Manqabat (Praise of Allah’s friends)  

Paar Bera Lagaey Aal e Rasool

پار بیڑا لگائے آلِ رسول
ڈوبے بجرے تَرائے آلِ رسول

جو ہیں اپنے پرائے آلِ رسول
سب کو اپنا بنائے آلِ رسول

ٹھوکروں پہ نہ ڈال غیروں کی
ہم ہیں قدموں میں آئے آلِ رسول

تیرا باڑا ہے بٹ رہا جگ میں
تو ہی دے یا دلائے آلِ رسول

جھولی پھیلائے ہے تِرا منگتا
بھر دے داتا برائے آلِ رسول

دے دے چُمکار کر کوئی ٹکڑا
سگِ در کو رضائے آلِ رسول

در سے اپنے نہ کر اسے در در
در دے در کی رضائے آلِ رسول

دور دوری کا دور دورا ہو
دَور پھر یہ نہ آئے آلِ رسول

نِگھرے در بہ در بھٹکتے ہیں
دے ٹھکانہ برائے آلِ رسول

تلخیاں ساری دور ہو جائیں
مَئے شربت پلائے آلِ رسول

ہیں رضا، غوث کے قدم بہ قدم
ہیں قدم ان کے پائے آلِ رسول

جس نے پایہ تمھارا پایا ہے
کہہ اٹھا میں نے پائے آلِ رسول

اپنی قدموں کے نیچے ہے جنّت
اور قدم ہیں یہ پائے آلِ رسول

ان کی سیرت ہے سیرتِ نبوی
ان کی صورت لقائے آلِ رسول

ان کے جلووں میں ان کے جلوے ہیں
ہر ادا سے ادائے آلِ رسول

آتے دیکھیں جو اعلیٰ حضرت کو
آنکھیں کہہ دیں یہ آئے آلِ رسول

ہے بریلی میں آج مارہرہ
اعلیٰ حضرت ہے جائے آلِ رسول

قادریّوں کا ہے لگا میلہ
ہے تماشا ضیائے آلِ رسول

نوری مَسند پہ نوری پتلا ہے
اچھا ستھرا رضائے آلِ رسول

چتھر رحمت کا شامیانہ ہے
سر پہ ہے یا ردائے آلِ رسول

ہیں پروں سے کیے ہوئے سایہ
پرے قدسی جمائے آلِ رسول

ہیں گھٹا ٹوپ رحمتیں چھائیں
پا ہے ظلِّ ہُمائے آلِ رسول

غوث کا ہاتھ ہے مریدوں پر
بر زمیں کَالسَّمَاءِ آلِ رسول

بَرَکاتی برکات کا دولھا
شاہ احمد رضائے آلِ رسول

بَرَکاتی پیار کا سہرا
تیرے سر ہے رضائے آلِ رسول

قادریّت دُلھن بنی، نوشہ
شاہ احمد رضائے آلِ رسول

نور کا حُلّہ جوڑا شاہانہ
نوری جامہ عَبائے آلِ رسول

نور کی چہرے پر نچھاور ہے
صدقے ہم سب گدائے آلِ رسول

بیل میری بھی اب مَندھے چڑھ جائے
صدقہ حاؔمد رضائے آلِ رسول

بیاض پاک

...

Saaqiya Kiyoun Aaj Rindoun Per Hai

ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
کیوں نہیں دیتا ہمیں جامِ شرابِ ارغواں

تشنہ کاموں پر ترس کس واسطے آتا نہیں
کیوں نہیں سنتا ہے مے خواروں کی فریاد و فغاں

جام کیوں اوندھے پڑے ہیں کیوں ہیں منہ شیشوں کے بند
عقدۂ لاحل بنا ہے کیوں ہر اِک خُمِ مے کا دہاں

کیوں صدا قلقل کی مینا سے نہیں ہوتی بلند
کیوں اُداسی چھا رہی ہے کیوں ہوئی سونی دکاں

کیوں ہے مہر خامشی منہ پر سبُو کے جلوہ ریز
کچھ نہیں کھلتا مجھے کیسا بندھا ہے یہ سماں

کس قدر اعضا شکن ہے یہ خمارِ جاں گسل
ہے جماہی پر جماہی ٹوٹتی ہیں ہڈیاں

کیا غضب ہے تجھ کو اِس حالت پہ رحم آتا نہیں
خشک ہے منہ میں زباں آتی ہیں پیہم ہچکیاں

آمدِ بادِ بہاری ہے گلستاں کی طرف
فصلِ گلشن کر رہی ہے کیا ہی رنگ آمیزیاں

ابر کی اٹکھیلیوں سے جوبنوں پر ہے بہار
پڑ رہی ہیں پیاری پیاری ننھی ننھی بوندیاں

چار جانب سے گھٹاؤں نے بڑھائے ہیں قدم
توسِن بادِ صبا پر لی ہے راہِ بوستاں

جشن گل کا شور ہے فصل چمن کا زور ہے
ابر اٹھا ہے گرجتا کوندتی ہیں بجلیاں

ٹکٹکی باندھے ہوئے نرگس تماشے پر ہے لوٹ
محو وصف جلوۂ گلشن ہے سوسن کی زباں

شاخِ گل پر بلبلیں ہیں نغمہ سنجِ فصل گل
سرو پر بیٹھی ہوئی کرتی ہیں کُو کُو قمریاں

اس قدر ہے جوش پر حسن عروسِ گل کہ آج
باغ میں ملتی نہیں بلبل کو جاے آشیاں

ٹھنڈی ٹھنڈی پیاری پیاری چلتی ہے بادِ نسیم
جھومتی ہیں وجد میں کیا کیا چمن کی ڈالیاں

مست و بے خود بیٹھے ہیں مرغانِ گلشن شاخ شاخ
کر رہے ہیں اپنی اپنی لے میں مدحت خوانیاں

تا کہ دیکھے گل کا جوبن نرگسِ مخمور بھی
سوتے سوتے چونک کر اُٹھی ہے مَلتی انکھڑیاں

دیتے ہیں غنچے چٹک کر یہ صدا ہر سمت سے
ہم بھی دیکھیں گے ذرا فصل بہاری کا سماں

کب ہیں یہ شبنم کے قطرے برگِ گل پر آشکار
ہیں عروسِ گل کے کانوں میں جڑاؤ پتیاں

گُدگُداتی ہے مرے دل کو ہواے مے کشی
آرزوئیں کر رہی ہیں کس قدر اٹکھیلیاں

حسرتیں کہتی ہیں ہم کو کس پہ چھوڑا آپ نے
خواہشیں کرتی ہیں شکوے کیوں ہوئے نا مہرباں

دیر کارِ خیر میں اس درجہ کرتا ہے کوئی
ہاں خدارا ساقیا اِرحم بحال نیمِ جاں

چار دن کی چاندنی ہے یہ اندھیرا پاکھ ہے
پھر کہاں ہم اور کہاں یہ دُختِ رز کی شوخیاں

پانی پی پی کر دعا دوں تجھ کو گر پاؤں مراد
دیر کیوں کرتا ہے پیارے فصل گلشن پھر کہاں

دے کوئی ساغر چھلکتا سا شرابِ تند کا
بول بالا ہو ترا اے ساقیِ حاتم نشاں

مدح کرتا ہوں میں اب اک رہنما کے عرس کی
چھوڑ کر فکرِ خط و خالِ حسینانِ جہاں

واہ وا کیا عرس ہے، کیا عرس ہے کیا عرس ہے
جس میں ہیں تشریف فرما غوث و اَبدالِ جہاں

سر جھکائے بیٹھے ہیں حلقہ کیے سارے مرید
حالِ دل کرتے ہیں سرکارِ معلی میں عیاں

ہر اَدا سے انکشافِ معنی و مقصود ہے
ہو رہا ہے کیا لطیفوں میں عیاں سرِ نہاں

ہے کہیں ذکر جلی تو ہے کہیں ذکر خفی
اپنے اپنے حال میں مصروف ہیں پیر و جواں

دل کے آئینوں کی صیقل ذکر ارّہ سے کہیں
ہیں کسی جا ذکر قمری کی عیاں رنگینیاں

ضرب اِلَّا اللّٰہ سے کرتا ہے کوئی دل کو صاف
ہے کہیں اثبات نفی غیر کا لا سے عیاں

سب کو منہ مانگی مرادیں ملتی ہیں اِس عرس میں
آتے ہیں روتے ہوئے جاتے ہیں ہنستے شادماں

اس طرف ایسی بہاریں اس طرف حکم خدا
جاتی ہے سر پیٹتی اس بزم سے عمر رواں

کچھ خبر بھی ہے تجھے اے دل یہ کس کا عرس ہے
پائی اس محفل نے کس سے زیب و زین و عزو شاں

طالب مطلوبِ یزداں حضرتِ فضلِ رسول
موردِ فضل رسول و رحم خلاق جہاں

سالکِ راہِ حقیقت رہروِ مقصودِ شرع
رہنماے گمرہاں و پیشواے مرشداں

حاکم اصل فروع و عالم رمز اُصول
واقفِ حالِ حقیقت کاشفِ سِرِّ نہاں

حامیِ دین پیغمبر ماحیِ بنیادِ کفر
زاہد زین عبادت واعظ شیوا بیاں

آفتابِ چرخِ علم و ماہتابِ برجِ حلم
گوہر درج شرف یاقوت کانِ عز و شاں

شاہ دیہیم جلال و خسرو تخت کمال
نائب شاہنشہِ کونین فخر مرسلاں

انجمن آراے شرع و شمع بزمِ معرفت
زینت بستانِ فقر و زیبِ گلزارِ جناں

سیف مسلول حقیقت فارسِ مضمارِ فقر
طلعت شمع ہدایت مقتداے سالکاں

مزرعِ اِسلام کو اَبر کرم ذاتِ جناب
خرمن اَدیانِ باطل کو ہے برقِ بے اماں

حاضر عرسِ معلی ہیں بہت اربابِ علم
وہ پڑھوں مطلع کہ سن کر سن ہوں سب اہل زباں

گر کبھی فرمائے تو توحیدِ واحد کا بیاں
کہہ دے ہندوے فلک بھی ٹھیک ہے یہ بے گماں

دی خداے پاک نے تجھ کو حیاتِ بے ممات
لایموتون ہے تیری شان میں اے جانِ جاں

دین پیغمبر کو تیری ذات سے ہے تقویت
تیرے جلوؤں سے منور خطۂ ہندوستاں

تیرے اچھے ہونے میں کس کو رہی جاے سخن
تیرے مرشد کے ہیں مرشد حضرتِ اچھے میاں

مُلحِدوں کو بات تیری سیف ہے جبار کی
معتقد کو قول تیرا موجب امن و اماں

دے جو کچھ دینا ہو شاہا اس کے جلدومیں مجھے
تیرے دَر پہ لے کے آیا ہوں قصیدۂ ارمغاں

ہو دعاے خیر میری دین و دنیا کی قبول
یہ صلہ پائے شہا تیرا گداے آستاں

اے حسنؔ اب کر دعا اللہ سے با التجا
کیا عجب ہے گر کہیں آمیں گروہِ قدسیاں

یا خدا جب تک ہے مہر و ماہ میں جلوہ گری
دَہر میں قائم رہے جب تک یہ دورِ آسماں

کُنج خلوت میں ہو جب تک زاہد گوشہ نشیں
شمع کو حاصل ہیں جب تک انجمن آرائیاں

کعبہ کے در پر ہے جب تک فرقِ زاہد سجدہ ریز
شاغل حمد خدا جب تک رہیں کرّو بیاں

جلوۂ وحدت رہے کثرت میں جب تک آشکار
صوفیوں کا دَہر میں جب تک رہے نام و نشاں

مولوی عبد قادر زیب سجادہ رہیں
تابع فرمانِ والا ہو ہر اک پیر و جواں

دے مدد اقوالِ والا کو کلام اللہ پاک
پیش حضرت قول دشمن کا ہو شاخِ زعفراں

ان کے دشمن کو ہمیشہ کلفت و کربت نصیب
جو دعا گو ہیں رہیں فرحت نصیب و شادماں

ذوقِ نعت

...

Dunya O Deen K Is K Maqasid Husool Hain

دنیا و دیں کے اس کے مقاصد حصول ہیں
جس کی مدد پہ حضرت فضل رسول ہیں

منکر تری فضیلت و جاہ و جلال کی
بے دیں ہیں یا حسود ہیں یا بوالفضول ہیں

حاضر ہوئے ہیں مجلس عرسِ حضور میں
کیا ہم پہ حق کے لطف ہیں فضل رسول ہیں

کافی ہے خاک کرنے کو یک نالۂ رسا
دفتر اگرچہ نامۂ عصیاں کے طول ہیں

خاکِ درِ حضور ہے یا ہے یہ کیمیا
یہ خارِ راہ ہیں کہ یہ جنت کے پھول ہیں

ذوقِ نعت

...

Too hai Woh Ghous k Har Ghous Hai Shaida Tera

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا

سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے
افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا

مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہیں
ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا

جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
سب ادب رکھتے ہیں دل میں مِرے آقا تیرا

بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم
کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا

تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
قطب خود کون ہے خادم تِرا چیلا تیرا

سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبے کا طواف
کعبہ کرتا ہے طوافِ درِ والا تیرا

اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبے پہ نثار
شمع اِک تو ہے کہ پروانہ ہے کعبہ تیرا

شجرِ سرو سہی کس کے اُگائے تیرے
معرفت پھول سہی کس کا کِھلایا تیرا

تو ہے نوشاہ براتی ہے یہ سارا گلزار
لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہرا تیرا

ڈالیاں جھومتی ہیں رقصِ خوشی جوش پہ ہے
بلبلیں جھولتی ہیں گاتی ہیں سہرا تیرا

گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں کی چہک
باغ کے سازوں میں بجتا ہے ترانا تیرا

صفِ ہر شجرہ میں ہوتی ہے سلامی تیری
شاخیں جھک جھک کے بجالاتی ہیں مجرا تیرا

کس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز
کون سے سلسلے میں فیض نہ آیا تیرا

نہیں کس چاند کی منزل میں ترا جلوۂ نور
نہیں کس آئینہ کے گھر میں اُُجالا تیرا

راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدّام
باج کِس نہر سے لیتا نہیں دریا تیرا

مزرعِ چشت و بخارا و عراق و اجمیر
کون سی کِشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا

اور محبوب ہیں، ہاں پر سبھی یک ساں تو نہیں
یوں تو محبوب ہے ہر چاہنے والا تیرا

اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں
تنگ ہو کر جو اُترنے کو ہو نیما تیرا

گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دل لوٹ گئے
کشفِ ساق آج کہاں یہ تو قدم تھا تیرا

تاجِ فرقِ عرفا کس کے قدم کو کہیے!
سر جسے باج دیں وہ پاؤں ہے کِس کا تیرا

سُکر کے جوش میں جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں
خِضر کے ہوش سے پوچھے کوئی رتبہ تیرا

آدمی اپنے ہی اَحوال پہ کرتا ہے قیاس
نشے والوں نے بھلا سُکر نکالا تیرا

وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیرِ حضیض
اور ہر اَوج سے اونچا ہے ستارہ تیرا

دلِ اعدا کو رؔضا تیز نمک کی دُھن ہے
اِک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تیرا

حدائقِ بخشش

 

...

Al Aaman Qahar Hai Ya Ghous Woh Teekha Tera

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا

بادلوں سے کہیں رکتی ہے کڑکتی بجلی
ڈھالیں چھنٹ جاتی ہیں اٹھتا ہے جو تیغا تیرا

عکس کا دیکھ کے منھ اور بھپر جاتا ہے
چار آئینہ کے بل کا نہیں نیزا تیرا

کوہ سرمکھ ہو تو اِک وار میں دو پَر کالے
ہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا

اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالف تیرے
چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں، اُسے منظور بڑھانا تیرا

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تِرا ذکر ہے اُونچا تیرا

مٹ گئے مٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالیٰ تیرا

سُمِّ قاتل ہے خدا کی قسم اُن کا اِنکار
منکرِ فضلِ حضور آہ یہ لکھا تیرا

میرے سیّاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
چیر کر دیکھے کوئی آہ کلیجا تیرا

ابنِ زَہرا سے تِرے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
بل بے او منکرِ بے باک یہ زہرا تیرا

بازِ اَشہب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
دیکھ اُڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا

شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے
کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجرا تیرا

حق سے بد ہو کے زمانے کا بھلا بنتا ہے
ارے میں خوب سمجھتا ہوں معمّا تیرا

سگِ در قہر سے دیکھے تو بکھرتا ہے ابھی
بند بندِ بدن اے روبہِ دنیا تیرا

غرض آقا سے کروں عرض کہ تیری ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطر پہ ہے قبضہ تیرا

حکم نافذ ہے تِرا خامہ تِرا سیف تِری
دم میں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تیرا

جس کو للکار دے آتا ہو تو الٹا پھر جائے
جس کو چمکار لے ہر پھر کے وہ تیرا تیرا

کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دیں ایسی کر
کہ یہ سینہ ہو محبّت کا خزینہ تیرا

دِل پہ کندہ ہو تِرا نام کہ وہ دُزدِ رجیم
الٹے ہی پاؤں پھرے دیکھ کے طغرا تیرا

نزع میں، گور میں، میزاں پہ، سرِ پل پہ کہیں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامانِ معلّٰی تیرا

دھوپ محشر کی وہ جاں سوز قیامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مِرے سر پہ ہے پلّا تیرا

بہجت اُس سِرّ کی ہے جو ’’بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
کہ فلک وار مریدوں پہ ہے سایہ تیرا

اے رؔضا! چیست غم ار جملہ جہاں دشمنِ تست
کردہ ام مامنِ خود قبلۂ حاجاتے را

حدائقِ بخشش

...

Banda Qadir Ka Bhi Qadir Bhi Hai Abdul Qadir

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
سرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر

مفتیِ شرع بھی ہے قاضیِ ملّت بھی ہے
علمِ اَسرار سے ماہر بھی ہے عبدالقادر

منبعِ فیض بھی ہے مجمعِ افضال بھی ہے
مہرِ عرفاں کا منور بھی ہے عبدالقادر

قطبِ ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہے
مرکزِ دائرۂ سِرّ بھی ہے عَبدالقادر

سلکِ عرفاں کی ضیا ہے یہی درِّ مختار
فخرِ اشباہ و نظائر بھی ہے عَبدالقادر

اُس کے فرمان ہیں سب شارحِ حکمِ شارع
مظہرِ ناہی و آمر بھی ہے عبدالقادر

ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے
کارِ عالم کا مدبّر بھی ہے عَبدالقادر

رشکِ بلبل ہے رؔضا لالۂ صَد داغ بھی ہے
آپ کا واصفِ و ذاکر بھی ہے عَبدالقادر

حدائقِ بخشش

 

...

Bartar Qayas Se Hai Maqaam e Abul Hussain


بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بام ابو الحسین

وارستہ پائے بستۂ دامِ ابو الحسین
آزاد نار سے ہے غلامِ ابو الحسین

خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں
کیا صبحِ نور بار ہے شام ابو الحسین

ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک
مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابو الحسین

بوئے کبابِ سوختہ آتی ہے مے کشو!
چھلکا شرابِ چشت سے جامِ ابو الحسین

گلگوں سحر کو ہے سَہَرِ سوزِ دل سے آنکھ
سلطانِ سہرورد ہے نامِ ابو الحسین

کرسی نشیں ہے نقشِ مراد اُن کے فیض سے
مولائے نقش بند ہے نامِ ابو الحسین

جس نخلِ پاک میں ہیں چھیالیس ڈالیاں
اک شاخ ان میں سے ہے بنامِ ابو الحسین

مستوں کو اے کریم بچائے خمار سے
تا دورِ حشر دورۂ جامِ ابو الحسین

اُن کے بھلے سے لاکھوں غریبوں کا ہے بھلا
یا رب زمانہ باد بکامِ ابو الحسین

میلا لگا ہے شانِ مسیحا کی دید ہے
مُردے جِلا رہا ہے خرامِ ابو الحسین

(ق) سر گشتہ مہر و مہ ہیں پر اب تک کھلا نہیں
کس چرخ پر ہے ماہِ تمامِ ابو الحسین

اتنا پتا ملا ہے کہ یہ چرخِ چنبری
ہے ہفت پایہ زینۂ بامِ ابو الحسین

ذرّے کو مہر، قطرے کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہو بخششِ عامِ ابو الحسین

یحییٰ کا صدقہ وارث اقبال مند پائے
سجادۂ شیوخِ کرامِ ابو الحسین

انعام لیں بہار جناں تہنیت
پھولے پھلے تو نخل مرامِ ابو الحسین

اللہ ہم بھی دیکھ لیں شہزادہ کی بہار
سونگھے گل مراد مشامِ ابو الحسین

آقا سے میرے ستھرے میاں کا ہوا ہے نام
اس اچھے ستھرے سے رہے نامِ ابو الحسین

یا رب وہ چاند جو فلکِ عزّ و جاہ پر
ہر سیر میں ہو گام بگامِ ابو الحسین

آؤ تمھیں ہلالِ سپہرِ شرف دکھائیں
گردن جھکائیں بہرِ سلامِ ابو الحسین

قدرت خدا کی ہے کہ طلاطم کناں اٹھی
بحرِ فنا سے موجِ دوامِ ابو الحسین

یا رب ہمیں بھی چاشنی اس اپنی یاد کی
جس سے ہے شکّریں لب و کامِ ابو الحسین

ہاں طالعِ رؔضا تِری اللہ رے یاوری
اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین

 

(حدائقِ بخشش)

...

Poetry about Hazrat Mufti Muhammad Iqbal Saeedi

شیخ القرآن و الحدیث حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد اقبال سعیدی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

(تاریخِ وصال: ۲۶،جمادی الاولیٰ۱۴۳۷ھ مطابق ۶؍مارچ ۲۰۱۶؁ء ، اتوار شب ۱ بجے)
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی

مفتی اقبال سعیدی تھے گُلِ باغِ صفا
اُن کی سیرت میں نمایاں ہوا زہد و تقویٰ

وہ غزالیِّ زماں کے ہوئے شاگرد و مرید
اُن کے مُرشِد نے خلافت کا شرف بھی بخشا

وقت کے بیہقی منظور نے اپنے شاگرد
مفتی اقبال سعیدی کو خلیفہ بھی کیا

سیّد احمد جنھیں کہتے ہیں سبھی ’’بو البرکات‘‘
ایسے استاد سے بھی شرفِ خلافت پایا

مفتی اقبال نے تدریس جو کرنی چاہی
جامعہ فیضیہ رضویّہ سے آغاز کیا

وہ جو ملتان میں ہے جامعہ اَنوارِ عُلوم
تا وفات اُس میں پڑھائی ہے حدیثِ آقا

آپ نے نصف صدی مَسندِ تدریس پہ خوب
درسِ قرآن و احادیثِ شہِ طیبہ دیا

وہ جو ہیں عبدِ مجید ایک سعیدی مفتی
مفتی اقبال کے شاگردوں میں ہے نام اُن کا

مَوت نے چودہ سو سینتیس سنِ ہجری میں
مفتی اقبال سعیدی کو کیا ہم سے جدا

مفتی اقبال سعیدی سے خدا راضی ہو!
یوں بہ اخلاص دعا گو ہے ضیائے طیبہ

میں نے اقبال سعیدی کا کیا ذکر، نؔدیم!
نیکوں کا ذکر گناہوں کا ہے اک کفّارہ

 

 

(تاریخِ نظم: جمعرات، ۳۰، جُمادَی الاُولیٰ ۱۴۳۷؁ھ مطابق ۱۰؍ مارچ  ۲۰۱۶؁ء)

...

Allah Bara e Ghous e Azam

اﷲ! برائے غوث الاعظم
دے مجھ کو ولاے غوث الاعظم

دیدارِ خدا تجھے مبارک
اے محوِ لقاے غوث الاعظم

وہ کون کریم صاحبِ جُود
میں کون گداے غوث الاعظم

سُوکھی ہوئی کھتیاں ہری کر
اے ابرِ سخاے غوث الاعظم

اُمیدیں نصیب، مشکلیں حل
قربان عطاے غوث الاعظم

کیا تیزیِ مہرِ حشر سے خوف
ہیں زیرِ لواے غوث الاعظم

وہ اور ہیں جن کو کہیے محتاج
ہم تو ہیں گداے غوث الاعظم

ہیں جانبِ نالۂ غریباں
گوشِ شنواے غوث الاعظم

کیوں ہم کو ستائے نارِ دوزخ
کیوں رد ہو دعاے غوث الاعظم

بیگانے بھی ہو گئے یگانے
دَل کش ہے اداے غوث الاعظم

آنکھوں میں ہے نور کی تجلی
پھیلی ہے صباے غوث الاعظم

جو دم میں غنی کرے گدا کو
وہ کیا ہے عطاے غوث الاعظم

کیوں حشر کے دن ہو فاش پردہ
ہیں زیرِ قباے غوث الاعظم

آئینۂ روئے خوبرویاں
نقشِ کفِ پاے غوث الاعظم

اے دل نہ ڈر ان بلائوں سے اب
وہ آئی صداے غوث الاعظم

اے غم جو ستائے اب تو جانوں
لے دیکھ وہ آئے غوث الاعظم

تارِ نفسِ ملائکہ ہے
ہر تار قباے غوث الاعظم

سب کھول دے عقدہاے مشکل
اے ناخنِ پاے غوث الاعظم

کیا اُن کی ثنا لکھوں حسنؔ میں
جاں باد فداے غوث الاعظم

وسائلِ بخشش

...