Manqabat (Praise of Allah’s friends)  

اے امام اہل سنت تاجدار علم و فن

قصیدۂ تاریخی

نضرِ فردوس ۱۴۰۰ھ

درشان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ﷜

از: حضرت مولانا حکیم ابوالبرکات محمد نعیم الدین صدیقی قادری

اے امام اہل سنت تاجدار علم و فن
خوب کی تجدید ملّت تم نے اے سَروِ چمن
نائب شاہِ دنیٰ ہو جانشینِ اولیاء
رونقِ بزم طریقت واقف سرّو عَلَن
یادگار بو حنیفہ﷜ غوث اعظم﷜ کے شبیہ
نازشِ مردانِ حق ہو زینتِ باغ و چمن
تیرے علم و فن کا ہے وہ دبدبہ، جاہ و شکوہ
جھک گئے سب تیرے آگے فیلسو فان زَمَنْ
تم نے ہی البرٹ جیسے نامور کو دی شکست
جس کا شاہد ہے ابھی وہ نَیرِ چرخِ کہن
حلقۂ بیعت میں آتے ہی ہوئے شیخ اجل
یعنی اول ہی سے تم ہو پاک طینت پاک تن
مست دل مجذوب حق بھی رہتے تم سے باادب
اہل باطن کی نگاہوں میں ہو ایسے باوزن
نقشبندی، قادری، چشتی، سہروردی کے تم
ہو امیر کارواں مقبولِ ربِّ ذُوالْمِنَنْ
دین حق کی خدمت و احیائے سنّت کے سبب
اعلیٰ حضرت آپ کو کہتے ہیں سب اہلِ سنن
کیوں نہ ہو چرچا تمہارا باعثِ کیف و سرور
محسن ایمان و دیں ہو صاحبِ خُلقِ حسن
عظمتِ شان نبیﷺ کا تم نے وہ خطبہ دیا
جان و تن میں نور آیا بڑھ گئی دل کی لگن
آپ کی رحلت کو اک عرصہ ہوا لیکن حضور
ہو وہی خورشیدِ تاباں جس کی پھیلی ہے کرن
عشق محبوب خداﷺ کی تم کو وہ خوشبو ملی
جس کے بوئے مست سے ہے منفعل مشک ختن
امتِ خیرِ الوریٰ ہے بے قرار و اشک بار
اب ذرا پردہ اٹھاؤ کھول دو بندِ کفن
آپ کے اوصاف تک کس کی رسائی ہو بھلا
ہو نبیﷺ کے معجزہ بس ختم ہے اس پہ سخن
عرض کرتا ہے نعیمؔ قادری باصد ادب!
ہم پہ برساؤ شہا! اب خاص نعمت کی بھرن

...