں کہ میں سوتے میں دیکھوں
ترا دربار پر انوار یا غوث

تمنا بلبل شیدا کی یہ ہے
ملے بغداد کا گلزار یا غوث

مجھے دنیا میں جنت ہو جو مل جائے
تمہارا سایۂ دیدار یا غوث

کہاں جاکر کرے آنکھوں کو روشن
تمہارا طالب دیدار یا غوث

ہوں میں بھی قادری یا عبدقادر
نہ ہوں دونوں جہاں میں خوار یا غوث

رہےسر سبز میرا غنچۂ دل
چبھے کوئی نہ غم کا خار یا غوث

پڑھیں تسبیح تیرے نام کی ہم
رہے جب تک نفل کا تار یا غوث

رہوں ہر وقت سر گرم اطاعت
مجھے ایسا بنا دین دار یا غوث

ترے ایک قطرۂ رحمت سے دھل جائے
گناہوں کا مرے طومار یا غوث

پکڑنا ہاتھ میرا دستگیرا
عبورِ پل نہ ہو دشوار یا غوث

کرو سو مرتبہ اس کی مدد تم
پکارے جو تمہیں اک بار یا غوث

کہے جاؤ مریدی لا تخف تم
پکارے جاؤں میں ہر بار یاغوث

زہے قسمت قیامت تک رہے گا
مریدوں پر تمہاراپیار یا غوث

تمامی اولیا کے تاقیامت
تمہیں ہوقافلہ سالار یا غوث

کریں گے روز محشر ہم پہ سایہ
تمہارے گیسوئے خمدار یا غوث

سفارش کیجئے محشر میں میری
کہ مجھ کو بخش دے غفار یا غوث

مسلماں کیجئے ایسا خدارا
کہ ٹوٹے نفس کا زنار یا غوث

اطبار کر سکیں جس کا نہ چارہ
تو کھو دیتا ہے وہ آزار یا غوث

مریضوں کے لیے دار الشفا ہے
ترادربار پر انوار یا غوث

ہیں ملتی نا مرادوں کو مرادیں
ترا دربار ہے دُربار یا غوث

سلا طین زمانہ کیوں نہ مانگیں
ترا دربار ہے دُربار یا غوث

اغثنی کہہ کے جو مانگا وہ پایا
ترا دربار ہے دُربار یا غوث

رسول اللہ کا تولا ڈالا ہے
علی کرتے ہیں تجھ کو پیار یا غوث

قدم تیرا ہے دوش اولیا پر
تجھے حق نے کیا سردار یا غوث

نبی کے معجزوں کا تو ہے مظہر
بتاتے ہیں ترے آثار یاغوث

رسول اللہ نے سینے میں تیرے
بھرے ہیں غیب کے اسرار یا غوث

علوم مصطفیٰ و مرتضیٰ کے
تمہیں پر ہیں کھلے اسرار یا غوث

لقب ہے مجمع البحرین تیرا
ہیں جاری تجھ سے سب انہار یا غوث

دل مغموم سے میری بصد آہ
نکلتی ہے صدا ہر بار یا غوث

ہے میرے تاک میں شیطان مردود
مدد تیری رہے طیار یا غوث

تمہارے دشمنوں کے کاٹنے کو
زباں میری بنے تلوار یا غوث

خدا کا خاص بندہ بن گیا وہ
کیا جس نے ترا اقرار یا غوث

خدا بھی ہوگیا ناراض اس سے
تو جس سے ہوگیا بیزار یا غوث

بلاشک ہوگیا مقہور ایزد
کیا جس نے تراا نکار یا غوث

ہوئی ذلت سے اسے دونوں جہاں میں
پڑی جس پر تری پھٹکار یا غوث

دوبارہ دین کو اب زندہ کیجئے
ہوئی ہے یورشِ کفار یا غوث

رہیں منگتا ہمیشہ شاد آباد
اور اعدائے لعیں فیٰ لنار یا غوث

جمیل قادری کی لاج رکھنا
حضور و احد قہار یا غوث

قبالۂ بخشش

...