Manqabat (Praise of Allah’s friends)  

Nabi K Noor Se Peer O Mureed

نبی کے نور سے پیر و مریدِ با صفا چمکے
بریلی میں رضا چمکے، مدینے میں ضیا چمکے

ضیا کا فیض پہنچا ناگپور، ارضِ مدینہ سے
ضیا کے فیض سے عبد الحلیمِ با صفا چمکے

ضیاءُ الدین کے عرسِ مبارک کی تجلّی سے
خدا وندا قیامت تک عمریا کی فضا چمکے

ضیاءُ الدین کا بابِ کرم ہے کتنا نورانی
زبانِ التجا کھولوں تو حرفِ التجا چمکے

شریعت اور طریقت کی مُقدّس رہ گزاروں میں
جب ان کا نقشِ پا چمکا تو لاکھوں رہ نما چمکے

مدینے کے قطب کی ذات اسمِ با مسمّٰی ہے
ضیاءُ الدین بن کر دین و ملّت کی ضیا چمکے

یہ بس دن بھر چمکتا ہے ہمیشہ تم چمکتے ہو
تمھارے سامنے سورج اگر چمکے تو کیا چکے

چمک اٹھا مُقدّر پیر زادہ فضلِ رحمٰں کا
ضیا کے جانشیں بن کر مثالِ آئینہ چمکے

یہاں اعجاز ہر دم نور کی خیرات بٹتی ہے
مدینے کی گلی میں جو بھی آئے وہ گدا چمکے

...

Manqabat e Hazrat Molana Wasi Ahmed Muhaddis Surti

سنت کے حامی

سنو میں لکھتا ہوں اسمائے سامی
جو تشریف لاکر ہوئے دیں کے حامی

محدّث مفسّر فقیہوں میں نامی!
وصی احمد اُن کا ہے اسمِ گرامی

ہے تحدیث کی اُن پہ بے شک تمامی
شب و روز رہتے ہیں سنّت کے حامی

وہ تدریس میں فی زمانہ ہیں یکتا
وہ افتاء میں رکھتے نہیں مثل اپنا

ہے گرچہ کمال اُن کو ہر عمل و فن پر
مگر ہیں احادیث پر جان سے شیدا

شب و روز کرتے ہیں دیں کی حمایت
مٹاتے ہیں دنیا سے شرک و ضلالت

فیوض اُن کے جاری رہیں تا قیامت
رہیں وہ زمانے میں باصد کرامت

بڑھے عمر اُن کی رہیں وہ سلامت
ملے حشر میں عزّ و قرب و ریاست

وسیلے سے تیرے نبیﷺ کے الٰہی!
دُعا ہوئے مقبول اس پرگنہ کی!

 

(محدث سورتی،انجمن ضیاء طیبہ)

 

...

Khwaja e Hind Woh Darbar

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

مئے سر جوش در آغوش ہے شیشہ تیرا
بے خودی چھائے نہ کیوں پی کے پیالہ تیرا

خفتگانِ شبِ غفلت کو جگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کا نہ سونا تیرا

ہے تری ذات عجب بحرِ حقیقت پیارے
کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا

جورِ پامالیِ عالم سے اُسے کیا مطلب
خاک میں مل نہیں سکتا کبھی ذرّہ تیرا

کس قدر جوشِ تحیّر کے عیاں ہیں آثار
نظر آیا مگر آئینے کو تلوا تیرا

گلشن ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے
واہ اے ابرِ کرم زورِ برسنا تیرا

کیا مہک ہے کہ معطر ہے دماغِ عالم
تختۂ گلشنِ فردوس ہے روضہ تیرا

تیرے ذرّہ پہ معاصی کی گھٹا چھائی ہے
اس طرف بھی کبھی اے مہر ہو جلوہ تیرا

تجھ میں ہیں تربیتِ خضر کے پیدا آثار
بحر و بَر میں ہمیں ملتا ہے سہارا تیرا

پھر مجھے اپنا درِ پاک دکھا دے پیارے
آنکھیں پرُ نور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا

ظِلّ حق غوث پہ، ہے غوث کا سایہ تجھ پر
سایہ گستر سرِ خدام پہ سایہ تیرا

تجھ کو بغداد سے حاصل ہوئی وہ شانِ رفیع
دنگ رہ جاتے ہیں سب دیکھ کے رُتبہ تیرا

کیوں نہ بغداد میں جاری ہو ترا چشمۂ فیض
بحرِ بغداد ہی کی نہر ہے دریا تیرا

کرسی ڈالی تری تختِ شہِ جیلاں کے حضور
کتنا اُونچا کیا اللہ نے پایا تیرا

رشک ہوتا ہے غلاموں کو کہیں آقا سے
کیوں کہوں رشک دہِ بدر ہے تلوا تیرا

بشر افضل ہیں ملک سے تری یوں مدح کروں
نہ ملک خاص بشر کرتے ہیں مُجرا تیرا

جب سے تو نے قدمِ غوث لیا ہے سر پر
اولیا سر پر قدم لیتے ہیں شاہا تیرا

محیِ دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدیں ہے
اے حسنؔ کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

ذوقِ نعت

...

Poetry about Ghazi Mumtaz Hussain Qadri Shaheed

 غازی مَلک ممتاز حُسین قادری  کے سانحۂ شہادت پرنظم 

(تاریخِ شہادت: پیر، صبح چار بجے، ۲۰، جمادی الاولیٰ ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۹، فروری ۲۰۱۶ء۔  بمقام: اَڈیالہ جیل، راولپنڈی)

نتیجۂ فکر: ندیم احمد نؔدیم نورانی

گستاخ پر تھا حملہ ممتاز قادری کا
وہ عشقِ مصطفیٰ تھا ممتاز قادری کا

ہم کو یقین ہے یہ رب کو پسند ہے وہ
عشقِ نبی کا جذبہ ممتاز قادری کا

عشّاقِ مصطفیٰ میں ممتاز ہو گیا وہ
‘‘ممتاز’’ نام حق تھا ممتاز قادری کا

بے شک بہادری اور جرأت کا تھا وہ پیکر
‘‘غازی’’ لقب تھا سچا ممتاز قادری کا

پھانسی کی شکل میں اُس نے پائی ہے شہادت
دیکھو مقامِ اعلیٰ ممتاز قادری کا

غازی ہوا شہیدِ ناموسِ مصطفیٰ جب
تو بڑھ گیا ہے رتبہ ممتاز قادری کا

یہ موت، زندگی کی تصویر بن کے آئی
روشن ہے جس میں جلوہ ممتاز قادری کا

چشمِ فلک نے دیکھا اِس پاک سر زمیں کا
سب سے بڑا جنازہ ممتاز قادری کا

کفّار کی غلامی ہو تم ہی کو مبارک!
محبوبِ رب ہے آقا ممتاز قادری کا

وہ دن قریب ہے جب قہار، ظالموں سے
لے گا حساب و بدلہ ممتاز قادری کا

دل سے ضیائے طیبہ ہے رب سے یوں دعا گو
فردوس ہو ٹھکانہ ممتاز قادری کا

بے شک، نؔدیم! ہر دل روتا ہے خوں کے آنسو
کتنا بڑا ہے صدمہ ممتاز قادری کا

 

 

...

Poetry about Allama Manzoor Ahmed Faizi

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِo

مختصر منظوم تعارف

شیخ الحدیث والتفسیر مُناظرِ اہلِ سنّت بیہقیِ وقت

حضرت علّامہ مولانا مفتیمحمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

 

(تاریخِ وصال: یکم جمادی الآخرہ ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۷؍ جون۲۰۰۶ء)

کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی

مہتابِ علم و حکمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اَفلاکِ عمل کی رفعت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جو الٰہی بخش کے پوتے ہیں، علّامہ ظریف کے بیٹے ہیں
وہ وارثِ علمی شرافت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
بستی فیض آباد اوچ بہاول پور میں آپ ہوئے پیدا
ماں باپ کے دل کی راحت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تاریخِ ولادت دو رمضاں تیرہ سو اٹّھاون ہجری
رمضان کا فیضِ برکت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جب فیض محمد شاہ جمالی خواجہ سے بیعت ہیں وہ
تو صاحبِ فیضِ ولایت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تھے سیّد احمد کاظمی اور مسعود علی اُستاد اُن کے
پھر کیوں نہ کہوں خوش قسمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اُمّید علی و ظریف کے بھی، حقّانی عبدِ حفیظ کے بھی
اک شاگردِ ذی رفعت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
دی مفتیِ اعظم بن اعلیٰ حضرت نے خلافت جن جن کو
اُن میں سے اک خوش قسمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہیں ’’قطبِ مدینہ‘‘ شاہ ضیا اور ’’قطبِ مکّہ‘‘ امیں کتبی
دونوں کے مُجازِ طریقت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اور کاظمی شہ سیّد احمد اور خواجہ غلامِ یاسیں کے
محبوب خلیفہ حضرت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اور شیخِ مدینہ علاء الدیں البکری نے بھی اجازت دی
اللہ والوں کی نسبت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
کہتے ہیں غزالیِ دوراں یہ: ’’گر حشر میں پوچھامیرا عمل؟
کہہ دوں گا، میری محنت ہیں مفتی منظور احمد فیضی‘‘
وہ بانیِ جامعہ فیضیّہ رضویّہ وغیرہ ہیں یعنی
اک خادمِ دین و ملّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
اُن کے شاگردوں میں سے ہیں مفتی اقبال سعیدی بھی
بزمِ تدریس کی زینت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
محبوبِ رب نے روضے پر بخشا تھا جوابِ سلام اُنھیں
مقبولِ نبیِّ رحمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
سرکارِ مدینہ نے جن کو شرفِ دیدار بھی بخشا تھا
وہ صاحبِ شرفِ زیارت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
وہ جن کو شیخِ محقق نے رُؤیا میں مُجازِ حدیث کیا
وہ صاحبِ فیضِ اجازت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
تھا جن کا علمِ حدیث میں اک اعلیٰ و جداگانہ رتبہ
وہ وقت کے بیہقی حضرت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے ’’مقامِ رسول‘‘ وغیرہ کتب میں جن کے دلائل کی کثرت
وہ مصنّفِ اہلِ سنّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
جن کے بیٹے مفتی محسن فیضی بھی خطیب و مُناظر ہیں
وہ مُناظر و ماہِ خطابت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
وہ جن کے پوتوں میں مفتی اکرام المحسن فیضی ہیں
وہ ذی اکرام و عظمت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
چودہ سو ستّائیس سنِ ہجری کے جُمادَی الآخرہ کی
پہلی کو کرتے رحلت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے مزارِ مبارک حضرت کا احمد پورِ شرقیہ میں
اک صاحبِ روحانیّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
ہے ضیائے طیبہ کا اُن سے اک خاص عقیدت کا رشتہ
اُس کے لیے سایۂ شفقت ہیں مفتی منظور احمد فیضی
یہ نؔدیم احمد نورانی بھی ہے معترفانِ حقیقت میں
سرمایۂ اہلِ سنّت ہیں مفتی منظور احمد فیضی

(تاریخِ نظم: ہفتہ، ۲؍ جمادی الآخرہ ۱۴۳۷؁ھ مطابق ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۶؁ء)

...

Bayan Ho Kis Zaban Se Martaba

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

الٰہی رحم فرما خادمِ صدیق اکبر ہوں
تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا

رُسل اور انبیا کے بعد جو افضل ہو عالم سے
یہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ صدیق اکبر کا

گدا صدیق اکبر کا خدا سے فضل پاتا ہے
خدا کے فضل سے میں ہوں گدا صدیق اکبر کا

نبی کا اور خدا کا مدح گو صدیق اکبر ہے
نبی صدیق اکبر کا خدا صدیق اکبر کا

ضیا میں مہر عالم تاب کا یوں نام کب ہوتا
نہ ہوتا نام گر وجہِ ضیا صدیق اکبر کا

ضعیفی میں یہ قوت ہے ضعیفوں کو قوی کر دیں
سَہارا لیں ضعیف و اَقویا صدیق اکبر کا

خدا اِکرام فرماتا ہے اَتْقٰی کہہ کے قرآں میں
کریں پھر کیوں نہ اِکرام اتقیا صدیق اکبر کا

صفا وہ کچھ ملی خاک سرِ کوئے پیمبر سے
مصَفّا آئینہ ہے نقشِ پا صدیق اکبر کا

ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت
بنا فخر سلاسِل سلسلہ صدیق اکبر کا

مقامِ خوابِ راحت چین سے آرام کرنے کو
بنا پہلوے محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

علی ہیں اُس کے دشمن اور وہ دشمن علی کا ہے
جو دشمن عقل کا دشمن ہوا صدیق اکبر کا

لٹایا راہِ حق میں گھر کئی بار اس محبت سے
کہ لُٹ لُٹ کر حسنؔ گھر بن گیا صدیق اکبر کا

ذوقِ نعت

...

Nahi Khoosbakht Mohtaajan e Alam Main Koi Hum Sa

نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا

ترا رشتہ بنا شیرازۂ جمعیتِ خاطر
پڑا تھا دفترِ دینِ کتابُ اﷲ برہم سا

مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی
ملا حاجت رَوا ہم کو درِ سلطانِ عالم سا

ترے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیوں کر
ترا اِک اِک گدا فیض و سخاوت میں ہے حاتم سا

خدارا مہر کر اے ذرّہ پرور مہر نورانی
سیہ بختی سے ہے روزِ سیہ میرا شبِِ غم سا

تمہارے دَر سے جھولی بھر مرادیں لے کے اُٹھیں گے
نہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا

فدا اے اُمّ کلثوم آپ کی تقدیر یاوَر کے
علی بابا ہوا ، دُولھا ہوا فاروق اکرم سا

غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغِ سر افگن سے
خروج و رفض کے گھر میں نہ کیوں برپا ہو ماتم سا

شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نامِ پاک کے ڈر سے
نکل جائے نہ کیوں رفّاض بد اَطوار کا دم سا

منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
الٰہی روز و ماہ و سن اُنھیں گزرے محرم سا

حسنؔ در عالمِ پستی سرِ رفعت اگر داری
بَیا فرقِ اِرادت بر درِ فاروقِ اعظم سا

ذوقِ نعت

...

Allah Se Kya Piyar Hai Usman e Ghani Ka

اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا

رنگین وہ رُخسار ہے عثمان غنی کا
بلبل گل گلزار ہے عثمان غنی کا

گرمی پہ یہ بازار ہے عثمانِ غنی کا
اﷲ خریدار ہے عثمانِ غنی کا

کیا لعل شکر بار ہے عثمانِ غنی کا
قند ایک نمک خوار ہے عثمانِ غنی کا

سرکار عطا پاش ہے عثمانِ غنی کا
دربار دُرر بار ہے عثمانِ غنی کا

دل سوختو ہمت جگر اب ہوتے ہیں ٹھنڈے
وہ سایۂ دیوار ہے عثمانِ غنی کا

جو دل کو ضیا دے جو مقدر کو جلا دے
وہ جلوۂ دیدار ہے عثمانِ غنی کا

جس آئینہ میں نورِ الٰہی نظر آئے
وہ آئینہ رُخسار ہے عثمانِ غنی کا

سرکار سے پائیں گے مرادوں پہ مرادیں
دربار یہ دُر بار ہے عثمانِ غنی کا

آزاد، گرفتارِ بلاے دو جہاں ہے
آزاد، گرفتار ہے عثمانِ غنی کا

بیمار ہے جس کو نہیں آزارِ محبت
اچھا ہے جو بیمار ہے عثمانِ غنی کا

اﷲ غنی حد نہیں اِنعام و عطا کی
وہ فیض پہ دربار ہے عثمانِ غنی کا

رُک جائیں مرے کام حسنؔ ہو نہیں سکتا
فیضان مددگار ہے عثمانِ غنی کا

ذوقِ نعت

...

Aey Hub e Watan Saath Na Youn Soey Najaf Ja

اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا

چل ہند سے چل ہند سے چل ہند سے غافل !
اُٹھ سوے نجف سوے نجف سوے نجف جا

پھنستا ہے وبالوں میں عبث اخترِ طالع
سرکار سے پائے گا شرف بہر شرف جا

آنکھوں کو بھی محروم نہ رکھ حُسنِ ضیا سے
کی دل میں اگر اے مہِ بے داغ و کلف جا

اے کُلفتِ غم بندۂ مولیٰ سے نہ رکھ کام
بے فائدہ ہوتی ہے تری عمر تلف جا

اے طلعتِ شہ آ تجھے مولیٰ کی قسم آ
اے ظلمتِ دل جا تجھے اُس رُخ کا حَلف جَا

ہو جلوہ فزا صاحبِ قوسین کا نائب
ہاں تیرِ دعا بہرِ خدا سُوے ہدف جا

کیوں غرقِ اَلم ہے دُرِ مقصود سے منہ بھر
نیسانِ کرم کی طرف اے تشنہ صدف جا

جیلاں کے شرف حضرتِ مولیٰ کے خلف ہیں
اے نا خلف اُٹھ جانبِ تعظیمِ خلف جا

تفضیل کا جویا نہ ہو مولیٰ کی وِلا میں
یوں چھوڑ کے گوہر کو نہ تو بہر خذف جا

مولیٰ کی امامت سے محبت ہے تو غافل
اَربابِ جماعت کی نہ تو چھوڑ کے صف جا

کہہ دے کوئی گھیرا ہے بَلاؤں نے حسنؔ کو
اے شیرِ خدا بہرِ مدد تیغ بکف جا

ذوقِ نعت

...

Bagh e Jannat Kay Hain Behre

باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دشمنانِ اہلِ بیت

کس زباں سے ہو بیانِ عز و شانِ اہلِ بیت
مدح گوے مصطفیٰ ہے مدح خوانِ اہلِ بیت

اُن کی پاکی کا خداے پاک کرتا ہے بیاں
آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِ بیت

مصطفےٰ عزت بڑھانے کے لیے تعظیم دیں
ہے بلند اقبال تیرا دُودمانِ اہلِ بیت

اُن کے گھر میں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں
قدر والے جانتے ہیں قدر و شانِ اہلِ بیت

مصطفےٰ بائع خریدار اُس کا اللہ اشتریٰ
خوب چاندی کر رہا ہے کاروانِ اہلِ بیت

رزم کا میداں بنا ہے جلوہ گاہِ حسن وعشق
کربلا میں ہو رہا ہے امتحانِ اہلِ بیت

پھول زخموں کے کھلائے ہیں ہواے دوست نے
خون سے سینچا گیا ہے گلستانِ اہلِ بیت

حوریں کرتی ہے عروسانِ شہادت کا سنگار
خوبرو دُولھا بنا ہے ہر جوانِ اہلِ بیت

ہو گئی تحقیق عیدِ دید آبِ تیغ سے
اپنے روزے کھولتے ہیں صائمانِ اہلِ بیت

جمعہ کا دن ہے کتابیں زیست کی طے کر کے آج
کھیلتے ہیں جان پر شہزادگانِ اہلِ بیت

اے شبابِ فصلِ گل یہ چل گئی کیسی ہوا
کٹ رہا ہے لہلہاتا بوستانِ اہلِ بیت

کس شقی کی ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے
دن دہاڑے لُٹ رہا ہے کاروانِ اہلِ بیت

خشک ہو جا خاک ہو کر خاک میں مل جا فرات
خاک تجھ پر دیکھ تو سُوکھی زبانِ اہلِ بیت

خاک پر عباس و عثمانِ علم بردار ہیں
بے کسی اب کون اُٹھائے گا نشانِ اہلِ بیت

تیری قدرت جانور تک آب سے سیراب ہوں
پیاس کی شدت میں تڑپے بے زبانِ اہلِ بیت

قافلہ سالار منزل کو چلے ہیں سونپ کر
وارثِ بے وارثاں کو کاروانِ اہلِ بیت

فاطمہ کے لاڈلے کا آخری دیدار ہے
حشر کا ہنگامہ برپا ہے میانِ اہلِ بیت

وقتِ رُخصت کہہ رہا ہے خاک میں ملتا سہاگ
لو سلامِ آخری اے بیوگانِ اہلِ بیت

اَبر فوجِ دشمناں میں اے فلک یوں ڈوب جائے
فاطمہ کا چاند مہر آسمانِ اہلِ بیت

کس مزے کی لذتیں ہیں آبِ تیغِ یار میں
خاک و خوں میں لوٹتے ہیں تشنگانِ اہلِ بیت

باغِ جنت چھوڑ کر آئے ہیں محبوبِ خدا
اے زہے قسمت تمہاری کشتگانِ اہلِ بیت

حوریں بے پردہ نکل آئی ہیں سر کھولے ہوئے
آج کیسا حشر ہے برپا میانِ اہلِ بیت

کوئی کیوں پوچھے کسی کو کیا غرض اے بے کسی
آج کیسا ہے مریضِ نیم جانِ اہلِ بیت

گھر لُٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلِ بیت

سر شہیدانِ محبت کے ہیں نیزوں پر بلند
اَور اونچی کی خدا نے قدر و شانِ اہلِ بیت

دولتِ دیدار پائی پاک جانیں بیچ کر
کربلا میں خوب ہی چمکی دوکانِ اہلِ بیت

زخم کھانے کو تو آبِ تیغ پینے کو دیا
خوب دعوت کی بلا کر دشمنانِ اہلِ بیت

اپنا سودا بیچ کر بازار سونا کر گئے
کون سی بستی بسائی تاجرانِ اہلِ بیت

اہلِ بیتِ پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَیْکُمْ دشمنانِ اہل ِبیت

بے ادب گستاخ فرقہ کو سنا دے اے حسنؔ
یوں کہا کرتے ہیں سُنّی داستانِ اہلِ بیت

ذوقِ نعت

...