Manqabat (Praise of Allah’s friends)  

Aey Raza Martaba Kitna Hoa Baala Tera


اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا
ہند تو ہند عرب میں ہوا شہرہ تیرا

نام اعلیٰ ہے تِرا حضرتِ اعلیٰ تیرا
کام اَولیٰ ہے تِرا اے شہِ والا تیرا

کوئی کیا جانے بڑا کتنا ہے رتبہ تیرا
اصفیا چومنا چاہیں وہ ہے تلوا تیرا

کارِ تجدید ادا کرتا تھا خامہ تیرا
سر پہ باطل کے اٹھا کرتا تھا تیغا تیرا

کتنا اونچا کیا اللہ نے رتبہ تیرا
غوثِ اعظم کو کیا آقا و مولیٰ تیرا

تیرے اچھوں نے کیا ہے بڑا اچھا تیرا
پھر بھلا کیا کوئی بد خواہ کرے گا تیرا

نسبتِ آلِ رسولی بھی عجب نسبت ہے
غوث تک لے گیا تجھ کو یہ وسیلہ تیرا

عمر کا تیرھواں سِن ماہِ دَہم چار ہی دن
اتنی مدّت میں ہوا علم کا چرچا تیرا

اِس صدی کا تو مُجدِّد، تو زمانے کا امام
اہلِ حق چلتے ہیں جس پہ وہ ہے رستہ تیرا

تجھ کو اللہ نے ہر فضل عطا فرمایا
کون سا علم کہ جس میں نہیں حصّہ تیرا

تجھ پہ ہے اک تنِ بے سایہ کا ایسا سایہ
پھیلتا جاتا ہے ہر سمت اجالا تیرا

اس زمانے میں کوئی تجھ سا نہ دیکھا نہ سُنا
غوثِ اعظم کی کرامت تھی سراپا تیرا

ہر جگہ منظرِ اسلام نظر آتا ہے
تیرا گھر، کوچہ و بازار، محلّہ تیرا

آج تک بھی تِرے شاگرد کے شاگردوں سے
قصرِ باطل میں بلند ہوتا ہے نعرہ تیرا

مسلکِ حق کی ضمانت ہے تِرا نام ’’رضا‘‘
شانِ تحقیق ادا کر گیا خامہ تیرا

تیری ہر بات ہے آئینۂ حقّ و باطل
تیرے ہر کام میں ہے رنگ نرالا تیرا

فاضل ایسا کہ دیا رب نے تجھے فضلِ کثیر
عالم ایسا کہ ہر عالم ہوا شیدا تیرا

ہر ورق تیرا شریعت کی دلیلِ روشن
ایک قانونِ مکمّل ہے فتاوٰی تیرا

تیری تحریر پہ انگشت بدنداں تھا عرب
تیری تقریر تھی کہ قادری تیغا تیرا

ترجمہ وہ کیا قرآن کا کنزالایماں
حشر تک جاری یہ فیضان رہے گا تیرا

تو نے عنوان یہ ایمان کا دنیا کو دیا
عشقِ سرکارِ دو عالَم تھا وظیفہ تیرا

میں رضا کار رہا تیرا سفر ہو کہ حضر
نام ہر بار میں لیتا رہا آقا تیرا

کارنامہ تِری تجدید کا اللہ اللہ
مسلکِ اہلِ سُنن بن گیا رستہ تیرا

تو نے ایمان دیا تو نے جماعت دے دی
اہلِ سنَّت پہ ہے احسان یہ آقا تیرا

مصطفیٰ کا تِرے خادمِ، تِرے حامد کا غلام
خوؔشترِ بندۂ دربار ہے تیرا تیرا

معروضہ
فقیر قادری سگِ بارگاہِ رضوی محمد ابراہیم خؔوشتر صدّیقی
غَفَرَلَہُ الْمَوْلَی الْقَوِیّ خانقاہِ قادریّہ رضویّہ، ڈربن، جنوبی افریقہ

بیاض پاک

...

Tera zara mah e Kamil Hai Ya Ghous

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث
تِرا قطرہ یمِ سائل ہے یا غوث

کوئی سالک ہے یا واصل ہے یا غوث
وہ کچھ بھی ہو تِرا سائل ہے یا غوث

قدِ بے سایہ ظِلِّ کبریا ہے
تو اُس بے سایہ ظل کا ظل ہے یا غوث

تِری جاگیر میں ہے شرق تا غرب
قلمر و میں حرم تا حل ہے یا غوث

دلِ عشق و رخِ حُسن آئینہ ہیں
اور ان دونوں میں تیرا ظل ہے یا غوث

تِری شمعِ دل آرا کی تب و تاب
گُل و بلبل کی آب و گِل ہے یا غوث

تِرا مجنوں تِرا صحرا تِرا نجد
تِری لیلیٰ تِرا محمل ہے یا غوث

یہ تیری چمپئ رنگت حسینی
حَسن کے چاند صبحِ دل ہے یا غوث

گلستاں زار تیری پنکھڑی ہے
کلی سو خلد کا حاصل ہے یا غوث

اگال اس کا ادھار ابرار کا ہو
جسے تیرا اُلش حاصل ہے یا غوث

اشارے میں کیا جس نے قمر چاک
تو اس مہ کا مہِ کامل ہے یا غوث

جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک
وہ تیری کرسیِ منزل ہے یا غوث

جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے
وہ بن مانگے تجھے حاصل ہے یا غوث

فیوضِ عالمِ اُمّی سے تجھ پر
عیاں ماضی و مستقبل ہے یا غوث

جو قرنوں سیر میں عارف نہ پائیں
وہ تیری پہلی ہی منزل ہے یا غوث

مَلک مشغول ہیں اُس کی ثنا میں
جو تیرا ذاکر و شاغل ہے یا غوث

نہ کیوں ہو تیری منزل عرشِ ثانی
کہ عرشِ حق تِری منزل ہے یا غوث

وہیں سے اُبلے ہیں ساتوں سمندر
جو تیری نہر کا ساحل ہے یا غوث

ملائک کے، بشر کے، جن کے حلقے
تِری ضَو ماہِ ہر منزل ہے یا غوث

بخارا و عراق و چشت و اجمیر
تِری لَو شمعِ ہر محفل ہے یا غوث

جو تیرا نام لے ذاکر ہے پیارے
تصوّر جو کرے شاغل ہے یا غوث

جو سر دے کر تِرا سودا خریدے
خدا دے عقل وہ عاقل ہے یا غوث

کہا تو نے کہ جو مانگو ملے گا
رضؔا تجھ سے تِرا سائل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

...

Jo Tera Tifal Hai Kamil Hai Ya Ghous

جو تیرا طفل ہے کامل ہے یا غوث
طُفیلی کا لقب واصل ہے یا غوث

تصوّف تیرے مکتب کا سبق ہے
تَصرّف پر تِرا عامل ہے یا غوث

تِری سَیرِ اِلَی اللہ ہی ہے فِی اللہ
کہ گھر سے چلتے ہی مُوصل ہے یا غوث

تو نورِ اوّل و آخر ہے مولیٰ
تو خیرِ عاجل و آجل ہے یا غوث

ملک کے کچھ بشر کچھ جن کے ہیں پیر
تو شیخِ عالی و سافل ہے یا غوث

کتابِ ہر دل آثارِ تَعرّف
تِرے دفتر ہی سے ناقل ہے یا غوث

فُتُوْحُ الْغَیْب اگر روشن نہ فرمائے
فُتُوْحَات و فُصُوْص آفل ہے یا غوث

تِرا منسوب ہے مرفوع اس جا
اضافت رفع کی عامل ہے یا غوث

تِرے کامی مشقّت سے بَری ہیں
کہ بر تر نصب سے فاعل ہے یا غوث

اَحَد سے احمد اور احمد سے تجھ کو
کُنْ اور سب کُنْ مَکُنْ حاصل ہے یاغوث

تِری عزّت، تِری رفعت، تِرا فضل
بِفَضْلِہٖ افضل و فاضل ہے یا غوث

تِرے جلوے کے آگے منطقہ سے
مہ و خور پر خطِ باطل ہے یا غوث

سیاہی مائل اس کی چاندنی آئی
قمر کا یوں فلک مائل ہے یا غوث

طلائے مہر ہے ٹکسال باہر
کہ خارج مرکزِ حامل ہے یا غوث

تو برزخ ہے برنگِ نونِ منّت
دو جانب متصل واصل ہے یا غوث

نبی سے آخذ اور اُمّت پہ فائض
اُدھر قابل اِدھر فاعل ہے یا غوث

نتیجہ حدِّ اَوسط گر کے دے اور
یہاں جب تک کہ تو شامل ہے یا غوث

اَلَا طُوْبٰی لَکُمْ ہے وہ کہ جن کا
شبانہ روز وردِ دل ہے یا غوث

عجم کیسا، عرب حل کیا، حرم میں
جمی ہر جا تِری محفل ہے یا غوث

ہے شرحِ اسمِ اَلْقَادر تِرا نام
یہ شرح اس متن کی حامل ہے یا غوث

جبینِ جبہ فرسائی کا صندل
تِری دیوار کی کہگل ہے یا غوث

بجا لایا وہ امرِ سَارِعُوْا کو
تری جانب جو مستعجل ہے یا غوث

تِری قدرت تو فطریّات سے ہے
کہ قادر نام میں داخل ہے یا غوث

تَصرّف والے سب مظہر ہیں تیرے
تو ہی اس پردے میں فاعل ہے یا غوث

رضؔا کے کام اور رُک جائیں حاشا!
تِرا سائل ہے تو باذل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

...

Badal Ya Fard Jo Kamil Hai Ya Ghous

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث
تِرے ہی در سے مستکمل ہے یا غوث

جو تیری یاد سے ذاہل یا غوث
وہ ذکر اللہ سے غافل ہے یا غوث

اَنَا السَّیَّاف سے جاہل ہے یا غوث
جو تیرے فضل پر صائل ہے یا غوث

سخن ہیں اصفیا، تو مغزِ معنیٰ
بدن ہیں اولیا، تو دل ہے یا غوث

اگر وہ جسمِ عرفاں ہیں تو تو آنکھ
اگر وہ آنکھ ہیں تو تل ہے یا غوث

اُلوہیّت نبوّت کے سوا تو
تمام افضال کا قابل ہے یا غوث

نبی کے قدموں پر ہے جز نبوّت
کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یا غوث

اُلوہیّت ہی احمد نے نہ پائی
نبوّت ہی سے تو عاطل ہے یا غوث

صحابیّت ہوئی پھر تابعیت
بس آگے قادری منزل ہے یا غوث

ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہے
وہ طبقہ مجملاً فاضل ہے یا غوث

رہا میدان و شہرستان عرفان
تِرا رَمنا تِری محفل ہے یا غوث

یہ چشتی، سہروردی، نقشبندی
ہر اک تیری طرف مائل ہے یا غوث

تِری چڑیاں ہیں تیرا دانہ پانی
تِرا میلہ تِری محفل ہے یا غوث

انھیں تو قادری بیعت ہے تجدید
وہ ہاں خاطی جو مستبدل ہے یا غوث

قمر پر جیسے خور کا یوں تِرا قرض
سب اہلِ نور پر فاضل ہے یا غوث

غلط کردم تو واہب ہے نہ مقرض
تِری بخشش تِرا نائل ہے یا غوث

کوئی کیا جانے تیرے سر کا رتبہ
کہ تلوا تاجِ اہلِ دل ہے یا غوث

مشائخ میں کسی کی تجھ پہ تفضیل
بحکمِ اولیا، باطل ہے یا غوث

جہاں دشوار ہو وہمِ مساوات
یہ جرأت کس قدر ہائل ہے یا غوث

تِرے خدّام کے آگے ہے اک بات
جو اور اقطاب کو مشکل ہے یا غوث

اُسے اِدبار جو مُدْبر ہے تجھ سے
وہ ذی اقبال جو مقبل ہے یا غوث

خدا کے در سے ہے مطرود و مخذول
جو تیرا تارک و خاذل ہے یا غوث

ستم کوری وہابی، رافضی کی
کہ ہندو تک تِرا قائل ہے یا غوث

وہ کیا جانے گا فضلِ مرتضیٰ کو
جو تیرے فضل کا جاہل یا غوث

رضؔا کے سامنے کی تاب کس میں
فلک وار اس پہ تیرا ظل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

...

Talab Ka Mounh To Kis Qabil Hai Ya Ghous

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث
مگر تیرا کرم کامل ہے یا غوث

دوہائی یا محی الدیں! دوہائی
بلا اسلام پر نازل ہے یا غوث

وہ سنگیں بدعتیں وہ تیزیِ کفر
کہ سر پر تیغ، دل پر سل ہے یا غوث

عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَالْقِتَالٖ
مدد کو آدمِ بسمل ہے یا غوث

خدارا نا خدا آ دے سہارا
ہوا بگڑی بھنور حائل ہے یا غوث

جِلا دے دیں جَلا دے کفر و الحاد
کہ تو محیی ہے تو قاتل ہے یا غوث

تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت
نہ تو عاجز نہ تو غافل ہے یا غوث

رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی
جو تو چاہے ابھی زائل ہے یا غوث

غیورا! اپنی غیرت کا تَصدّق
وہی کر جو تِرے قابل ہے یا غوث

خدارا مرہمِ خاکِ قدم دے
جگر زخمی ہے دل گھائل ہے یا غوث

نہ دیکھوں شکلِ مشکل تیرے آگے
کوئی مشکل سی یہ مشکل ہے یا غوث

وہ گھیرا رشتۂ شرکِ خفی نے
پھنسا زنّار میں یہ دل ہے یا غوث

کیے ترسا و گبر اقطاب و ابدال
یہ محض اسلام کا سائل ہے یا غوث

تو قوّت دے میں تنہا کام بسیار
بدن کمزور دل کاہل ہے یا غوث

عدو بد دین، مذہب والے حاسد
تو ہی تنہا کا زورِ دل ہے یا غوث

حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بدتر دق سےبھی یہ سل ہے یا غوث

دیا مجھ کو، انھیں محروم چھوڑا
مِرا کیا جُرم حق فاصل ہے یا غوث

خدا سے لیں لڑائی، وہ ہے معطی
نبی قاسم ہے تو موصل ہے یا غوث

عطائیں مقتدر غفّار کی ہیں
عبث بندوں کے دل میں غل ہے یا غوث

تِرے بابا کا، پھر تیرا کرم ہے
یہ منھ ورنہ کسی قابل ہے یا غوث

بھرن والے تِرا جھالا تو جھالا
تِرا چھینٹا مِرا غاسل ہے یا غوث

ثنا مقصود ہے عرضِ غرض کیا
غرض کا آپ تو کافل ہے یا غوث

رضؔا کا خاتمہ بالخیر ہوگا
تِری رحمت اگر شامل ہے یا غوث

حدائقِ بخشش

...

Manqabat of Syed Aal e Rasool

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آلِ رسول
خوشا سَرے کہ کُنِنْدَش فدائے آلِ رسول

گناہِ بندہ بِبخش اے خدائے آلِ رسول
برائے آلِ رسول از برائے آلِ رسول

ہزار دُرجِ سعادت بر آرد از صدفے
بہاے ہر گہرِ بے بہائے آلِ رسول

سیہ سَپید نہ شد گر رشید مصرش داد
سیہ سپید کہ سازد عطائے آلِ رسول

اِذَ رُؤُا ذُکِرَ اللہ معائنہ بینی!
مَن و خدائے من آنست ادائے آلِ رسول

خبر دَہد زِ تگِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ
فنائے آلِ رسول و بقائے آلِ رسول

ہزار مِہر پَرَد در ہوائے او چو ہَبا
بروزَنے کہ درخشد ضیائے آلِ رسول

نصیب پست نشیناں بلندیست ایں جا
تواضع ست دُرِ مُرتقائے آلِ رسول

برآ بہ چرخِ برین و ببیں ستانۂ او
گرا بہ خاک و بیا بر سمائے آلِ رسول

قبائے شہ بگلیمِ سیاہ خود نخرد
سیہ گلیم نباشد گدائے آلِ رسول

دوائے تلخ مَخور شہد نوش و مژدہ نیوش
۱بیا مریض بَدارُ الشّفائے آلِ رسول

ہمیں نہ از سرِ افسر کہ ہم زِ سر برخاست
نشست ہر کہ بفرقش ہمائے آلِ رسول

بسخر و طعنۂ سختی زند بعارضِ گل
بسنگِ صخرہ و زِ دگر صبائے آلِ رسول

دِہد زِ باغِ منیٰ غنچہ ہائے زر بہ گرہ
دمِ سوالِ حیا و غنائے آلِ رسول

ز چرخ کانِ زرِ شرقی، مغربی آرند
بدرد مس بمسِ کیمیائے آلِ رسول

جرس بصلصلہ اش آں چہ گفت راہی را
ہماں بسلسلہ آرد ورائے آلِ رسول

رسول داں شوی از نامِ او نمی بینی
دو حرفِ معرفہ در ابتدائے آلِ رسول

بخدمتش نخرد باج وتاج رنگ و فرنگ
سپید بخت سیاہِ سرائے آلِ رسول

اگر شب است و خطر سخت و رہ نمی دانی
ِببند چشم و بیا بر قفائے آلِ رسول

زِ سر نہند کلاہِ غرور مدّعیاں
بجلوۂ مدد اے کفشِ پائے آلِ رسول

ہزار جامۂ سالوس را کتانی دِہ
بتاب اے مہِ جیبِ قبائے آلِ رسول

مَرو بمیکدہ کانجا سیاہ کارانند
بیا بخانقہِ نورزائے آلِ رسول

مَرو بمجلسِ فسق و فجورِ شیّاداں
بیا بانجمنِ اتّقائے آلِ رسول

مَرو بدامگہِ ایں دروغ بافاں ہیچ
بیا بجلوہ گہِ دل کشائے آلِ رسول

ازاں بانجمنِ پاک سبز پوشاں رفت
کہ سبز بود دراں بزم جائے آلِ رسول

شکست شیشہ بہجر و پری بشیشہ ہنوز
زِ دل نمی رود آں جلوہ ہائے آلِ رسول

شہیدِ عشق نمیرد کہ جاں بجاناں داد
تو مُردی ایکہ جدائی زِ پائے آلِ رسول

بگو کہ وائے من و وائے مردہ ماندنِ من
منال ہر زہ کہ ہیہات وائے آلِ رسول

کہ می بُرد زِ مریضانِ تلخ کام نیاز
بعہد شہد فروشِ بقائے آلِ رسول

صبا سلامِ اسیرانِ بستہ بال رساں
بطائرانِ ہوا و فضائے آلِ رسول

خطا مکن دلکا؟ پردہ ایست دوری نیست
بگوش می خورد اَکنوں صدائے آلِ رسول

مگو کہ دیدہ گری و غبار دیدہ بخند
بکارِ تُست کنوں توتیائے آلِ رسول

مپیچ در غمِ عیّارگانِ ذنب شعار
اگر ادب نکنند از برائے آلِ رسول

ہر آں کہ نِکْث کند نکث بہرِ نفسِ وَیست
غنی ست حضرتِ چرخ اعتلائے آلِ رسول

سپاس کن کہ بپاس و سپاسِ بد منشاں
نیاز و ناز نَدارد ثنائے آلِ رسول

نہ سگ بَشور و نہ شپّر بخامُشی کاہد
زِ قدرِ بدر و ضیائے ذکائے آلِ رسول

تواضعِ شہِ مسکیں نواز را نازم
کہ ہمچو بندہ کند بوس پائے آلِ رسول

منم امیرِ جہانگیر کج کلہ یعنی
کمینہ بندہ ومسکیں گدائے آلِ رسول

اگر مثالِ خلافت دہد فقیرے را
عجب مَدار زِ فیض و سخائے آلِ رسول

مَگیر خردہ کہ آں کس نہ اہلِ ایں کاراست
کہ داند اہلِ نمودن عطائے آلِ رسول

’’ببیں تفاوُتِ رہ از کجاست تا بکجا‘‘
تَبَارَکَ اللہ ما و ثنائے آلِ رسول

مَرا زِ نسبتِ ملک است امید آں کہ بہ حشر
ندا کنند بیا اے رضؔائے آلِ رسول

حدائقِ بخشش

...

Aah Ya Ghousa

آہ یا غَوثاہ یا غیثاہ یا امداد کُن
یَا حَیَاۃَ الْجُوْد یَا رُوْحَ الْمَنَا امداد کُن

یَا وَلِیَ الْاَوْلِیَآء اِبْنَ نَبِیِّ الْاَنْبِیَآء
اے کہ پایت بر رِقابِ اَولیا امداد کُن

دست بخشِ حضرتِ حمّاد زیبِ دستِ خود
از تو دَستے خواہَد ایں بے دست و پا امداد کُن

مجمعِ ہر دو طریق و مرجعِ ہر دو فریق
فاصلان و واصلاں را مقتدا امداد کُن

واشیاں بر بندہ از ہر سو ہجوم آوردہ اند
یَا عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْوَغَا امداد کُن

بہرِ ’’لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ‘‘ نَجِنَّا مِمَّا نَخَافْ
بہر ’’لَا ہُمْ یَحْزَنُوْں‘‘ غَمہا زِدَا امداد کُن

اے باَمْصَارِ کرم دو قرن پیشیں دو حرم
تو بَمُلکِ اَولیا چوں اِیلِیا امداد کُن

عِزُّنَا یَا حِرْزَنَا یَا کَنْزَنَا یَا فَوْزَنَا
لَیْثُنَا یَا غَیْثَنَا یَا غَوْثَنَا امداد کُن

شاہِ دیں عمرِ سنن ماہِ زمیں مِہرِ زمن
گاہ کیں بہر فتن برقِ فنا امداد کُن

طیّب الاخلاق و حق مشتاق و واصل بے فراق
نیّر الاَشراق و لَمّاع السَّنا امداد کُن

مِہرباں تر بر مَن از مَن از مَن آگہ تر زِ مَن
چند گویم سیّدا جود النَّدیٰ امداد کُن

حدائقِ بخشش

...

Assalam Aey Ahmadat


اَلسَّلَام اے احمدت صہر و برادر آمدہ
حمزہ سردارِ شہیداں عمِّ اکبر آمدہ

جعفرے کو می پرد صبح و مسا با قدسیاں
با تو ہم مسکن بہ بطنِ پاکِ مادر آمدہ

بنتِ احمد رونقِ کاشانہ و بانُوے تو
گوشت و خونِ تو بَلَحْمَش شیر و شکر آمدہ

ہر دو رَیحانِ نبی گلہائےتو زاں گل زمیں
بہرِ گل چینت زمینِ باغِ بر تر آمدہ

می چمیدی گلبنا در باغِ اسلام و ہنوز
غنچہ ات نشگفت و نے نخلے دِگر بر آمدہ

نرم نرم از بزمِ دامن چیدہ رفتہ بادِ تند
یا علی چوں بر زبانِ شمعِ مضطر آمدہ

ماہِ تاباں گو متاب و مِہرِ رَخشاں گو مَرَخْش
باختر تا خاور اِسمت نورِ گُستر آمدہ

حَلِّ مشکل کُن بروئے من درِ رحمت کشا
اے بنامِ تو مُسلَّم فتحِ خیبر آمدہ

مرحبا اے قاتلِ مَرحَب امیر الاشجعیں
در ظِلالِ ذُوالفقارت شورِ محشر آمدہ

سینہ ام را مشرقستاں کن بنورِ معرفت
اے کہ نامِ سایہ ات خورشیدِ خاور آمدہ

کے رسد مولیٰ بمہرِ تابناکت نجمِ شام
گو بنورِ صحبتِ اُو صبحِ انور آمدہ

ناصبی را بغضِ تو سوئے جہنم رہ نمود
رافضی از از حُبِِّ کاذب در سقر در آمدہ

من زِحق می خواہم اے خورشیدِ حق آں مِہر تو
کز ضیائش عالَمِ ایماں منور آمدہ

بہرِ اَستر چادرِ مہتاب و ایں زرّیں پرند
ناپذیرائے گلیمِ بختِ قَنبر آمدہ

تشنہ کامِ خود رضؔائے خستہ را ہم جرعۂ
شکرِ آں نعمت کہ نامت شاہِ کوثر آمدہ

حدائقِ بخشش

...

Aey Badoor e Khood Imam e Ahl e Eeqan Aamda

اے بدورِ خود امامِ اہلِ ایقاں آمدہ
جانِ انس و جانِ جان و جانِ جاناں آمدہ

قامتِ تو سَروِ نازِ جوئبارِ معرفت
روئے تو خورشیدِ عالَمتابِ ایماں آمدہ

موئے زلفِ عنبرینت قوّتِ روحِ ہُدیٰ
رنگِ رُویت غازۂ دینِ مسلماں آمدہ

زنگ از دلہا زواید خاک بوسیِ درت
تابناک از جلوہ ات مِرآتِ احساں آمدہ

صد لطائف می کُشاید یک نگاہِ لطفِ تو
دستِ فیضانت کلیدِ بابِ عرفاں آمدہ

نامت آلِ احمد و احمد شفیع المذنبیں
زاں دل از دستِ گنہ پیش تو نالاں آمدہ

پُرصدا شد باغِ قدس از نغمہائے وصفِ تو
تا بہارِ جنّت از گلزارِ جیلاں آمدہ

چوں گلِ آلِ محمد رنگِ حمزہ برفروخت
بوئے آلِ احمد اندر باغِ عرفاں آمدہ

گلبنِ نو رستہ ات را سبزۂ چرخِ کُہن
فرشِ پا انداز بزمِ رفعتِ شاں آمدہ

تا کشیدم نالۂ یا آلِ احمد الغِیاث
بے سر و سامانیم را طُرفہ ساماں آمدہ

در پناہِ سایۂ دامانت اے ابرِ کرم
گرمیِ غم کُشتۂ با سوزِ اَحزاں آمدہ

دل فگارے آبلہ پائے بشہرِ جودِ تو
از بیابانِ بلا افتان و خیزاں آمدہ

تازہ فریادے بر آور اے مسیحا بر درت
کہنہ رنجورے کہ از غم بر لَبَش جاں آمدہ

زہر نوشِ جامِ غم در حسرتِ فِیْہِ شِفَآء
زانگبینِ رحمتت یک جُرعہ جویاں آمدہ

بہرِ آں رنگیں ادا گل برگ چند آلِ رسول
برکش از دل خارِ آلامے کہ در جاں آمدہ

احمدِ نوری دریں ظلماتِ رنج و تشنگی
رہنمائم سوئے تو اے آبِ حیواں آمدہ

اے زُلالِ چشمۂ کوثر لبِ سیراب تو
بر درِ پاکت رضؔا با جانِ سوزاں آمدہ

حدائقِ بخشش

...

Hain Ap Hadi Ahl e Jahan Zia Uddin

ہیں آپ ہادیِ اہلِ جہاں ضیاءُ الدین
ضیائے مجلسِ غوثِ زماں ضیاءُ الدین

امیرِ قافلۂ عارفاں ضیاءُ الدین
ہیں چارہ سازِ دلِ بے کساں ضیاءُ الدین

نگاہِ حضرتِ احمد رضا کے میں قرباں
بنایا عاشقِ اچھے میاں ضیاءُ الدین

ہے غوثِ پاک کی اُس پر نگاہِ لطف و کرم
ہو جس غریب پہ تم مہرباں ضیاءُ الدین

رضا کے ہاتھ سے پی تھی جو تم نے مَے آقا
عطا ہو بہرِ شہِ مرسلاں ضیاءُ الدین

پَئے حُسین و حَسَن بھیک میں خوشی دے دو
ہیں آپ نائبِ غوثِ جہاں ضیاءُ الدین

تباہ حال ہیں غربت میں خانماں برباد
ہیں تم سے طالبِ امن و اماں ضیاءُ الدین

دُعا جو دی تھی مظؔفّر کو اُس کے صدقے میں
رہے جہاں بھی رہے شادماں ضیاءُ الدین

 

 

...